کیپٹن صفدر اور ربوہ میں اسرائیل کا ہیڈکوارٹر

کیپٹن صفدر نے ایک بار پھر سے پاکستانی احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیزی پر مبنی الزامات لگانا شروع کر دیے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے کچھ دنوں پہلے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ اسرائیل نے اپنا ہیڈ کوارٹر ربوہ پنجاب میں بنایا ہوا ہے۔ اس بیان کا مقصد احمدیوں کے قتل اور ان کو نقصان پہنچانے کے عمل میں مزید تیزی لانے کا تھا تاکہ پاکستان میں مذہبی جنونیت رکھنے والی عوام جو معاشی حالات کی وجہ سے فلسطین کو بچانے کے لئے اسرائیل کے خلاف جہاد کرنے کے لیے نہیں جا سکتے وہ اپنے ہی ملک میں موجود پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر ربوہ میں جا کر قتل عام اور جلاؤ گھیراؤ کر لیں اور اس اقدام میں انہیں اتنا ہی ثواب بھی مل جائے اور جہاد کے فرض سے بھی سبك دوش ہوجائیں۔
کیا ریاست پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اتنے سنگین نوعیت کے الزام کی تحقیقات کرے جس میں اگر ربوہ اسرائیل کا ہیڈکوارٹر ثابت ہو جائے تو اس پر نوٹس لیا جائے اور ساتھ میں فوری طور پر ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسی کو فارغ کر دیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیپٹن صفدر کو کم از کم پاگل خانے میں داخل کروایا جائے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے والے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر کریم خان تھے جن کا تعلق احمدی برادری سے ہی ہے اور اس خبر کا ذکر پاکستان کے کسی بھی میڈیا گروپ نے نہیں کیا مگر پھر بھی آج تک پاکستان میں اس برادری پر یہی الزام عائد ہوتا ہے کہ یہ تمام لوگ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔
کیپٹن صفدر بخوبی واقف ہیں کہ ریاست پاکستان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ اب وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر اعلیٰ جناب مریم نواز کے شوہر بھی ہیں۔ اس لیے انہوں ایک اور بیان دے ڈالا جس میں عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمام ججوں کو عقیدہ ختم نبوت پر حلف اٹھا کر اپنے ایمان کی گواہی دینی ہوگی کہ ان کا تعلق احمدی جماعت سے نہیں۔ کیپٹن صفدر کو معلوم ہے کہ كسی میں اتنی ہمت نہیں كہ ایسے منافرانہ بیانات کی وجہ سے ان كی جواب دہی كی جائے کیونکہ اس اقدام سے مذہبی طبقہ کی جانب سے ریاست پر الزام لگ سکتا ہے کہ یہ ریاست احمدیوں کی حمایت کرتی ہے لہذا ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ چپ چاپ تماشائی بنی رہے گی۔
احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چند دن پہلے جہلم میں تحریک لبیک کے جہلم کے عہدیدار نے ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی احمدی نے عید قربان کے موقع پر جانور کے قربانی كرنے کی کوشش کی تو ہم اس احمدی کو خود لٹکا دیں گے۔ یہ بیان پنجاب کی پولیس بھی سامنے کھڑی چپ چاپ سنتی رہی کیونکہ اس مولوی کو معلوم تھا کہ اگر ریاست نے ہمیں ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو ہم عوام کو یہ یقین دلانے میں كامیاب ہو جائیں گے کہ ریاست احمدیوں کی حامی ہے۔
پاکستان میں مذہب کے نام پر صرف احمدی ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی بہت مشکل حالات میں گزر رہے ہیں۔ توہین مذہب کے نام پر معصوم عیسائیوں قتل کر کے ان کے گھروں اور کاروبار کو نقصان پہنچا کر مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے اور یہ سب ہونے کے باوجود پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں جبکہ ان کا شوہر احمدی برادری کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے میں مصروف ہے۔

