پاکستانی قومیت اور ریاست کا نظریاتی بحران


Bakht Noor nasir
پاکستانی قومیت اور ریاست کا نظریاتی بحران لمز میں شعبہ سیاسیات سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر احمد یونس صمد کی حالیہ کتاب ”Pakistani Nationahood and State ’s Idealogical Crisis“ کا اردو ترجمہ ہے۔ تاریخی تسلسل کے زاویہ نظر سے دیکھتے ہوئے یہ کتاب پاکستانی قومیت کے تصور اور اس کے نظریاتی بحران کو قبل از تقسیم کے منظرنامے سے جوڑتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کے نظریاتی اور سیاسی بحرانوں کی کڑی تقسیم سے قبل اور قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور سے جا ملتی ہے۔

ڈاکٹر یونس صمد نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور اسی یونیورسٹی کے پوسٹ ڈوکٹورل فیلو رہے ہیں۔ تقریباً تین دہائیوں سے سیاسیات و جنوبِ ایشیا کے علوم سے وابستہ ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں پاک امریکہ تعلقات پر مبنی کتاب ”The Pakistan۔ US Conundrum“ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر صاحب مغربی علمی اور تحقیقی روایات سے متاثر ہیں۔ اس لئے ان کی یہ کتاب تحقیق کے جدید معیارات پر پورا اترتی ہے۔ جیسا کہ مغرب میں سوشل سائنسز ریسرچ کی روایت ہے کہ معاشرتی، معاشی اور سیاسی حقائق کو بغیر کسی جذباتی وابستگی کے بیان کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر یونس صمد نے بھی برصغیر کے سیاسی ماحول اور پاکستان کے نظریاتی اور قومیت سازی بحران کو بغیر کسی لگی لپٹی كے معروضی انداز میں بیان کیا ہے۔

مصنف نے پاکستانی قومیت اور ریاست کے نظریاتی بحران کو جانچنے کے لئے جو مفروضہ مستعار لیا ہے وہ یہ ہے کہ آزادی سے قبل اور بعد از آزادی مرکز گریز اور مرکز کی طرف مائل سیاسی قوتوں کے درمیان ایک اختلاف اور تناؤ مسلسل برقرار رہا ہے اور اسی اختلاف نے قومیت اور ریاست کے تصور کو تشکیل اور بعد ازاں مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ اِن قوتوں کے درمیان کشمکش کے مطالعہ کے لئے ڈاکٹر یونس صمد نے (1958۔ 1937) کا عرصہ منتخب کیا ہے، جو کہ انتہائی دانشمندانہ انتخاب ہے۔ کیونکہ تقسیمِ ہند سے پہلے کی دہائی نے قومیت کے تصور کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور تقسیم کے بعد کی پہلی دہائی نے اس تصور اور ریاست کے نظریے کو درپیش چیلنجز آشکار کیے اور آنے والے مشکل دور کی پیچیدہ بنیاد رکھی۔

مصنف کتاب کے تعارف میں ایک اہم نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنوبی ایشا کے مسلمانوں پر تحقیق عموماً قیامِ پاکستان کو ایک منطقی انجام سمجھتے ہوئے، تحقیق کو تقسیم سے قبل یا بعد از تقسیم کے دو الگ ادوار میں دیکھتے ہیں۔ مصنف اس کو غلط سمجھتے ہیں، اُن کا استدلال ہے کہ تاریخی حقائق اور عوامل کسی خاص وقوعہ (جیسا کہ تقسیمَ ہند) کی وجہ سے فنا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ قومیت اور نظریاتی بحران کے جو مسائل تقسیم سے پہلے تھے وہ ابھی موجود ہیں۔ آج کا پاکستان 1947 کے پاکستان سے مختلف نہیں، قومی نظریہ اور قومیت کا تصور آج بھی اتنا ہی مبہم ہے جتنا آزادی سے پہلے تھا، اور یہی کتاب کا مقدمہ ہے۔

مقدمے کو ٹھوس شواہد دینے کے لیے کتاب میں بنگال، پنجاب، سندھ اور سرحد کے سیاسی حالات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اور انہی شواہد کی بنا پر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ایک غیر فطری یا ماورائی (سماوی) تصورِ قومیت اور علاقائی یا لسانی شناخت کے درمیان تناؤ نے مملکت کے سیاسی اور نظریاتی خد و خال وضع کیے ہیں۔

کتاب کے پہلے باب میں دوہری حاکمیت کی اصلاحات کو علاقائی شناختوں کی مضبوطی کا نقطہِ آغاز قرار دیا گیا ہے۔ بقول مصنف اس سے پہلے ہندوستان میں مسلمان ایک واحد سیاسی شناخت نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے معروض سے متاثر ہو کر مختلف ناموں سے اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کرتے تھے جن میں طبقہ، زبان اور علاقہ گہری اہمیت رکھتا تھا۔ کمیونل ایوارڈ، 1919 کی اصلاحات اور 1935 ایکٹ کی وجہ سے صوبوں میں علاقائی شناخت کی سیاست کی تنظیمیں مضبوط ہو گئیں۔ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی سے علاقائی شناخت ایک موثر حوالہ بن گیا تھا۔ جداگانہ انتخابات کے حق سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ سکھ، مراٹھیوں اور غیر برہمنوں کو بھی ایک آواز ملی، جو کہ اب تک صرف شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ ہندوستان پرست گروہوں کو حاصل تھی۔

مسلم سیاست پر بھی مسلم اقلیتی صوبوں سے تعلق رکھنے والی شہری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔ تاہم اِن اصلاحات سے طاقت کا توازن مسلم اکثریتی صوبوں جیسے پنجاب، بنگال اور سندھ کی طرف بڑھ گیا۔ اگرچہ اِن صوبوں میں طاقت تاحال زمینداروں، خانوں، وڈیروں اور پیروں کے پاس تھی۔ یہی لوگ صوبائی خودمختاری اور مرکز کے کم سے کم اختیارات کے وکیل بھی بنے۔

ان تمام اصلاحات کے باوجود ایسا نہیں تھا کہ مسلم لیگ یا مسلم قومیت کا تصور فیصلہ کن کردار کا حامل تھا۔ مسلم لیگ کی قومیت اور بہتر تنظیم مسلم اقلیتی صوبوں یوپی، بمبئی وغیرہ میں تھی۔ یونینسٹ پارٹی نے بہت کامیابی سے مسلم لیگ کے قدم پنجاب میں روکے رکھے۔ وہاں کے زمینداروں کے علاوہ پنجابی قومیت پر بھی اس پارٹی کا انحصار تھا۔ ان کی حمایت میں پنجاب کے پیر بھی شامل تھے۔ جنہیں انگریزوں نے مختلف مراعات اور مناصب کے عوض وفادار رکھا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ یونینسٹ پارٹی نے اپنی حکومت میں ایسی اصلاحات بھی متعارف کروائی جنہوں نے عوامی پذیرائی حاصل کی۔ سندھ میں بھی صورتحال کم و بیش پنجاب جیسی تھی۔ جہاں پر وڈیرے، پیر اور زمیندار سیاست پر قابض تھے اور ان میں اکثریت علاقائی شناخت اور انگریزوں کے زیادہ وفادار تھے۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے لئے وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر تحریک چلائی۔ ہندوؤں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور فرقہ ورانہ فسادات نے تاہم آنے والے برسوں میں مسلم لیگ کے لئے سازگار ماحول ضرور فراہم کیا۔ سرحد میں خدائی خدمتگار تحریک جو کہ مرکز میں کانگریس کی اتحادی تھی، استعمار اور جاگیردار مخالف اور پشتون قوم پرست سیاست کے زبردست سیاسی پروگرام کے ذریعے ایک مقبول عوامی تحریک بن گئی تھی۔

بنگال میں صورتحال دلچسپ تھی، جہاں زمیندار اشرافیہ کا تعلق زیادہ تر غیر بنگالی طبقے سے تھا۔ کلکتہ کے شہری ماحول میں رہنے والے بنگالی طبقاتی سیاست سے زیادہ متاثر تھے اور وہیں بنگالی قوم پرستی کے نظریات پروان چڑھے۔ یہاں پر پروجا تحریک ابھری جو متوسط اور دیہی طبقے کی نمائندگی کرتی تھی۔ جب کانگریس نے بنگال ٹیننسی ایکٹ کی مخالفت کی تو بہت سارے بنگالی ہندوستانی قوم پرستی کے دائرے سے نکلنے لگے، اسی طرح بنگال میں پہلی طبقاتی تنظیم نکھل بنگال پر وجا سمیتی کے نام سے بنی۔

تیس کی دہائی میں مسلم لیگ کی سیاسی قوت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1937 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو پنجاب سے صرف ایک نشست ملی، جبکہ سرحد اور سندھ سے ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔ سرحد میں خدائی خدمتگار اور پنجاب میں یونینسٹ پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ کو بنگال مسلم اقلیتی علاقوں سے کچھ کامیابی حاصل ہوئی۔ بنگال میں فضل حق کی کرشک پروجا پارٹی نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ باوجود اس کے کہ کانگریس اکثریتی جماعت تھی، سندھ میں یونینسٹ خطوط پر بننے والی جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی (SUP) نے حکومت بنائی۔

سوال یہ ہے کہ1937 میں انتہائی مایوس کن کارگردگی دکھانے والی مسلم لیگ چند برس میں پاکستان كا مطالبہ منوانے میں کامیاب کیسے ہوئی اور پاکستانی قومیت کے تصور کے لیے عوامی حمایت کیسے حاصل کی گئی؟

اس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران بننے والے حالات کا اہم کردار ہے۔ کانگریس نے جنگ کی مخالفت کی اور مسلم لیگ نے حمایت پیش کی۔ انگریزوں نے بدلے میں مسلم لیگ کو نوازا اور اسے بتدریج مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کیا۔ 1942 میں کرپس مشن نے پاکستان کے تصور کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ کانگریس نے جب استعفے دیے تو مسلم لیگ نے بنگال، آسام، سندھ اور سرحد میں حکومتیں قائم کیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران کانگریس کے اہم رہنما پابندِ سلاسل رہے اور مسلم لیگ کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔

یہاں پر محمد علی جناح نے بھی سیاسی دوراندیشی اور فراست سے کام لیا۔ انہوں نے صوبائی تنظیموں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے انہیں اپنے علاقوں میں آزادانہ سیاسی پروگرام کی اجازت دی بشرطیکہ وہ مسلم لیگ کو برصغیر کی سطح پر اپنا نمائندہ تسلیم کریں۔ علمی میدان میں دیوبند، ندوۃ العلماء، فرنگی محل اور علی گڑھ مسلم لیگ کی آواز بن گئے۔ اس تبلیغ و تشہیر کے لئے شہری کاروباری طبقات نے مالی معاونت فراہم کی۔ جن کو نئے ملک میں ہندو مسابقت سے آزاد کاروباری مواقع کی نوید دی گئی تھی۔

کسانوں کو ایک اسلامی نظامِ ِ معیشت کا وعدہ، تعلیم یافتہ شہری طبقوں کو نوکریوں کا وعدہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ وندے ماترم جیسے مسائل کو اچھال کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج کو اتنا وسیع کر دیا گیا کہ کانگریسی مسلمان اپنا دفاع نہ کر پاتے۔ مذہبی طبقے کی طرف۔ ”اسلام خطرے میں ہے“ کی آواز بلند ہوئی۔ جلالپور کے پیر فضل شاہ اور دوسرے پیروں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ کو ووٹ نہ دیا گیا تو آپ کا ایمان خطرے میں ہے۔ تاجروں، دانشوروں اور اشرافیہ نے شہری طبقوں اور پیروں نے دیہی طبقوں تک پاکستان کا پیغام پہنچانے میں مدد کی۔ مسلمان طبقات مادی اور روحانی دونوں حوالوں سے پاکستان میں اپنی محرومیوں کا مداوا دیکھتے تھے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نے فرقہ ورانہ فسادات کو بھی خوب استعمال کیا۔

ان تمام اقدامات کے باوجود مسلم لیگ صرف اقلیتی صوبوں اور تعلیم یافتہ طبقوں میں ہی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکی۔ چالیس کی دہائی میں پنجاب بھر میں مسلم لیگ کے ارکان کی تعداد صرف 4800 تھی۔ ہندوستان بھر میں مسلم لیگ اگر کہیں عوامی رنگ رکھتی تھی تو وہ بنگال تھا۔ جہاں ابوالہاشم نے اسے ایک سوشلسٹ، زمیندار مخالف عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا تھا۔ 1946کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی شہری علاقوں اور بنگال کے بڑے دیہی حصوں تک محدود تھی۔

سرحد میں کانگریس کی حمایت یافتہ خدائی خدمتگار تحریک کو کامیابی ملی، باوجود اس کے کہ غفار خان کی خدائی خدمت گار تحریک کا اثر توڑنے کے لئے مذہبی پروپیگنڈا کا خوب استعمال کیا گیا۔ پیر آف مانکی شریف کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان سے نئی مملکت میں نفاذِ شریعت کا رسمی وعدہ کیا گیا۔ سندھ میں کانگریس اور مسلم لیگ کو یکساں سیٹس ملی، پنجاب میں یونینسٹ پارٹی نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ بنگال میں مسلم لیگ کی کامیابی کو مسلم قومیت کے تصور کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، بنگال مسلم لیگ پر بنگالی تشخص، طبقاتی سیاست اور مقامی رنگ نمایاں تھا۔ یہ تحریک مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نہیں بلکہ مقامی قیادت کی وفادار تھی۔

کتاب کے آخری دو ابواب میں قیامِ پاکستان کے بعد ابھرنے والے منظرنامے کو تقسیم سے پہلے کے منظرنامے سے جوڑ کر پرکھا گیا ہے۔ تحریک ِ پاکستان کے دوران تو حامین اور مخالفین دونوں کو پاکستان کے پرکشش نعرے کے ذریعے رام کیا گیا لیکن اس خواب کے پردے کے پیچھے مختلف لسانی و علاقائی گروہوں کے مختلف مفادات اور ان کے باہمی تضادات اب ایک حقیقی اور مستقل حل چاہتے تھے۔

مسائل کو قابو رکھنے کے لئے ابتدا سے ہی ایک مضبوط وحدانی ڈھانچے کی ضرورت کے بیانیے کو پروان چڑھایا گیا۔ اس میں مسائل کے حل کی بجائے مقتدر اشرافیہ کے اپنے مفادات تھے۔ ہندوستان کے برعکس، جہاں کانگریس مضبوط عوامی جڑیں رکھتی تھی، نوزائیدہ پاکستان خاص کر مغربی حصہ میں سیاسی قیادت مقامی لوگوں کے لئے اجنبی تھی۔ مقامی سیاسی قیادت غیر مسلم لیگی تھی۔ مسلم لیگ کی قیادت جناح کے دستِ راست لیاقت علی خان جیسے لوگ کر رہے تھے جو غیر مقامی تھے۔ غیر مسلم لیگی مقامی سیاسی قیادت کو عملاؑ مملکت سازی کے عمل سے دور رکھا گیا۔

غیر آئینی اور غیرجمہوری بنیادوں پر قومیت اور مملکت سازی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا عہدہ تخلیق کر کے اسے تمام سول سروس کا سربراہ مقرر کیا گیا اور وزراء سے زیادہ با اختیار بنایا گیا۔ مزید براں، تمام سیکرٹریوں پر مشتمل پلاننگ کمیٹی کی شکل میں ایک متبادل کابینہ بنائی گئی۔ وحدانی ڈھانچہ کے علاوہ دوسری ترجیح فوج کی مضبوطی تھی، جسے مرکزی حکومت کے طاقت ور بازو کے طور پر استعمال کیا جانا تھا۔

سول اور فوجی افسر شاہی کی مضبوطی کے لئے اِن اقدامات کے پیچھے اِن دو اداروں کی نسلی ہیئت کارفرما تھی جہاں اردو اور پنجابی بولنے والے غالب اکثریت میں تھے، جو ان طریقوں سے عنان اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے تھے۔ حکمران طبقہ صوبائی خودمختاری دے کر اقتدار علاقائی جماعتوں کے سپرد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُن کی وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور پاکستان کے ایسے تصور پر زور دیا گیاجس کی بنیاد اسلام، اردو زبان، وحدانی حکومتی ڈھانچہ تھا۔

اِن اقدامات کے خلاف اقلیتی اور زیردست لسانی گروہوں کی آوازاٹھنا فطری عمل تھا۔ ان آوازوں کو کچلنے کی روایت جناح کی زندگی میں ہی ڈال دی گئی تھی، جب ان کے غیظ و غضب کا پہلا نشانہ پیپلز آرگنائزیشن بنی جس کی بنیاد غفار خان نے رکھی۔ اس نوخیز جماعت کی شدت سے مخالفت کی گئی۔ یہاں تک کہ نیم سرکاری اخبار ڈان نے اِن کو غدار کہا۔ پیپلز آرگنائزیشن کے مطالبات وہی تھے جو آج چھوٹے صوبوں کی جماعتوں کے ہیں، جیسا کہ صوبائی خودمختاری، لسانی و ثقافتی شناخت کا حق، پڑوسیوں سے بہتر تعلقات وغیرہ۔ تاہم جناح سیاسی تنوع کے خلاف تھے تاکہ قومی یک جہتی کو نقصان نہ پہنچے۔ مارچ 1948 میں انہوں نے کہا۔ ”تمام پاکستانی مسلم لیگ کے جھنڈے تلے آ جائیں جو کہ پاکستان کی محافظ ہے۔“۔ اسی کو دیکھ کر قیوم خان کا یہ دعویٰ درست لگتا ہے کہ جناح نے ذاتی طور پر انہیں غفار خان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

سندھ میں مہاجروں کی بڑی تعداد میں آباد کاری، کراچی صوبے کے معاملات میں مداخلت اور لسانی بنیادوں پر ناانصافی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ سندھ کو پانی کی تقسیم پر بھی پنجاب سے اختلاف تھا۔ اس کے علاوہ فوجی اور سول افسر شاہی میں سندھیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس طرح سوائے پنجاب کے، ہر صوبے میں مرکز کے خلاف سیاسی فضا ابتدا ہی سے قائم ہو گئی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ مسلم رہنما جنہوں نے عوامی سطح پر قیامِ پاکستان کے لئے راہ ہموار کی، وہی سب سے پہلے مسلم لیگ سے منحرف ہوئے جن میں سہروردی اور پیر آف مانکی شریف شامل تھے، جنہوں نے مرکزی قوتوں کے خلاف مل کر عوامی مسلم لیگ بنائی۔ تاہم غیر مقامی لیڈر لیاقت علی خان نے عوامی لیگ کے خلاف ”جنگ“ کا اعلان کیا۔ عوامی لیگ کے خلاف صوبائیت پرستی کا پروپیگنڈا کیا گیا۔

مرکز کی اردو زبان کی مرکزی حیثیت پر اصرارنے بنگال میں بے چینی بڑھائی۔ خواجہ ناظم الدین جو کہ غیر بنگالی تھے، انہوں نے مرکز کے موقف کی حمایت کی تو بنگالی مسلم لیگی، قوم پرستی کی راہ پر نکل پڑے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے اساتذہ نے تحریک شروع کی تو جناح نے اِن کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ محمد علی فارمولا کے تحت بنگالی اور اردودنوں کو قومی زبان قرار دیا گیا تاہم پنجابی ارکانِ اسمبلی نے یہ فارمولا مسترد کر دیا، انہیں خوف تھا کہ اگر وحدانی ڈھانچہ نہ بنایا گیا تو بنگال سندھ اور سرحد کے ساتھ مل کر آئینی اور جمہوری راستے سے غلبہ حاصل کر لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجوزہ آئین کو نافذ العمل ہونے سے روکنے کے لئے 24 اکتوبر1954 کو ہنگامی حالت کا اعلان کر کے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا۔ نئے آئین میں گورنر جنرل کے اختیارات محدود کر دیے گئے تھے جو کہ سول اور فوجی اشرافیہ کے لئے قابلِ قبول نہ تھا۔

کابینہ کی تنظیمِ نو کی گئی اور اس میں پنجابی گروپ جس کو گورنر جنرل کی حمایت حاصل تھی، کو غلبہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی طویل عرصہ سے زیرِ التوا ایسے آئین کے نفاذ کی کوشش کی جانے لگی جو کہ مضبوط وحدانی حکومت کا ضامن تھا، تاہم اس کا خاصہ مغربی پاکستان کے صوبوں کو ملا کر ون یونٹ بنانا تھا۔ پنجابی بالادست طبقے کی پاکستان پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے یہ ایک دستوری ڈھال تھی۔ اس کے لئے حکمران طبقے نے گفت و شنید کی بجائے دھونس، دھمکی، زبردستی اور لالچ کا استعمال کیا۔ سکندر مرزا نے کہا کہ ”میں سمجھوتوں کے خلاف ہوں، ون یونٹ کا اسٹیم رولر معمولی رکاوٹوں سے نہیں روکا جا سکتا“ ۔

ون یونٹ اور مضبوط مرکز مخالف سیاسی قوتوں کی عوامی پذیرائی کے پیچھے واقعی اعداد و شمار تھے، جو کہ زیردست اور اقلیتی لسانی گروہوں کی قوم پرست سیاست کے لئے انتہائی معاون ثابت ہوئے۔ بنگالی فوج میں انتہائی کم تھے، مشرقی پاکستان کو فوجی اخرجات کا بمشکل2 فی صد حصہ ملتا تھا۔ کل 20 میجرجنرلز میں ایک بھی بنگالی نہیں تھا۔ فوج کے کُل 35 بریگیڈئیرزمیں ایک بھی بنگالی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سول سروس میں مشرقی پاکستان سے ایک بھی نہیں تھا۔ صنعتی ترقی کے لئے مختص 8 سو کروڑ میں سے صرف 50 کروڑ مشرقی پاکستان کو دیے گئے۔ 1955 تک ہر سال 21 کر وڑ روپے مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان منتقل کیے گئے۔

پنجاب بالادست طبقے کی ہٹ دھرمی اور فوجی نوکر شاہی کی آشیرباد اور حمایت نے مرکز گریز سیاست کی حوصلہ افزائی کی اور مسلم لیگ ایک برائے نام تنظیم بن کر رہ گئی۔ اس کا اثر صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ گیا۔ 1954 کے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو مشرقی پاکستان میں شرمناک شکست ہوئی تو حکومت نے کرنافلی اور نارائن گنج میں ہونے والے فسادات کو بہانہ بنا کر گورنر راج نافذ کیا۔ مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف مضبوط عوامی حمایت یافتہ سیاسی اتحاد بنے تو مرکز نے اس کے خلاف PRODA جیسے قوانین بنائے۔ اقلیتی صوبوں کے اِن اتحادوں کو کچلنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ تنازعہ کو ہوا دی گئی اور اِن پر علیحدگی کی تحریکوں کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا۔ اس طرح پاکستان میں اوائل ایام سے ہی آئینی اور جمہوری نمو کا سیاسی قتل کیا گیا۔ جس کا نتیجہ کچھ برس میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔

اس دیرینہ کشمکش جو کہ اب اقلیتی صوبوں (مرکز گریز) اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی اشرافیہ (مرکز مائل) کے درمیان ہے، کی مماثلت قیام پاکستان کے ابتدای برسوں کے ساتھ حیران کُن ہے۔ 1950 کی دہائی میں فوجی اور سول افسر شاہی نے آئینی اور جمہوری قوتوں کا راستہ بزورِ بازو روکا۔ آج بھی پولیٹکل انجینئرنگ کے ذریعے عوامی حمایت یافتہ قوتوں کا مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ ایوب خان کے دور مین بھی فوجی اشرافیہ اقلیتی صوبوں کی سیاسی قیادت اور صوبائی خودمختاری کے خلاف تھی۔ آج بھی مقتدرہ کی طرف سے کبھی اشارتاً، کبھی اپنے گماشتوں کے ذریعے صوبائی خود مختاری اور لسانی شناختوں کی ضامن 18 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ جس طرح بنگال، سرحد اور سندھ پنجابی اور نوکرشاہی کے خلاف تھے، آج بھی اگر ہم دیکھیں تو مضبوط وفاقی نظام کی حمایت میں سب سے توانا آوازیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے آتی ہیں۔ یہاں تک کہ18ویں آئینی ترمیم کا سہرا بھی دو اقلیتی صوبوں سندھ اور پختونخوا سے تعلق رکھنے والی جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سرجاتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر مرکز مخالف قوتوں کی بیخ کنی کے لئے اسی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے جو سترسال پہلے تھا۔ ”اسلام خطرے میں ہے، ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور قوم پرست ہندوستان کے حامی ہیں وغیرہ“ ۔ اس کے علاوہ سیاسی اجتماعات پر پابندی کے لئے دفعہ144 کا استعمال اتنا ہی پرانا ہے جتنا کے پاکستان۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ خدائی خدمتگاروں کو کچلنے کے لئے اس وقت کے گورنر سرحد سر ایمبروز ڈینڈس (Ambros Dandus) نے جولائی 1948 کو جو آرڈینس لگایا تھا کہ سرکارکسی بھی شخص کو بلا کسی وجہ گرفتار اور قید میں رکھ سکتی ہے۔ عین اس طرح کا قانون Action in Aid of Civil Power ایکشن اِن ایڈ آف سولیئن پاور آج بھی خیبرپختونخوا پر مسلط ہے۔

کتاب میں کئی تاریخی مغالطے درست کیے گئے ہے۔ مثال کے طور پر قراردادِ پاکستان اصلاً برِصغیر میں مسلمانوں کی دو آزاد ریاستوں کے بارے میں تھی، جو کہ مشرقی (بنگال، آسام) اور مغربی حصہ (موجودہ پاکستان) پر مشتمل تھا۔ اور 1946 تک پاکستان کا یہی تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ اس کے علاوہ کتاب میں کئی اہم اعداد و شمار (فوجی، سول افسر شاہی کی نسلی ہیئت) بھی دیے گئے ہیں۔

کتاب کے کچھ مندرجات کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ تعارف میں کانگریس کو انگریزی تعلیم یافتہ اشرافیہ، کاروباری طبقات اور بالادست کسانوں کا اتحاد، اور مسلم لیگ کو اشرافیہ اور عوامی طاقتوں کا ملغوبہ قرار دیا گیا ہے جو کہ شاید درست تشریح نہیں ہے۔ کیونکہ کانگریس کی امتیازی خصوصیت برعکس مسلم لیگ کے یہی تھی کہ وہ عوام میں جڑیں رکھتی تھی اور اسی وجہ سے کانگریس ہندستان کو ایک مستحکم سیاسی اور جمہوری بنیاد فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی اور ہندوستان باوجود بڑے حجم کے، شکست و ریخت کے تجربہ سے نہیں گزرا۔

اسی طرح دوسرے اور تیسرے ابواب میں بین السطور ایسا تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ پاکستان کے مطالبے کے لئے اچانک ایک وسیع عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جس کی وجہ سے قیامِ پاکستان ممکن ہوا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اسے وسیع عوامی حمایت صرف مسلم اقلیتی صوبوں کے شہری علاقوں میں حاصل ہوئی۔ اور پاکستان کے بننے میں انگریز کے اپنے مفادات، آخری ایام میں پٹیل جیسے لوگوں کے کانگریس کے فیصلوں پر اثراندازہونے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسے تاریخ کا جبر کہیے یا المیہ کہ قیامِ پاکستان کے لئے سب سے زوردار تحریک بنگال میں چلی یا یوپی اور دیگر مسلم اقلیتی علاقوں میں، بنگال ایک خونی تجربے کے بعد علیحدہ ہوا اور یوپی ہندوستان کا حصہ بن گیا۔

اس کے علاوہ آزادی کے صرف ایک ہفتے بعد سرحد حکومت کی معزولی کا بھی کماحقہ تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ 12 اگست 1948 میں سرکاری مشینری کے ہاتھوں بابڑہ (چارسدہ، پختونخوا) کے مقام پر خداءی خدمتگاروں کے قتل ِ عام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس واقعے میں مختلف حوالے 500 سے زیادہ افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لسانی قومیت اور ریاستی نظریے کے ٹکراؤ میں اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا ایک سہواً غلطی ہو سکتی ہے۔

کتاب میں تقریباً 700حوالہ جات ہیں جن میں دستور ساز اسمبلی کی تقاریرسے لے کر، پرسنل ڈایئریز، برطانیہ اور امریکہ میں موجود آرکائیوز، سیکرٹریزکے خطوط، سرکارِ برطانیہ کے دستاویزات، سیاسی رہنماؤں کی خطوط و کتابت، یو ایس، سی آئی ڈی، فوج کے رپورٹ، اخبارات، امریکی و برطانوی سفارتخانوں کے خطوط، مختلف آئینی و قانونی دستاویزا ت ا ور درجنوں تاریخی کتابیں شامل ہیں۔ اِن میں سے بیشتر شواہد اب تک غیر تحقیق شدہ تھے۔

۔ کچھ ترجمہ کے بارے میں :

سیاسیات اور تاریخ کی اس ضغیم کتاب کا اردو ترجمہ بلاشبہ طالب علموں اور سیاسی کارکنوں کے لئے ایک گرانقدر تحفہ ہے جس کے لئے مترجم داد کے مستحق ہیں۔ پھر ایک ایسی کتاب جس میں بھاری بھرکم اصطلاحات کا استعمال ہو بے شک انتہائی مشکل کام ہے، جس میں اصطلاحات کا بھی ترجمہ ہو، اور روانی بھی رہے۔ تاہم کتاب کے متن کی اہمیت اور افادیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا نا انصافی ہوگی کہ ترجمہ کا حق ادا کیا گیا ہے ۔ یہ مصنف کی محنت اور لیاقت کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

کتاب چونکہ اصلاً انگریزی میں لکھی گئی ہے، اس لئے اردو ترجمہ میں جملوں کی ساخت انگریزی جیسی ہے۔ مترجم جملوں کے ترجموں کے بجائے، پیراگراف کے مفہوم کو اردو میں ڈھالتے تو بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ چونکہ آج کل علمی اصطلاحات عموماً انگریزی میں استعمال ہوتی ہیں تو ترجمہ کے ساتھ اصل انگریزی اصطلاح بھی بریکٹ میں لکھی جاتی تو طالب علموں کے لئے آسانی ہوتی۔ اس کی مثال کتاب میں ایسی اصطلاحات ہیں جو کہ اصل انگریزی اصطلاح یا Context کے بغیرناقابلِ فہم ہیں، جیساکہ۔ ”خلقی تضاد۔“ ، ”ذیلی قوم پرست“ وغیرہ۔

ذیل میں کچھ غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے :
صفحہ17 : دخل اندازی کے لئے خود مختاری کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
صفحہ18 :زمیندار اور یونیورسٹیاں کے لئے جداگانہ انتخابات۔
صفحہ 26 : ”زبردست اخلاقی غم و غصہ۔“
صفحہ46 : مربیانہ لوٹ مار۔ ”
صفحہ52 : ”ان سے کہیں بڑا انہیں اپنے اندر جذب نہ کر لے۔“
صفحہ55 : ”بھٹو اور ہارون کی شخصیت“ ۔ اصل لفظ شکست ہے۔
صفحہ 26 : ”مقامی پڑوسی قیادت۔“
صفحہ119 : ”خان آف لنڈ خوار“ ۔ صحیح: خان آف لوند خوڑ
صفحہ107 :۔ عدم دلچسپی کی جگہ عدم گرمجوشی کا استعمال۔
صفحہ145: ”ہزارہ کے پیر آف مانکی شریف“ ۔ پیر آف مانکی شریف کا تعلق نوشہرہ، وادی پشاور سے تھا۔

صفحہ289 : ”ہزارہ سے تعلق رکھنے والے جنرل موسیٰ۔“ ۔ اس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جنرل موسیٰ کا تعلق ہزارہ کے علاقے سے ہے، حالانکہ اُن کا تعلق ہزارہ افغان قبیلے سے تھا۔

بہرکیف، ترجمے کی غلطیوں سے قطع نظر، یہ ایک ایسی تاریخی تصنیف ہے جو کہ اس موضوع پر مستقبل میں ہونے والی تحقیق کی مستند رہنمائی کر سکتی ہے۔ سیاسیات، تاریخ، اور جنوبی ایشا کے طالب علموں کے لئے اس کی حیثیت ایک گزیٹر سے کم نہیں۔ اس کی اہمیت اور افادیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے مصنف اس کے نئے اور بہتر اردو ایڈیشن کے لئے سعی کریں یہ اُن کا اردو قارئین پر احسان ہو گا۔

تبصرہ نگار بخت نور ناصر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے پولیٹیکل اکانومی میں ایم فل ہیں اور یونیورسٹی آف لورالائی بلوچستان کے شعبہ سیاسیات میں لیکچرار ہیں۔

Facebook Comments HS