افلاطون کی تمثیلِ غار اور ہمارا سماج


افلاطون یونان کے موثر ترین فلسفیوں میں سے ایک ہے۔ ان کی تعلیمات نے سائنس سے لے کر فلسفے تک اور عمرانیات سے لے کر نفسیات تک کے ہر شعبے پر اپنا اثر ڈالا ہے۔ افلاطون نے اپنی معروف و مقبول کتاب ”ریاست“ میں نظریہ مثل کی وضاحت کرتے ہوئے ایک فرضی منظرنامہ پیش کیا ہے جو انسانی ذہن پر پڑنے والے فکری، سیاسی و سماجی غلامی کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔ افلاطون نے اس فرضی منظرنامے کو ”تمثیل غار“ یا ”Allogary of the cave“ کا نام دیا ہے۔ اس کو اگر آپ اکیسویں صدی میں بھی اپنے سماج میں اپلائی کریں گے تو آپ صدیوں بعد بھی اس کو بالکل متعلق پاؤ گے۔

اس تمثیل میں افلاطون نے ایک ایسے غار کا ذکر کیا ہے جس میں کچھ لوگ پیدائش سے ایک غار میں قید ہے۔ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور ان کے گلے میں بھی اس انداز سے زنجیریں ڈالے گئے ہیں جو پیچھے مڑ کر دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے ایک آگ کا الاؤ روشن ہے اور اس آگ کے سامنے جو چیزیں گزرتی ہے ان کی شبیہ سامنے دیوار پر ظاہر ہوتی ہیں اور یہ قیدی مسلسل ان سایوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ اس آگ کے الاؤ کے سامنے جو بھی چیز گزرتی ہے یہ قیدی اپنی مخصوص کیفیت کی وجہ سے ان سایوں کو بالکل سچائی اور حقیقت تسلیم کر لیتے ہیں۔

پھر کئی سالوں بعد ان میں سے ایک شخص اپنے زنجیریں توڑ کر تجسس سے باہر نکلتا ہے اور چیزوں کی حقیقی شکل دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ جو چیزیں وہ مسلسل دیوار پر دیکھ رہے تھے وہ تو حقائق کی بگڑی ہوئی اشکال تھی۔ حقائق تو بالکل اس کے برعکس ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اب یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جا کر اپنے دوستوں کو بتائے کہ جن چیزوں کو آپ مسلسل اس دیوار پر دیکھتے آ رہے ہیں یہ حقائق نہیں ہے۔ اصل حقائق تو میں باہر دیکھ کر آیا ہوں۔ وہ مسلسل ان کو قانع کرتے ہیں لیکن ان کے باقی دوست ان سایوں کی جعلی حقیقت کے اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ اصل سچائی کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جب وہ اپنی بات پر ضد کرتا ہے تو باقی لوگ اس بندے کو جان سے مار دیتے ہیں (جس طرح یونان میں افلاطون کے استاد سقراط کو مارا گیا) ۔

اس تمثیل کو اگر ہمارے معاشرے میں لاگو کیا جائے تو آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ نہ صرف ان زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے کبھی یہ کوشش تک نہیں کی ہے کہ وہ ان زنجیروں کو پہچان لیں اور ان سے چھٹکارا پانے کے لئے باہر جا کر حقیقت تلاش کریں۔ ذہنی کنجوسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا نوجوان نسل غور و فکر اور سوال کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ ان کے گردنوں میں اقدار و روایات کی ایسی زنجیریں جکڑی ہوئی ہیں جو ان کو فکری آزادی، آزادانہ سوچ اور تنقیدی شعور سے محروم رکھتا ہے۔ نتیجتاً وہ صرف ان باتوں پر یقین کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ سرکاری میڈیا پر دیکھتے، سنتے ہیں یا ایک مخصوص نظریے و فکر کی ترویج کے لئے ان کو پڑھایا جاتا ہے۔ وہ اس گھوڑے کی مانند اپنا سفر طے کرتا ہے جس کے آنکھوں پر وہ پردہ ڈالا گیا ہے جسے صرف سیدھا دیکھنے کی اجازت ہے۔

ہمارے معاشرے میں غار سے آزاد ہونے والا قیدی آج کے ان روشن فکر سیاسی ورکرز، تنقیدی نظر رکھنے والے اساتذہ کی نمائندگی کرتا ہے جو مصنوعی سچائی، فرسودہ نظام اور بے ہودہ سماجی رسومات کو بے نیازی سے چیلنج کرتا ہے۔ ثقافتی گھٹن اور انتہا پسندی کو دور کرنے کے لئے ان زنجیروں کی پہچان کرواتے ہیں اور لوگوں کو سچ سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب یہ ان تمام با شعور اور تنقیدی نظر رکھنے والے افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ارتقائی سفر تیز تر کرنے کے لئے معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا رول ادا کریں۔

Facebook Comments HS