گیتا گیان
آریہ قوم تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں ہندوستان میں آ کر آباد ہوئی اور پیش قدمی کرتے ہوئے کوہ ہمالیہ تک پہنچ گئی۔ ایک وقت میں پنجاب سے بندھیاچل تک کا علاقہ ”آریہ ورت“ کہلاتا تھا۔ یہ دور ہندوستان کی تاریخ میں ویدک دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آریہ قوم نے مذہب پر توجہ دی اور ویدوں کو لکھ لیا گیا۔ قربانی کے بھجنوں پر مشتمل مجموعے شام وید اور یجر وید کی صورت میں نمو پذیر ہوئے۔ ویدک دور کے بعد مہا بھارت اور رامائن کو بھی حتمی صورت ملی۔
ان دو کتابوں سے واضح ہوتا ہے کہ آریہ اس سر زمین میں سلطنتیں بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر سلطنتوں سے بھی برسر پیکار ہوتے ہیں۔ ویدک دور میں آریہ دیہات میں رہتے تھے مگر ہے اس دور میں تعیش پرستی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ زمین اور سلطنت کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ اس کی واضح تصویر مہابھارت پیش کرتی ہے۔ ارجن مہا بھارت کا اہم اور بہادر کردار ہے۔ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو جنگ میں مقابل دیکھ کر حوصلہ ہار جاتا ہے اور ہتھیاروں سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے تبھی شری کرشن اسے اس کے فرائض یاد دلاتے ہیں اور پرم بھگت ہونے کے ناتے اسے اپنا کلام عطا کرتے ہیں جسے ”بھگوت گیتا“ کہا جاتا ہے۔
سناتن دھرم کے ماننے والوں کے مطابق زمین پر ظالموں کا خاتمہ کرنے اور معاملات کو درست کرنے کے لئے بھگوان وقتاً فوقتاً اوتار لیتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق وشنو جی (خلائق کو پالنے والا) تقریباً نو بار اوتار لے چکے ہیں۔ ہر اوتار کسی بڑے مقصد کے لئے ہوتا ہے اور کوئی معجزانہ کام سرانجام دیتا ہے۔ شری کرشن مہاراج وشنو کے آٹھویں اوتار ہیں۔ سناتن دھرم میں سب سے زیادہ کرشن کے پجاری موجود ہیں۔ کرشن سنسکرت زبان کا لفظ جس کے معانی ”سیاہ“ کے ہیں۔ قدیم مذہبی لٹریچر میں ان کا ذکر نہیں ہے البتہ مہا بھارت کی رزم گاہ میں ان کا کردار بہت نمایاں ہے۔ شری کرشن اپنے دور کے ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے متھرا میں پیدا ہوئے۔ منشی رام پر شاد ماتھر اپنی کتاب ”ہندوؤں کے تہوار“ میں لکھتے ہیں :
”ظالموں کو قتل کر کے مخلوق کو عذاب سے نجات دلانے کے لئے بھادوں میں جنم اشٹمی کے روز متھرا میں پیدا ہوئے اور چار میل کے فاصلے پر بمقام گوکل نندجی اور ان کی بیوی جسودھاجی کی گود میں پرورش پائی“
ہندوستانی آرٹ میں شری کرشن کو نیلے رنگ کا نوجوان دکھایا جاتا ہے جس نے زرد لباس پہنا ہوتا ہے سر پر تاج ہوتا ہے اور عموماً بانسری بجاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔
کرشن کے سراپے کے بارے میں گوپی چند نارنگ اپنی تصنیف ”پرانوں کی کہانیاں“ میں لکھتے ہیں :
” ان کا رنگ سانولا، جسم سڈول اور پیارا، نقش تیکھے اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں۔ سندر پڑے اور سجیلا زیور پہنتے تھے۔ ان کے سر کے بال اوپر کو بندھے ہوئے رہتے تھے اور مور کا ایک پنکھ بھی لگا رہتا تھا“
دیگر مذہبی راہنماؤں کی طرح شری کرشن نے بھی ایک عام انسان ہی کی طرح زندگی گزاری۔ ان کا مضبوط اور نمایاں کردار مہابھارت میں ابھر کر سامنے آتا ہے جب وہ خود رزم گاہ میں ارجن کے رتھ بان بن کر پیش قدمی کرتے ہیں اور اسے ”مہاگیان“ سے نوازتے ہیں۔ جسے بھگوت گیتا کہا جاتا ہے۔ بھگوت گیتا دو الفاظ پر مشتمل ہے۔ ”بھگوت“ سے مراد بھگوان کا اور ”گیتا“ مراد الہامی گیت، مقدس آواز یا مقدس کلام ہے۔ بھگود گیتا کو انجیل کرشن بھی کہا جاتا ہے۔ بھگود گیتا مہابھارت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنا جداگانہ وجود رکھتی ہے۔ اس میں اٹھارہ ادھیائے ( ابواب ) اور تقریباً سات سو شلوک (اشعار) شامل ہیں۔ سناتن دھرم کا تقریباً سارا دھارمک گیان ( مذہبی لٹریچر) منظوم صورت میں ہے۔ بھگود گیتا کے سن تالیف کے بارے میں متضاد آراء موجود بقول شیخ احمد دیدات :
”بعض کے مطابق پانچ سو قبل مسیح اور بعض کے مطابق دو سو قبل مسیح کا دور اس کا زمانہ تالیف قرار دیا جا سکتا ہے“ (ہندو مت، بدھ مت اور اسلام)
اس بات پر جمہور کا اتفاق ہے کہ آریہ جب گنگا اور جمنا کی وادیوں میں داخل ہوئے تو یہی وہ زمانہ ہے جب گیتا کو اہمیت حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں اپنا دھرم گیان غیر قوم میں پھیلنے سے روکنے کے لئے براہمنوں نے زور پکڑا اور دراوڑ قوم کو شودر یعنی ناپاک قرار دے کر ویدوں کو برہمن تک محدود کر دیا اور مہابھارت اور رامائن کو عوام الناس کے لئے رکھ چھوڑا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ”قدیم ہندوستان“ والیم ( 1 ) میں رقم طراز ہیں :
”گنگا کے پانی کو مقدس بنا دیا گیا۔ وید پران برہمنوں کے لئے ہو گئیں جبکہ عوام میں رامائن، دھرم شاستر اور مہا بھارت مقبول ہوتی چلی گئیں“
بھگودگیتا شری کرشن مہاراج اور ارجن کے درمیان مکالمے کی صورت میں اشعار پر مشتمل خوبصورت کلام ہے۔
ادھیائے پہلا میں ارجن کرشن سے کہتا ہے :
”میرا جسم کانپ رہا ہے اور میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں“ (شلوک نمبر: 29 )
” اس جنگ میں اپنے ہی رشتہ داروں کو مارنے سے مجھے کوئی بھلائی نظر نہیں آتی ہے اور اے گووند نہ ہی مجھے جیت سے حاصل راج پاٹ یا سکھ کی خواہش ہے“ (شلوک نمبر: 31 )
ارجن کے مکالموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسانیت سے محبت کرنے والا حساس دل رکھتا ہے اور اس مال کی محبت اس کے دل میں رتی برابر بھی نہیں جو انسانیت کا خون بہا کر حاصل کیا جائے۔ یقیناً ایسا خوبصورت دل رکھنے والا شخص ہی اس قابل تھا کہ اسے یہ مہا گیان سے نوازا جائے۔ لیکن ایک کھشتری ہونے کے ناتے اس کا فرض تھا کہ وہ جنگ کے میدان میں پیٹھ نہ پھیرے اور ظالموں کا خاتمہ کرے خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سلسلے میں منشی رام پرشاد ما تھر رقم طراز ہیں :
”ہندو سوسائٹی میں منکر مذہب کی پرواہ نہیں کی جاتی لیکن مکار اور ظالم کو خواہ وہ اپنا ہم مذہب یا عزیز ہی کیوں نہ ہو سخت سزا دی جاتی ہے۔“ (ہندوؤں کے تہوار)
خود شری کرشنا نے اپنے عہد کے سب سے بڑے ظالم کا خاتمہ کیا جو ان کا سگا ماموں تھا۔
دوسرے ادھیائے میں موت اور روح کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ ارجن گھبرایا ہوا تھا غالباً اسی لیے گیتا کا آغاز ارجن کم حوصلگی اور گھبراہٹ کو دور کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ گیتا کے مطابق نہ تو روح کبھی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مرتی ہے۔ محض مختلف اجسام تبدیل کرتی ہے لہذا ایک شخص کے مرجانے سے روح کا خاتمہ ہر گز نہیں ہوتا۔
”جس طرح انسان پرانا لباس چھوڑ کر نیا لباس پہنتا ہے اسی طرح آتما پرانے اور ناکارہ اجسام چھوڑ کر نئے جرم اجسام حاصل کرتی ہے“ (شلوک نمبر: 22 )
گیتا فلسفۂ وحدت الوجود کی قائل نظر آتی ہے۔ جس میں ہر مادی اور ظاہری چیز میں خدا کا وجود تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہر روشن اور تاریک شے میں بھگوان موجود ہیں۔ آسمان سے لے کر زمین تک ہر چیز میں خدا بذات خود موجود ہے۔ ساتویں ادھیائے کے شلوک ہیں :
”میں پانی کا ذائقہ ہوں، سورج اور چاند کی روشنی ہوں، میں وید کی منتروں میں اوم کار ہوں۔ آکاش میں آواز اور میں ہی انسان کی قابلیت ہوں“ (شلوک نمبر : 8 )
”میں دھرتی کی اصلی خوشبو اور آگ میں تپش ہوں۔ میں تمام جانداروں کی جان اور تمام تپسویوں کا تپ ہوں“ (شلوک نمبر: 9 )
گیتا کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو پہچاننے پر بارہا زور دیا گیا ہے۔ شری کرشن تقریباً ہر ادھیائے میں بار بار اپنا مختلف زاویوں تعارف کرواتے ہیں اور ساتھ ساتھ واضح کرتے جاتے ہیں کہ کم عقل، مغرور اور مادی دنیا میں کھوئے ہوئے انسان انہیں نہیں پہچان سکتے اور نہ ہی ان کا ٹھکانہ ویکنٹھ ہو گا۔ ویکنٹھ سناتن دھرم میں سورگ (جنت) سے بڑھ کر جگہ ہے جہاں سچے بھگت جاتے ہیں۔ یہ در اصل وشنو کی رہائش کی جگہ ہے اسی لیے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ شری کرشن بار بار شردھا بھکتی (پرخلوص عبادت ) پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اس پرم دھام کو حاصل کر سکے۔ یہاں اقبال کا ایک شعر یاد آتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں :
”جس کا عمل ہو بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر ”(بال جبریل)
انسان کی محدود عقل سورج سے بڑھ کر کسی کو روشن اور منور نہیں سمجھتی۔ اسی لیے شری کرشن وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے پرم دھام کو روشنی کے لئے ان مادی وسائل کی ہرگز ضرورت نہیں۔
” میرا پرم دھام، نہ سورج یا چاند سے روشن ہوتا ہے اور نہ آگ یا بجلی سے جو انسان اسے حاصل کرتے ہیں۔ وہ اس مادی دنیا میں پھر سے لوٹ کر نہیں آتے“ (ادھیائے پندرہواں، شلوک نمبر: 6 )
بھگوت گیتا میں فلسفیانہ خیالات اور تصورات کے اثرات بھی ملتے ہیں۔ سانکھیہ فلسفے کی اصطلاحات بارہا وارد ہوئی ہیں۔ اس فلسفے کے مطابق مادہ اور روح دونوں کو ازلی اور ابدی مانا گیا ہے۔ شری کرشن کہتے ہیں کہ صورت اور گنوں کے تغیر پرا کرتی سے پیدا ہوتے ہیں اور پرش لذت و الم کے تجربے کا نام ہے۔ چودھویں ادھائے میں سانکھیہ فلسفے کی اصطلاحات (رجوگن، تمگن، ستوگن) موجود ہیں :
”اے بھارتیوں کے سردار! جب رجوگن بڑھتا ہے تو شدید لگاؤ، پھل آور کرم، کوشش، خواہش اور لالچ ظاہر ہوتے ہیں“ (شلوک نمبر: 12 )
”اے کورو نندن! جب تموگن میں اضافہ ہوتا ہے تو اندھکار، کاہلی، پاگل پن اور موہ ظاہر ہوتے ہیں“ (شلوک نمبر: 13 )
”جب کوئی ستوگن میں مرتا ہے تو اسے مہارشیوں کے خالص اونچے لوک حاصل ہوتے ہیں“ (شلوک نمبر: 14 )
گیتا میں وقت کی تقسیم کے فرق کا بیان ملتا ہے۔ انسانوں کی مختصر سی دنیا کے وقت کا موازنہ خدا کے ہاں موجود وقت سے کیا گیا ہے۔ انسانوں کا دن سورج طلوع ہونے پر شروع ہوتا ہے اور غروب ہونے پر ختم ہو جاتا ہے مگر خدا کے ہاں ایسا کوئی تصور موجود نہیں۔ اس کا دن کسی سورج کا محتاج نہیں۔ سترہویں ادھیائے میں ہے :
”انسانوں کے حساب کتاب کے مطابق ایک ہزار یگ مل کر برہما کا ایک دن بنتا ہے اور اتنی ہی مدت اس کی رات کی ہے“ (شلوک نمبر: 17 )
”جب جب برہما کا دن آتا ہے تو تمام جاندار وجود میں آتے ہیں اور برما کی رات کے آنے پر وہ بے بسی کی حالت میں ناش ہو جاتے ہیں“ (شلوک نمبر: 19 )
بھگوت گیتا میں خدا شناسی کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کا بھی درس ملتا ہے۔ مثلاً ادھیائے بارہویں میں ہے :
”جو کسی سے حسد نہیں کرتا، لیکن تمام جاندار ہستیوں کا رحم دل دوست ہے، جو اپنے آپ کو ایشور نہیں مانتا اور غرور سے آزاد ہے جو سکھ اور دکھ میں یکساں ہے، شانت ہے، ہمیشہ مطمئن، خود پہ قابو رکھنے والا اور یقین کے ساتھ مجھ میں من اور عقل کو جما کر بھگتی میں لگا رہتا ہے، ایسا بھگت مجھے بہت پیارا ہے۔“ (شلوک نمبر: 13,14 )
گیتا میں اوتار کے نظریے کو واضح کیا گیا ہے۔ جو برائیوں کا خاتمہ کرنے والا اور حق اور سچ پر چلنے والوں کی مدد کرنے والا ہے۔ گیارہویں ادھیائے کے شلوک نمبر 32 میں ہے :
”سارے سنسار کو ختم کرنے والا کال میں ہوں اور میں یہاں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کے لئے آیا ہوں۔ تمہارے (ارجن) سوائے دونوں طرف کے سارے یودھا مارے جائیں گے“
گیارہویں ادھیائے میں بھر پور انداز میں کرشن اپنے ویراٹ روپ کا دیدار ارجن کو کراتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ صرف شدھ بھکتی ہی سے میرے اس روپ کو سمجھا جاسکتا ہے۔
گیتا میں خدائی وحدانیت کا تصور موجود ہے۔ اس ساری دنیا کو چلانے والا، اسے پیدا کرنے والا، دن اور رات کو بدلنے والا سمندروں اور صحراؤں کا خالق اور مالک صرف اور صرف ایک ہی اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے تاکہ اس کا پرم دھام حاصل ہو سکے۔ ایک سے زائد دیوتاؤں کو پوجنے والوں کو کم عقل کہا گیا ہے، ساتویں ادھیائے میں آتا ہے :
” کم عقل لوگ دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں ان کے پھل محدود اور عارضی ہوتے ہیں۔ دیوتاؤں کی پوجا کرنے والے دیوتاؤں کے لوک میں جاتے ہیں جبکہ میرے بھگت آخر میں میرے پرم دھام کو جاتے ہیں“ (شلوک نمبر: 23 )
گیتا میں بارہا فرض شناسی اور فرض کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے۔ ویدوں کا علم حاصل کرنے میں موکش کی راہ بتائی گئی ہے اور ویدک علم ہی کو منزل حقیقی بتایا گیا ہے۔ جسم اور روح کی الجھنوں میں وقت ضائع کیے بغیر پریم سے بھگوان کی سیوا کو کامیابی کی کنجی بتلایا گیا ہے۔ آہ نیم شبی کا تصور بھی بڑی خوبصورتی اور عمدگی سے گیتا میں موجود ہے۔ دوسرے ادھیائے کے ایک شلوک میں ہے :
”جو تمام ہستیوں کے لئے رات ہے، وہ آتما سنیمی ( فاتح نفس ) کے لئے جاگنے کا وقت ہے اور جو تمام ہستیوں کے جاگنے کا وقت ہے وہ آتما نریکشک ( اندر دیکھنے والے ) کے لئے رات ہے“ (شلوک نمبر: 69 )
الغرض گیتا کا بنیادی پیغام فرض کی ادائیگی اور ذات پات، غرور، غصہ اور لالچ سے آزاد ہو کر خدا کی طرف دھیان لگانا ہے۔ اسی میں کامیابی ہے۔ یہ نروان کے حصول کے لیے قدم قدم پر راہنما بن کر ہاتھ تھامتی ہے اور گہرا شعور عطا کرتی ہے۔


