نئے شیخ مجیب: کچھ باغباں بھی ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
عمران کی آفیشل ٹویٹ، ’غدار کون؟‘ آج اور 1971 ءکے مشرقی پاکستان کے حالات کا تقابلی جائزہ اور شیخ مجیب الرحمن غدار یا جنرل یحییٰ۔
پاکستانی سیاست میں ایک نئے بیانیے کی تشکیل اور سانحہ مشرقی پاکستان کا بطور طعنہ استعمال، واقعات کی غلط تعبیر پر استوار ہے۔ جس میں شیخ مجیب کو آزادی و حریت کا استعارہ بنا کر یہ کہا جا رہا ہے کہ مجھے شیخ مجیب بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بدقسمتی سے ریاست کے پاس اس بیانیے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بیانیہ غالب حد تک جھوٹ پر مبنی ہے۔ مشرقی پاکستان کے سیاسی استحصال، معاشی استحصال اور وہاں کیے گئے مظالم کی ساری کہانی یک طرفہ ہے۔
ریاست کے لیے تاریخ کو درست کرنا اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا ضروری تھا یہ فرض ادا نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ یک طرفہ بیانیے کے باعث ریاست عشروں بعد ایک بار پھر کٹہرے میں ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب پر اگر غور کیا گیا بھی تو یک طرفہ طور پر ۔ حمود الرحمن کمیشن اونٹ نگلتا گیا اور مچھر چھانتا گیا۔ بین الاقوامی دانشوروں کی کتابیں، اقوام متحدہ کی دستاویزات، بنگلہ دیش کے اپنے اعداد و شمار، غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس، تحقیقی مقالہ جات، ان سب کو اگر پوری دیانت کے ساتھ جمع کیا جائے تو حقائق کی تصدیق ہو جائے گی۔
شیخ مجیب کو اگر اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوش بو آتی تھی تو انہیں پٹ سن انڈسٹری میں مغربی پاکستان کے سرمایہ کار کا سرمایہ کیوں نہ نظر آیا۔ سیاسی استحصال کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر مشرقی پاکستان کے وزرائے اعظم کو اقتدار میں ٹکنے نہیں دیا گیا تو مغربی پاکستان کے وزرائے اعظم کا بھی یہی حال تھا۔ فوج کے سربراہ کو کابینہ میں شامل کرنے کی بدعت ڈالنے والے وزیر اعظم کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ ملک الگ کرنے پر اگر تلہ سازش سے ہی کام ہو رہا تھا۔
گر تلہ سازش کیس سمیت 1948 سے آج تک ایسے ایشوز اور معاملات پر بھارتی مداخلت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ برسوں بعد 2011، ممبر پارلیمان کیپٹن سخاوت علی نے بنگلہ دیشی پارلیمان میں فخریہ اعتراف کیا کہ جب وہ پاکستانی فوج میں تھا تو چند ساتھیوں کے ساتھ اگر تلہ تری پورہ میں بھارتی را کے ساتھ مل کر علیحدگی کی منصوبہ بندی کی۔ عمران خان بتائیں کہ را اور عوامی لیگ کے ”جوائنٹ وینچر“ میں عمران خان اور تحریک انصاف بھارت کے ساتھ کہاں کھڑی ہے؟
دوسری طرف یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ سقوط ڈھاکہ کے المیے کا اگر ہم کتھارسس کریں تو ہمیں ماننا ہو گا کہ دور ایوبی میں بنگالیوں کی ساتھ مخاصمانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ اسی دور میں فاطمہ جناح کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا۔ آج آزادی اظہار کا ماتم کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ان کی انتخابی مہم کے لیے ریڈیو پر خطاب کی اجازت نہیں دی گئی، اور جب اجازت ملی تو ان کا خطاب سنسر کر دیا گیا۔
عمران خان ایوب خان کے پوتے کو بغل میں بٹھا کر ، اسے وزیر اعظم کا امیدوار بنا کر اگر شیخ مجیب الرحمٰن کو ہیرو بنائیں گے تو لوگ ایک جھوٹی ڈاکومنٹری میں سے ایوب خان کی ہر تقریر، تصویر غائب ہونے پر اس کا یقین کر لیں گے۔ اگر مقصد غداری کے کٹہرے میں جنرل عاصم منیر کو کھڑا کرنا ہے تو اس میں کوئی مماثلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
عمران خان اپنے ماضی حال کے اعمال و بیانات سے انکار یا اپنی مرضی کے معنی پہنائے اور یوٹرنز کا منفرد ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اہل یوتھ مرشد پاک کے ہر فرمان پر واری، مر مٹنے کو تیار ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ایسا سیمپل اس سے پہلے الطاف حسین کی صورت میں دکھائی دیا تھا۔ مارچ 2022 سے جنرل باجوہ کو غدار، میر جعفر، میر صادق، جانور ثابت کرنے میں مستعد مرشد نے درجنوں جلسوں میں مریدوں کو یہ اَزبر کرا ڈالا۔ لیکن ستمبر / اکتوبر میں منتوں کے بعد بذریعہ صدر علوی دو دفعہ ملاقات کی۔ آپ تو مجھے غدار سمجھتے ہیں پھر ملاقات کی تڑپ کیوں؟ ’جنرل باجوہ کے طنز پر عمران ہڑبڑاہٹ میں کہنے پر مجبور ہو گئے، ”وہ تو میں نواز / شہباز کے لئے کہتا ہوں۔“ مرشد ”تب بھی کھرے تھے اور آج بھی سچے ہین۔
عمران خان ڈاکٹرائن یہ ہے کہ ”دباؤ ڈال کر جائز ناجائز خواہش پایہ تکمیل تک پہنچائی جائے“ ۔ جنرل عاصم منیر پر یہ حربہ کارگر نہ ہوا اور کسی ریلیف سے انکار پر فرسٹریشن عیاں ہے۔ خان جی کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ فوج کی موجودہ قیادت کو جنرل باجوہ سمجھ رہے ہیں۔ جنرل باجوہ اتنے زیرک ہوتے تو عمران خان اقتدار میں آ جاتے؟
دور حاضر میں عمران خان جھوٹ کو سچ، غلط کو درست اور باطل کو حق بنانے میں ایسا ملکہ رکھتے ہیں، کہ دور دور تک ان کا ثانی نہیں۔ ان کا کمال ہنر یہ ہے کہ یہ اس تسلسل اور تیقن سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ بولنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہ اپنے جھوٹ پر شرمسار ہونے کے بجائے اسے سیاست کہتے اور اس پر فخر کرتے ہیں۔
1971 ء میں وہ برطانیہ میں اپنی کرکٹ کا آغاز کر رہے تھے۔ انہوں نے ایجبسٹن کے مقام پر پاکستان کی جانب سے صرف ایک ٹیسٹ کھیلا اور ناقص کارکردگی کی بنا پر تین سال کے لیے ٹیم سے باہر کر دیے گئے۔ خان جی کا کمال یہ ہے کہ ان کی اپنی تاریخ، اور اپنا جغرافیہ ہے۔ وہ جاپان اور جرمنی کی سرحدوں کو ملانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بارہ موسموں کی موجودگی پر بضد رہتے ہیں۔ اب وہ تاریخ کا درس دے رہے ہیں۔ ان کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی کہانی بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔
خان صاحب اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوتے تو جنرل مشرف کے پولنگ ایجنٹ بنتے۔ ڈاکومنٹری میں ایوب خان کا نام غائب ہوتا جنرل ظہیر کے تعاون سے 2014 کا دھرنا دیتے، طاہر القادری اور جنرل پاشا کے ساتھ لندن پلان کا حصہ بنتے، جنرل باجوہ کے کاندھوں پر سوار ہو کر ایوان اقتدار میں آتے۔ آر ٹی ایس کی تہمت لگوا کر ’سلیکٹڈ وزیر اعظم‘ کا خطاب قبول کرتے۔ وہ یہ بیان دیتے کہ اگر آئی ایس آئی وزیر اعظم کا فون ریکارڈ کرتی ہے تو بہت اچھا کرتی ہے؟ وزارت عظمٰی کے آخری دنوں میں صدر عارف علوی کے ذریعے جنرل باجوہ کے قدموں میں بیٹھ کر اقتدار کی بھیک مانگتے۔ پاپا جانز فیم جنرل عاصم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین بناتے اور کرپشن کے الزامات سامنے آنے پر ان کے احتساب سے منکر ہو جاتے۔ پرویز الہٰی جیسے ڈکٹیٹروں کے رکھوالے کو پارٹی کا صدر بناتے۔
شیخ مجیب الرحمٰن کی وڈیو جاری کر کے عمران خان نے قوم سے آدھا سچ بولا ہے جو جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔
ہمارے ملک کے نوجوانوں کو یہ بات یاد رکھنی ہے کہ پہلے دشمن ہماری سرحدوں پر حملہ کرتا تھا اب ہماری نوجوان نسل سے آدھا سچ بول کر ان کی سوچ کو پامال کرتا ہے۔ دشمن آج بھی ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے ہماری سلامتی کی تاک میں ہے۔ مجیب الرحمٰن سے عمران خان تک کے سفر میں پاکستان کو دشمنوں کے ساتھ اپنوں نے بھی مسلسل ڈسا ہے۔
عمران خان کی 28 سالہ سیاست کا محور، آغاز انجام سب اسٹیبلشمنٹ کا مرہون منت ہے۔ 1970 ءکے الیکشن میں مجیب نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر 313 کی اسمبلی میں 161 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ 2018 ء الیکشن میں بدترین دھاندلی کے باوجود عمران خان کو 243 کے ایوان میں اسٹیبلشمنٹ سادہ اکثریت بھی نہ دلا پائی۔ عمران خان کا مقصد ایک ہی نظر آتا ہے کہ ”ملک کو کمزور کر کے فوج سے بدلہ لیا جائے“ تحریک انصاف کی عوامی لیگ سے یہی مماثلت ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ طے ہونا ہے کہ اصلی غدار کون ہے؟ کیا عمران خان لا شعور اور فرسٹریشن میں شیخ مجیب کی طرح پاکستان دشمنوں کے استعمال میں ہیں یا ان سے اپنی اُمیدیں باندھ چکے ہیں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور فوج کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے خلاف زہر خود اگل اور نفرت پھیلا رہے ہیں اور مورد الزام دوسروں کو ٹھہرا رہے ہیں۔
شہباز گل جیسے لوگ پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے بھرتی کیے ہوئے ہیں۔ اگر مجیب الرحمٰن نے عوام میں پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلائی آپ بھی وہی کر رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمٰن نے جلسے جلوسوں اور ہر فورم پر پاکستان توڑنے کی باتیں کیں۔ آپ بھی پاکستان توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمٰن نے پاکستان کو توڑنے کے لئے بیرون ممالک سے فنڈز لیے۔ آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ثبوت موجود ہیں۔ اگر عمران خان کی پاک فوج اور اداروں کے خلاف کھلی چھوٹ گئی تو پھر وہ دن دور نہیں جب تحریک انصاف عوامی لیگ بن جائے گی اور عمران خان نئے شیخ مجیب:
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں بھی ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے


