بیٹے کی پیدائش سے بے خبر باپ
ہمارے پدرانہ نظام کے معاشرے میں آج بھی بیٹی کی پیدائش کو بہت بڑا بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ والدین کے لیے ان کی محبت اور جذباتی لگاؤ بیٹوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوتا ہے۔ بیٹے کی خوش خبری نے تمہارے مرجھائے ہوئے چہرے کو بھی خوب تازگی بخش دی۔ اس وقت ہمارے گھر میں صرف ہمارا خاندان ہی رہائش پذیر تھا۔ ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین اپنا ذاتی کلینک شروع کر چکے تھے۔ اور کلینک کے اوپر والی منزل پر رہائش اختیار کر لی تھی۔ ماں جی بھی ان کے ساتھ منتقل ہو چکے تھے۔ ابا جی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ میجر صاحب نے فوجی فاؤنڈیشن میں ملازمت جوائن کر لی تھی۔ اور وہ ملتان منتقل ہو گئے۔ صادق صاحب اپنے اہل خانہ سمیت ہمارے ساتھ والے گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔ اب ہم سب خاندان کے لوگ نئے مہمان کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔
ڈاکٹر احمد سے کلب میں ملاقات ہوئی۔ کمال کے انسان تھے۔ خوش لباس ایسے کہ کلف لگے ہوئے کپڑے پہنتے۔ تو ایسا لگتا کہ لوہے کی کلف لگی ہے۔ مجال ہے کہیں پہ کوئی سلوٹ نظر آ جائے۔ چہرے اور داڑھی کے بال ہر وقت تارہ تراشے ہوئے جیسے ابھی سیلون سے نکل کر سیدھے ہی آرہے ہیں۔ جیب سے جب بھی نوٹ نکالتے بالکل نیا کڑ کڑ کرتا ہوا جیسے سٹیٹ بینک سے نکل کر سیدھا انہی کے پاس آیا ہو۔ خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کا مظہر محفل کی رونق اور یار باش انسان تھے۔
عموماً تو ہم لوگ عشا ء کی نماز کے بعد ہی کلب جایا کرتے تھے۔ وہاں پر بیڈ منٹن کھیلتے کچھ دیر باہر لان میں بیٹھ کر گپ شپ بھی کرتے۔ اور دس بجے کے بعد عموماً واپسی ہو جاتی۔ لیکن جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد ہی گروپ کے سب لوگ کلب میں اکٹھے ہو جاتے۔ رات کا کھانا کلب میں ہی کھایا جاتا اور واپسی وہی دس گیارہ بجے کے درمیان ہی ہوا کرتی۔ جمعہ کا دن تھا اور پتہ نہیں کہ اس دن کیوں کلب میں اکٹھا ہونے کی بجائے ڈاکٹر احمد کے کلینک پر ہی اکٹھا ہو گئے۔
جمعہ کو وہ عمومی چھٹی کرتے۔ صرف ایمرجنسی مریضوں کو دیکھا کرتے اور کلینک پر انہوں نے ایک الگ تھلگ کمرہ ہم جیسے مہانوں کے لیے بھی سیٹ کیا ہوا تھا۔ اور وہاں پر بیٹھ کر گپ شپ شروع ہو گئی۔ چار ساڑھے چار بجے کا وقت ہو گا۔ کہ نغمی جو کہ یہاں پر ایک ڈسپنسر تھا۔ اور بذات ِ خود اپنی ذات میں ایک انجمن تھا۔ نے بتایا کہ گھر سے آپ کا فون آیا ہے۔ آپ کی بیگم لائن پر ہیں۔ ان دنوں موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے۔ اتنی خوب صورت اور دل چسپ محفل سے اٹھنا خاصا دشوار لگا۔
بہر حال ناگواری کی کیفیت میں یہاں سے اٹھ کر فون تک آئے۔ تو تم نے کہا کہ آپ گھر آجائیں۔ میں نے پوچھا خیریت ہے۔ تو جواب آیا۔ کہ خیریت ہے بس آپ آجائیں۔ میں نے پھر دریافت کیا کہ تم تو ٹھیک ہو۔ تو تمہارا جواب تھا کہ میں ٹھیک ہوں۔ بس آپ گھر آجائیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر میں آ جاتا ہوں۔ اور واپس آ کر اسی دھما چوکڑی کا پھر حصہ بن گیا۔ آدھ پون گھنٹے کے بعد پھر نغمی نے آ کر دوبارہ فون آنے کی اطلاع دی۔
تو میں نے سستی اور تساہل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تھوڑی دیر میں اٹھ کر انہیں رنگ بیک کر تا ہوں۔ اس کے بعد نہ ہی مجھے فون کرنے کی توفیق ہوئی۔ اور نہ ہی تمہاری طرف سے رابطہ ہوا۔ تقریباً سات بجے نغمی نے اطلاع دی کہ آپ کے لیے ڈاکٹر نورین کا فون ہے۔ آ کر فون اٹھایا تو آگے سے ڈاکٹر نورین بولیں۔ بھائی جان مبارک ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ لوگوں کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔ لڈو لے کر سیدھے ہسپتال ہی چلے آئیں۔
کیوں کہ گھر کے سبھی لوگ یہیں ہیں۔ ہوا دراصل یہ کہ میری طرف سے مایوس ہو کر تم نے ڈاکٹر نورین کو بتایا۔ کہ تمہیں دردیں شروع ہیں۔ اس نے ڈاکٹر ارشد کو فون کیا کہ تمہیں سب بچوں سمیت گاڑی میں ڈال کر ادھر ہسپتال لے آئے۔ حالاں کہ ڈاکٹر ارشد بھی اس وقت اسی محفل کا حصہ تھا۔ لیکن اس کو حالات کی سنجیدگی کا علم ہو چکا تھا۔ اس لیے اس نے اٹھنے میں دیر نہ لگائی۔ ان دنوں ہم دونوں بھائیوں کی ڈاکٹر احمد کے ساتھ خوب گاڑھی چھنتی تھی۔
فارغ وقت زیادہ تر ان کے ساتھ گزرتا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر احمد آئرلینڈ چلے گئے۔ ہم دونوں بھائی ماں جی کے پاس بیٹھے تھے۔ کہ ایک خاتون نے ماں جی سے استفسار کیا۔ کہ ڈاکٹر احمد کی پریکٹس یہاں پر بہت اچھی چل رہی تھی۔ اسے آئر لینڈ جانے کی کیا ضرورت تھی تو ماں جی نے ہم دونوں کی طرف اشارہ کر کے برجستہ جواب دیا۔ وہ بے چارہ میرے ان بیٹوں کے ڈر سے ملک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے ۔ یہ ہر وقت اس کی جان کھاتے رہتے تھے۔ اور اسے اپنی جان چھڑانے کے لیے یہی راستہ نظر آیا۔ بدر کی پیدائش پر خاندان بھر میں جشن کا سا سماں تھا۔
ماں جی تو اپنی اس کامیابی پر پھولے نہ سماتی تھیں۔ مجھے حکم ہوا کہ پورے خاندان کی دعوت کا انتظام کرو۔ میں ایسے کاموں میں بالکل ہی پھسڈی ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سب کاموں میں ہی ایسا ہوں۔ اس لیے یہ ذمہ داری صادق صاحب کے حصے میں آئی۔ جنہوں نے اسے نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے۔ میرے ایسے تمام امور بغیر کہے سنے وہ از خود ہی اپنے ذمے لے کر انہیں نمٹا دیا کرتے۔ بلکہ بعض اوقات تو اگر ان کی جیب میں پیسے موجود ہوتے۔ تو وہ اخراجات بھی اپنے پلے سے ہی کر دیا کرتے۔ بہت اچھے اور زندہ دل بڑے بھائی تھے۔


