وحشت غزال اور نیوٹرینو: کائنات (6)
ہم وجود کی صرف ایک سطح پر رہتے ہیں، لیکن یہاں اور بھی بہت کچھ ہے۔ حقیقت کی یہ پوشیدہ جہتیں ہر طرف موجود ہیں۔ بہت دور، نوری برسوں سے بھی پرے۔ ہمارے پیروں کے نیچے۔ اور یہاں تک کہ آپ کے اور میرے اندر۔
ہم ایٹموں سے بنے ہیں۔ آپ کی آنکھ میں ستاروں اور معلوم کائنات کی تمام کہکشاؤں سے زیادہ ایٹم موجود ہیں۔ آپ کی چھوٹی انگلی کی نوک سے بڑی کسی بھی ٹھوس چیز کے لیے بھی یہی سچ ہے۔ میں نیل ڈی گراس ٹائسن نامی تین بلین، بلین، بلین پیچیدہ طریقے سے ترتیب دیے گئے ایٹموں کا مجموعہ ہوں۔ آپ بھی ایک مختلف نام کے ساتھ ویسا ہی مجموعہ ہیں۔ ہم عام طور پر اپنے بارے میں اس طرح نہیں سوچتے کیونکہ حقیقت کی وہ سطح ہمارے حواس کے دائرے سے باہر ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس سے رکنے والے نہیں۔ ہم حیرت کی گہرائی میں جا سکتے ہیں۔
ایٹم مادے کو مضحکہ خیز کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پانی کو سمجھنے کے لیے، آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کے ایٹم کیا کر رہے ہیں۔ پانی کا ہر مالیکیول دو چھوٹے ہائیڈروجن ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک بڑے آکسیجن ایٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم اسے ایچ ٹو او کہتے ہیں۔ اگر یہ زیادہ گرم یا بہت ٹھنڈا نہیں ہے تو، مالیکیول پھسل سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے لڑھکتے گزر سکتے ہیں۔ مالیکیولز کے درمیان ابھی بھی کچھ چپچپا پن باقی ہے، لیکن انہیں سخت ٹھوس میں قید کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہی عمل کسی چیز کو مائع بناتا ہے۔ سورج پانی کو گرم کرتا ہے۔ اور زیادہ توانائی کے ساتھ، مالیکیول تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ یہ سب درجہ حرارت ہے۔ وہ مالیکیول اتنی تیزی سے حرکت کر رہے ہیں کہ کمزور بندھنوں کو توڑ سکتے ہیں جو انہیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ تبخیر ہے۔ ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں وہ نائٹروجن اور آکسیجن کے مالیکیولز سے بنی ہوتی ہے جس میں پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بکھری حالت میں ہوتے ہیں۔ اب جو آ رہا ہے، وہ انجماد ہے۔ ایک اوس کا قطرہ بخارات پر منجمد ہونے کی لمحاتی فتح ہے۔ اور جب تک یہ رہتا ہے، یہ اپنی ہی دنیا کی مخلوقات کی ایک کائنات ہے، ایک ڈرامہ۔
اس اوس کے قطرے کے دور دراز دنیا کو تلاش کرنے کے لیے، ہمیں ایک جہاز کی ضرورت ہوگی جس کے جڑواں انجن سائنس اور تخیل ہیں۔

یہ ایک خلیے والا پیرامیشیم ہے، جو ہنر مند شکاری جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد میں سے ایک ہے اور جو شبنم کے قطرے میں گھومتے ہیں۔ لیکن وہ بھی شکار کیے جاتے ہیں۔ ڈائلیپٹس (Dileptus) ۔ پیرامیشیم کا جانی دشمن۔ پیرامیشیم خوش قسمت ہو سکتا ہے اور براہ راست حملہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو پیرامیشیم کے اخراج سے اس کے اور حملہ آور کے درمیان کچھ فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ یہ اوس کے قطرے میں زندگی ہے۔
وہ چھوٹا آدمی ٹیرڈی گریڈ ہے، ایک جانور جو سوئی کے سرے سے بھی چھوٹا ہے۔ اس کو کم نہ سمجھیں۔ ٹیرڈی گریڈ اس سیارے پر ہمارے مقابلے میں بہت طویل عرصے سے رہ رہے ہیں۔ تقریباً پانچ سو ملین برسوں سے۔ ہم میں سے ہر ایک کے لیے، یہ کم از کم ایک ارب ہے۔ وہ زمین پر کہیں بھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ سب سے اونچے پہاڑوں کی ٹھنڈی چوٹیوں پر، پھٹنے والے آتش فشانی لاؤں کی دیگوں میں، اور سمندر کی تہہ میں گہرے سمندری راستوں میں۔ ٹیرڈی گریڈ بہت سخت جان ہوتے ہیں، وہ خلا ء میں بھی برہنہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ وہ اس سیارے پر حالیہ پانچوں بڑے پیمانے پر معدومیت سے بچ گئے تھے۔ کسی دوسری دنیا سے آنے والے کو زمین کو ٹیرڈی گریڈ کا سیارہ سمجھنے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم کبھی اوس کے قطرے کی تہہ تک پہنچ پائیں، تو بہتر ہے کہ آگے چلتے ہیں۔
ہر پتے اور کائی کے ہر جھرمٹ میں لاکھوں خوردبینی منہ ہوتے ہیں جنہیں سٹومیٹا کہتے ہیں۔ پودے ان کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتے ہیں اور آکسیجن کو خارج کرتے ہیں جس کی ہمیں زندہ رہنے کے لیے ضرورت ہے۔ پودے ہمارے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن ہم اور دیگر تمام جانور پودوں کے بغیر بھن جائیں گے۔ پودے سورج کی روشنی سے غذا بناتے ہیں۔ ہم جانور ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ یہ کیسے کرتے ہیں، ہمیں گہرائی میں جانا پڑے گا۔ ان کے دولت کدے میں جانے کے لیے خود کو تقریباً ایک ہزار گنا چھوٹا کرنا پڑے گا، وہ جگہ جہاں وہ بہترین چیز کلوروفل رکھتے ہیں۔ یہ وہ مالیکیول ہے جو سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ ان مستطیلوں میں سے ہر ایک پودے کا سیل ہے۔ اور وہ چھوٹی سبز سواریاں اس کی توانائی کے کارخانے ہیں۔ اگر ہم ان کے تجارتی راز چرا سکیں تو یہ ایک نیا صنعتی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ لیکن ان کی جاسوسی کرنے کے لیے، ہمیں مزید گہرائی میں جانے کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت تک ہمارے تخیل کا جہاز کتنی اجنبی دنیاؤں کو دیکھ چکا ہے؟ یہ کائنات ہے جو ایک شبنم کے قطرے کے اندر موجود ہے۔ ہم ایک صنعتی جاسوسی مشن پر ہیں۔ اگر ہم اس کلوروپلاسٹ میں تیاری کے عمل کے تجارتی رازوں میں گھس سکتے ہیں، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سارا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ یہ کلوروپلاسٹ پانی کے مالیکیولز کو ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں میں توڑنے کے لیے سورج کی روشنی کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ ہائیڈروجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ملا کر شکر بناتا ہے، اور آکسیجن کو فضلہ کے طور پر خارج کر دیتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ کیسے ہوتا ہے، ہمیں اور بھی گہرائی میں جانا ہو گا، اور بھی چھوٹا ہونا ہو گا۔

ہم جوہری پیمانے پر جانے کی بات کر رہے ہیں۔ واہ! یہ پیداواری سلسلہ مالیکیولر صنعتی ادارے کا مرکز ہے۔ مالیکیولر سطح پر، چیزیں ہمارے دیکھنے کے حساب سے زیادہ تیزی سے ہوتی ہیں۔ لہذا ہمیں انہیں تقریباً ایک ارب گنا سست کرنا پڑے گا۔ وہ بڑے مالیکیول کاربن ڈائی آکسائیڈ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دو آکسیجن اور ایک کاربن ایٹموں سے بنا ہے۔ جب سورج کی روشنی کلوروفل کے سبز مالیکیول سے ٹکراتی ہے، تو یہ کیمیائی رد عمل کا ایک سلسلہ حرکت میں لاتی ہے، پانی کے مالیکیولز کو توڑتی ہے اور توانائی بخش الیکٹرانوں کو آزاد کر دیتی ہے۔ اور یہ صرف دن کے وقت کا عمل (یعنی پہلی شفٹ ) ہے، جب سورج کی روشنی توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک دوسری شفٹ ہے جو محفوظ کی ہوئی شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کرتی ہے۔ فارغ الیکٹرانوں کی توانائی کو کام میں لایا جاتا ہے اور پانی سے ہائیڈروجن کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ملا یا جاتا ہے۔ آخری چیز جو حاصل ہوتی ہے وہ شکر ہے، جو شمسی توانائی کا ذخیرہ کرتی ہے۔ کلوروپلاسٹ تین بلین سال پرانا شمسی توانائی جمع کرنے والا ہے۔ یہ وہ ذیلی خوردبینی شمسی توانائی کا ذخیرہ ہے جو تمام جنگلات اور کھیتوں اور سمندروں کے پلینکٹن کو چلاتا ہے۔ اور جانوروں کو۔ ہم سمیت۔ شمسی توانائی سے چلنے والا حیاتیاتی دائرہ ہماری پوری تہذیب سے چھ گنا زیادہ طاقت جمع کرتا ہے اور اسے عمل میں لاتا ہے۔ ہم کیمیائی سطح پر جانتے ہیں کہ ضیائی تالیف کیسے کام کرتی ہے۔ ہم اس عمل کو لیبارٹری میں دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس میں اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے پودے ہیں۔ اور یہ حیرت کی بات نہیں ہے، کیونکہ فطرت اربوں برسوں سے اس پر کام کر رہی ہے، اور ہم نے ابھی ابھی شروعات کی ہے۔ لیکن اگر ہم ضیائی تالیف کے تجارتی رازوں کا پتہ لگا لیں تو توانائی کا ہر دوسرا ذریعہ جس پر ہم آج انحصار کرتے ہیں جیسے کوئلہ، تیل، قدرتی گیس، سب متروک ہو جائیں گے۔ ضیائی تالیف ایک حتمی سبز طاقت ہے۔ یہ ہوا کو آلودہ نہیں کرتی اور درحقیقت کاربن بھی نہیں چھوڑتی۔ کافی بڑے پیمانے پر مصنوعی ضیائی تالیف گرین ہاؤس اثر کو کم کر سکتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کو خطرناک سمت میں لے جا رہا ہے۔
او ہو! یہ جگہ بخارات بن رہی ہے۔ یہاں سے نکلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ایک شبنم کے قطرے کی زندگی کتنی عارضی ہوتی ہے۔ یہ رات کی ٹھنڈک میں ہلکی ہوا سے منجمد ہو جاتا ہے، صرف دن کی گرمی سے غائب ہونے کے لیے۔ اور اس کے باشندے ٹیرٹی گریڈ کا کیا ہو گا، ؟ وہ ٹھیک رہیں گے۔ وہ برسوں تک پانی کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ اس کا تصور کرنا مشکل ہے، لیکن پودوں نے کروڑوں سال تک زمین کی سطح کو ڈھانپ رکھنے کے بعد پہلا پھول پیش کیا تھا۔ یہ تقریباً ایک سو ملین سال پہلے کی بات ہے، ڈائنوسارز کے معدوم ہو جانے سے کچھ دیر پہلے۔ ہماری دنیا اس وقت نسبتاً خستہ حال جگہ رہی ہوگی، جس پر سبز اور بھورے رنگوں کا غلبہ تھا۔ ہاں، وہاں دیوہیکل درخت اور دیگر سبزے اور پودوں کی زندگی تھی، لیکن آئیرس (پھول) کا جامنی یا گلاب کا سرخ رنگ نہیں تھا۔ آرکڈ زمین پر نمودار ہونے والی پہلے پھولوں کی انواع میں سے تھے، اور وہ بے حد متنوع تھے۔ ڈارون خاص طور پر مڈغاسکر کے دومکیت آرکڈ کی طرف متوجہ ہوا تھا، ایک پھول جس کا زیرہ (پولن) بہت لمبی، پتلی شاخ کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ کسی تصور کا اس کی پیش گوئی کرنے کی طاقت سے زیادہ مضبوط امتحان نہیں ہو سکتا۔ قدرتی انتخاب کے ذریعے اپنے نظریہ ارتقا کی بنیاد پر، ڈارون نے قیاس کیا کہ مڈغاسکر کے جزیرے پر کہیں غیر معمولی لمبی زبانوں کے ساتھ اڑنے والے کیڑے ہونے چاہئیں، جو اس پولن تک پہنچنے کے لیے کافی لمبے ہوں۔ وہاں کبھی کسی نے ایسا حیوان نہیں دیکھا تھا، لیکن ڈارون نے اصرار کیا کہ اس تفصیل کے مطابق جانور کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت بہت کم لوگوں نے اس پر یقین کیا۔ پچاس سال بعد ڈارون درست ثابت ہوا۔ 1903 میں، مڈغاسکر میں ایک بہت بڑا عقابی موتھ، جسے مورگنز سفنکس کہا جاتا ہے، دریافت ہوا۔ دومکیت آرکڈ کی خوشبو سے متوجہ ہو کر، یہ موتھ پولن کو اپنی ایک فٹ لمبی زبان سے سڑکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ڈارون کی توقع تھی۔ یہ اور بھی حیرت انگیز ہے کہ مورگنز سفنکس اس وقت دریافت ہوا جب آپ سمجھتے تھے کہ مڈغاسکر کے نوے فیصد سے زیادہ برساتی جنگلات تباہ ہو چکے تھے۔ ڈارون کی مشہور پیشین گوئی کے بعد کے برسوں میں، موتھ کی یہ نسل باقی سب کے ساتھ آسانی سے معدوم ہو سکتی تھی۔ ان میں سے ہر ایک زندگی کی شاعری کا ایک انوکھا جملہ۔ جو قرنوں کے ارتقا میں ایٹموں پر لکھا گیا۔
آہ، بکائن (لائی لیک) کی خوشبو۔ یہ ان خوشبوؤں میں سے ایک ہے جو تعلقات کی ایک پوری دنیا کو متحرک کرتی ہے، گزرے زمانوں کے تمام جون کے مہینے۔ لیکن یہ کیسے ہوتا ہے؟ ایک بو آپ کے دماغ میں ایک فلم کو چلانے کے لئے کس طرح متحرک کرتی ہے؟ یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کیا یہ روشنی کی طرح توانائی کی لہر ہو سکتی ہے؟ یا کسی قسم کا خوردبینی ذرہ؟ یہ دراصل ایک مالیکیول ہے۔ ہر وہ بو جسے ہم محسوس کر سکتے ہیں، چاہے وہ جلے ہوئے ٹوسٹ، پٹرول، یا وہ بکائن کے کھیت سے آ رہی ہو، مالیکیولز کا بادل ہے۔ ان مالیکیولز کی مخصوص شکلیں ہوتی ہیں۔ جب میں انہیں سانس میں لیتا ہوں، تو وہ میری ناک میں وصول کرنے والے سیل کے ایک خاص مجموعے کو متحرک کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک برقی سگنل میرے دماغ تک جاتا ہے، جو خوشبو کی شناخت بکائن (لائی لیک) کے طور پر کرتا ہے۔ دیگر خوشبوئیں مختلف شکلوں کے ساتھ مختلف مالیکیولز کے ذریعے لے جائی جاتی ہیں۔ لیکن جب میں پھول سونگھتا ہوں، یا کیمپ فائر سے دھواں اٹھتا دیکھتا ہوں تو میں اکثر یادوں سے بھر جاتا ہوں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک سادہ سی چیز جیسے پھول کی خوشبو طاقتور یادوں کو متحرک کر سکتی ہے؟ اس کا تعلق ہمارے دماغ کے ارتقا کے طریقے سے ہے۔ ہماری سونگھنے کی حس اس وقت جاگتی ہے جب ہمارے دماغ میں اولفیٹری نرو متحرک ہو جاتی ہے۔ وہ اعصابیہ امیگڈلا کے بہت قریب واقع ہے، ایک ایسا ڈھانچہ جو ہمارے جذبات کے تجربے کا لازمی جزو ہے۔ یہ ہپو کیمپس کے بھی بہت قریب ہے، جو ہمیں یادیں بنانے میں مدد دیتا ہے۔ نیوران کا نیٹ ورک جو میری ناک سے میرے دماغ تک خوشبو کا پیغام لے کر جاتا ہے، سیکڑوں ملین برسوں کے ارتقا کے دوران ٹھیک ہو گیا ہے۔ یہ بقا کا ایک طریقہ کار ہے جو ہمیں خطرے سے آگاہ کر سکتا ہے یا حفاظت کے لیے ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر آپ شکاری کا پتہ لگا سکتے ہیں جب وہ حملہ کرنے کے کافی قریب ہو، یا آگ کاآپ کو جنگل میں پھنسانے سے پہلے، تو آپ کے پاس زندہ رہنے اور اپنے جینز کو اگلی نسل تک پہنچانے کا بہت بہتر موقع ہے۔ پھولوں کے اس میدان سے آتی وہ دلکش خوشبو اعصابی پیغامات کا ایک انوکھا امتزاج آگے بھیجتی ہے۔ صرف وہی انوکھا امتزاج اس محفوظ جگہ میں گھس سکتا ہے جہاں میرے دماغ کے اندر بکائن کی یادداشت محفوظ ہے۔ حیرت ہے کہ وہ کس کے لیے ہیں۔ شاید بعد میں ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا۔
لیکن سب سے پہلے، ایک اور پوشیدہ کائنات ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ پودے نرمی سے سانس لے رہے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز کو سانس میں لے رہے ہیں اور آکسیجن کے مالیکیولز کا اخراج کر رہے ہیں۔ اور میں اس کے برعکس کر رہا ہوں۔ برف کے گولے اور نشان انگشت ( فنگر پرنٹس) کے برعکس، ایک ہی قسم کے ایٹم یا مالیکیول بالکل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ایک سانس جو ہم لیتے ہیں اس سے ہم اتنے ہی مالیکیول سانس میں لیتے ہیں جتنے نظر آنے والی کائنات کی تمام کہکشاؤں میں ستارے ہیں۔ اور ہر وہ سانس جو ہم چھوڑتے ہیں وہ ہوا کے ذریعے گردش کرتا ہے، اور آہستہ آہستہ براعظموں میں گھل مل جاتا ہے، اور دوسروں کے لیے سانس لینے کے لیے دستیاب ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ سانس لیجیے۔ ہم سب نے جو سانس لیا ہے وہ ہر ایک اس شخص کے پھیپھڑوں سے گزر چکا ہے جو ہم سے پہلے کبھی زندہ تھا۔ اس کے بارے میں سوچیں۔ اس قسم کا جوہری تناسخ ہمارے دور دراز کے آبا و اجداد کی ایک اور کڑی ہے، جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے ہمیں ان دیکھی کائناتوں کی تلاش میں بھیجا تھا۔ یہ کائناتیں اتنی ہی حقیقی ہیں جتنا کہ آپ یا میں، اور وہ ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ کبھی ایک وہ لمحہ بھی تھا جب ہم سوچنے اور دیکھنے کے ایک نئے انداز میں بیدار ہوئے تھے۔
یہ تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے یونانی جزائر پر ہوا تھا جو مشرق اور مغرب کی سلطنتوں کے درمیان واقع تھے۔ وہاں، تاجر، سیاح اور ملاح آزادانہ طور پر گھل مل جاتے، عظیم بادشاہوں اور دیوتاؤں کی کہانیوں کا تبادلہ کرتے۔ آیونی شہروں اور میلیٹس جیسے قصبوں میں، جو اب ترکی میں ہیں، ہمارے رہنے کے طریقوں کے سب سے بنیادی عناصر پہلی بار ظاہر ہوئے۔ یہاں، پہلی بار، پیشہ ور افراد کی طرف سے تخلیق عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دلوں کو چھونے، یا سامعین کو ہنسانے کی امید کے ساتھ پہلے ڈرامے، اور کامیڈی پیش کی گئی۔ یہاں پر ایک اور انقلابی تصور بھی پیدا ہوا۔ عوام کی طرف سے حکومت۔ جمہوریت کی پہلی جھلک، آج کے وقت کی طرح ہی ناقص، اور یہ تصور کہ عام شہری کو کچھ حقوق حاصل ہو سکتے ہیں، اس وقت اور جگہ سے ہمارے پاس آتے ہیں۔ لیکن میری نظر میں، اس قدیم دنیا سے ہمارے پاس آنے والی سب سے انقلابی اختراع یہ خیال تھا کہ فطری واقعات نہ تو سزا ہیں اور نہ ہی من موجی اور وہمی دیوتاؤں کی طرف سے کوئی انعام۔ مافوق الفطرت کی بات کیے بغیر بھی فطرت کے کاموں کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔
اس سوچ کا اظہار کرنے والا پہلا شخص تھیلیز نامی شخص تھا۔ جب بادل گرجیں یا زمین ہلنے لگے، تو ایسا نہیں تھا کہ آپ نے کچھ ایسا کر دیا تھا جس سے انتہائی توقعات رکھنے والے غصیلے دیوتاؤں کو ناراض کر دیا گیا ہے۔ نہیں، یہ سب قدرتی عمل کا نتیجہ تھا جسے ہم سمجھنے کے قابل تھے۔ اگرچہ تھیلیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کتابیں لکھی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی آج موجود نہیں ہے۔ لیکن تھیلیز نے جو ایک شعلہ بھڑکایا تھا وہ آج تک جل رہا ہے۔ ایک عظیم افراتفری کے بعد کائنات کے ظہور کا تصور، قدرتی قوانین کی ترتیب سے چلنے والی ایک کائنات جس کو ہم جان سکتے ہیں۔ یہ وہ زبردست مہم تھی جو تھیلیز کے ذہن میں شروع ہوئی۔ تھیلیز کی موت کے صرف ایک صدی بعد ، ایک اور جینئس شخص آیا۔ اور وہ، کسی بھی دوسرے سے زیادہ، سب سے پہلے ہمارے ارد گرد چھپی ہوئی کائناتوں کے وجود کو دریافت کرنے والا تھا۔ ایبدیرا کا ڈیموکرائٹس ایک حقیقی سائنسدان تھا، ایک ایسا آدمی تھا جسے کائنات کو جاننے اور عیاشی کرنے کی پرجوش خواہش تھی۔ یہ وہ آدمی تھا جس نے ایک بار کہا تھا، ”عیاشی کے بغیر زندگی ایک نہ ختم ہونے والی سڑک کی طرح ہو گی۔“
”کیا مطلب، بس یہی؟ بس اتنا ہی کچھ ہے؟ صرف خلا میں ایٹموں کا کوئی گروہ؟“
”ہاں۔ اچھا، اس کے بارے میں سوچو۔ دنیا کو ایک خلا میں لاتعداد ناقابل تقسیم ذرات سے ہی بنانا ہو گا۔ بصورت دیگر، کچھ بھی حرکت یا بڑھ نہیں سکتا، تقسیم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹموں اور ان کی حرکت کے لیے خالی جگہ کے بغیر، دنیا ٹھوس، جامد اور مردہ ہوگی۔ اس لیے اداس نا ہو، میرے دوست۔ بس ان لامحدود امکانات کے بارے میں سوچو جو ان ایٹموں کے مختلف انتظامات سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں اس پیمانے اور اس شراب میں موجود ایٹم اور وہ ایٹم جو ہماری ہنسی کو ممکن بناتے ہیں۔ “
کاربن ایٹم کو دیکھو۔ زمین پر زندگی کے لئے ضروری عنصر۔ کیوں؟ کاربن بہت خاص ہے کیونکہ یہ ایک وقت میں چار دیگر ایٹموں کے ساتھ اشتراک کر سکتا ہے۔ یہ بہت سے مختلف قسم کے ایٹموں کے ساتھ ساتھ دیگر کاربن ایٹموں سے بھی جڑ سکتا ہے۔ یہ حلقوں میں گھوم سکتا ہے اور تاروں سے زنجیریں بھی بنا سکتا ہے۔ نتیجتاً کسی بھی کرسٹل سے کہیں زیادہ پیچیدہ مالیکیول تعمیر کر سکتا ہے۔ کسی دوسرے ایٹم میں اتنی لچک نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ ایٹم جن میں ایک جیسی کیمیائی خصوصیات ہیں، جیسے سیلیکان، کاربن پر بنے ہوئے مالیکیولز جیسے حیرت انگیز متنوع اقسام نہیں بنا سکتے۔ کاربن پر مبنی مالیکیولز جنہیں ہم پروٹین کہتے ہیں، زندگی کے مالیکیول، لاکھوں ایٹموں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کاربن ایٹم ان مالیکیولز کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جو زمین پر موجود ہر جاندار چیز کو بناتے ہیں، بشمول ہم۔ چٹانوں اور جانداروں میں یہی فرق ہے۔ زندگی شاندار حجم اور پیچیدگی کے بہت بڑے مالیکیول بنا سکتی ہے، مادے کو بہتر بنانے، تیار کرنے اور یہاں تک کہ محبت کے لیے بھی آزادی دیتی ہے۔
پریشان نا ہوں والد۔ اس پیارے لڑکے نے اس پریوں جیسی لڑکی کو چھوا نہیں ہے۔ اس لڑکے نے حقیقت میں اس لڑکی کبھی نہیں چھوا تھا۔ ہماری دنیا میں روزمرہ کی زندگی میں، ایٹموں کے پیمانے پر، مادی اشیاء واقعی کبھی نہیں چھوتی۔ ہر ایٹم کے مرکز میں ایک چھوٹا سا نیوکلیئس ہوتا ہے، جس کے چاروں طرف قوت کی لکیروں کے الیکٹران بادل ہوتے ہیں۔ جیسے ہی ایٹم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، لڑکے کے الیکٹران کے بادل لڑکی کے الیکٹران بادل کو دھکیل دیتے ہیں۔ کسی بھی ایٹم کا ننانوے اعشاریہ نو فیصد سے زیادہ مادہ نیوکلیئس میں مرتکز ہوتا ہے۔ نیوکلیئس ایک الیکٹران بادل سے گھرا ہوا ہوتا ہے جو قوت کا ایک پوشیدہ دائرہ پیدا کرتا ہے، اور جھٹکا جذب کرنے والے ( شاک ایبزاربر) کی طرح کام کرتا ہے۔ الیکٹران کلاؤڈ کی ترتیب کسی عنصر کی نوعیت کا تعین کرتی ہے۔ یہاں زمین پر چیزوں کے عام حالت میں، نیوکلیئس کبھی نہیں چھوتا۔ ہمارے پاس چھونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن یہ صرف ہماری پوشیدہ قوت کے دائرے ہیں جو ایک دوسرے کو ڈھانپتے یا پیچھے ہٹاتے ہیں۔ نیوکلیئس باقی ایٹم کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایٹم اس کیتھیڈرل کے سائز کا ہوتا تو اس کا نیوکلیئس دھول کے ذرہ کے حجم کا ہوتا۔ ایک ایٹم زیادہ تر خالی جگہ ہوتا ہے۔ مادے کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے، ہمیں اور زیادہ گہرائی میں جانا ہو گا۔ ایٹم سے ایک لاکھ گنا چھوٹی جگہ پر، اس کے نیوکلیئس میں۔
کائنات میں سب سے زیادہ سہل اور بہت زیادہ تعداد میں پایا جانے والا ایٹم ہائیڈروجن ہے۔ اس کا نیوکلیئس ایک واحد پروٹون ہے، جو ہائیڈروجن کو عنصر نمبر ایک بناتا ہے۔ اس کے چاروں طرف بادل وہ دنیا ہے جہاں ایٹم کے تنہا الیکٹران کو گھومنے کی پوری آزادی ہے۔ جب آپ کے پاس دو پروٹون کے ساتھ نیوکلیئس ہو تو کیا ہوتا ہے؟ پروٹون ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے ہیں۔ انہیں نیوکلیئس میں ایک ساتھ رکھنے کے لیے، آپ کو نیوٹران نامی دوسرے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کام پروٹون کو لائن سے باہر جانے سے روکنا ہے۔ وہ اپنی مضبوط پرکشش جوہری قوت سے پروٹونز کو مغلوب کر دیتے ہیں۔
دو پروٹون کے ساتھ ایک نیوکلیئس عنصر نمبر دو ہے، بصورت دیگر ہیلیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
چھ پروٹون کے ساتھ ایک نیوکلیئس عنصر نمبر چھ ہے، جو کاربن ہے، زندگی کی بنیادی تعمیراتی اینٹ ہے۔
سونے کے ایٹم کے نیوکلیئس میں اناسی پروٹون ہوتے ہیں۔ وہ اس کے گرد بادلوں میں اناسی الیکٹرانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ جس طرح سے روشنی ان الیکٹرانوں کے ساتھ تعامل کرتی ہے وہی سونے کو چمکدار بناتی ہے۔
نیوکلیئس میں ہر اضافی پروٹون کو ایک حد تک ایک ساتھ باندھنے کے لیے بہت سے نیوٹران کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیوٹران کی تعداد کی ایک بالائی حد ہے جسے آپ نیوکلیئس میں بھر سکتے ہیں اس سے پہلے کہ یہ غیر مستحکم ہو جائے۔ میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں جہاں مختلف ایٹموں کے نیوکلیئس دراصل ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔ سورج ایک ٹھوس چیز کی طرح لگتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے تمام ایٹم ہمیشہ گیس کی حالت میں رہتے ہیں۔ زمین پر وہ بندھن جو ٹھوس اور مائعات بنانے کے لیے ایٹموں کو شامل کرتے ہیں، اتنے مضبوط نہیں ہوتے کہ بھڑکتے ہوئے سورج کی گرمی کو برداشت کر سکیں۔ سورج اتنا گرم کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ اس کی اپنی شاندار کشش ثقل اس کے ایٹموں کو ایک ساتھ نچوڑ رہی ہے۔ کشش ثقل کی توانائی حرکت پذیر ایٹموں کی وجہ سے توانائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ گرمی یہی ہوتی ہے۔ ہم سورج میں جتنا گہرائی میں جائیں گے، نچوڑ اتنا ہی زیادہ ہو گا اور درجہ حرارت اتنا ہی زیاد ہوتا جائے گا۔ سورج کے قلب میں ایٹم اتنی تیزی سے حرکت کرتے ہیں کہ جب وہ آپس میں ٹکراتے ہیں تو بکھر جاتے ہیں۔ ان کا نیوکلائی لمس۔ سورج ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر ہے، جو اپنی ہی کشش ثقل سے جڑا ہوا ہے۔ یہ کشش ثقل کے اندرونی کھچاؤ اور اس کی گرم گیسوں کے بیرونی دھکوں کے درمیان توازن ہے۔ یہ توازن اربوں سال تک جاری رہا، جس نے زمین پر زندگی کے ارتقا کو ممکن بنانے کے لیے استحکام فراہم کیا۔ سورج کے مرکز میں، ہائیڈروجن کا ہیلیم سے ملاپ فوٹون کی شکل میں جوہری توانائی جاری کرتا ہے۔ روشنی کے یہ ذرات آہستہ آہستہ سطح پر آ جاتے ہیں، جہاں انہیں سورج کی روشنی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہیلیم سورج کی جوہری بھٹی کی راکھ ہے۔ سورج ایک درمیانے حجم کا ستارہ ہے۔ اس کا مرکزی حصہ زیادہ گرم نہیں ہے، صرف دس ملین ڈگری گرم، جو ہائیڈروجن کو کو بکھیر (فیوز) دینے کے لیے تو کافی ہے لیکن ہیلیم کو بکھیرنے ( فیوز) کے لیے تھوڑا کم گرم ہے۔
کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں جو بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ بڑے ہوتے ہیں اور ان کی کشش ثقل بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے ستارے ہیلیم کو کاربن اور آکسیجن جیسے بھاری عناصر میں فیوز کر دیتے ہیں۔ اپنے بڑھاپے میں، وہ آہستہ اور نرمی سے ان عناصر کو خلا میں پھیلاتے ہیں۔ دوسرے ستارے، جو اور بھی تک زیادہ بڑے ہیں، تیزی سے زندہ رہتے ہیں اور تباہ کن سپرنووا دھماکوں میں جوانی کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں۔ ہماری کہکشاں میں، ایسے ستارے ایک صدی میں تقریباً ایک بار سپرنووا جاتے ہیں۔ یہ دھماکے سورج کے مرکز سے کہیں زیادہ گرم ہوتے ہیں جو لوہے جیسے عناصر کو بھاری دھماکوں میں تبدیل کر کے خلا میں پھینک دیتے ہیں۔ بڑا میگلینک بادل ہمارے ملکی وے کہکشاں کی ایک پڑوسی کہکشاں ہے۔ یہ جنوبی نصف کرہ کے آسمانوں میں نظر آتا ہے۔ جب کوئی سپرنووا پھٹتا ہے تو اس کی چمک اس کی پوری کہکشاں سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ تمام روشنی دھماکے میں آزاد ہونے والی توانائی کا صرف ایک فیصد ہوتی ہے۔ باقی ماندہ توانائی کائنات میں سب سے زیادہ عام اور سب سے زیادہ پراسرار ذرات کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ ابھی ان میں سے کھربوں آپ کے پاس سے گزر رہے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک کا بھی سراغ لگانے کے لیے ہمیں زمین کے عجیب و غریب مقامات میں سے ایک میں جانا پڑے گا۔ وحشی نیوٹرینو کو دیکھنے کی کوشش کرنا نایاب کھیلوں میں سے ایک ہے۔ ان کا پتہ لگانے کے لیے جس حد تک جانا ضروری ہے وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ نیوٹرینو کا پتہ لگانے والے زیر زمین جاپانی چیمبر سپر کامیوکا میں خوش آمدید۔
ہم زمین کی سطح سے آدھے میل سے کچھ زیادہ نیچے ہیں۔ آپ پوچھ سکتے ہیں، ”کون اپنی صحیح دماغی حالت میں کسی فلکیاتی رصد گاہ کو زیر زمین تعمیر کرے گا؟“ وہ لوگ جو کائنات میں سب سے زیادہ پراسرار شکار کے پیچھے ہیں : نیوٹرینو۔ پچاس ہزار ٹن کشیدہ پانی ( ڈسٹلڈ واٹر) کے ارد گرد لائٹ ڈیٹیکٹرز کی یہ بہت بڑی صف ایک جال ہے جسے صرف نیوٹرینو کو پکڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دوسرے ذرات، جیسے کائناتی شعاعیں، زیادہ تر پروٹون اور الیکٹران جو خلا سے برستے ہیں، ہمارے اوپر موجود تمام چٹانوں سے نہیں گزر سکتے۔ لیکن مادہ نیوٹرینو کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ایک نیوٹرینو بغیر کسی رفتار کی کمی کے گزر سکتا ہے۔ نیوٹرینو مادے کے ساتھ مشکل ہی سے اتصال کرتا ہے۔ اس لیے آپ کو ان میں سے کسی ایک کو پکڑنے کے لیے بہت سارے درکار ہوتے ہیں۔ ان شاذ و نادر مواقع پر جب ایک نیوٹرینو درحقیقت عام مادے کے کسی ذرے سے ٹکراتا ہے، تو یہ ایک دائرے کے شکل کی روشنی پیدا کرتا ہے۔ ہم ایک ایسے ذرے کے انتظار میں بیٹھے ہیں جس کا وزن کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک الیکٹران کی کمیت نیوٹرینو سے ایک ملین گنا سے زیادہ ہے۔
1987 میں بڑے میجیلانک بادل میں موجود سپرنووا نے اپنی چوٹی کو اڑا دیا۔ اب یاد رکھیں، بڑا میجیلانک بادل ہمارے جنوبی نصف کرہ میں ہے، اس لیے نیوٹرینو ہمارے اوپر موجود آدھے میل کی چٹان سے نہیں گزرے، انہیں سپر کامیوکا چیمبر کے ڈیٹیکٹر تک پہنچنے کے لیے ہمارے نیچے موجود ہزاروں میل چٹان اور لوہے سے گزرنا پڑا۔ لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ نیوٹرینو سپرنووا کی روشنی سے تین گھنٹے پہلے زمین سے ٹکرائے تھے۔ اگر کوئی چیز روشنی سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتی تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ رہا ایک مردہ ستارہ۔ یہ معمول کی بات ہے، لیکن اس کے اندر کچھ بہت ہی زیادہ تباہ کن ہو رہا ہے۔ یہ نیلا دیو ہیکل ستارہ پہلے ہی اندر سے پھٹنا شروع ہو چکا ہے۔ ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑنے والے چوہوں کی طرح، پھٹنے والے ستارے کے دل میں پیدا ہونے والے نیوٹرینو روشنی کی رفتار کے ساتھ باہر کی طرف دوڑتے ہیں۔ لیکن پھٹنے والی گیس کی لہر ستارے کے مرکز سے ایک بٹا دس ہزار پر روشنی کی رفتار سے چلتی ہے اور بالآخر ستارے کی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ اسے سپرنووا 1987 میں تبدیل کر دیتی ہے۔ دھماکے کو ستارے کی سطح تک پہنچنے اور اسے چوڑا کھلا کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، جس سے اس ستارے کا مرکز (کور) بے نقاب ہو جاتا ہے۔ نیوٹرینو کی شروعات ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روشنی کی چمک نیوٹرینو کی بارش سے بہت بعد میں زمین پر پہنچی تھی۔
اس سے پہلے کہ کوئی ان وحشی نیوٹرینو کا پتا لگاتا، یہ ایک نظریاتی طبیعیات دان کے ذہن میں موجود تھے۔ جس طرح چارلس ڈارون جانتا تھا کہ مڈغاسکر میں کہیں ایک انتہائی لمبی ناک والی مخلوق اڑ رہی ہے، اسی طرح بیسویں صدی کا ایک ماہر طبیعیات وولف گینگ پاؤلی جدید طبیعیات کے ستونوں میں سے ایک کو بچانے کے لیے ایک ذرہ کی شدت سے تلاش کر رہا تھا، توانائی کے تحفظ کا قانون۔ تو میں کیوں جھجکوں؟ کیونکہ سائنس کے قوانین بنیادی طور پر دیگر انسانی کوششوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی خیال یا تصور کو سائنسی قانون بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسے توڑا نا جا سکے۔
توانائی کی اکاؤنٹنگ کی کتابیں ہمیشہ شدت سے متوازن ہوتی ہیں۔ دھوکہ دہی جیسی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں، جب طبیعیات دانوں نے پہلی بار ایٹموں کی توانائی کا صحیح سے حساب لگایا، تو وہ اس قانون کی صریح خلاف ورزی کا پتہ لگا کر چونک گئے۔ انہوں نے پایا کہ کچھ تابکار ایٹموں میں، نیوکلیئس بے ساختہ الیکٹران کو باہر نکال سکتا ہے۔ یہ ایٹم کو ایک مختلف عنصر میں تبدیل کردیتا ہے۔ طبیعیات دان سخت حیران ہوئے۔ فرار ہونے والے الیکٹران کے علاوہ نئے عنصر کی توانائی اصل نیوکلیئس میں موجود توانائی سے کم ہوجاتی ہے۔ لیکن قانون کہتا ہے، ”آپ کوتوانائی کو تباہ یا پیدا نہیں کرنا چاہیے۔“ تو گمشدہ توانائی کہاں گئی؟ 1930 میں وولف گینگ پاؤلی نے پیش گوئی کی کہ ایک غیر دریافت شدہ ذرہ ہونا چاہیے، جو غائب توانائی کے ساتھ فرار ہوجاتا ہے۔ اس وقت، پاؤلی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس طرح کا ذرہ اتنا چھوٹا، تیز اور مبہم ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ڈھونڈے جانے ہی سے انکار کر دے۔ لیکن یہ اس کے تخیل کی ایک ناکامی تھی کیونکہ سائنس ہمیشہ گہرائی میں جانے کا راستہ تلاش کرتی رہتی ہے۔ صرف ایک نسل کے بعد ہی، پاؤلی کے نیوٹرینو کا سراغ پہلی بار جوہری ری ایکٹر سے تابکاری میں پایا گیا۔ اور ہم تب سے انہیں مشکل ہی سے، مگر ڈھونڈ لیتے ہیں۔ آج ایسے سائنس دان موجود ہیں جو ان نیوٹرینو کو وقت کے آغاز تک کے واپس سفر میں لے جانے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس حد تک دور جائیں گے جہاں تک وہ ابدیت کی دیوار کے سامنے آجائیں۔
ابدیت کی دیوار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے آبا و اجداد نے اسی وقت اسے اپنے سامنے پایا جب انہوں نے پہلی بار اس کا تصور کرنا شروع کیا۔ ایک ملین صبح پہلے، تیرہویں صدی قبل مسیح میں، مصریوں نے یہ مندر ابو سمبل میں فرعون رمسیس دوم کی تعظیم کے لیے تعمیر کیا۔ یہاں چار دیو ہیکل مجسموں کو دکھایا گیا ہے۔ اس طاقتور بادشاہ کے سر کے اوپر حکومت کرنے والا عقاب کے سر والا را۔ ہارختی) ہے، سورج کا دیوتا۔ مندر کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ چڑھتے سورج کی روشنی ہر سال صرف دو دن مندر کے اندر داخل ہو سکے۔ جیسے ہی شعاعیں مندر میں داخل ہوتی ہیں، وہ مقدس مقام میں گھسنے سے پہلے دیوتاؤں کے مجسموں کو اپنی سنہری روشنی سے منور کر دیتی ہیں۔ پھر بھی ایک دیوتا سائے میں رہتا ہے۔ تاھ، تخلیق کا دیوتا، گویا کائنات کی ابتدا کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جانا چاہیے۔

اپنے چہرے پر سورج کو محسوس کریں۔ جو توانائی آپ کو حدت دیتی ہے اس کا سفر تقریباً دس ملین سال پہلے سورج کے قلب سے شروع ہوا تھا۔ نیوٹرینو کے برعکس، فوٹون کو کور سے باہر، سطح تک اپنا راستہ بنانے کے لیے اتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ کیوں؟ چونکہ وہ سورج کے ایٹموں سے فی سیکنڈ اربوں بار ٹکرا رہے ہوتے ہیں، اس لیے ہر تصادم انہیں بے ترتیب سمت میں بھیج دیتا ہے۔ لیکن ایک بار جب وہ سطح پر پہنچ جاتے ہیں، تو وہ سورج سے آپ تک محض آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ میں روشنی کی رفتار سے رکے بغیر گرنے کرنے کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں۔ آپ کے چہرے پر دس ملین سال پرانی روشنی۔
جب وہ روشنی سورج کے دل سے نکلی تھی تو کیا ہو رہا تھا؟ کائناتی کیلنڈر پورے تیرہ اعشاریہ آٹھ بلین سالہ کائنات کی تاریخ کو ایک سال میں سکیڑتا ہے۔
ہر ماہ تقریباً ایک بلین سال کی نمائندگی کرتا ہے۔
ہر ایک دن، تقریباً چالیس ملین سال۔
کائنات اتنی پرانی ہے کہ کائناتی کیلنڈر پر دس ملین سال ہمیں سال کے آخری دن میں دکھائی دیتے ہیں۔
اور ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟ انسانوں کا ارتقا ہونا ابھی باقی تھا۔ دس ملین سال پہلے، ہمارے آبا و اجداد انسانوں جیسے نظر آنے والے (اینتھرو پوڈ) بندر تھے، جو افریقہ کے درختوں میں جھول رہے تھے۔ ہمارے نزدیک دس ملین سال ایک طویل وقت کا دورانیہ لگتا ہے، لیکن یہ کائنات کے زمانی پیمانے پر صرف ایک دوپہر کی لمبائی کے برابر ہے۔ سورج نے کائناتی کیلنڈر پر اکتیس اگست کو ہائیڈروجن کو بکھیرنا (فیوز) شروع کیا۔ ہماری ملکی وے کہکشاں تقریباً دس ہزار ملین سال پرانی ہے۔ پہلی کہکشائیں تقریباً چند ارب سال پہلے بنی تھیں۔ مجھے وقت میں مزید پیچھے جانے سے کچھ روک رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ روشنی اور وقت کی نوعیت ہے۔ چونکہ روشنی ایک محدود رفتار سے سفر کرتی ہے، اس لیے خلا میں دیکھنا وقت پر پیچھے مڑ کر دیکھنا ہے۔ تو جتنا دور ہم دیکھتے ہیں، روشنی اتنی ہی پرانی ہوتی ہے۔ یہ کائنات کی تاریخ میں اتنا ہی پیچھے ہے جتنا ہم روشنی کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کائناتی بچے کی ایک تصویر ہے، جب اس کی عمر صرف تین لاکھ اسی ہزار سال تھی۔ یہ کائناتی کیلنڈر پر یکم جنوری کے پہلے پندرہ منٹ ہیں۔ اگر ہم مائکرو ویو دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سمت میں جہاں تک دیکھ سکتے ہیں دیکھتے ہیں، تو یہ وہی ہے جو ہم دیکھتے ہیں، بگ بینگ کے بعد باقی رہ جانے والی چمک۔ تصور کریں کہ قابل مشاہدہ کائنات کا تمام مادہ اور توانائی اس کائناتی بچے کی تصویر ہے۔ یہ ایک سیکنڈ پرانی کائنات کا حجم ہے جو کھربوں حصے کا کھربواں حصہ ہے۔
اب اربوں نوری برسوں میں پھیلی ہوئی سو ارب کہکشاؤں کے تمام مادے اور توانائی کو دو انچ کے سنگ مرمر کے کے گولے میں بند کر دیتے ہیں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وہ سنگ مرمر کتنا مضبوطی سے جوڑا گیا ہو گا؟ کسی بھی قسم کی روشنی کے لیے اس میں سے گزرنے کے لیے بہت زیادہ گھنا، لیکن نیوٹرینو کی طرح کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بگ بینگ نے نیوٹرینو کی بہت ہی بڑی تعداد پیدا کی ہوگی، جو مادے کے اس ناقابل فہم جوڑ توڑ کے ذریعے بلا روک ٹوک ادھر ادھر اڑ گئے ہوں گے۔ وہ چیز جس کی وجہ سے ان کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نیوٹرینو اس پردے کے آرپار بھی چلے جاتے ہیں جو وقت کے آغاز کو چھپاتا ہے۔ اب وہ کہاں ہیں؟ وہ یہاں ہیں، وہ وہاں ہیں، ہر جگہ پوری کائنات میں ہیں۔ تخلیق کے وقت سے لے کر اب تک کے نیوٹرینو آپ کے اندر ہیں۔ سنگ مرمر کے دو انچ کے گولے سے کائنات تک۔
یہ وہ راستہ ہے جو تھیلس اور ڈیموکرائٹس نے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ہمیں ایک لامتناہی تلاش کے لیے دکھایا تھا۔ نئی دنیاؤں کی لامتناہی تلاش، انتھک، منظم کھوج اور فطرت کے بارے میں مسلسل گہری ہوتی ہوئی ہماری سمجھ کی سڑک۔
تم میں سے کون اس مشعل کو اٹھائے گا اور ہمیں سڑک کے اس اگلے حصے پر لے جائے گا؟
(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی چھٹی قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )







