پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ کاری اور خرچ کرنے میں تمیز نہ کرنا ہے


ورلڈ بنک کی متعدد رپورٹوں کا جائزہ لیں جس میں پاکستان کی اقتصادی بدحالی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کی وجہ آمدن سے کئی گنا زیادہ خرچ کرنا ہے اور بجٹ کا زیادہ حصہ ایسے کاموں پر خرچ کرنا ہے جن کی پاکستان کو اس وقت ضرورت ہی نہیں ہے اور پاکستان اس وقت سب سے زیادہ خرچہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر کر رہا ہے۔ دوسرا بڑا خرچہ آئی پی پیز پر کر رہا ہے۔ پھر خدمات کے عوض دی جانے والی تنخواہ، پنشن اور مراعات پر کر رہا ہے۔

یہ سارے خرچے ہیں جبکہ پاکستان دنیا کے ممالک میں سب سے کم سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ دنیا میں سرمایہ کاری کے دو بڑے طریقے ہیں براہ راست سرمایہ کاری یعنی کارخانے لگاؤ، ڈیم بناؤ ٔ، سڑکیں بناؤ، کاروبار کے مواقع پیدا کرو وغیرہ اور ایک سرمایہ کی دوسری شکل ہے جس میں انسانوں کی تربیت و تعلیم اور ملکی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور انسانوں کو تندرست رکھنے اور انہیں زیادہ کارآمد انسان بنانے کے لیے صحت اور جسمانی تربیت پر سرمایہ کاری۔

دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ تعلیم، تحقیق اور صحت پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی جی ڈی پی مسلسل بہتر ہوتی رہتی ہے۔ وہ خدمات اور مدد حاصل کرنے پر کثیر سرمایہ خرچ نہیں کرتے بلکہ دوسرے ممالک کو خدمات اور مدد فراہم کر کے کثیر سرمایہ حاصل کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات دے کر انہیں اپنے زیادہ فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ امن و امان نہیں ہے، دہشت گردی بھی نہیں ہے، سمگلنگ بھی نہیں ہے، کرپشن بھی نہیں ہے۔

اس لیے کہ یہ سب کچھ تعلیم اور تحقیق پر سرمایہ کاری نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ جب آپ وقتی فائدوں کے لیے عارضی کام کریں اور صرف شخصیات کو فائدہ پہنچائیں گے تو اس کے نتیجے میں چند افراد مستفید ہوں گے۔ جو باقی بچیں گے وہ مجبور ہو کر بندوق اٹھائیں گے، دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں گے۔ انہی افراد کے ساتھ مل کر ان کے غیر قانون دھندوں اور سمگلنگ میں شریک ہوں گے، اور یہ سب کچھ کرپشن کی بنیاد بنے گا۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب کچھ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے کہ وہاں بچے کی پیدائش کے لیے ہسپتال سے لے کر گھر تک ساری سہولیات مہیا ہیں۔

سکول سے لے کر یونیورسٹی تک اس کی تربیت و تعلیم میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جاتی اور صحت مند جسم اور ذہن کے ساتھ جب یہ انسان معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے نکلتا ہے تو وہ مزید بہتری لانے کے لیے کوشاں ہوجاتا ہے۔ جس سے ان کے معاشروں میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید استحکام پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے جیسے ملکوں میں ہم دوسروں کی جنگیں لڑتے ہیں۔ ان جنگی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کو اسمگلنگ پر لگا لیتے ہیں۔ کرپٹ حکمران تلاش کرتے ہیں۔

بیوروکریسی کرپٹ بن جاتی ہے اور کام کے بجائے مراعات پر مراعات سمیٹتی رہتی ہے۔ عدلیہ انصاف کرنے کی جگہ ان گروہوں کے ساتھ مدد و تعاون میں مصروف ہوجاتی ہے۔ اور ہم بھیک دینے کے لیے بجٹ میں پانچ سو ارب، مراعات دینے کے لیے چار ہزار ارب، شخصی اختیارات والے فنڈز میں کئی سو ارب اور اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف پچیس ارب روپے رکھتے ہیں۔ تعلیم کی طرح صحت میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ایسے میں کس پاگل نے کہا ہے کہ یہ ملک بہتر ہو گا ترقی کرے گا۔

اگلے برس جب دوسرا بجٹ آئے گا تو اعلیٰ تعلیم کے لیے رکھے گئے بجٹ میں سے مزید نصف کم کر کے بھیک کا بجٹ مزید بڑھا لیں گے۔ چند برس بعد اعلیٰ تعلیم کو غیر ضروری سمجھ کر اس کے اثاثے بیچ کر چند ہزار ارب حاصل کر کے اپنی عیاشیاں جاری رکھیں گے اور اس سے یقیناً بھیک دینے کے بجٹ میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہ کوئی کہانی نہیں ہے گزشتہ چند برسوں سے جو بجٹ پیش کیے جا رہے ہیں ان کا مطالعہ کر لیں آپ کو یہی حقیقت ملے گی۔

ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش مسلسل اپنے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ تربیت پر پانچ برس پہلے کے مقابلے میں دس گنا سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ جس سے ان کی معاشی حالت اور نوجوانوں کی زندگی کئی سو گنا بہتر ہو گئی ہے۔ ان کے گریجویٹس کو پوری دنیا میں ملازمتیں مل رہی ہیں۔ وہ آئی ٹی اور اے آئی میں گھر بیٹھے پاکستان کے کل بجٹ سے زیادہ کما رہے ہیں۔ وہ جو مستقبل کے تخمینے لگا رہے ہیں وہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہیں۔

اور ہماری صورتحال یہ ہے کہ اشرافیہ کی عیاشی کے لیے جو قرضہ لیے گئے تھے اور مزید لیے جا رہے ہیں ان کا سود بھی ادا نہیں کر پا رہے۔ ہم اپنے قومی اثاثے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔ ہماری سڑکیں، بلڈنگز اور سب کچھ گروی ہیں۔ اور ہمارے نوجوان بے روزگار ہیں، منشیات کی لت میں پڑ چکے ہیں، گھر بیٹھے کرنسی ٹریڈنگ پر جوا کھیل کر روزانہ لاکھوں ڈالرز ہار رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عورتیں ان کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ان کی جی ڈی پی میں تیس فیصد حصہ ڈال رہی ہیں اور ہماری عورتیں رومانوی ڈراموں اور ساس بہو کے جھگڑے دیکھنے کے لیے ٹی وی اور موبائل کا استعمال کر رہی ہیں۔

سالانہ ہمارے ہزاروں بچے یہاں سے بھاگ کر کسی دوسرے ملک جانے کے لیے کبھی سمندروں میں مچھلیوں کی خوراک بن رہے ہیں یا پھر اغوا کاروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ پاکستان کے نوے فیصد دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولت ہی لوگوں کو دستیاب نہیں ہے۔ تعلیم کو بھی کاروبار بنا دیا گیا ہے ۔ ہر گلی اور محلہ میں ایک دو کمروں میں پرائیویٹ سکولوں کا کاروبار اور بڑے بڑے بنگلوں میں صرف انگلش رٹا کر علم و تحقیق سے بے عمل نسل پیدا کرنے کا کاروبار زوروں پر ہے۔

ملک کے سو فیصد بچوں کو اس جدید دور میں بھی رٹا لگوانے کے علاوہ کوئی تعلیمی کام نہیں ہو رہا۔ اس کاروبار کے لیے سکولوں، کالجوں کے علاوہ ہزاروں ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیاں ہر گلی کوچہ میں دستیاب ہیں اور اگر رٹا بھول بھی جائے یاد نہ تو کوئی بات نہیں ہر جگہ نقل کے لیے گائیڈز اور نوٹس دستیاب ہیں۔ مگر ہمارے منصوبہ بندی کرنے والوں، ہمارے قسمت کے فیصلے کرنے والوں کو اس سے کیا لینا دینا۔ انہیں تو اپنی مراعات اور تعیشات سے غرض ہے۔

وہ حکومت میں آ کر اپنے کاروباروں کو ہزار گنا ترقی دیتے ہیں۔ وہ عہدوں پر آ کر دنیا بھر میں جائیدادیں خرید لیتے ہیں۔ ان کے بچے یورپ اور امریکہ میں پڑھتے ہیں اور وہ جب یہاں سے تھوڑا وقفہ لے کر جاتے ہیں تو امریکہ اور دیگر ممالک کے کیسنوز میں جوا کھیلتے ہیں۔ ہم ہر برس نیا ہیرا تلاش کر کے لاتے ہیں بجٹ بنانے کے لیے جس کو اشرافیہ کے مراعات نظر نہیں آتیں، پاکستان کو تباہ کرنے والے کام نظر نہیں آتے بلکہ یہ اب تو یقین ہو چلا ہے کہ ان نمونوں کو اس لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لایا جاتا ہے کہ یہ ان اشرافیہ کے کاروباروں اور مراعات کو تحفظ فراہم کریں اور پاکستان کو مزید برائے فروخت بنا دیں۔

اس ملک میں بجلی اس کی ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتی ہے اور اس کی قیمت بھی ادا کردی جاتی ہے مگر ملک کے بیشتر حصوں میں لوڈ شیڈنگ کے نام پر لوگوں کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں جتنی گیس نکالی جا رہی ہے اس کا بیس فیصد بھی صوبہ کو بلکہ ان علاقوں تک کو نہیں دی جاتی جہاں سے یہ نکلتی ہے۔ اس ملک میں وسائل کی تقسیم کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ طبقات کا ملک ہے سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانے والے اساتذہ ان کو انسان ہی نظر نہیں آتے، اسمبلیوں میں کام کرنے والے، سیکرٹریٹ میں کام کرنے والے ضلعوں اور تحصیلوں میں تعینات بابو ہی ان کو انسان نظر آتے ہیں ان کی تنخواہوں میں سینکڑوں گنا اضافہ کیا جا رہا ہے وہ پہلے سے بے پناہ مراعات اور اپنی تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ اضافی مراعات لے رہے ہیں۔

یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ میں ایک سترہ یا اٹھارہ گریٹ کا افسر دو کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر حکومت کے فراہم کردہ شوفر اور پیٹرول استعمال کر کے آتا ہے۔ خود تین سو پچاس گنا اضافی مراعات لے کر آتا ہے اور اسے اعتراض ہوتا ہے کہ ٹیچر گرمیوں کی چھٹیوں میں کنونس الاونس جو کہ پانچ ہزار روپے مہینے کا ہے وہ کیوں لیتا ہے۔ اور وہ الاونس کاٹ دیتا ہے۔ جبکہ اسی میٹنگ میں شرکت کرنے پر پندرہ ہزار روپے بھی وصول کرتا ہے۔ اور پھر جاکر اپنے ان پڑھ وزیر کو اپنی کارکردگی سناتا ہے اور عقل کا اندھا اسے شاباش بھی دیتا ہے اور ان اساتذہ سے مزید کٹوتی کے لیے بھی رائے طلب کرتا ہے۔

یہ اساتذہ مہینہ بھر محنت کر کے مہینے کے آخر میں اپنی بنیادی تنخواہ جو اسی کے گریڈ میں کسی سرکاری افسر سے چار گنا کم ہے وہ حاصل کرنے کے لیے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور کبھی مہینے کے دس تاریخ یا پھر اگلے مہینے اس پر احسان کر کے اسے دی جاتی ہے۔ ایسے میں دنیا بھر کی طرح بہترین دماغ بچوں کی تربیت کرنے کیوں آئیں گے۔ دنیا بھر میں اساتذہ کی تنخواہ دوسرے ملازمین سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اقوام سمجھتی ہیں کہ ان کے مستقبل کا دار و مدار ان ہی اساتذہ کی محنت میں پوشیدہ ہے۔

یہاں وہ فرق واضح ہوجاتا ہے کہ ان اقوام کو سرمایہ کاری اور خرچ کا فرق معلوم ہے اس لیے وہ زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کم خرچ کرتے ہیں اس لیے ان کا حال بھی اچھا ہے اور مستقبل بھی روشن ہے۔ ہم جو سرمایہ کاری کی فکر نہیں کرتے اور لکھنؤ کے نوابوں کی طرح خرچ پر خرچ ہی کیے جا رہے ہیں تو ہمارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہو گا۔ اس ملک کے حکمران اور طاقت اور انصاف کے رکھوالے ہوش کے ناخن لیں۔ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کریں۔

اپنے ہوس زر و طاقت کو لگام دیں۔ اس لیے کہ یہ ملک ہے تو آپ ہیں۔ آپ جیسے ہزاروں اس زعم میں مارے گئے ہیں۔ ذرا دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ صدام کے ساتھ کیا ہوا، معمر قذافی کے ساتھ کیا، ڈاکٹر نجیب کے ساتھ کیا ہوا۔ انقلاب فرانس کا مطالعہ کر لیں۔ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ گھٹا کر جب آپ یونیورسٹیاں بند کر دیں گے تو اس کا نتیجہ جو نکلے گا کبھی اس حکومت کے بزرجمہروں نے سوچا ہے کہ ان یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے لاکھوں طالب علموں اور ہزاروں اساتذہ اور ملازمین جب سڑکوں پر آئیں گے تو کیا ہو گا۔

ان کے ساتھ معاشرے کے کروڑوں پسے ہوئے اور فرسٹریٹڈ لوگ بھی نکل آئیں گے۔ جس سے آپ کے دشمن فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے جو نقصان ہو گا اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ اس لیے ان بدترین حالات میں یونیورسٹیوں کی جائز مالی امداد بند کر کے یہ خطرہ مول نہ لیں اور انہیں سہولیات فراہم کر کے ان پر سرمایہ کاری کر کے اس بد حال و بے حال قوم اور مقرض ملک کو اس دلدل سے نکالیں کا سبب بنیں۔ ورنہ ہم آُپ تو مر جائیں گے تاریخ پھر آُپ کی نسلوں کو بھی اس کی سزا دے گی۔

اختیار کا مطلب لوگوں کا رزق چھینا اور طلبا کو پڑھنے کے حق سے محروم کرنا نہیں ہوتا بلکہ انصاف کر کے ان کو سہولتیں دینے کا مہذب نام اختیار ہے۔ اس قوم کو مزید بھکاری بنانے کی جگہ اس کو ہنر سکھائیں اور ہنر سکھانے والوں کو عزت دیں۔ جو ادارے اس ملک میں ہیں ان کو مستحکم کریں اس لیے کہ ان اداروں کی وجہ سے یہ نظام چل رہا ہے اگر یہ بھی نہ رہے تو جو نتیجہ سامنے آئے گا اس کے تصور سے ہی دل میں ہول اٹھتے ہیں۔ افریقی ممالک میں خاص طور پر نائجیریا، گھانا، کیمرون، کینیا، جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور یوگنڈا میں انصاف کے حصول کے لیے وہاں کے پسے ہوئے اور مظلوم اقوام نے جو راستہ چنا تھا جسے عرف عام میں ہجومی انصاف، جسے بڑے پیمانے پر ’موب لنچنگ‘ ، ’موب ایکشن‘ یا ’جنگل کا انصاف‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

اس کے لیے پاکستان میں راستہ ہموار نہ کریں۔ ان ہجومی انصاف کی تاریخ پڑھ لیں یہ بدترین تباہی لاتے ہیں اور ان کو پھر قابو کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ان سے بچنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں، ملازمین اور طلبا کو دیوار کے ساتھ نہ لگائیں۔ انہیں ان کے بنیادی حقوق فراہم کریں اور انہیں سانس لینے کی گنجائش دیں، انہیں بھوک سے نہ ماریں، ان کو سڑکوں پر لانے سے گریز کریں۔ اس لیے کہ یہ اپنے جائز مقصد کے لیے سڑکوں پر آئیں گے اور شر پسند انہیں استعمال کریں گے۔

اور سوشل میڈیا کے اس بے لگام دور میں تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ پروپیگنڈے اس دور میں کئی ہزار گنا زیادہ موثر اور کاریگر ثابت ہو رہے ہیں۔ کاش ہماری حکومتیں دنیا کی دیگر ممالک کی طرح تھنک ٹینکس بناتے اور ان کے مطالعہ، مشاہدے اور تاریخ کے مطالعہ سے فائدہ اٹھاتے تو اس طرح چند مفاد پرست مافیاز کے ہاتھوں میں نہ کھیلتے بلکہ ہوش مندی کے فیصلے اور اقدامات کرتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments