اچھے کاموں کی ستائش ہونی چاہیے

نوے سال انگریزوں کی غلامی میں گزارنے کے باعث ہماری نفسیات میں حکومت کے خلاف ایک نفرت سی پیدا ہو گئی تھی۔ اِس پر تنقید کرنا اور اِس کے اندر کیڑے نکالنا قومی فریضہ قرار پایا تھا۔ آزادی مل جانے کے باوجود ہمیں زیادہ تر ایسے حکمران میسّر آتے رہے جو عوام کے مفادات کے سامنے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل میں لگے رہتے۔ اُن کے رویوں سے رعونت ٹپکتی اور اُن کے مزاج میں فرعونیت رچی بسی تھی۔ خوش قسمتی سے گاہے گاہے ایسی حکومتیں بھی قائم ہوتی رہیں جنہوں نے پاکستان بنانے میں قابلِ قدر حصّہ لیا اور یہ اُنہی کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ ہم شکست خوردگی اور بے سروسامانی کے اندھیروں سے نکل کر ایک آزاد قوم کی حیثیت سے عالمی برادری میں اپنا مقام بلند کرنے میں کوشاں ہیں۔
تازہ خبر آئی ہے کہ امن کی کوششوں میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کا سب سے زیادہ ساتھ دیا ہے۔ یہ امر بھی ایک کھلا راز ہے کہ خلیجی ممالک میں جو ریل پیل دکھائی دے رہی ہے، اِس میں پاکستان کے انجینئروں، منصوبہ سازوں، مالیاتی ماہرین کی دماغ سوزی اور لاکھوں مزدوروں کا خون پسینہ بھی شامل ہے۔ امریکہ جو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک تصوّر ہوتا ہے، وہاں صحت کا نظام بڑی حد تک پاکستانی ڈاکٹروں کا رہینِ منت ہے۔ جمہوریہ چین کی سفارتی طاقت بڑھانے میں پاکستان نے کلیدی کردار اَدا کیا ہے۔
اِن تمام تر عظیم کارناموں کے باوجود ہم خود مذمتی کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ہر آن اپنے آپ کو برا کہتے رہنے میں ہم بڑی راحت محسوس کرتے ہیں۔ یہ کہتے رہنا ہماری عادت سی بن گئی ہے کہ پاکستان کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ دو چار لوگ جب کبھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو اپنے وطن میں پائے جانے والی خرابیوں کا ذکر ختم ہی نہیں ہوتا اور حکومت بالعموم خطاؤں اور غلط کاریوں کا منبع قرار پاتی ہے۔ عوام کے اندر شہری شعور کا فروغ ایک اچھی بات ہے، مگر ہماری سوچ اور گفتار کا معیار جس قدر پست ہوتا جا رہا ہے، وہ ذہنی انارکی پھیلا رہا ہے۔
پہلے ذرائع ابلاغ محدود اَور سست رو تھے، اِس لیے بات لوگوں تک دیر سے پہنچتی تھی، مگر سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم قائم ہو جانے اور ذرائع ابلاغ میں بے پناہ سائنسی ترقی ہو جانے سے ایک طوفانِ بدتمیزی امڈا چلا آ رہا ہے۔ اب جس کے منہ میں جو آتا ہے، وہ بلاخوف و اِحتساب کہہ دیتا ہے۔ اب کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ فوج کا سپہ سالار بھی تیروں کی زد میں ہے اور عدالتِ عظمیٰ کے معزز جج صاحبان بھی۔ بے چارے سیاست دان تو کسی شمار و قطار میں نہیں۔
کروڑوں شہری جو بڑی مشکل سے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں، اُن کی پگڑی کسی وقت بھی اچھالی جا سکتی ہے۔ فیک نیوز کا ایک سیلاب رواں دواں ہے اور کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اصل صورتِ حال کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال وطن کے دشمنوں کے لیے بڑی سازگار ہوتی ہے۔ جب فوج اور عوام کے درمیان بے اعتمادی بڑھتی جائے اور ایک دوسرے پر کھلے کھلے حملے ہونے لگیں، تو قومی سلامتی کو حقیقی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سیاسی حریفوں کی طویل محاذ آرائی سے سیاسی استحکام پیدا ہو سکتا ہے نہ معاشی استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اب اگر سیاسی جماعتیں آپس میں دست و گریبان ہوں، ادارے ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہوں اور سوشل میڈیا ہر لحظہ بے پَر کی اڑا رَہا ہو، ایسے میں خطرات کے اندر سے خطرات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان میں اَن گنت وجوہات کی بنا پر ہتکِ عزت کی روک تھام کا نظام حد درجہ غیر موثر اور ناقابلِ اعتماد رَہا ہے۔ اکثر یہ ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی عزت پر حملے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا، تو مدعی علیہ کے وکیل اُسے معاشرے کا سب سے بڑا مجرم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شاذونادر ہی ہتکِ عزت میں کسی کو عبرت ناک سزا ہوئی ہو۔ مجھے صرف ایک واقعہ یاد آتا ہے جب غالباً 1958 ء کے اوائل میں جناب مشتاق احمد گورمانی نے روزنامہ ’ٹائمز آف کراچی‘ کے ایڈیٹر جناب زیڈ اے سلہری کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ مَیں نے اِس مقدمے کی کارروائی سنی تھی جس میں جناب اے کے بروہی، گورمانی کی طرف سے پیش ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد سلہری صاحب کو سزا سنائی تھی جس کا چرچا مہینوں رہا۔
آج آزادیِ اظہار کے نام پر کردارکشی کی ہولناک جنگ جاری ہے جس سے پورا معاشرہ اتھل پتھل ہو رہا ہے اور وُہ شہری خوفزدہ معلوم ہوتے ہیں جو شرافت اور عزت کی زندگی کو سب سے زیادہ اَہمیت دیتے ہیں۔ پنجاب کی وزیرِاعلیٰ محترمہ مریم نواز نے قانون سازی کے ذریعے اِس سیلِ رواں کے آگے بند باندھنے کی جرات کی ہے۔ نئے قانون میں سوشل میڈیا کو بھی دائرۂ اختیار میں لانے کا اہتمام کیا گیا ہے اور جرمانے کی سزا میں پچاس ہزار سے تیس لاکھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں مقدمات کی سماعت کے لیے ٹریبونل کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اِس قانون کے ذریعے اخلاقِ عامہ قانونی ضوابط کے مطابق شہریوں اور اِداروں کو ہتکِ عزت سے بڑی حد تک تحفظ میسّر آ جائے گا۔
ہو سکتا ہے کہ عجلت میں منظور کیے ہوئے اِس قانون میں کچھ سقم رہ گئے ہوں جنہیں مشاورت سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں تمام عزت دار شہریوں کو محترمہ مریم صاحبہ کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔ قانون پسند صحافی اور تجزیہ کار اِس قانون سے متاثر نہیں ہوں گے کہ وہ پہلے ہی تہذیب و اَخلاق اور قانونی تقاضوں کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ قانون تو معزز شہریوں کو مادر پدر آزاد جنگ جوؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے برطانوی روایات کے مطابق بنایا گیا ہے جہاں ہتکِ عزت کے مرتکب روزناموں اور ٹی وی چینلز کو اتنے بھاری جرمانے کیے گئے کہ پھر وہ اَپنی اشاعت جاری نہیں رکھ سکے۔ ہمارے اندر حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف و تحسین کا حوصلہ اور اُن کا ساتھ دینے کا عزم ہونا چاہیے۔ سنجیدہ لوگوں کے خیال میں وفاقی سطح پر بھی اِس سلسلے میں قانون سازی ضروری ہے کہ یہ خرابی ملک گیر نوعیت کی ہے۔

