دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے: جرمن زبان کے شاعر رِلکے اور ان کی نظمیں


” میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔“
نپے تلے ریڈیائی لہجے میں ادا کیے گئے اس سادہ سے جملے نے جہاں مجھ پر ماضی کے کئی در وا کر دیے وہاں اعزاز آئندہ کی نوید بھی سنا دی۔

میں نے سامنے دھرے سکرپٹ پر سے نگاہ اٹھا کر میز کے دوسری جانب کھڑی ثریا شہاب صاحبہ کی جانب دیکھا جو سرخ سویٹر اور سفید پتلون میں ملبوس اپنے نفاست سے تراشیدہ بالوں کو دائیں ہاتھ سے کان کے پیچھے ٹکا رہی تھیں۔ نوے کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے۔ پاکستان ٹیل وژن اور بی بی سی کی ممتاز نیوز کاسٹر حال ہی میں اپنے صحافی جرمن شوہر کے ساتھ جرمنی منتقل ہوئی تھیں اور آتے ہی شہر کولون میں واقع ریڈیو ڈوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کے دفتر ہم اردو سروس والوں سے ملنے چلی آئی تھیں۔ جہاں ہم اب مل کر تواتر سے ریڈیو پروگرام کر رہے تھے۔

کب اور کہاں۔ ؟ ”میں نے حیرت کے دائرے سے نکلتے ہوئے جوابی سوال کیا تھا۔
آج سہ پہر نشریات کے بعد نیچے کیفے ٹیریا میں۔ کافی کے کپ پر ۔ کیا خیال ہے؟ ”انھوں نے جلدی سے کہا تھا۔
اور آپ کی ٹرین؟ آپ کو تو جلدی بھاگنا ہوتا ہے اس کے لیے؟ ”میں نے شرارتاً کہا تھا۔

اُس کی فکر آپ مت کیجیے۔ کولون سے فرینکفرٹ کی طرف ایک ہی ٹرین تو نہیں جاتی۔ شام والی ٹرین پکڑ لوں گی۔ ”انھوں نے وضاحت کی تھی۔

چلیے، ٹھیک ہے۔ ملتے ہیں پروگرام کے بعد ۔ میں نے بھی حالاتِ حاضرہ کی رپورٹ پڑھنے کے انداز میں کہا تھا اور وہ متانت سے مسکراتے ہوئے میرے کمرے سے رخصت ہو گئی تھیں۔

سوا چار بجے سہ پہر میں چودھویں منزل پر واقع سٹوڈیو سے نکلا۔ آٹھویں منزل پر واقع اپنے دفتر سے چمڑے کا سیاہ بیگ کاندھے پر لٹکایا اور ساتھیوں کو خداحافظ کہتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے کیفے ٹیریا پہنچ گیا جہاں ثریا میری منتظر تھیں۔ وہ لائیو ٹرانسمشن میں شریک نہ تھیں۔ اپنا فیچر ریکارڈ کروا کے پہلے ہی فارغ ہو گئی تھیں۔

معافی چاہتا ہوں۔ میری وجہ سے آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔ ”میں نے سلام کے بعد رسمی جملہ کہا تھا۔

زحمت کیسی؟ میں کون سا فارغ بیٹھی تھی۔ اپنے ناول کے اگلے باب پر کام کر رہی تھی۔ ٹرین میں بھی تو یہی کچھ کرنا تھا۔

انھوں نے سامنے میز پر رکھا ادھورے ناول کا مسودہ اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے کہا تھا اور پھر سوالات سے بھرا ورق سنبھالتے ہوئے میرا انٹرویو کرنے لگی تھیں۔ میری ابتدائی زندگی، ادب سے شغف، پسندیدہ لکھاری، کتابیں اور جرمنی کے شب و روز کے بارے میں جاننے کے بعد پوچھنے لگیں :

آپ اردو ادب سے جُڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے جرائد میں بھی چھپتے رہتے ہیں اور سُنا ہے یہاں حلقہ ارباب ذوق جرمنی کے بھی سیکرٹری ہیں۔ میں دیکھا ہے کہ جنگ لندن کے ادبی صفحہ پر بھی امین مغل صاحب آپ کی شاعری کو جگہ دیتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے مگر میں پوچھنا یہ چاہتی ہوں کہ یہاں جرمنی میں رہتے ہوئے جرمن ادب سے بھی کچھ تعارف ہوا یا موقع نہیں ملا؟ ”

اس سوال کے جواب میں میں نے انکسار سے جرمن زبان و ادب سے اپنی دل چسپی اور پسندیدہ تخلیق کاروں کا ذکر کیا تو بولیں :

یہ تو کچھ طویل فہرست ہو گئی۔ بس یہ بتا دیجیے کہ ان سب میں سے آپ کو کس جرمن شاعر کی تخلیقات پڑھ کر زیادہ لطف آتا ہے؟ ”

”رِلکے۔ رائنا ماریا رِلکے“ ۔ میں نے بلا تردد کہا تھا ”۔
”رِلکے ہی کیوں؟“ انھوں نے وضاحت چاہی تھی۔

”شاید ان کے شعری ڈکشن یا اسلوب کی وجہ سے۔ وہ بھی زبان کے سمندر کی گہرائیوں کے غواص ہیں اور میں بھی اپنے طور پر زبان کا رسیا ہوں۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں اظہار کا جو کومل لہجہ ملتا ہے وہ بھی مجھے بہت بھاتا ہے۔ اظہار بھی کرنا تو چُھپا چُھپا کر ، اشاروں کنایوں میں اور پھر ان کے ہاں رمز و ایجاز کی فراوانی۔ یوں سمجھیے کہ اپنی غزل کا سا لطف آ جاتا ہے۔ ان کی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے امیجز اور مناظر حرکت کرتے ہوئے، جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ شاید اس لیے۔ لیکن آپ کے سوال سے پہلے میں نے اس بارے میں خاص غور نہ کیا تھا۔ اب ان کی شاعری پڑھتے ہوئے اس حوالے سے سوچوں گا“ ۔ اس جانب توجہ دلانے کا شکریہ۔

ٹریا صاحبہ تو یہ جواب پاکر گفتگو میں آگے بڑھ گئیں مگر میرا ذہن اس سوال پر اٹک گیا کہ میں جسے اپنا پسندیدہ شاعر کہہ رہا ہوں آخر اسے جانتا ہی کتنا ہوں۔ اپنی اس کوتاہی کا ازالہ کرنے کے لیے لائبریری پہنچا اور رِلکے کی شاعری اور شخصیت کو ازسرنو کھنگالنے لگا۔ اس دوران میں جو سطر، جو نظم آسان لگتی اسے اردو میں بھی منتقل کرتا جاتا۔ جیسے جیسے میں رلکے اور ان کے بارے میں پڑھتا جاتا تھا ان کی شعری اہمیت مجھ پر اتنی ہی اجاگر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ برسوں پہلے کے اس مطالعہ سے اخذ کردہ کچھ کئی باتیں اور یادیں میرے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔ جن کی بِنا پر میں تو اب بھی دوستوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ کا جی کبھی جرمن زبان میں کی گئی صوفیانہ غنائیت اور موزوں امیجری سے آراستہ دل کش شاعری سے لطف اندوز ہونا چاہے تو بلا تردد و تامل رائنا ماریا رِلکے کی نظمیں اٹھا لیجیے۔ آپ کو یہ جاننے میں دیر نہ لگے گی کیوں رِلکے کی شاعری کو بیسویں صدی کی گئی جرمن زبان کی شاعری میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں خاص کر Die Sonette an Orpheus

The Book of Hours-Das Stunden-Buch
اور
The Duino Elegies
کو جرمن ادب کے شاہکار کہا جاتا ہے۔

موخرالزکر کتاب دس نوحوں کا مجموعہ ہے جن کا منظوم ترجمہ بھارت میں جناب ہادی حسین نے انگریزی تراجم کی مدد سے اردو میں کیا تھا جو انیس سو تراسی میں الہٰ آباد سے اور بعد ازاں مجلسِ ترقی ادب لاہور سے ”رلکے کے نوحے“ کا نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔

دل چسپ بات یہ بھی کہ رلکے نے جرمن کے علاوہ فرانسیسی زبان میں بھی شاعری کی۔ وہ ایک کثیر الجہت تخلیق کار تھے۔ انھوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر بھی لکھی۔ اُن کی ایک نِیم سوانحی کتاب بھی کافی مقبول ہے۔

چار دسمبر سن اٹھارہ سو پچھہتر کو پراگ میں پیدا ہونے والے اس آسٹرین شاعر و ادیب کی عالمی شہرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی نظموں کے تراجم بیشتر بین الاقوامی زبانوں میں ہوچکے ہیں اور دنیا بھر کی درس گاہوں میں ان کے تخلیقی کارناموں پر تنقیدی اور تحقیقی کام ہو چکا ہے۔

ان کا ایک ناول ہے
Die Aufzeichnungen des Malte Laurids Brigge (The Notebooks of Malte Laurids Brigge)
وہ بھی اہلِ ادب شوق سے پڑھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ رلکے ایک کثیر الجہت لکھاری تھے۔ ان کی تصانیف میں اس ناول اور شعری مجموعوں کے علاوہ ادبی خطوط پر مشتمل کتابیں بھی شامل ہیں۔ ایک کتاب میں تو منظوم خطوط بھی ملتے ہیں۔

جیسا عرض کیا کہ رلکے کا شمار بلا شبہ بیسویں صدی میں جرمن زبان کے اُن معدودِ چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جو زبان و بیاں کی وسعتوں سے بھی آگاہ تھے اور ان کی معنوی گہرائی سے بھی۔ وہ اپنی تخلیقات میں بے یقینی، تنہائی اور اضطراب کی کیفیات کو عصری تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ان گہرے وجودی موضوعات کو جس انداز میں جامہِ تخلیق پہناتے ہیں وہ انھیں ایک ایسے لکھاری کا منصب عطا کر دیتا ہے جو روایت پسند اور جدت افروز تخلیق کاروں کے درمیان رابطہ کے پُل کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

اُن کی بعض نظموں کو آبجیکٹ نظموں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جس میں وہ ٹھوس اور طبعی اشیا اور اجسام کو اس قدر واضح انداز میں قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ اُن کہ ان اشیا کی ’مرتکز حقیقت کا سکوت‘ بھی بول اٹھتا ہے۔

جہاں تک اس عظیم لکھاری کی ذاتی زندگی کا تعلق ہے تو رلکے کے والد کا نام جوزف رلکے تھا اور وہ ملکی ریلوے میں ملازم تھے۔ جبکہ ان کی والدہ کا نام صوفی انیٹز تھا۔ جو ”فیہ“ کہلاتی تھیں۔

رلکے کا بچپن پراگ میں گزرا جسے خوش گوار قطعی نہیں کہا جا سکتا۔
اُن کی ذاتی زندگی کو اگر ”خاندانی تلافیوں“ سے تعبیر کروں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

قصہ یہ ہے کہ رلکے کی پیدائش سے قبل اس کے والدہ نے ایک بیٹی کو بھی جنم دیا تھا جو ایک ہفتہ کی ہو کر فوت ہو گئی تھی۔ رلکے اور ان کی والدہ کے درمیان تعلقات کی فضا پر اُن کی بہن کی موت کے بادل چھائے رہے۔ والدہ اپنی بیٹی کی موت کے غم میں ڈوبی رہتیں۔ وہ اپنی زندگی میں بیٹی کی کمی کو شدت سے محسوس کرتی تھیں۔ کمی کے اس احساس کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے رِلکے کو صوفیہ کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں لڑکیوں ہی کا لباس پہناتیں اور انھیں مخاطب بھی لڑکی ہی کے انداز میں کرتیں۔ رلکے کا کہنا ہے کہ اُن کی والدہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتیں جیسے وہ ایک بڑی سی گُڑیا ہوں ؛ انسان نہ ہوں بلکہ کھیلنے کی کوئی شے ہوں۔ یہ سلسلہ پانچ سال کی عمر تک جاری رہا۔

رِلکے کی عمر نو برس ہوئی تو ان کے والدین الگ ہو گئے۔ ان کے والد فوج میں خدمات انجام دینے کے خواہاں تھے مگر ناکام رہے۔ اپنی اس ناکامی کی تلافی کے لیے انھوں نے اپنے بیٹے کو فوج میں بھرتی کروانے کا سوچا۔ رلکے کی عمر اس وقت دس برس تھی جب انھیں ایک فوجی تربیت کے ادارے میں داخل کروا دیا گیا۔ رلکے کو وہاں کا ماحول اور طرزِ حیات ذرا نہ بھایا اور ان کی عدم دل چسپی اور علالت کے سبب بعد ازاں انھیں شہر لِنز کے ایک بزنس سکول میں منتقل کر دیا گیا۔ رلکے نے اپنے ایک قانون دان انکل کے دفتر میں بھی کام کیا اور پراگ، میونخ اور برلن کی یونی ورسٹیوں میں حصولِ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جہاں انھوں نے ادب تاریخ فن اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔

کہتے ہیں کہ سفر اور خواب کسی بھی تخلیق کار کے لیے وسلیہ ظفر ہوتے ہیں۔ سو، رلکے نے خواب بھی دیکھے اور سفر بھی کیا؛ اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ رلکے کو دنیا کی ثقافتوں کے بارے میں جاننے میں بھی دل چسپی تھی۔ خاص کر عربی زبان و ادب سے اُن کے شغف کا گواہ ان کا مصر کا وہ سفر ہے جس کے دوران میں انھوں نے مصر کے شہر اسوان میں کئی مساجد اور روحانی ہستیوں کے مقبروں میں وقت گزارا اور رات رات بھر اپنی رہائشی کشتی میں بیٹھے عربی زبان کے قواعد کو سیکھنے کی تگ و دو کی۔ کہتے ہیں کہ ان کی بعد کی شاعری میں نغمگی اور غنایت کے عناصر اجاگر کرنے میں عربی زبان و ادب سے ان کی دل چسپی کا کافی ہاتھ ہے۔

انسان فن کار ہو اور حُسن اور رومان کی وادیوں سے ناآشنا ہو، یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے! چناں چہ رلکے کی زندگی میں بھی رومان کی لہروں نے کروٹیں لیں۔

انھوں نے اس دور کی ایک مجسمہ ساز کلارا ویسٹ بوف سے شادی بھی کی جو ایک برس سے زیادہ نہ چل سکی۔ پھر رلکے نے شادی نہیں کی مگر رومانوی تعلقات میں ضرور رہے۔

اُن کا طویل ترین رشتہ جرمن آرٹسٹ بیلاڈین کلاوسکا سے رہا جن سے ان کی ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی۔ اُن کا تعارف اگرچہ پیرس، فرانس میں ہو چکا تھا مگر یہ تعارف جان پہچان سے آگے نہ بڑھ پایا تھا۔ کہ پیرس میں رلکے کے حلقہ احباب میں زیادہ تر نام ور فن کار شامل تھے۔ بیلاڈین تب دنیائے فن میں متعارف ہی ہو رہی تھیں۔ تاہم سویٹزرلینڈ میں ہونے والی اس ملاقات نے ان کے تعارف کو دوستی اور دوستی کو محبت کے مرحلہ سے ہم کنار کر دیا۔ اور محبت کا یہ رشتہ تادیر قائم رہا۔ اس دوران میں اگرچہ رلکے کی دوستی اور بھی خواتین سے رہی جو ادب و فن میں نمایاں تھیں۔

ان سے خط و کتابت بھی رہی اور شعری مکتوب کا تبادلہ بھی رہا۔ یہ مکتوب بعد ازاں کتابی صورت میں بھی چھپے اور اہلِ ادب میں ہر دل عزیز ٹھہرے۔ مگر بیلاڈین سے رلکے کا تعلق ہمیشہ خاص رہا۔ اسی خاتون نے رلکے کو پھر سے باقاعدہ لکھنے پر مائل کیا اور یوں انھیں تخلیقی رکاوٹ اور ڈپریشن سے باہر نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رلکے بھی بیلاڈین کے گرویدہ تھے۔ اپنے خطوط میں وہ انھیں ”جادوگرنی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ تاہم رلکے کے بعض پرستار ان دونوں کے رشتے کے اثرات پر بحث کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں بیلاڈین سے تعلق رلکے کی تخلیقی صلاحیتوں پر منفی انداز میں اثر انداز ہوا اور کچھ کہتے ہیں مثبت انداز میں۔ یہ بحث بہرحال اپنے طور پر چلتی رہی۔

ادبی دوستیوں سے ہٹ کر اگر کسی خاتون کی طرف رلکے کا جھکاؤ رہا تو وہ مصری حسینہ نعمت علوی بے تھیں جن کے حُسن و ادا کا اُن دنوں یورپ کے طبقہ امرا میں بہت شہرہ تھا۔ اس حسینہ سے بھی رِلکے کی ملاقات سوئٹزر لینڈ ہی میں ہوئی۔ نعمت اپنے بیمار شوہر عزیز علوی بے کی طویل تیمارداری سے دست کش ہو کر فرانس سے سوئٹزرلینڈ آئی تھیں اور وہاں مدت بعد اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ شاعر رِلکے سے ملاقات ہوئی تو دونوں ہی ایک دوسرے سے متاثر ہوئے۔

رِلکے ان کے حسن سے گھائل بھی ہو گئے۔ محاورتاً ہی نہیں بلکہ واقعی گھائل ہو گئے تھے۔ دروغ بر گردنِ راوی، ایک روز رلکے اس مصری حسینہ کو پیش کرنے کے لیے باغیچے میں سے تازہ گلاب چُن رہے تھے کہ ایک موذی کانٹا ان کے ہاتھ میں چبھ گیا جس سے پہلے ان کا ایک ہاتھ اور پھر پورا بازو سوجن کی زد میں آ گیا۔ کانٹے سے ملنے والے اس زخمِ محبت نے بعد ازاں بگڑ کر ان کی جان ہی لے لی۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ رلکے کی قبر پر آویزاں کتبے پر لکھی یہ سطور غالباً اسی سانحے کی جانب اشارہ کرتی ہیں :

اے گلاب، اے کُھلے تضاد!
چاہنا مگر کبھی نہ چاہنا کسی کی نیند میں ڈھلنا
اس قدر گھنی پلکوں (پنکھڑیوں ) تلے۔

تاہم رلکے کے انتقال کے حوالہ سے یہ شواہد بھی ملتے ہیں کہ انھیں عمر کے آخری حصے میں خون کا سرطان ہو گیا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

ان کا انتقال انتیس دسمبر انیس سو انتیس کو اکاون برس کی عُمر میں سوئٹذرلینڈ میں ہوا۔

اب چلتے چلتے اس قابلِ ذکر شاعر کی چند نظموں سے بھی حظ اٹھا لیجیے جنھیں میں نے آپ کے لیے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

اس میں ان کی وہ معروف نظم ”پیار کا نغمہ“ بھی شامل ہے جو یا تو انھوں نے اپنی بیوی کلارا کے لیے لکھی تھی یا پھر اپنی محبوبہ لُو اینڈریاز سالومی کے لیے۔ لیجیے پڑھیے :

………..
شگون
۔
میں خلا میں لہراتے پرچم کی طرح ہوں
آتی جاتی ہواؤں کو مہکاتا ہوا
اُن کے ساتھ ہی جھکتا جاتا ہوں
نیچے کی اشیا میں ابھی کوئی ہلچل نہیں
جبکہ دروازے آہستہ سے بند ہونے لگتے ہیں
اور چمنیاں خاموش۔
کھڑکیاں ابھی کا نپی نہیں
دھول اب تک بوجھل ہے
تب مجھے ایک طوفان بڑھتا محسوس ہوتا ہے
اور میں سمندر کی طرح بے چین، مضطرب ہوجاتا ہوں
اتنا پھیلتا وہں کہ خود میں سمٹ کر رہ جاتا ہوں
خود کو آگے دھکیلتا ہوں
اب میں اس بپھرے طوفان میں تنہا ہوں۔
………………………….

خزاں
۔
پتّے گِر رہے ہیں
گِر رہے ہیں جیسے
آسمانوں سے اُدھر باغ مرجھا رہے ہوں
پتّے گِر رہے ہیں جھومتے ہوئے، ہِلتے ہوئے
”جیسے کہہ رہے ہوں :“ نہ، نہ
اور شب ڈھلے گرتی ہے بوجھل رات
سارے ستاروں سے پرے تنہائی میں
یہ ہاتھ گِر رہا ہے
اور دوسرے کو دیکھو، سبھی میں یہی کچھ ہے
پھر بھی کوئی ہے۔ وہ یکا و تنہا
جس نے تھام رکھا ہے برابر
اس تمام تر گرنے کو
بڑی نرمی سے، اپنے ہاتھوں میں۔
۔

موسیقی
۔
مِرا ہاتھ تھامو
یہ مشکل نہیں ہے
یہ آسان ہے
میری جاں
کہ رستہ ہو تم
چاہے ساکن رہو۔
مجھے ڈر ہے
کوئی نہ ڈھونڈے گا مجھ کو دوبارہ
جو ملا تھا اسے بھی نہیں کام میں لا سکا
سو، مجھے چھوڑ کر چل دیے سب
پہلے پہل تو تنہائی نے مسحور کیا مجھ کو
ایک الاپ کی صورت
لیکن اتنی زیادہ موسیقی نے مجھ کو گھائل کر ڈالا ہے
۔

خاموش لمحہ
۔
جو بھی دنیا میں کہِیں روتا ہے
بے سبب روتا ہے
وہ مجھ پر روتا ہے
جو بھی رات کو باہر کہِیں ہنستا ہے
بے وجہ ہنستا ہے
وہ مجھ پر ہنستا ہے
جو بھی دنیا میں بھٹکتا پھرتا ہے
بے کار بھٹکتا پھرتا ہے
وہ میری ہی طرف آتا ہے
جو بھی دنیا میں کہِیں مرتا ہے
بے سبب مرتا ہے
وہ میری طرف دیکھتا ہے۔
۔

گرمیوں کی بارش سے پہلے
………………
ہمارے آس پاس پھیلی ہریالی میں سے
اچانک (ہی) کچھ، جانے کیا
غائب ہوجاتا ہے
جسے ہم محسوس کرتے ہیں
اپنی کھڑکی کی جانب رینگتے ہوئے
بالکل بے آواز
اور جنگل میں بارش کا پرندہ
سیٹیاں بجانے لگتا ہے، گویا ہنگامی التجا کر رہا ہو
ایک اور باصفا، پارسا
اِتنا جوش، اِتنی تنہائی ہے اُس دل گیر آواز میں
کہ بس چھم چھم گِرتی بارش ہی اسے سُن سکے گی
کمرے کی دیواریں
اپنی تصویروں کے ساتھ
ہم سے پَرے ہٹ جاتی ہیں
جیسے انھیں ہماری بات سننے کی اجازت نہ ہو
ملگجے، پھیکے پھیکے نقش و نگار
اُس پراسرار (ناقابل فہم) روشنی کو منعکس کرتے ہیں
جو بچپن کی سہ پہروں میں ہمیں ڈرا دیتی تھی۔
ملگجے، پھیکے پڑتے نقش و نگار
بچپن کی سہ پہروں میں رینگنے والی اُس پُراسرار روشنی
کی یاد دلاتے ہیں جس سے ہم ڈر جایا کرتے تھے۔
جس سے ہمیں خوف آتا تھا۔
۔

تنہائی
۔
الگ رہنا اور تنہا رہنا بارش کی طرح ہے۔
یہ سمندری میدانوں سے شام کی طرف چڑھتا ہے۔
چپٹی جگہوں سے، رولنگ اور دور دراز سے، یہ چڑھتا ہے۔
جنت میں، جو اس کا پرانا ٹھکانہ ہے۔
اور صرف اس وقت جب آسمان چھوڑتا ہے شہر پر ۔
ان ٹویٹرنگ میں ہم پر بارش ہوتی ہے۔
وہ گھنٹے جب سڑکیں صبح کی طرف منہ کرتی ہیں،
اور جب دو لاشیں جنہیں کچھ نہیں ملا،
مایوس اور افسردہ، رول اوور؛
اور جب دو لوگ جو ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔
ایک ساتھ ایک بستر پر سونا ہے
کہ جب تنہائی دریاؤں کو حاصل کرتی ہے
…………………

دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے
۔
دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے
میں اپنی پیاس بجھاتا ہوں
بوڑھے پیڑ کے کھوکھلے آدھے تنے سے
جو نہ جانے کتنی نسلوں سے
ایک لگن کا کام کر رہا ہے
بارش کے پانی کے لیے
میں پانی کی ازلی ٹھنڈک اپنی ہتھیلیوں سے
سارے جسم میں منتقل کرتا ہوں، بدن کے ریشے ریشے کو سیراب کرتا ہوں۔
پیاس بجھانا) ضرور مقوّی، طاقت ور اور شفاف عمل ہو گا)
مگر تحمل کا یہ سست رو اشارہ
میرے سارے شعور کو چمکتے پانی سے لبریز کر دیتا ہے
ایسے میں اگر تم آ جاتے
تو میں اپنا ہاتھ
لمحہ بھر کو
ہلکے سے۔
تمھارے شانے پر رکھ دیتا
یا تمھارے سینے پر
۔

پیار کا نغمہ
۔
جب میری روح تمھاری روح کو چھوتی ہے تو کوئی عظیم تار چِھڑ جاتا ہے
تو ایسے میں کیونکر ہم ساز کر سکتا ہوں میں اسے دوسری چیزوں سے؟
تاریکی میں وہ نقطہ تلاش کیا جاسکتا ہے
جو تمھاری گہرائی کی صدا میں تھرتھراتا نہیں۔
مگر جو شے بھی تمھیں اور مجھے چُھوتی ہے
وہ باہم جوڑ دیتی ہے جیسے تار مل کر ایک دُھن بجاتے ہیں۔
وہ ساز مگر ہے کہاں جس سے یہ راگ پھوٹ رہا ہے؟
اور کس کا ہے وہ استادانہ ہاتھ جو اسے بجا رہا ہے
اے میرے شیریں نغمے

Facebook Comments HS