کراچی کے سابق ڈان


اسی کی دہائی سے پہلے کراچی میں سیاسی جماعتوں کی دہشت گردی۔ بھتہ خوری اور منظم جرائم کا کوئی وجود نہیں تھا اور عمومی طور پر شہر کا ماحول پرسکون تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس دور میں جرائم نہیں ہوتے تھے لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی سیاسی۔ مذہبی اور لسانی گروہوں کی جانب سے سرپرستی نہیں ہوتی تھی۔ البتہ شہر کے مختلف علاقوں اور بستیوں میں مقامی غنڈے جنہیں عرف عام میں دادا کہا جاتا تھا ہوا کرتے تھے وہ چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث تو ہوتے تھے لیکن ان کے ہاتھوں علاقے کے لوگوں کی عزت محفوظ رہتی اور محلے کے شرفا کو دیکھ کر دادا لوگ بھی راستہ بدل لیتے یا نظریں جھکا کر راستہ دے دیتے تھے۔ اسی طرح محلے کی خواتین سے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی تھی اور اگر کہیں باہر کا کوئی اوباش ان کے پیچھے آ جاتا تو اس کی ایسی تواضع کی جاتی کہ وہ دوبارہ اس طرف کا رخ نہ کرتا۔ محلے کا دادا اپنے علاقے میں امن و امان کا ضامن ہوتا تھا اور علاقے میں ہونے والے چھوٹے موٹے واقعات اور جھگڑوں کو بھی نمٹا دیا کرتا تھا۔

سنہ اسی کے دہائی کے آخر میں کراچی میں بے امنی۔ قتل و غارت گری۔ بھتہ خوری اور دہشت گردی باقاعدہ انڈسٹری بن گئی جن کی پشت پناہی میں مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے علاوہ انتظامیہ اور سرکاری ادارے کے ملوث ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں باقاعدہ جرائم کو فروغ ملا جن میں منشیات۔ اسلحہ۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے ذریعے یومیہ کروڑوں کا لین دین ہوتا تھا۔

ستر کی دہائی کے آخر تک شہر میں شراب ممنوع نہیں تھی۔ نائٹ کلب۔ ہوٹلوں میں شراب کے علاوہ کیبرے اور دوسرے ڈانس شوز بھی ہوتے اور غیر ملکی رقاصائیں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتیں تھیں۔ اس زمانے کی ایک مصری رقاصہ سامعہ جمال کا نام آج بھی ذہن میں نقش ہے جس کی تصاویر اکثر شام کے اخبارات میں سرورق پر چھپیں۔ عام لوگوں میں برداشت تھی اور شائقین بلا خوف خطر اپنی پسند اور بساط کے مطابق ”انجوائے“ کرتے تھے۔ شراب کی دکانوں پر کھلے عام خرید و فروخت ہوا کرتی تھی جہاں سے اہل ذوق اپنے من پسند مشروب خرید سکتے تھے اس کے علاوہ پوش علاقوں میں باقاعدہ بار ہوتے تھے جہاں شاعر۔ ادیب اور فنکار اپنے مخصوص بار میں اکٹھا ہوتے اور مے نوشی کے ساتھ علم و ادب پر بحث ہوتیں لیکن حفظ مراتب اور شائستگی سے گری کوئی حرکت کبھی دیکھنے میں نہیں آتی۔ بار کے ویٹرز بھی اپنے روزمرہ کے گاہکوں کو خوب پہچانتے اور اگر صاحب کی جیب خالی بھی ہو تو تشنہ نہیں بھیجتے اور ڈیبٹ کریڈٹ چلتا رہتا۔

پرانے شہر اور لیاری کے آس پاس کے علاقوں میں بار کے علاوہ ساقی خانے بھی ہوتے جنہیں مقامی زبان میں ”گتہ“ کہتے۔ یہاں دیسی شراب جسے کلاکوٹ وہسکی کہتے ملتی تھی اس کا اثر ولائتی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا۔ ان ساقی خانوں میں کھسروں کا ناچ بھی ہوتا جسے کچی شراب یا ٹھرہ پینے کے بعد لوگ بڑے شوق سے دیکھتے اور کبھی کبھی چاقو بھی نکل آتے اور چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے تھے اور مقامی دادا فریقین کا ”کمپرومائز“ کرا دیا کرتے۔ پینے والوں کو باآسانی ان کا مشروب میسر تھا۔ چرس اور افیم عام نہیں تھی اور نچلے درجے کا نشہ سمجھا جاتا تھا اور ہیروئن یا آئس وغیرہ کا تو کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا۔

بھٹو صاحب کی حکومت کے خلاف نو جماعتوں پر مشتمل پی این اے کی تحریک چلی جس نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ بھٹو صاحب روشن خیال اور انتہائی مغرب زدہ ہونے کے باوجود اپنا اقتدار بچانے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر کئی ”اصلاحات“ کا اعلان کیا جن میں شراب نوشی پر پابندی بھی شامل تھی جس کے بعد سارے بار اور شراب کی دکانیں بند کردی گئیں بلکہ لوٹ لی گئیں۔ کیا اس پابندی کے بعد شراب بند ہو گئی اور لوگ متقی و پرہیزگار ہو گئے؟ جی نہیں۔ بلکہ شراب کی بیوپاری زیر زمین چلے گئے اور وہی شراب بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہونے لگی جو نہیں افورڈ کر سکتے تھے انہوں نے متبادل نشہ ڈھونڈ لیا۔ چرس۔ مینڈریکس اور مختلف قسم کی ڈرگز عام ہو گئی اس کے علاوہ گھروں میں کشید کی گئی غیر معیاری شراب پینے سے سیکڑوں افراد ہر سال مر جاتے یا وہ اپنی بینائی کھو دیتے اور یہ کاروبار مقامی پولیس کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔

فساد افغانستان کے بعد ہیروئن اور دوسری منشیات کے ساتھ اسلحہ منظم جرائم کا ایک طوفان پاکستان میں در آیا۔ یہی نہیں بلکہ سیاست اور سیاسی مذہبی گروہوں میں لسانیت اور مسلکی تنازعات میں اسلحہ کا استعمال بھی عام ہو گیا اور ملک لہولہان ہو گیا۔ اس کے بعد مقامی داداؤں کی جگہ سیاسی جماعتوں کے مسلح گروپس نے لے لی جو پولیس انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی ٹکر لینے لگے یا پھر انہی کی پشت پناہی میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اپنے مخالفین کو منظر سے غائب بھی کر دیتے۔

اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف جب کراچی کے مختلف علاقوں میں مقامی دادا ہوتے تھے۔ انہیں ڈان کہنا تو قطعی مناسب نہ ہو گا کیونکہ وہ منظم جرائم پیشہ نہیں تھے۔

بچپن سے کئی نام کسی دیو مالائی کردار کی طرح ذہن پر چھائے ہوئے تھے۔ ان میں ایک نام حاجی قاسم بھٹی کا تھا جو سونے كا اسمگلر تھا اس کی سخاوت کے قصے بہت عام تھے وہ صدر ایوب اور اسکندر مرزا كا قریبی دوست تھا۔ شنید ہے کہ قاسم بھٹی نے کڑے وقت میں کئی من سونا حکومت کو دے دیا تھا۔ ایک اور مشہور اسمگلر سیٹھ عابد بھی تھا جو سونے کی اسمگلنگ کے لیے جانا جاتا تھا کہتے ہیں سرکاری اداروں کی ایما پر اس نے پاکستان کے لیے ایٹمی پلانٹ میں استعمال ہونے والی مشنری اور دیگر سامان بھی پاکستان کے لیے اسمگل کیا۔ واللہ اعلم باالصواب۔

اسی زمانے میں کراچی میں شیرو۔ دادل اور کالا ناگ خوف و دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ان کی سرگرمیاں کراچی کے قدیمی علاقوں لیاری۔ کھڈہ۔ بغدادی۔ کلاکوٹ اور چاکیواڑہ میں ہوتیں لیکن ان کی دہشت پورے شہر میں تھی۔ سنا ہے کہ بعد میں یہ تائب ہو گئے تھے۔ کالا ناگ بھی اپنے وقت کا بڑا دادا تھا جب وہ کھلی جیپ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسی جگہ پہنچ جاتا تو لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ جاتا۔ لیکن اس کا قتل دو غیر معروف نوجوانوں کے ہاتھ ہوا جنہیں بعد میں علم ہوا کہ انہوں نے کالا ناگ کو ڈھیر کر دیا ہے۔ ان دونوں قاتلوں کو کئی برس کی جیل ہوئی۔ رہائی کے بعد ان میں سے ایک سے میری ملاقات ہوئی اس کا نام مقصود تھا بقول اس کے ایک معمولی تکرار کے بعد ان دونوں نے چاقو کے وار کر کے اسے قتل کر دیا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ مرنے والا مشہور بدمعاش کالا ناگ ہے تو خود ان پر تھرتھری طاری ہو گئی۔

جوبلی سنیما۔ تبت سینئر اور اس کے اطراف میں اعظم اور سکندر کا طوطی بولتا تھا۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے۔ ان کی بڑی دہشت تھی یہ دونوں پہلوان بھی تھے اور علاقے کے جانے مانے دادا بھی۔ جب میں آئل کمپنی میں تھا تو اعظم کے داماد اور سکندر کے بیٹے كا میں نے تقرر کیا دونوں انتہائی شریف اور محنتی کارکن تھے انہوں نے ڈرلنگ میں خوب ترقی کی۔ آج بھی وہ میرا بہت احترام کرتے ہیں

شہر کے وسطی ایریا میں بیگ اور شدن کا ڈنکا بجتا تھا۔ یہ دونوں رام پوری تھے اور سنا ہے ان کی چھری کی کاٹ ایسی ہوتی تھی کہ مضروب کو کافی دیر تک خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ اس کا کام تمام ہو گیا ہے۔

ملیر۔ کورنگی اور لانڈھی کے علاقوں میں ناصر عرف نوشہ اور اصغر لنگڑے کا راج تھا۔ وہ دادا گیری کے علاوہ جوئے کا اڈا بھی چلاتے تھے۔ اصغر لنگڑے کا علم نہیں لیکن نوشہ اور قمر ٹیڈی ایک قتل کے الزام میں جیل گئے اس کیس میں نوشہ کو سزائے موت ہوئی اور قمر ٹیڈی بری ہو گئے۔

پی ای سی ایچ ایس اس زمانے میں ایک پوش آبادی تھی جہاں اعلی سرکاری افسروں اور تجارت و صنعت سے وابستہ لوگ رہا کرتے تھے اس وقت ڈیفنس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ پی سی ایچ ایس کو عموماً سوسائٹی کے نام سے جانا جاتا تھا وہاں ایک اچھے خاندان کا بگڑا نوجوان مجید ٹیڈی کے نام سے مشہور ہوا جو شروع میں اسلامیہ کالج کی اسٹوڈنٹ یونین میں دنگے فساد کیا کرتا تھا بعد میں اس کے ساتھ کئی اور لوگ شامل ہو گئے ایک نذیر ٹی ٹی بھی تھا۔ ان دونوں کی دادا گیری سوسائٹی اور اس کے اطراف کے علاوہ ملحقہ علاقوں اور ناظم آباد تک پہنچ گئی۔ مجید اچھے گھرانے کا نوجوان تھا لیکن بری صحبت نے اسے برباد کر دیا اس کا انجام بھی برا ہوا اور ایک جھگڑے میں اس کے اپنے دوست ظفر بھورا نے اس کی کمر پر چاقو سے وار کیا جس کی وجہ سے اس کا نچلا دھڑ بے جان ہو گیا اور وہ بیساکھیوں کا محتاج ہو کر رہ گیا۔

جہانگیر روڈ۔ مارٹن کوارٹر اور پی آئی بی کالونی میں ایک بدمعاش بوڑم کے نام سے مشہور ہوا لیکن زیادہ دیر نہیں چل سکا۔

جوا اور سٹہ لے حوالے سے اسم ناتھا کا بھی بہت شہرہ تھا۔ جو لسبیلہ کے علاقے میں سٹہ چلایا کرتا تھا اس کا نیٹ ورک پورے شہر میں پھیلا ہوا تھا۔ سٹہ کھلنے والوں کو عرف عام میں سٹیری کہا جاتا تھا۔ اسلم ناتھا کے آڈے پر شام سات بجے سٹہ کا ایک نمبر کھلتا اور رات گیارہ بجے دوسرا نمبر کھلتا۔ نمبر بھی ایک دلچسپ مگر شفاف عمل سے کھلتا جسے گھڑیا کھلنا کہتے تھے وہ اس طرح کے ایک چھوٹے سے گھڑے نما برتن میں ایک روپے کے نئے نوٹ کی نئی گڈی کھول کر ڈال دیے جاتے پھر گھڑیا کو خوب ہلایا جاتا اور ایک نوٹ نکال کر اس کے نمبر کا آخری نمبر اوپن نمبر کہلاتا اور سارے شہر کے نیٹ ورک پر پھیلا دیا جاتا جس کا نمبر لگ جاتا اسے ایک روپے کے نو روپے ملتے اسی طرح رات گئے دوسرا نمبر کھلتا اگر کسی کے دونوں نمبر لگ جاتے تو اسے ایک روپے کے عوض نوے روپے ملتے اور جس کے دونوں نمبر لگ جاتے اس کی عید ہوجاتی۔

سٹیری نمبر گیم کے اس چکر میں گھن چکر بن جاتے ہر وقت ذہن پر صرف نمبر ہی ہوتے۔ توہم اس قدر بڑھ جاتا کہ پاگل پن کی حد تک پہنچ جاتا ہر بات اور ہر چیز میں نمبر ڈھونڈتے اگر کسی نے گالی بھی دی ہوتو اس کے نمبر اخذ کرلیتے۔ ماں بہن کی گالیوں کے بھی مخصوص نمبر ہوتے۔ سٹیری آتی جاتی کاروں کے آخری نمبر دیکھتے اور نمبر اخذ کر لیتے تھے۔ ان کے پیر اور بابا بھی ہوتے جو خود بھی نشئی ہوتے اور نمبر بتاتے تھے۔ انہیں سدھ کہا جاتا تھا۔ اگر کوئی اس چکر میں پڑ جاتا تو اس سے نکلنا مشکل ہو جاتا۔ خواب میں بھی سٹیری کو سٹے کے نمبر ہی آتے۔ اسلم ناتھا کا انجام بھی اچھا نہیں ہوا اور وہ ایک انڈر ورلڈ بدمعاش شعیب خان کے ہاتھوں مارا گیا۔

لالو کھیت اور گولیمار کے علاقہ میں قمر ٹیڈی۔ رئیس ملا۔ پیر جن اچھن اور شبو مشہور تھے۔ ان میں قمر ٹیڈی کا شہرہ دور دور تک تھا۔ قمر دبلا پتلا لیکن انتہائی پھرتیلا اور دلیر جوان تھا جو چاقو زنی کا ماہر تھا اس کے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی پر ایک گہرے گھاؤ کا نشان تھا میرے پوچھنے پر بتایا کہ ایک جھگڑے میں کسی نے اس پر گپتی (انتہائی تیز دو دھاری چاقو جو خنجر سے بڑی ہوتی ہے) سے سیدھا سینے پر وار کیا تو میں نے اسے اپنی مٹھی میں بھینچ لیا ورنہ گپتی سینے میں آر پار ہوجاتی۔ قمر اپنے جگری یار نوشہ کی سزائے موت کے بعد جرائم سے تائب ہو كر تبلیغی جماعت میں شامل ہو گیا۔ شنید ہے کہ قمر کا بھی کئی برس پہلے انتقال ہو گیا ہے۔

ناظم آباد نے یوں تو ہر شعبہ میں بڑے پیدا کئیے۔ تعلیم۔ کھیل۔ سیاست۔ فنون لطیفہ ہو یا دادا گیری ناظم آباد کا اپنا مقام ہے۔ ناظم آباد سے متصل رضویہ کالونی سے تصویر بھورا۔ ظفر۔ رئیس پہلوان۔ شاہین۔ افضال اور میکش دادا کا بہت نام تھا۔ میکش شاعری بھی کرتے تھے نام نامعلوم کیا تھا لیکن مشہور میکش کے نام سے تھے۔ گورنمنٹ اسکول ناظم آباد کے پیچھے ایک ریسٹورنٹ میں اکثر جمگھٹا لگائے نظر آتے۔

افضال کے والد انوار محمد خان ڈی ایس پی تھے جو ایک طوائف اختری بیگم کے عشق میں گرفتار ہوئے اور اختری بیگم نے انہی کے پستول سے انہیں اپنے گھر ہی میں قتل کر دیا۔ اختری بیگم کیس بہت مشہور ہوا اور اسے ڈی ایس پی انوار محمد خان کے قتل کے الزام میں سزا بھی ہوئی۔ افضال اچھے گھر کا تھا لیکن بری صحبت نے برباد کر دیا اور بدمعاشی میں مشہور ہوا۔

رضویہ کالونی کے تصویر بھورا کا بھی چرچا تھا اس کی رنگت سرخ سفید تھی جس کی وجہ سے بھورا مشہور ہو گیا۔ تصویر ایک معزز سید گھرانے کا بیٹا تھا لیکن برباد ہو گیا۔ اس پر بھی متعدد مقدمات تھے تصویر کی والدہ غرارہ پہنے بیٹے کے پیچھے در بدر کی ٹھوکریں کھاتیں۔ اسے ڈھونڈتیں۔ اس کے مقدمات کی فائلیں لیے وکیلوں اور عدالتوں کے چکر لگاتیں۔ کبھی چہیتے بیٹے کے لیے جیل ملاقات کے لیے جاتیں۔ بیچاری ماں نے کیا نہیں کیا لیکن تصویر نہیں سدھرا۔ منشیات کا عادی بھی ہو گیا جو اس کی موت کا سبب بنا۔

کراچی میں ایک اور بڑا نام شہنشاہ حسین تھا وہ گورنمنٹ کالج ناظم آباد کے تھے۔ اس زمانے میں ہم اسی اسکول میں پڑھتے تھے اور دور سے شہنشاہ حسین کو دیکھا کرتے۔ بہت وجیہ اور خوبرو تھے اور ان کا اسٹوڈنٹس پالیٹکس میں بہت نام تھا ان کے مقابل رانا اظہر علی خان تھے دونوں میں اکثر ٹکراؤ رہتا۔ لیکن ان کی دادا گیری کالج اور یونیورسٹی اور بعد میں کسی حد تک سیاسی رہی۔ بعد میں شہنشاہ نے وکالت شروع کردی اور رانا جھالر والی ہری ٹوپی سر پر سجائے پیری مریدی میں لگ گئے۔

کراچی میں ایک اور نام ابھرا اور کوہاٹی کے نام سے مشہور ہوا۔ کوہاٹی کا پورا نام امیر زادہ کوہاٹی تھا۔ نیا نیا کراچی آیا تھا۔ انتہائی کم گو اور شرمیلا۔ آٹھویں کلاس میں میرا ہم جماعت تھا۔ ہمارا ایک اور کلاس فیلو غیاث بھی تھا۔ بعد میں کوہاٹی بدمعاش کے طور پر سامنے آیا۔ اس کی غیاث سے کبھی نہیں بنی۔ غیاث جناح کالج کے سامنے رہتا تھا۔ دونوں کا جھگڑا ہوا۔ اسی رات کوہاٹی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ غیاث کے گھر پہنچا دروازے پر دستک دی تو غیاث کے بھائی نے دروازہ کھولا جو انتہائی شریف انسان تھا۔ کوہاٹی اندھیرے میں پہچان نہیں پایا اور اس پر چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا۔ کوہاٹی گرفتار ہوا۔ مقدمہ چلا اور بری ہو گیا، اس کے بعد کوہاٹی کا نام ہو گیا۔ جناح کالج۔ اسلامیہ کالج اور دوسرے تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹ یونین کے تنازعات میں سرگرم رہتا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ وارداتوں میں ملوث تھا اور متعدد مقدمات میں ماخوذ تھا۔ بعد میں کوہاٹی نے کے ڈی اے میں ملازمت کرلی اور کچھ عرصے بعد اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر وہ تیسر ٹاؤن اسکیم کا ڈائرکٹر جرنل بن گیا۔ کوہاٹی کا بھی چند سال پہلے انتقال ہو گیا۔ غیاث بہت پہلے کینیڈا چلا گیا تھا اب نجانے کہاں ہو گا۔

ناظم آباد میں ایک بدنام زمانہ سیف اللہ خان بنگش کا اڈہ تھا۔ سیف اللہ کا تعلق کوہاٹ سے تھا وہ دادا یا بدمعاش تو نہیں تھا لیکن اس کا اڈہ چرس۔ دیسی شراب۔ افیم کے علاوہ مینڈریکس اور دوسری نشہ آور ادویات کی فروخت کے لیے جانا جاتا تھا اور ہر قسم کا نشہ وہاں کھلے عام دستیاب تھا جو یقیناً مقامی پولیس کی اعانت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ سیف اللہ خان کے اس کاروبار کا علاقے کے نوجوانوں پر بہت برا اثر ہوا ایک پوری نسل منشیات کی عادی ہو گئی کتنے نوجوان نشہ کی عادت کی وجہ سے گھروں سے بھاگ گئے۔ کئی تو سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آئے اور متعدد بچے نشہ کی لت میں موت کی وادیوں میں کھو گئے اور کتنے ہی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔

اب آتے ہیں کراچی کی مضافاتی بستی عزیز آباد اور دستگیر سوسائٹی کی طرف۔ یہ نئی بستی سنہ ساٹھ کے شروع میں آباد ہونا شروع ہوئی۔ مکانات بہت سلیقے سے بنے ہوئے اور سڑکیں کشادہ تھیں۔ مکین مہذب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی۔ دستگیر میں چھے نمبر بس کا آخری اسٹاپ تھا جہاں بسوں کے ڈائیور اور کنڈکٹرز کے لیے ایک بانس و چٹائیوں سے بنا ”ہوٹل“ جسے بسوں کا ٹائم کیپر حسین شاہ چلایا کرتا تھا۔ ڈرائیور۔ کنڈکٹر اور ہوٹل کا عملہ زیادہ تر پٹھان اور ایبٹ آباد و ہزارے سے آئے ہوئے لوگ تھے جو حسین شاہ کی قوت تھے اور ان کی غنڈہ گردی کے سامنے کسی کو آواز اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔

محلے کے لوگ صبح باقاعدہ لائن بنا کر بسوں میں سوار ہو کر اپنی ملازمتوں پر جاتے اور اسکول کالج کے نوجوان بھی انہی بسوں میں سفر کرتے۔ حسین شاہ اور اس کے حواری ان سے انتہائی بدتمیزی سے پیش آتے اور اگر کوئی لب کشائی کرتا یا کسی بات پر اعتراض کرتے تو بے دریغ پٹائی بھی کرتے۔ ایک ڈرائیور اور ایک کنڈکٹر تیس سے پینتیس مسافروں پر دادا گیری کرتا اور بے عزت کرتا لیکن سب خاموشی سے برداشت کرتے۔ محلے کے نوجوان اپنے بزرگوں کی آئے دن توہین پر اکثر بس ڈرائیور اور کنڈکٹرز سے الجھ جاتے اور نوبت مار پیٹ تک پہنچ جاتی جس میں ہمیشہ حسین شاہ اور اس کے حواریوں کا پلڑا بھاری رہتا وہ بس کی لائن میں لگے شرفا کو ذرا ذرا سی بات پر دوڑا دوڑا کے مارتا یہی نہیں لوگوں کو اٹھا بھی لے جاتا اور انتہائی تشدد کے بعد چھوڑتا۔

سنہ پینسٹھ کے الیکشن میں کنونشن مسلم لیگ کے امیدوار جنرل ایوب خان اور ان کے مدمقابل متحدہ محاذ کی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔ پورے پاکستان سے ایوب خان بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے جبکہ کراچی اور حیدرآباد سے محترمہ کامیاب ہوئیں سارے کراچی کی طرح دستگیر سوسائٹی۔ عزیز آباد اور اطراف کی آبادی نے محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیے اور ایوب خان کی حامی جماعت کنونشن مسلم لیگ کو بری طرح شکست ہوئی۔ حسین شاہ گروپ اور کراچی کی پختون اور ہزارے والوں نے ایوب خان کی حمایت کی۔ الیکشن کے نتائج کے بعد شہر میں شدید تناؤ تھا۔ ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب نے پختون اور سرحد سے منگوائے مسلح افراد جنہیں چھاچھی ( ہزارے اور ایبٹ آباد کے لوگ) کہا جاتا تھا کے ساتھ اپنے والد کی جشن فتح کا جلوس نکالا اور خاص طور سے اردو بولنے والوں کی آبادیوں کو نذر آتش کیا اور قتل و غارتگری کی جس کے نتیجے میں کراچی میں کرفیو لگا دیا گیا۔ پورے شہر میں خوف و ہراس طاری تھا۔ حملہ آور مسلح جبکہ مقامی اردو بولنے والے نہتے تھے اس زمانے میں سیل فون وغیرہ تو تھا نہیں لوگ رات رات بھر جاگ کر پہرہ دیتے اور کسی ممکنہ خطرے سے دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے بجلی کے کھمبے بجاتے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر پتھروں کا ذخیرہ کر لیا تھا۔

یہیں سے مہاجروں اور پختونوں میں اختلافات کی ابتدا ہوئی، جس کا سہرا گوہر ایوب صاحب کے سر جاتا ہے۔ آج انہی کے بیٹے عمر ایوب ایک سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے جمہوریت اور آئین کی پاسداری کی بات کر رہے ہیں ان کو چاہیے پہلے اپنے والد اور مرحوم دادا جان کی جمہوریت دشمنی اور کراچی پر شب خون مارنے کی داستان پڑھ لیں۔ کراچی کے لوگ کیسے ان مظالم کو بھول سکتے ہیں۔ الیکشن اور ہنگاموں کے بعد ایوب خان مزید طاقتور بن کر ابھرے اور ان کے سپورٹر چھاچھیوں کی بدمعاشیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ حسین شاہ بھی چھاچھی تھا اور اس کے چیلے چانٹے بھی وہیں کے تھے۔ دستگیر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ان کی غنڈہ گردی بڑھتی جا رہی تھی لوگوں میں غم و غصہ تھا تو لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ سامنے آ سکے۔ انہی دنوں باہر سے آئے دو غنڈوں نے محلے کے لڑکوں سے بدمعاشی کی جس کے جواب میں اہل محلہ نے ان کی خوب پٹائی کی۔ چند دنوں بعد ان کی حمایت میں ایبٹ آباد اور ہزارے سے تعلق رکھنے والے دو افراد دستگیر آئے اور کیفے میجسٹک میں بیٹھے ان لڑکوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ ان حملہ آوروں میں ایک فوج کا حاضر سروس لیفٹننٹ انوار الرحمن اور دوسرا مشتاق الرحمن تھا جو کسی بینک میں ملازم تھا یہ دونوں کزن بھی تھے اچھے گھرانوں کے پڑھے لکھے خوبرو نوجوان تھے۔ لیفٹننٹ انوار فوج میں جانے سے پہلے بھی کئی جرائم اور غنڈہ گردی میں ملوث رہا تھا۔ شنید ہے کہ اسی نے گوہر ایوب کو جب وہ لیاقت آباد کے ہنگاموں کے دوران گھیر لیے گئے تھے اپنی جان پر کھیل کر نکالا تھا۔

انوار الرحمن اور مشتاق کی فائرنگ اور محلے کے چار لڑکوں کے شدید زخمی ہونے کے بعد محلے کے نوجوانوں نے انہیں گھیر لیا اور وہ دونوں بھاگ کر ایک گھر میں چھپ گئے۔ محلے کو نوجوانوں نے انہیں گھر سے نکال کر شدید زد و کوب کیا جس کے نتیجے میں دونوں موقع ہی پر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد دستگیر سوسائٹی میں سراسیمگی پھیل گئی۔ پولیس نے تفتیش شروع كی۔ مقتولین کے ورثا نے اپنے اثر و رسوخ اور حسین شاہ کی اعانت سے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ حسین شاہ نے محلے کے معززین اور ان کے بچوں کا نام دے دیا۔ دو درجن سے زیادہ نوعمر لڑکے گرفتار ہوئے اور ایک انتہائی معزز شخص جناب شعلہ آسیونی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ شعلہ صاحب ایک اچھے شاعر اور لکھنوی تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ ہمیشہ سفید کرتا پاجامہ۔ سفید شیروانی اور اسی کپڑے کی ٹوپی۔ پاؤں میں سلیم شاہی جوتے اور ہاتھوں میں پان کی ڈبیا اور بٹوا ہوتا۔ شعلہ صاحب ایک اچھے مقرر بھی تھے۔ مقدمہ چلا۔ شعلہ صاحب نے اپنا مقدمہ کی پیروی خود کی۔ جو لڑکے گرفتار ہوئے تھے وہ کم عمر طالب علم تھے جس کی بنا پر انہیں لانڈھی کی بچہ جیل میں رکھا گیا اور بی کلاس بھی دی گئی۔ مقتولین با اثر گھرانوں سے تھے۔ سرکاری وکیل کے علاوہ بھی ان کی طرف سے شہر کے قابل ترین وکیل پیش ہوئے۔ کئی برس مقدمہ چلا لیکن سارے ملزمان اور شعلہ صاحب پر کیس ثابت نہیں ہوسکا اور سب بری کر دیے گئے۔ یہ مقدمہ دستگیر ڈبل مرڈر کیس کے نام سے بہت مشہور ہوا تھا۔

حسین شاہ کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں ہوا۔ ایوب خان کی حکومت جانے کے بعد اسے غنڈہ ایکٹ اور کئی مختلف مقدمات میں گرفتار کر کے سندھ کی کسی جیل میں بھیج دیا گیا جہاں وہ مقامی قیدیوں سے الجھ بیٹھا جنہوں نے اسے جیل ہی میں مار مار کر ختم کر دیا۔ نامعلوم کس مظلوم کی بددعا تھی کہ وہ اس طرح اپنے انجام کو پہنچا۔ حسین شاہ کے چھوٹے بھائی ارشاد شاہ بخاری تھے جو بعد میں کراچی ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ہو گئے تھے ابھی حال ہی میں ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔

سنہ اسی سے پہلے جب کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اس شہر میں برداشت اور رواداری تھی۔ اہل علم موجود تھے اور شائستگی بھی عام تھی اور شہر میں امن و امان بھی تھا لوگ بلا کسی خوف خطر رات کا آخری شو دیکھ کر پیدل ہی گھروں کو چلے جایا کرتے تھے۔ جرائم بھی ہوتے تھے لیکن ان کی سیاسی سرپرستی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی منظم جرائم کا وجود تھا ہر محلے اور علاقے کے مقامی دادا یا ڈان ہوتے ضرور تھے لیکن وہ شرفا اور خواتین کی عزت بھی کرتے تھے۔ کبھی سننے یا دیکھنے میں نہیں آیا کہ ان کے ہاتھوں کسی کی توہین ہوئی ہو یا کسی سے جگا ٹیکس یا بھتہ وصول کیا گیا ہو۔ اور پھر یکایک منظر بدل گیا۔ مقامی داداؤں کی جگہ سیاسی اور مذہبی گروہوں نے لے لی ان کے ہاتھوں کسی کی عزت اور مال محفوظ نہیں رہا۔ انتظامیہ۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ہی شہریوں کو اپنے ہی نامزد کردہ بدمعاشوں کے ذریعے لوٹنے لگے۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں رہی اور شہر ایک مقتل بن گیا۔

چند برس پہلے سپریم کورٹ نے کراچی میں بے امنی اور جرائم کی وجوہات اور ذمے داران کی نشاندہی کے لیے کراچی میں طویل سماعت کی اور اس کی رپورٹ کے مطابق شہر میں چند سیاسی۔ لسانی اور مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے علاوہ پچاس سے زیادہ مختلف ریکٹ سرگرم تھے جن کے تانے بانے بیرونی ممالک سے تھے جو بھتہ خوری۔ اسٹریٹ کرائم۔ اغوا برائے تاوان۔ قتل و غارتگری سمیت ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھے۔ افسوس کہ یہ رپورٹ بھی داخل دفتر ہو گئی اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی شہر سے جرائم کی بیج کنی ہو سکی۔ عام آدمی آج بھی کسی انجانے خوف میں مبتلا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ خود یا اس کا بچہ شام کو صحیح سلامت گھر واپس آ جائے گا۔ شہر میں کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ شہری کہیں محفوظ نہیں۔ ایک موبائل فون کے لیے ڈکیت انہیں موت کی نیند سلا دیتے ہیں اور شنوائی بھی کوئی نہیں۔ آخر کب تک یہ ظلم و ستم کا بازار گرم رہے گا۔ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔

Facebook Comments HS