میٹا ٹیکنالوجی اور بھارتی لابنگ


موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ پوری دنیا ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی کر رہی ہے، آج سے سو سال قبل ٹیکنالوجی میں اتنا عروج نہیں تھا دشمن ممالک کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے ہتھیاروں سے لیس ممالک کا پلڑا بھاری ہوتا تھا۔ اگر کسی ملک کی مجموعی معیشت اتنی تگڑی نہیں بھی ہوتی تھی تو ان کی مضبوط فوج اور جدید ہتھیار دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیتے تھے۔ لیکن ء 2000 کے بعد ٹیکنالوجی کے شعبے نے اس قدر ترقی کی کہ اب ترقی یافتہ ممالک بھی نت نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادات سے دشمن قوتوں کو مات دے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر اس وقت دنیا میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپلیکیشن فیس بک، ایکس (ٹویٹر) ، سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک ایپلیکیشن بھی ایسی نہیں ہے جس پہ اغیار کا کنٹرول نہ ہو۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں، حتیٰ کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی اس شعبے میں ہم سے کہیں آگے ہے۔ بھارت آئی ٹی میں سالانہ ایکسپورٹ 194 بلین ڈالر کر رہا ہے جب کہ پاکستان کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ کا حجم 1.9 بلین ڈالر ہے۔

نا صرف وہ ہم سے آگے ہے بلکہ سوشل میڈیا کی نام ور اور اثر رسوخ والی ایپلیکیشن میٹا فیس بک میں بھارت کی اجارہ داری ہے۔ یہ اجارہ داری ایک دن میں قائم نہیں ہوتی، بلکہ اس پہ پالیسی ساز اور تھنک ٹینک برسوں محنت کرتے ہیں۔ اسی اثر و رسوخ ہی کی وجہ سے فیس بک انتظامیہ دنیا بھر میں عمومی طور پر اور بھارت میں خصوصی طور پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز مواد دکھانے تک کی منظوری دے چکی ہے۔ اثر و رسوخ کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ حقائق ہیں اسی حوالے سے جب میں نے ذاتی طور پر تحقیق کی تو میرے لیے یہ حیران کن اور چونکا دینے والا انکشاف تھا کہ فیس بک انتظامیہ میں سب سے بڑے عہدے دار آدتیہ اگروال (سافٹ ویئر انجینئر) بھارتی نژاد ہیں۔

یہ فیس بک پروڈکٹ کے پہلے ڈائریکٹر بھی تھے ان کی اہلیہ انجینئر روچی سنگھوی بھی بھارتی ہیں اور وہ بھی یہیں اعلیٰ عہدے دار ہیں۔ ان کی شادی 2010 میں ہوئی اور فیس بک کے مالک مارک ذکربرگ نے شادی میں خصوصی طور شرکت کی تھی۔ اس سے آپ ان کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انامیتا گوہا ایک کوانٹم کمپیوٹنگ اور اے آئی ماہر ہیں اور یہ بھی بھارتی نژاد ہیں۔ ان کے علاوہ انکھی داس نامی ایک خاتون بھی ڈائریکٹر آف پبلک پالیسی کے عہدے پر رہیں ہیں یہ مسلم کمیونٹی سے سب سے زیادہ متعصبانہ پالیسی لاگو کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں ہیں۔

مسلم کمیونٹی سے تعصب رکھنے والا ایک اعلیٰ عہدے دار اسرائیلی بھی ہے Evgeniy Gabrilovich ریسرچ ڈائریکٹر ہیں۔ اس سے پہلے، وہ گوگل میں پرنسپل سائنٹسٹ/ڈائریکٹر بھی رہ چکا ہے۔ مندرجہ بالا شخصیات کے علاوہ بھی انتظامیہ میں بھارتی لابنگ کا کافی اثر و رسوخ ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی بھارت سے اٹھنے والی ہر حق کی آواز، ہر حریت کو فیس بک نے ڈیلیٹ کر کے اُن اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا ہے جیسا کہ آپ نے 2016 میں مشاہدہ کیا کہ برہان وانی شہید کی تصویر اپلوڈ کرنے والے تمام اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس دور کے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی شہید کی گرفتاری کی ایک ویڈیو بھی فیس بک نے ڈیلیٹ کر دی تھی یہ بھارتی لابی کا فیس بک پر تسلط قائم و دائم ہونے کا واضح ثبوت تھا اور اب سال 2024 میں فیس بک نے باقاعدہ طور پر مسلم مخالف مواد دکھانے کی منظوری دے دی ہے۔

اس پالیسی کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں مسلمانوں کو کیڑے مکوڑوں اور دہشت گردوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ نئی پالیسی سامنے آنے کے بعد انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمان مخالف مواد پھیلانے اور مذہبی تشدد کو بڑھانے کے لیے بے دریغ سوشل میڈیا کا استعمال ہو رہا ہے۔ جب کہ ان کے رہ نماؤں کی طرف سے بھی ایسی ہی حرکتیں سامنے آ رہی ہیں۔ مودی کی جانب سے میٹا کو انگریزی، ہندی، بنگالی، گجراتی میں اشتہارات پیش کیے گئے ہیں، جن میں سے 14 کو منظور کیا گیا۔

میٹا فیس بک کی یہ واضح پالیسی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہیرا پھیری کرنے والے مواد کو پھیلنے سے روکے گی تاہم مسلمانوں کے خلاف مواد کو نہیں ہٹایا گیا جب کہ مودی مخالف تقاریر اور اشتہارات کو ہٹا دیا جاتا ہے، میٹا انتظامیہ اور ملازمین کی لمبی لسٹ میں صرف ایک برائے نام مسلم فرد ہے جس کا نام بھداد اسفھبد میر حسین‌ زادہ ہے یہ ایرانی اور کینیڈین نیشنل ہے۔ لیکن اس شخص کے پاس کوئی کلیدی عہدہ نہیں ہے اور نا ہی اس شخص نے کوئی مثبت کردار ادا کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔

اس ساری صورت حال کے پیش نظر عمومی طور پر امت مسلمہ اور خاص طور پر پاکستانی نوجوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میٹا کی منافقانہ پالیسیوں کو ختم کروانے کے لیے اہم کردار ادا کریں۔ اور ان ایپس کی جگہ مقامی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پہ سرمایہ کاری کریں خصوصاً کاروباری افراد ایسی منافقانہ پالیسیوں کی حامل ایپس پہ اپنے اشتہارات نہ دیں بلکہ ان کی متبادل ایپس جیسا کہ پاکستان میں ہم الفافا کمیونٹی ایپ میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ جس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ اسے خریدنے کے لیے کئی ایک دفعہ اسرائیلی کمپنیاں آفر کر چکی ہیں لیکن الفافا کمیونٹی ایپ کی انتظامیہ دولت کے لیے نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور امت مسلمہ کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے اِن آفرز کو ٹھکرا دیا ہے۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اس کی بنیادی اور پہلی وجہ بڑوں اور سرکاری سطح پر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہ ہونا ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو ان کی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں سرگرم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کریں، بر وقت رہ نمائی کی جائے اور ہر قسم کے دباؤ میں ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں تو امید ہے کہ آنے والے وقت میں وطن عزیز اور مسلم دنیا بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا لوہا منوا لے گی۔

جب کہ دوسری وجہ وسائل کی کمی ہے۔ ان وسائل میں ایک طرف جہاں یونیورسٹیز کی ابتر صورت حال ہے وہیں نظام تعلیم کی تفریق طلبہ میں حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے، اگر معیاری اور مساوی نظام تعلیم کا قیام عمل میں لایا جائے تو ہمارے نوجوان بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم جما کر اپنے حقوق کی آواز اور جد و جہد کا حصہ بن سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS