18 ویں آئینی ترمیم: اعلیٰ تعلیم کی عدت برقرار اور نان نفقہ بند


اس کالم کے پس منظر کے لیے میرا کالم ”18 ویں ترمیم اور اعلیٰ تعلیم کی عدت“ ملاحظہ ہو جو ہم سب پر 16 دسمبر 2023 کو شائع ہوا تھا۔ جس میں 18 ویں آئینی ترمیم اور اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے حقائق پیش کیے گئے تھے۔ یہ کالم بھی اسی کا تسلسل ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو وفاق اور صوبوں نے ایک دوسرے کے کھاتے میں ڈال کر بدترین تعلیمی، تحقیقی، انتظامی اور مالی بحرانوں کو جنم دیا۔ جن کی وجہ سے ملک کی اعلیٰ تعلیم اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا بند ہو گئے۔

یہ راز کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تعلیم اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کسی بھی قوم اور ملک کی ریڑھ کی ہڈی جیسی ہوتی ہے۔ یہ جتنی مضبوط اور فنکشنل ہوگی قوم اور ملک اتنی ہی ترقی کرے گا۔ اور اس میں خرابی کے نتیجے میں باقی جسم بھی مفلوج ہو جائے گا اور قوم و ملک سہاروں کے محتاج ہوجائیں گے۔ ہمارے ملک میں یہی سب کچھ ہوا ہے۔ یہاں لائبریریاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں فوڈ چینز پر فوڈ چینز کھلتے جا رہے ہیں اس لیے دماغ سکڑتے اور پیٹ بڑھتے جا رہے ہیں۔

جو قوم تعلیمی بجٹ سے زیادہ کسی بھی ملک میں چینی پر سبسڈی دے اس میں اعلیٰ تعلیم کی وقعت کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے شعبہ پر وفاقی فنڈنگ میں کمی آتی چلی گئی اور صوبوں نے یونیورسٹیوں کی مالی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کیا۔ لیکن صوبائی حکومتوں نے یونیورسٹیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ کیا۔ اس میں لاکھوں لوگوں کو نوکریاں دی گئیں۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے سالانہ بجٹ اربوں روپوں تک پہنچ گئے۔

نئی یونیورسٹیاں توجہ نہ ہونے کی وجہ سے الگ مسائل کا شکار ہیں جبکہ قدیم یونیورسٹیاں بدانتظامی اور شدید ترین مالی بحرانوں کا شکار ہیں۔ خصوصاً پنشن کا بوجھ ان یونیورسٹیوں کو مالی طور پر سانس لینے بھی نہیں دے رہا اور یہ بوجھ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس مد میں دیے جانے والے اربوں روپوں کا انتظام کہیں سے بھی نہیں ہو پا رہا۔ یہ سب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ناکامی ہے اس لیے کہ گزشتہ بائیس برسوں میں ایچ ای سی نے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس سے اس مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نکلتا۔

کھربوں روپے ایسے منصوبوں پر لگا دیے گئے جن کا فائدہ کچھ نہیں ہے اور ان منصوبوں کی وجہ سے اربوں روپوں کے سالانہ اخراجات الگ سے ہو رہے ہیں۔ ایچ ای سی نے بائیس برسوں میں بی پی ایس اساتذہ کے کے لیے کوئی سروس سٹرکچر نہیں دیا جس کی وجہ سے ہزاروں اساتذہ متاثر ہوئے اور ایچ ای سی نے ایک نیا طبقہ ٹی ٹی ایس اساتذہ کا بنا کر اسے زیادہ تنخواہ اور آسان اور سہل ترین سروس سٹرکچر دے کر یونیورسٹیوں میں طبقے بنا دیے۔

اب یہ ٹی ٹی ایس اساتذہ بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور اب جو نئی خبر آئی ہے کہ وفاقی حکومت نے آنے والے برس کے مالی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بجٹ کو اسلام آباد تک محدود کر لیا ہے اور ترقیاتی بجٹ کو بھی اسلام آباد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اب نئے مالی سال کے لیے ایچ ای سی کو 25 ارب روپے ملیں گے جو کہ گزشتہ برس 65 ارب روپے تھے۔ اس مالی سال کے لیے ایچ ای سی نے 126 ارب روپے مانگے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس برس ایچ ای سی کسی بھی صوبائی یونیورسٹی کو مالی معاونت فراہم نہیں کرے گی اور نہ ہی ٹی ٹی ایس کی تنخواہوں میں چالیس فیصد اضافی حصہ تھا جو ایچ ای سی یونیورسٹیوں کو دیتی تھی وہ دے سکی گی۔

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پاکستان کی تمام سرکاری جامعات بند ہوجائیں گی۔ صوبائی حکومتوں نے بھی یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا۔ خیبر پختونخوا کا بجٹ تو آ چکا ہے جس میں یونیورسٹیوں کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں رکھا گیا۔ وفاقی کے زیر انتظام جامعات کو نکال کر ملک میں ڈیڑھ سو سے زیادہ جامعات ہیں جن کی مالی معاونت کی ذمہ داری ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی ہے۔ آب اندازہ لگائیں کہ یہ سب جامعات پہلے سے مالی بحرانوں کا شکار ہیں۔

اس پر جو تھوڑا بہت انہیں وفاق سے مل رہا تھا وہ بھی اب نہیں ملے گا۔ تو اس کا سادہ سا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ ساری یونیورسٹیاں بند ہوجائیں گی اور لاکھوں طلبا کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ ملک میں انارکی پھیلے گی۔ طلبا، اساتذہ اور دیگر یونیورسٹی ملازمین احتجاج کے لیے سڑکوں پر آ جائیں گے۔ جلاؤ گھیراؤ ہو گا۔ ملک کے معاشی اور انتظامی حالات پہلے سے بہتر نہیں ہیں۔ ایسے میں جب پورے ملک میں یہ لاکھوں افراد سڑکوں پر آئیں گے تو ان کو سنبھالنے کے لیے جو اخراجات ہوں گے وہ کھربوں میں چلے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں جو نقصانات ہوں گے ان کا تخمینہ آپ خود لگا سکتے ہیں اس لیے کہ ہمارے ہاں احتجاج خونی ہو جاتے ہیں اور فرسٹریشن زدہ لوگ پھر سب کچھ جلانے اور تباہ کرنے پر اُتر آتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تعلیم پر خرچ ہی نہیں کیا تو لوگوں سے مہذب انداز میں احتجاج کی توقع کیسے رکھیں گے۔

مجھے حیرت پاکستان کے فیصلہ سازوں پر ہو رہی ہے۔ جو تعلیم اور تحقیق پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی عیاشیوں، مراعات اور سہولتوں کے لیے بجٹ میں کھربوں روپے رکھ رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک تعلیمی بجٹ میں 19 فیصد اور بنگلہ دیش چالیس فیصد اضافہ کر رہا ہے۔ ان ملکوں نے گزشتہ دس برسوں میں اپنے تعلیمی بجٹ میں چھ سو گنا اضافہ کیا ہے اور ہم نے اس عرصہ میں چھیاسٹھ فیصد کمی کی ہے۔ ان کی حالت دیکھیں اور ہماری حالت دیکھیں ان کے ریزروز دیکھیں اور ہمارے دیکھیں ہم ایک ایک ارب ڈالر صرف اپنے اکاؤنٹس میں رکھوانے کے لیے عربوں کے پاؤں پڑتے رہتے ہیں اور ان ممالک کے پاس ریزروز کا انبار لگ رہا ہے۔

یہ سب تعلیم پر سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب موجودہ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ معاشی بہتری کے طرف بڑھ رہے ہیں اور معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں تو ایسے میں ملک کی تمام یونیورسٹیوں کو مالی بحرانوں کی طرف دھکیلنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں فیڈرل سیکرٹیریٹ کے بلاک اے کی دو منزلوں میں واقع پاور اینڈ انرجی کے محکمے سالانہ اٹھارہ ارب ڈالرز کا گھوٹالہ کرتے ہیں اور یہ بات اس وقت انہیں دفتروں میں بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر آن ائر ٹی وی پر آ کر کہہ رہے ہیں۔

موجودہ حکومت اسی ملک میں اس کی پوری آبادی کی تعلیم کے لیے نصف ارب ڈالرز دینے کو تیار نہیں ہے۔ ان نصف ارب ڈالرز سے چالیس لاکھ سے زیادہ طلبا اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔ تحقیق کریں گے اور ملک کی بہتری کی کوشش کریں گے۔ لیکن یہ حکومت وقت کو منظور نہیں ہے اور اٹھارہ ارب ڈالرز مافیاز میں سالانہ بانٹ کر ان کو کو نسی تسکین ملتی ہے اس کا جواب آج تک کسی عدالت نے نہیں مانگا۔ ہم کہاں سے لاتے ہیں ایسے مشیر اور ایڈوائزر جو حکومت میں بیٹھے ہوئے اندھوں کو ایسے مشورے دیتے ہیں۔

اور عقل کے اندھے حکمران ان کے ملک دشمن مشوروں کو فوراً مان بھی لیتے ہیں اور ان پر عمل درآمد شروع کر دیتے ہیں۔ ملک میں کھربوں روپوں کی شخصی مراعات دی جا رہی ہیں، طاقت واروں اور سرمایہ داروں کو کھربوں کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں، ملکی وسائل کا زیاں کیا جا رہا ہے مگر آج تک کوئی ایسا مشیر یا وزیر حکومت کو نہیں ملا جو ان کی نشاندہی کرے اور انہیں ختم کرنے کا مشورہ دے۔ ان مشیروں اور وزیروں کو تعلیم اور ترقی سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

ریاست کن کے ہاتھوں میں ہے۔ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی اس ریاست کا خیر خواہ نہیں ہے جو ان کو مشورہ دے کہ تعلیم کے بغیر اس ملک کا چلنا ممکن نہیں ہے اور تعلیم پر سرمایہ کاری آنے والی نسلوں کی زندگی میں دنیا کی دیگر خطوں کی طرح خوشحالی لائے گی۔ انہیں زندگی گزارنے کے لیے بہتر سہولیات اور اچھا ماحول ملے گا۔ انہیں بھیک مانگنے اور قرض حاصل کرنے سے نجات مل جائے گی۔ ان ڈیڑھ سو یونیورسٹیوں میں غریبوں کے بچے پڑھتے ہیں۔

اشرافیہ کے بچے تو لندن اور امریکہ میں مزے کر رہے ہیں۔ ان کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کیا ہو رہا ہے۔ اگر یہ بند ہو گئیں توان کے وارے نیارے ہوجائیں گے وہ ان کی قیمتی ترین کمرشل زمینوں پر پلازے بنا لیں گے، اس کے سر سبز میدانوں کو گالف کورس بنا لیں گے۔ باقی بچی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر اپنی دولت کو ہزار گنا بڑھا لیں گے۔ اس ملک میں موجود تھنک ٹینکس بھی مصنوعی لوگوں پر مشتمل ہیں جو فرمائشی چیزوں پر رائے سازی کرتے ہیں۔

اس ملک کے میڈیا میں لگائے گئے سیاسی مبصروں اور تبصرہ نگاروں کی فوج صرف ایک دوسرے کی تذلیل اور نقلی شیروں کو رنگ کر اصلی شیر ثابت کرنے کے کام پر مامور ہیں انہیں ملک کی ترقی، خوشحالی، تعلیم، تربیت، تحقیق اور دیگر اقوام کے نقش قدم پر آگے بڑھنے کے سفر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تعلیم اور سائنس کا شعبہ ان کے لیے شجر ممنوعہ ہے وہ اس پر بات ہی نہیں کر سکتے۔ اس وقت ملک کی موجودہ یونیورسٹیاں اگر چہ بہت زیادہ معیاری تعلیم نہیں دے رہی ہیں اور نہ معیاری تحقیق ان یونیورسٹیوں میں ہو رہی ہے مگر ان یونیورسٹیوں کے نہ ہونے سے جو نسل پیدا ہوگی وہ اس قابل بھی نہیں ہوگی کہ کوئی ایک کام ڈھنگ سے کرسکیں۔

ان یونیورسٹیوں کی یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ یہ ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم ان پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے ہیں، ہم نے ان کو سیاست کرنے اور سیاسی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے مراکز سمجھا ہوا ہے۔ یہاں چپڑاسی سے لے کر وائس چانسلر تک سفارش اور سیاسی اشیر باد سے ہی آتے ہیں۔ یونیورسٹیاں بنانے کے نام پر بڑے بڑے جاگیر دار اپنی زمینیں حکومت کو فروخت کرتے ہیں۔ بلڈنگز کے ٹھیکے لیے جاتے ہیں۔ ان کا جو حقیقی کام تھا ہم نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔

ہم نے استاد کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ہی جدید خطوط پر یونیورسٹیوں کو چلانے کا انتظام کیا۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ یونیورسٹیاں اب بھی بہتر ہو سکتی ہیں۔ یہ قوم کو تربیت اور صلاحیت منتقل کر سکتی ہیں اگر ان پر توجہ دی جائے اور ان کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ یہ سب سرکاری یونیورسٹیاں ہیں ان کی مالی امداد بند کر دینا ان کو عملاً ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ایک برس تک ملک کی یہ یونیورسٹیاں مالی بحرانوں کا شکار ہو گئیں تو ان کے بیشتر اساتذہ جو دنیا بھر سے اعلیٰ ترین ڈگریاں لے کر آئے ہیں وہ کسی خلیجی ملک کا رُخ کریں گے اور جو برین ڈرین ہو گا۔

اس سے اس ملک کا جو نقصان ہو گا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ ایک ایک استاد پر کروڑوں کا خرچہ آیا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کی جامعات کو سب سے زیادہ مسئلہ ماہر اساتذہ کی کمی کا ہے۔ مالی بحرانوں سے یہ مسئلہ گمبھیر تر ہوتا چلا جائے گا۔ اور آئندہ یونیورسٹی تدریس کی طرف کوئی نہیں آئے گا۔ یہ مسئلہ سنگین ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کو یا تو صوبوں کو مکمل منتقل کر دینا چاہیے تھا یا پھر دوبارہ ترمیم کر کے اسے مکمل وفاق کے اختیار میں رکھنا چاہیے تھا۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے اختیارات کے معاملے میں وفاق اور صوبے رسہ کشی کر رہے ہیں اور ذمہ داریوں خصوصاً مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے دونوں دامن بچا رہے ہیں۔ جس سے یونیورسٹیوں کی مالی اور انتظامی صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی خاتون کو طلاق ہو جائے اور اس کی عدت ختم ہی نہ ہو رہی ہو اور اب طلاق دینے والے نے اس کا نان نفقہ بھی بند کر دیا ہے۔ ایسا ظلم کہاں ہوتا ہے۔ یا تو وفاقی حکومت رجوع کرے یا پھر عدت کو مکمل سمجھ کر مکمل رخصت کردے۔

یہ عالم برزخ میں رکھ کر یوں اس کا نان نفقہ بند کرنا۔ کسی بھی قانون اور منطق کے مطابق درست نہیں ہے۔ 18 ویں ترمیم ایک سیاسی شو تھا۔ جس کا فائدہ سیاسی لوگوں نے اٹھا یا۔ بیس سے زیادہ ادارے اس میں تباہ ہو گئے اور ان کے ہزاروں ملازمین رُل گئے۔ اور اب ڈیڑھ سو سے زیادہ یونیورسٹیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ ہے ہمارے اس نظام کی حقیقت جہاں ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیں بتا بتا کر جتلا جتلا کر ریاست کو اور اس کے نظام اور اس کے اداروں کو کمزور کرنے کی شعوری کوشش کر رہے ہیں۔

اور ہم اس تباہی کا نظارہ کر رہے ہیں۔ یہ ایسی آگ ہے کہ ہر گھر تک پہنچے گی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ یہ سازش جس نے بھی کی ہے اس کے بہت بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سے طلبا، والدین، اساتذہ، ملازمین سب رُل جائیں گے اور شرپسند اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ اس لیے جو صاحب اختیار اور اصل اقتدار ہے وہ اس کا راستہ روکے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ بحران اسے بھی لے ڈوبے۔ ملک کے منصف اعلیٰ کو اگر یہ سب کچھ نظر نہیں آ رہا تو اسے اس عظیم منصب پر بیٹھنے کا اخلاقی اختیار نہیں ہے کہ اس کے سامنے ملک کی تعلیم کا قاتل عام ہو رہا ہے اور وہ عدل کی طاقت رکھتے ہوئے چشم پوشی کر رہا ہے اور مداخلت کا اختیار رکھتے ہوئے بھی خاموش ہے۔

یہ ملک کی اعلیٰ تعلیم کی بقا کا مسئلہ ہے اسے سنجیدہ لیا جائے اور اس کو بروقت حل کیا جائے۔ اپنے بچوں کے لیے اور اگلی نسل کے لیے ان اداروں کو قائم رہنے دیں۔ ورنہ جب وہ یونیورسٹیوں میں مشغول نہیں رہیں گے اور پڑھنے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے راستے بند دیکھ کر شہروں کو بھی کچے کا علاقہ بنا دیں گے۔ اور آپ اپنے گھر میں بھی ان سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ اس لیے اعلیٰ تعلیم کی عدت ختم کروا دیں اور نان نفقہ بحال کروا دیں۔ آپ کی مہربانی ہوگی۔

Facebook Comments HS