ہتک عزت بل پر اعتراضات كیوں؟
سوشل میڈیا پر تو گالی گلوچ اور الزام تراشی کا بازار ہمہ وقت گرم رہتا ہے۔ مائیں، بہنیں تک محفوظ نہیں۔ محض سیاسی اختلاف رائے پر گالیاں دینا معمول ہے، ایک جماعت کے پاس تعصب اور دھڑے بندی کی بنیاد پر ملینز کی فالوور شپ ہے ان کے سوشل میڈیا ایکٹیویٹیس جھوٹی خبریں تراشتے اور ٹرینڈ بناتے ہیں، جیسے حال ہی میں کرغیزستان ایشو پر لاشوں کے بکھرنے اور پاکستانی طالبات کے ریپ جیسی خبریں۔ ان سے بھی جو ٹی وی سکرینوں پر بیٹھتے ہیں، جھوٹ بولتے، الزام لگاتے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ الیکٹرانک میڈیا اپنے مشن سے ہٹ کر کاروباری ادارہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ وگرنہ رپورٹرز راتوں رات محلات کے مالک نہ بن چکے ہوتے۔ صحافت کا پہلا اصول یہ ہے کہ جس خبر سے عوام کو آگاہ کیا جائے، اس میں رپورٹر اپنی رائے کو عوامی رائے کا چوغہ نہ پہنائے۔ جبکہ ہمارے میڈیا کا معمول خبر میں نمک مرچ ڈالنا سنسنی خیزی بھرنا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر یک طرفہ بیانیہ کے ذریعے صحافیانہ بددیانتی کرنا ہے۔
جب تک فریقین کے بیانیے کو برابر جگہ نہ دی جائے، دیانتدارانہ صحافت نہیں کہلا سکتی۔ میڈیا نے جہاں ایک طرف شعور بخشنے میں کردار ادا کیا۔ وہیں قومی انتشار میں بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ ہمارے اکثر چینلز سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے کارندے ہیں۔ کسی ایک جماعت کو کوریج دے کر غیر جانبدارانہ صحافت کو بدنام کر چکے ہیں۔ اکا دکا چینلز کے علاوہ کوئی ایک بھی چینل نہیں جو کسی نہ کسی پارٹی کے لیے پراپیگنڈا نہ کر رہا ہو۔ نتیجتاً ”لفافہ صحافت“ کی اصطلاح معرض وجود میں آئی۔
حکومتیں بنانے، ختم کرنے، آمریت کا دفاع کرنے میں بلاشبہ ہمارا میڈیا ”دیو“ کا روپ دھار چکا ہے، اسے راہ راست پر لانے کے لیے قوانین کا عملی نفاذ جمہوریت اور پاکستان کی یکجہتی کے لیے لازم ہے۔ ایک سیٹلائٹ چینل جسے پاکستان کے ابتدائی چینلوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے خلاف اسحاق ڈار، میاں منشا، ناصر بٹ، سید عالم شاہ، گل بخاری لندن میں مقدمات اور مجموعی طور پر لاکھوں پاؤنڈ جرمانے جیت چکے ہیں جو اس وقت ہتک عزت قانون کے خلاف خبروں کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ تو لندن جا کے مقدمہ کر سکتے ہیں عام پاکستانی تو نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی عزت کیسے بچائے؟
کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر
صحافتی تنظیمیں بھی پہلے صرف مالکان کی ایجنٹ تھیں۔ اب وہ ڈالر کمانے والے سوشل میڈیائی بلیک میلروں جھوٹوں، اور دیہاڑی بازوں کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہو گئی ہیں۔
ہتک عزت کے قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی پر صحافی یا غیر صحافی الزام لگائے تو متاثرہ فریق اس کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور مدعا علیہ سے الزام کے ثبوت مانگے اور اگر وہ نہ کر سکے تو تیس لاکھ روپے تک ہرجانہ ادا کرے۔ پنجاب ڈیفیمیشن لا، کو پڑھا جائے تو نہ اس میں پولیس ہے، نہ حوالات اور نہ ہی جیل۔ یہ سول نوعیت کی مقدمے بازی ہے جس کے لئے ہائی کورٹ کے جج بننے کی اہلیت کے مساوی پروفیشنل لوگوں کے ٹریبونل بنیں گے جو چھ ماہ میں فیصلہ کریں گے۔ کیا گالی دینے والے اور الزام لگانے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا غلط ہے کیا اس ملک میں ہر قسم کے آئینی اور انسانی حقوق چوروں، ڈاکوؤں اور بلیک میلروں کے ہی ہیں۔
اعتراض یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ٹریبونل کیوں؟ معمول کی عدالتیں کیوں نہیں۔ معمول کی عدالتوں سے ملنے والے انصاف کا عالم یہ ہے کہ عمران خان نے نجم سیٹھی پر 35 پنکچر کا الزام لگایا، الزام والے انتخابات کو بھی دس برس سے زائد گزر گئے، کیا انصاف ملا؟
عمران خان نے شہباز شریف پر بھی کرپشن کی آفر کا الزام لگایا اور شہباز شریف بھی برس ہا برس سے عدالت میں ہیں اور انصاف دکھائی نہیں دیا۔ اگر شہباز شریف، نجم سیٹھی اور آئی ایس آئی کے کمانڈر تک کو الزام پر انصاف نہیں ملتا تو عام آدمی کہاں جائے، کیا امید رکھے؟
عام آدمی کے متعلق ایک مقدمے کا احوال بھی پیش کر دیتا ہوں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون اور انصاف کی کیا اہمیت ہے۔ قتل کا ایک مقدمہ 17 سال چلتا رہا۔ 4 افراد گرفتار ہوئے جیل میں اذیت اٹھاتے رہے۔ کہتے ہیں نانا دادا کے لگائے درخت کا پھل اس کے پوتے کھاتے ہیں اسی طرح پاکستان میں دادا کے مقدمے کا فیصلہ اس کے پوتے سنتے ہیں۔ مذکورہ بالا مقدمہ قتل میں ہی دیکھ لیں 17 سال بعد فیصلہ آیا کہ ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
اس پر 3 ملزمان نے تو سجدہ شکر ادا کیا ہو گا مگر اس چوتھے ملزم کا کیا بنے گا جو فیصلہ آنے سے 4 سال قبل جیل میں ہی قید کے دوران انتقال کر گیا۔ اب وہ یا اس کے گھر والے کون سی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر انصاف طلب کریں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ عدالتیں صرف عوام کے کیس سنیں، سیاسی اور صحافتی بازیگروں کے لیے علیحدہ عدالتیں ٹریبونل اور جج تعینات ہوں جہاں صرف ان کے کیس ہی چلیں۔ اس طرح کم از کم ان طویل لایعنی کیسوں کی وجہ سے عوام کے فوری نوعیت کے کیسوں کو تو برسوں لٹکانے سے جان چھوٹے گی۔
افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ عمران خان فین کلب کے ٹائیگرز کے کلٹ کو بچانے کے لئے صحافتی تنظیموں نے صحافت کے قتل کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ قانون میں صحافی اور غیر صحافی کی تفریق نہیں، یہ زیادہ اچھی بات ہے کہ صحافیوں کو الگ سے ٹارگٹ کرنا قانون میں نہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت اس قانون کا غلط استعمال کرے گی مگر سوال ہے کیسے؟ اس میں تو پولیس، ایف آئی آر ہی نہیں ہے اور دوسرا سوال ہے کہ کیا قتل سے ڈکیتی تک کے قوانین کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ کیا وہ سب قوانین ختم کر دیے جائیں۔ عمران خان نے آئین کا غلط استعمال کر کے اسمبلی توڑی تھی تو کیا آئین ہی نہیں ہونا چاہیے؟
بہرحال اس قانون سے یہ واضح ہو گا کہ آپ نے سچا اور فیئر تجزیہ کیا ہے یا نہیں۔ دنیا بھر میں عدالتی کارروائی پر آپ کمنٹ نہیں صرف رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔ مگر اعتراض یہ بھی ہے کہ کمنٹس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اعتراضات یہ بھی ہیں کہ ہتک عزت کے پہلے سے قوانین موجود ہیں، نئے قانون کی کیا ضرورت ہے؟ مثال کے طور پر ضابطہ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 124 الف، دفعہ 153 الف، دفعہ 55 کے تحت دو سال سے عمر قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
دفعہ 12 کے تحت اخبارات پر سنسر شپ بھی لگائی جا سکتی ہے یا کسی اخبار کو مخصوص ایام تک بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ دفعات 499 تا 502 جرائم ازالہ حیثیت عرفی سے متعلق ہیں جو قابل دست اندازی پولیس ہیں۔ قانون کی شق B کی ذیلی شق (h) میں ہتک عزت کی یہ وضاحت کی گئی ہے۔ کہ ”ہتک عزت کا مطلب ہے کسی جھوٹے بیان کی اشاعت، نشر یا گردش، اس کی نمایندگی زبانی، تحریری یا بصری یا عام شکل یا اظہار یا الیکٹرانک یا دیگر جدید میڈیم ذرائع آلات یا سوشل میڈیا کے ذریعے یا کوئی بھی آن لائن یا سوشل میڈیا، ویب سائٹ، پبلیکیشن یا پلیٹ فارم جو کسی شخص کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے یا اس کا اثر ہو سکتا ہے یا اسے دوسروں کے اندازے میں کم کرنے کا رجحان رکھتا ہے یا اس کا مذاق اڑاتا ہے یا اسے غیر منصفانہ تنقید، ناپسندیدگی، حقارت اور نفرت کا نشانہ بناتا ہے، اسی طرح بعض جنسوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے تبصرے اور بیانات۔“
ہتک عزت کے قانون کی بھی ایک علیحدہ تاریخ ہے۔ برطانوی ہند حکومت نے 1860 ء انڈین پینل کوڈ نافذ کیا۔ اس پینل کوڈ میں دفعہ 499 اور 500 ہتک عزت سے متعلق شق شامل کی گئیں۔ اس شق کے تحت ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت ہائی کورٹ میں ہوتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان پینل کوڈ (PPC) نافذ ہوا۔ اس قانون میں دفعہ 499 اور 500 شامل رہیں۔ ایک مہذب پاکستان اور ذمے دار صحافت کے لئے مہم چلانا ضروری ہے۔ تاکہ اس ملک سے خلفشار کا خاتمہ ہو۔ قومی سلامتی، امن و امان، فرقہ واریت فتنہ و فساد اور سیاسی عدم استحکام کے ضمن میں میڈیا کو منفی کے بجائے مثبت رول ادا کرنا ہو گا جس کی ہتک عزت بل ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔


