عمران خان کی جیت!


عمران خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ امریکہ سے چلایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ٹیم میں تیس ہزار رضاکار کام کر رہے ہیں اور ان کا ہیڈ امریکہ میں ہے: روف حسن ترجمان پاکستان تحریک انصاف

خیبر پختونخوا حکومت نے پچیس ہزار ماہانہ پر جو سینکڑوں لوگوں پر مشتمل ٹیم بنائی تھی وہ شاید اس میں شامل نہیں۔ اور ہاں ”ففتھ جنریشن وار“ کے نام سے ریاستی وسائل سے اداروں نے جو بندوبست کروایا تھا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ میڈیائی جنگ بہت مہارت کے ساتھ لڑی گئی اور درحقیقت ایک مثال قائم کی گئی۔

لوگ رضاکار ہیں یا تنخواہ دار لیکن ہیں بڑے ماہر جو بہت سائنسی بنیادوں پر کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ بہت ٹارگیٹڈ کام ہو رہا ہے۔

دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد وہ ہے جس نے رضاکارانہ خدمات فراہم کی ہوئی ہیں یعنی وہ عمران خان کے بیانیہ سے شاید متفق نہیں مگر اپنے اکاؤنٹس کے ریچ بڑھانے کے لیے ٹرینڈ میں شامل ہیں اور پی ٹی آئی کے نوجوانوں کے جذبات انگیخت کرانے کا فریضہ سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ بہت سارے یو ٹیوبر لاکھوں فالوورز اپنے پیچھے لگانے میں کامیاب ہو چلے ہیں اور میڈیائی کمپنیوں سے ماہانہ کروڑوں کما رہے ہوتے ہیں۔

سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے جنونی ورکر جس لگن، شوق اور جذبے کے ساتھ ہر آلا بلا پر غائبانہ ایمان رکھ کر آگے پھیلانے میں جت جاتے ہیں وہ ایک مثال ہے جس کی تحسین نہ کرنا زیادتی ہوگی۔

لمحہ موجود میں میڈیا کی یہ جنگ عمران خان جیت چکا ہے۔
دیکھ لیجیے،
ایک بندہ جو
ایک عام فرد کی حیثیت سے تمام انسانی کمزوریاں رکھنے،
ایک سیاستدان ہوئے ہوئے بے شمار غلط سیاسی فیصلوں کا ریکارڈ رکھنے،
ایک لیڈر ہوتے ہوئے غلط ترین ٹیم کا انتخاب کرتے ہوئے
اور

ایک وزیر اعظم کے طور پر بد ترین کارکردگی اور بیڈ گورننس کے باوجود لوگوں کے ذہنوں پر واحد نجات دہندہ اور ملک و ملت سے بھی بڑھ کر محبوبیت کے درجے پر فائز ایک ”مہاتما“ کے طور مسلط رہے تو یہ کامیابی نہیں تو اور کیا ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments