سانحہ مجاہد کالونی سرگودھا
مجاہد کالونی بھلوال روڈ، گلوالہ پھاٹک کے قریب واقع ہے جو گلوالہ، قاضی ٹاؤن، علی پارک، اکبر کالونی، ظفر کالونی، سلطان ٹاؤن کا درمیانی علاقہ ہے۔ مجاہد کالونی کو 2 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بلاک اے اور بلاک بی۔ بلاک اے جو 8 گلیوں پر مشتمل ہے، اس علاقے کی کل آبادی 70 سے 80 ہزار کے قریب ہے۔ جن میں مسیحی آبادی 5000 سے 0006 کے قریب ہے جو پچھلے 50 – 60 سالوں سے یہاں آباد ہیں
سرگودھا کے نواحی علاقہ مجاہد کالونی میں بتدریج 25 مئی 2024 کے دن مشتعل ہجوم کی جانب سے 73 سالہ بزرگ نذیر مسیح اور اس کے خاندان پر قرآن مجید جلانے کے الزام پر بہیمانہ جان لیوا تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ مشتعل ہجوم نے نذیر مسیح کو تشدد کے بعد قریب الموت سمجھ کر پولیس کے حوالہ ہونے دیا۔ نذیر مسیح کو دو دن سی ایم ایچ ہسپتال سرگودھا میں زیر علاج رہنے کے بعد فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال راولپنڈی میں شفٹ کر دیا گیا جہاں نذیر مسیح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اتوار اور پیر کی درمیانی شب انتقال کر گئے۔
نذیر مسیح کا بقیہ تمام خاندان جو کہ تقریباً 9 افراد پر مشتمل ہے پولیس کی تحویل میں ہے اور نذیر مسیح کے خلاف اس وقت توہین رسالت اور دہشت گردی کی متعدد دفعات کے ساتھ ایف آئی آر (نمبر ایس جی ڈی۔ یو آر اے 005256 ) محمد جہانگیر ولد جمال دین میونسپل کارپوریشن نمبر 7 وارڈ نمبر 4 کے کونسلر کی مدعیت میں درج ہو چکی ہے جبکہ مشتعل ہجوم کے خلاف بھی دہشتگردی کی دفعات کے ساتھ ایف آئی آر درج ہیں (ایف آئی آر نمبر ایس جی ڈی۔ یو آر اے۔ 005257 )۔ مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والے متعدد گھرانے جو خوف کی وجہ سے گھر چھوڑ کر جا چکے تھے انہوں نے واپس آنا شروع کر دیا ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع سے مطابق پولیس نے اس وقت مشتعل افراد میں سے تقریباً 50 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
مقامی آبادی اور نذیر مسیح کے خاندانی ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق واقعے کی تفصیل یوں ہے کہ نذیر مسیح کے پوتے اجمال کی لڑائی اس کے محلہ دار عرفان گوندل سے سیوریج کی نالی کے تنازعہ پر ہوئی اور اس لڑائی نے مستقل کشیدگی اختیار کر لی۔ تشدد کے واقعہ سے تین دن پہلے اجمال اور عرفان گوندل کی پھر سے لڑائی ہوئی اور اس لڑائی کے بدلہ میں عرفان گوندل کے باپ ایوب گوندل نے قرآن مجید جلانے کا خود ساختہ واقعہ تشکیل دیا جس کی عملداری کے لئے انہوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ نذیر مسیح ہر روز صبح اُٹھ کر گھر کے سامنے گلی کی صفائی کرتا اور کچرا کو آگ لگاتا ہے۔ لعزر نذیر مسیح کی اس عادت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوب گوندل نے 25 مئی کی صبح 15 پر کال کر کے لعزر نذیر مسیح کے خلاف قرآن جلائے جانے کا الزام لگایا جس پر پولیس کے 3 اہلکار موقع پر آئے اور کوئی ثبوت نہ پا کر کسی سخت کارروائی سے اجتناب کیا۔
اسی دوران ایوب گوندل نے مقامی مساجد میں یہ اعلانات کروائے کہ نذیر مسیح نے قرآن مجید کو جلا کر توہین مذہب کا ارتکاب کیا ہے اس لئے علاقہ کے افراد نذیر مسیح کے گھر کے سامنے سزا دینے کے لئے جمع ہو جائیں۔ اسی اعلان کے دوران گاڑیوں پر سوار تحریک لبیک پاکستان کے ارکان مشتعل انداز میں نعرے لگاتے ہوئے گلی میں داخل ہوئے۔ ایوب گوندل کی جانب سے جلائے گئے قرآنی صفحات نامعلوم ذرائع سے کمیونٹی کے سامنےپیش كیے گئے۔
یہ تمام صورتحال پیدا ہونے پر بڑی تعداد میں ہجوم اکٹھا ہو کر مشتعل ہو گیا اور نعرہ بازی کرتے ہوئے نذیر مسیح کے گھر پر حملہ آور ہوئے۔ گھر میں موجود افراد نے 15 پر پولیس کو فون کیا، 15 منٹ بعد پولیس آ گئی البتہ اس دوران ہجوم گھر کے اندر داخل ہو چکا تھا اور گھر کے افراد باتھ روم میں لگ بھگ 4 سے 5 گھنٹے سے چُھپے ہوئے تھے۔
ریجنل پولیس افسر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی موجودگی میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پولیس کی جانب سے نذیر مسیح کی فیملی کو بچا کر محفوظ جگہ پر لے جایا گیا۔ جبکہ نذیر مسیح ہجوم کی زد میں آ گئے اور پولیس کی بے بس موجودگی میں نذیر مسیح پر تھپڑوں، مُکوں، پتھروں، اینٹوں اور ڈنڈوں سے تشدد ہوا۔ بے بس پولیس نے التجایہ انداز میں ہجوم سے بمشکل بات کر کے نذیر مسیح کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے ہجوم سے بات کی جس پر ہجوم کے کچھ افراد نے نزیر مسیح کو قریب المرگ سمجھ کر پولیس کے حوالہ کر دیا۔
نذیر مسیح کو پولیس اہلکار کی جانب سے توہین آمیز انداز میں ہاتھوں اور پاؤں سے پکڑ کر لٹکاتے ہوئے ریسکیو کی گاڑی میں لٹا دیا گیا۔ بپھرے ہوئے ہجوم نے اینٹوں، پتھروں اور ڈنڈوں سے ریسکیو کی گاڑی پر بھی حملہ کر دیا، گاڑی کا ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا اور ایک پولیس اہلکار نے گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوئے گاڑی میں موجود نذیر مسیح کو ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا میں پہنچے بعد ازاں کسی بھی خطرے کے بیشِ نظر سی ایم ایچ سرگودھا منتقل کر دیا گیا۔ جبکہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ پیس کمیٹی کے علما نے مشتعل ہجوم کو نذیر مسیح کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تسلی دے کر مطمئن کرنے اور گھروں میں بھیجنے کی کوشش کی۔
ہجوم نے نذیر مسیح کے گھر کا قیمتی اور عام سامان لوٹ لیا اور نذیر مسیح کی گھر کے ساتھ منسلک جوتے بنانے کی سمال فیکٹری کو آگ لگا دی۔ نذیر مسیح کو دو دن سی ایم ایچ سرگودھا میں انتہائی طبعی نگہداشت میں رکھنے کے بعد فوجی فاونڈیشن ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ اور پولیس نے نذیر مسیح کے گھر کے افراد کو نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا۔
25 مئی کی شام کرسچن کمیونٹی کی جانب سے بشپ ارشد جوزف اور فادر صاحبان، سینٹر طاہر خلیل سندھو، ایم پی اے بابا فیلبوس، وکلا اور سماجی سیاسی مسیحی کارکنان پر مشتمل وفد نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سے ملاقات کر کے صورتحال پر اپنے خدشات ظاہر کیے جس پر ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر اسد ملہی کی جانب سے وفد کو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تسلی دی گئی جبکہ اسی شام نذیر مسیح پر توہین مذہب اور دہشتگردی کی دفعات کے ساتھ ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
26 اور 27 تواریخ کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کرسچن کمیونٹی کے ضلعی اکابرین، بشپ اور فادر صاحبان، علما، انٹرفیتھ اور بین المذاہب کمیٹیوں کے ارکان اور میڈیا کے ساتھ مولانا طاہر اشرفی اور مولانا خطیب آزاد کی صدارت میں بین المذاہب پریس کانفرنس اور میٹنگز کا انعقاد کیا گیا جس میں مجاہد کالونی واقعہ کو پولیس کی جانب سے اچھے انداز سے کنٹرول کرنے کی بہترین کاوش اور بڑے نقصان سے بچانے پر پر خراج تحسین پیش کیا اور امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ڈسٹرکٹ پیس کمیٹی کا ارکان کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔ ان میٹنگز میں یہ بات کا عزم بھی کیا گیا کہ مجاہد کالونی کے اشتعال انگیز عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


