تیسری قسم کے ہیجڑے


ہیجڑوں کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے جو ان مردوں پر مشتمل ہوتی ہے جو عورتوں کی لڑائی میں کود پڑتے ہیں اور اپنی عورتوں کی طرف سے دوسری عورتوں سے لڑتے ہیں اور ان پر دھونس اور دھمکی کے ذریعے برتری اور جیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تیسری قسم کے ہیجڑے جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر ہیجڑے ہوتے ہیں اور ان کی عورتیں کمزور ترین عورتیں ہوتی ہیں جو میدان میں عورت کا مقابلہ تک کرنے کی سکت نہیں رکھتیں اور اپنے مردوں کو آگے کر دیتی ہیں۔

میری ایک سہیلی جس کا فرضی نام ج رکھ لیجیے۔ اس کا ایک بار اپنی ایک ہمسائی سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کی ہمسائی ہر روز اپنے گھر کے آگے سے جھاڑو لگا کر کچرا اس کے دروازے کے آگے لگا دیا کرتی تھی۔ پہلے تو بے چاری پیار محبت سے ہمسائی کو روکتی رہی مگر جب ہمسائی اپنی روش سے باز نہ آئی تو ایک دن ج نے غصے میں ہمسائی کا اپنے گھر کے آگے پھیلایا گیا کچرا اٹھا کر ہمسائی کے دروازے کے آگے پھینک دیا کہ لو اپنا کچرا واپس۔ اب دوبارہ ادھر کچرا پھینکا تو دوبارہ ایسے ہی واپس تمہارے گھر کی طرف پھینکا جائے گا۔

ہمسائی ج کی اس جرات پر ششدر رہ گئی۔ مگر کیونکہ اس کی تربیت اور پرورش میں کمی تھی اور بے چاری عدم تحفظ کا شکار تھی تو خود جواب دینے کی بجائے چیخ پڑی کہ منے کے ابا باہر آئیے اور پھر منے کے ہیجڑے نما ابا جان باہر آئے اور ہمسائی کے اکسانے پر خاتون ج کے ساتھ لگے گالم گلوچ کرنے اور دھمکانے کہ بھئی میری بیوی تو کچرا جہاں چاہے پھینکے گی، کوئی مائی کا لال اسے روک کر دکھائے۔ یہ کہتے ہوئے کچرا دوبارہ اٹھا کر ج کے دروازے کے آگے پھینک دیا اور بیوی کو لے کر اندر گھر میں چلے گئے۔ ج اس طوفان بدتمیزی پر ہکا بکا رہ گئی۔ بولتی بھی کیا کہ ایک عورت ہو کر مرد سے کیا لڑتی۔

ش ایک دفتر میں کام کرتی تھی۔ دفتر میں کام سے غفلت پر اس کی خاتون افسر نے افسران بالا تک اس کی درخواست پہنچا دی۔ جب ایکسپلینیشن دینے کا وقت آیا تو پڑھی لکھی ش جس کو پتا تھا کہ اس کے خلاف دی گئی درخواست پر ایکسپلینیشن اس سے ایک خاتون افسر نے لینی ہے تو ش مقررہ دن خود گھر بیٹھ گئی کہ میں دفتروں کے دھکے نہیں کھا سکتی کہ مجھے یہ زیب نہیں دیتا (جبکہ پیسے کمانے کے لیے ملازمت کے نام پر دفتر جانا ش کو زیب دیتا تھا) تو ش نے اپنے میاں کو بھیج دیا اور میاں ساتھ چند چمچے لے گیا اور اس گینگ نے خاتون افسر کو جا کر خوب ڈرایا دھمکایا اور ش کی جس افسر نے ش کی شکایت لگائی تھی اس کی خوب کردار کشی کی اور اس کی بددیانتی اور کام چوری کی داستانیں بیان کیں۔ خاتون افسر اس ہلے پر پریشان ہو کر رہ گئی کہ وہ جانتی تھی کہ وہ عورت ہونے کی سزا بھگت رہی ہے۔

ن ایک پارلر چلاتی تھی۔ ایک دن اس کے پارلر میں ایک خوش شکل خاتون آئی۔ خاتون نے مینی کیور، پیڈی کیور کے علاوہ، فیشل اور پارٹی میک اپ کرنے کو کہا۔ یہ سب کرنے کے بعد ن نے جب پیسے مانگے تو خاتون نے پیسوں کا دسواں حصہ ان کو یہ کہہ کر دیا کہ میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں اور ن نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے پورے پیسے جو بنتے تھے دینے کا کہا پر خاتون نے پیسے دینے سے صاف انکار کر دیا اور کال کر کے اپنے بھائی کو بلا لیا جس نے پارلر میں آ کر خوب گالم گلوچ کی اور ن کو ڈرایا دھمکایا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور بنا کوئی پیسے دیے اپنی بہن کو ن کے پارلر سے لے کر چلا گیا۔

مس ج کی اپنی شادی کے بعد اپنی دیورانی سے کبھی نہ بنی تھی۔ دونوں میں ہمیشہ توں توں، میں میں رہتی۔ دیورانی کا شوہر ج کے شوہر سے اچھی ملازمت کرتا تھا تبھی دیورانی خود کو ج سے برتر سمجھتی تھی۔ دیورانی ج کو زچ کرنے اور نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ ایک دن ج نے دیورانی کو جواب میں کھڑی کھڑی سنا دیں۔ بس پھر دیورانی ج کی اس جرات کو برداشت نہ کر سکی اور اپنے نام نہاد شوہر کو آگے لا کر خود پیچھے ہو گئی اور ج کو خوب گالیاں اور دھمکیاں دلوائیں۔ ج کا شوہر تب گھر پر نہ تھا۔ وہ بے چاری سافٹ ٹارگٹ بنی چپ چاپ یہ سنتی رہی کہ اب ایک مرد کو کیا جواب دیتی اور اپنی بے عزتی کرواتی رہی۔ دیورانی یہ دیکھ کر خوش ہوتی رہی کہ اس نے ج کو مات دے دی۔

اوپر والے تمام واقعات میں عورتوں کے لیے عورتوں سے لڑنے والے بظاہر تو مرد نظر آتے ہیں مگر اصل میں یہ ہیجڑے ہیں۔ جو اپنے گھر کی عورتوں کو اتنا مضبوط نہیں بنا پاتے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے اپنی صنف سے خود لڑ سکیں بلکہ خود آگے بڑھ کر ہیجڑے بن کر دوسری مضبوط عورتوں سے جو اپنی لڑائی خود لڑنا جانتی ہیں ان کو پریشان اور ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی ڈرپوک عورتیں بنا لڑے جیت سکیں۔

ایسے تیسری قسم کے ہیجڑے مرد کے نام پر دھبہ ہوتے ہیں۔ طاقت ور عورتوں کے گھر ایسے ہیجڑے پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ کمزور عورتوں کے بطن سے جنم لیتے اور ان کے خونی رشتے اور ہمسفر بنتے ہیں۔ ایک مضبوط اور اپنے لیے لڑنے والی عورت ایسے سو ہیجڑوں پر بھاری ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS