نسرین انجم بھٹی: پنجابی شاعری میں جدیدیت اور مزاحمت كا استعارہ (1)


27 جنوری 2016 ء کو انگریزی اخبار ڈان کے ادبی ایڈیشن ”امیج“ میں ایک خبر شائع ہوئی۔ ”پنجابی کی ممتاز شاعرہ، امن کی متلاشی، سیاسی کارکن، ریڈیو براڈ کاسٹر نسرین انجم بھٹی کراچی کے ہسپتال میں کینسر کے خلاف زندگی کی جنگ ہار گئیں۔“ اردو کے کسی اخبار میں اس خبر کو جگہ نہ ملی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتے لیکن ان کی وفات پر اُن کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں، بڑے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ان کی وفات پر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نسرین انجم کی وفات پر صرف ان کے چند ادبی دوستوں نے ان کی یاد میں اخباروں میں کالم لکھے لیکن ہماری سرکار کی طرف سے اتنی بڑی شاعرہ کی وفات پر کوئی تعزیتی پیغام نظر سے نہیں گزرا۔ نسرین انجم بھٹی جتنی بڑی شاعرہ تھیں سرکاری طور پر ان کو اتنی پذیرائی نہیں ملی۔

نسرین انجم بھٹی کا شمار پنجابی شاعری کے صف اول کے ناموں میں ہوتا ہے۔ ساری زندگی وہ امن و محبت کا پرچار کرتی رہیں۔ ان کی پیدائش 1943 میں کوئٹہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم فارسی بولنے والی ہزارہ لڑکیوں کے ساتھ کوئٹہ کے پرائمری سکول میں پائی۔ ان کے دادا اور دادی کے کوئٹہ کی یخ بستہ سردی برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے ان کا خاندان کوئٹہ سے ہجرت کر کے سندھ کے شہر جیکب آباد میں آباد ہوا، یوں ان کا لڑکپن سندھ میں گزرا۔

لاہور کالج آف ویمن سے گریجویشن مکمل کی۔ ریڈیو پاکستان کی ملازمت اور صحافی رانا زبیر سے شادی کی وجہ سے لاہور میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ وہ اکثر دعوی کرتی تھیں کہ وہ پورے پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں کیوں کہ ان کا تعلق ملک کے چاروں صوبوں سے رہا ہے۔ 1970 ء میں انھوں نے اورینٹل کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا۔ دو سال تک نیشنل کالج آف آرٹس میں فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی وہ بوجوہ ڈپلومہ حاصل نہ کر سکیں۔ بعد میں ریڈیو کی ملازمت کے دوران انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پنجابی زبان میں ایم اے کیا۔

نسرین انجم نے چھوٹی عمر میں ہی نظمیں لکھنا شروع کر دی تھی۔ اپنی پہلی نظم انھوں نے نو سال کی عمر میں لکھی جو اس وقت بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے تعلیم و تربیت میں چھپی۔ ابتداء میں انھوں نے سندھی، اردو انگریزی اور پنجابی سمیت سبھی زبانوں میں لکھا لیکن بعد میں انھوں نے خود کو صرف پنجابی اور اردو تک محدود کر لیا۔ انھوں نے 1971 ء میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ کالج کی سرگرمیوں کے بعد ریڈیو پر ادبی محفلوں میں نظمیں اور مضامین پڑھا کرتی تھیں۔

1971 ء میں انھوں نے ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ ریڈیو پاکستان میں وہ پروڈیوسر، براڈ کاسٹر اور ڈپٹی کنٹرولر کے طور پر تعینات رہیں۔ ملازمت کے آخری سالوں میں وہ ریڈیو پاکستان کے میوزک آرکائیونگ اینڈ پریزرویشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج رہیں۔ انھوں نے اس شعبے میں موسیقی اور دیگر ریکارڈ شدہ پروگراموں کے تحفظ کے لئے بہت کام کیا۔ وہ شاکر علی میوزیم میں بھی بطور ریذیڈنٹ ڈائریکٹر خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ حکومت پاکستان نے 2011 ء میں انھیں تمغہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔

عمر کے آخری حصہ میں انھیں کینسر تشخیص ہوا جو کافی حد تک ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے حتمی آپریشن اور جذباتی دباؤ سے مانوس کرنے کے لیے ان کی فوری کیمو تھراپی تجویز کی۔ لاہور میں وہ سی ایم ایچ میں زیر علاج رہیں۔ انھوں نے بڑی بہادری سے اس بیماری کے خلاف جنگ لڑی۔ وہ کافی حد تک صحت کے معاملات پر قابو پا چکی تھیں کہ ان کے بھائی کراچی میں بیمار ہو گئے۔ بھائی کی محبت میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے وہ ضد کر کے اپنی بہن کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئیں۔

کراچی میں قیام کے دوران کینسر کی وجہ سے ان کے جسم میں کچھ پیچیدگیاں ہوئیں تو وہ پی این ایس ہسپتال میں داخل ہوئیں۔ یہاں ڈاکٹروں نے ان کا فوری آپریشن تجویز کیا اور اگلے چند دن کے اندر آپریشن کر کے ان کے جسم سے تلی نکال دی۔ آپریشن کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکیں اور 26 جنوری 2016 ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئیں۔ وفات کے اگلے دن آل سینٹ چرچ محمود آباد کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور انھیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

تعلیم کے دوران وہ اپنے کالج کے مجلہ کی ایڈیٹر رہیں۔ انھوں نے انگریزی، اردو اور پنجابی میں نظمیں لکھیں۔ لاہور میں قیام کے دوران شہر میں قائم سٹڈی سرکل میں سرمد صہبائی، فہیم جو زی، شاہد ندیم اور کنول مشاق کے ساتھ مل کر ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ وہ نجم حسین سید سے بہت متاثر تھیں اور ان کی پیروی کرتی تھیں۔ مزاحمتی ادب میں ان کے کام کی وجہ سے انھیں پاکستان میں مزاحمتی ادب کے سرخیل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے روزنامہ ڈان میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ہمیشہ قومی آزادی کی مختلف تحریکوں سے متاثر رہی ہیں۔

وہ ہوچی منہ، چی گویرا، لیلی خالد اور ذوالفقار علی بھٹو سے بہت متاثر تھیں اور یہ سب ان کی پسندیدہ شخصیات تھیں۔ وہ ضیا الحق کے مارشل لاء اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے سخت خلاف تھیں۔ بھٹو کی پھانسی پر سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی انھوں نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا۔ ”شہید ذوالفقار علی بھٹو دی وار“ اس نظم میں انھوں نے مرزا صاحباں کے لوک گیت کے انداز میں ذوالفقار علی بھٹو کو بہت سراہا جس نے جنرل ضیا الحق کے ظلم و جبر کے خلاف سر نہیں جھکایا اور موت کو گلے لگا لیا۔ اس وجہ سے انھیں ملازمت کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کی یہ نظم بعد میں ایک مقبول گانا بن گیا۔

نسرین انجم نے بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور لطیف بھٹائی کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا۔ صوفی شاعروں کے کلام میں ظلم و جبر اور نا انصافی کے خلاف دیے جانے والے پیغام نے انھیں بہت متاثر کیا اور اُن کا یہ پیغام نسرین انجم لیے تحریک اور توانائی کا ذریعہ بنا جس وجہ سے لوگوں کا اجتماعی درد اور ان کی خوشیاں ان کے لیے رومان بن گئیں۔ امجد سلیم کہتے ہیں ان کی شاعری میں دو واضح حد بندیوں نے انھیں اپنے ہم عصروں سے علیحدہ کر دیا تھا۔

نسرین انجم نے خواتین کے حقوق کے لیے زندگی بھر جد و جہد کی، ان کی یہ جد و جہد ایک روایتی اور بڑھتے ہوئے شدت پسند مذہبی معاشرے میں پسماندہ طبقوں کی وکالت میں تھی جس نے ملکی ادب اور سیاسی میدان انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کی کوششوں کی حامی رہی ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں مورثی پدرانہ نظام پر چلنے والے سماجی و ثقافتی اصولوں اور طبقاتی معاشی ڈھانچے کو چیلنج کیا۔ وہ سماجی طور پر انتہائی باشعور فنکارہ تھیں جنھوں نے سیاسی نظام کی اس نوعیت کو بے نقاب کیا جو تمام بنیادی حقوق میں لوگوں کے حصہ کے استعمال پر مبنی ہے۔ ایک نسائی شاعر ہونے کے ناتے انھوں نے اس پیچیدہ عمل کی کھوج کی کہ کس طرح پدرانہ نظام ثقافتی اقدار، معاشرتی اصولوں، رسم و رواج اور روایات نے صنفی تعصب کو جنم دیا اور خواتین کو ایک شے بنا دیا۔ ان کی شاعری میں پدرانہ طرز عمل اور سیاسی جبر کے درمیان ایک نامیاتی ربط دکھایا گیا ہے۔

روزنامہ ڈان میں 5 جون 2015 ء میں چھپے اپنے مضمون میں ممتاز شاعر مشتاق صوفی لکھتے ہیں۔ الوہی دیوانگی ہی وہ ہے جو شاعروں کو متاثر کرتی ہے۔ وہ صحیح ہے یا نہیں۔ لیکن جو بات بلا شبہ سچ ہے وہ یہ ہے کہ خاص قسم کے پاگل پن کی وجہ سے کارفرما ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ غیر معمولی افراد دکھائی دیتے ہیں۔ مردوں کے مقابلہ میں خواتین وجدان پر زیادہ بھروسا کرنے پر مائل ہوتی ہیں۔ کیونکہ انھیں تاریخی طور پر ہمارے پدرانہ نظام پر مبنی سماجی نظام میں مردوں کے لیے دستیاب رسمی فکری آلات تک رسائی سے انکار کیا گیا ہے۔ تصور کریں کہ جب شاعرہ نسرین انجم جیسی عورت ہو تو کیا ہوتا ہے۔

افسانوی امرتا پریتم کے بعد نسرین ایک ایسی خاتون کی آواز ہے جو جاندار اور زندگی سے بڑی ہے اور وہ ہمارے شاعرانہ منظر نامے پر حاوی ہے۔ ایک طرف عورت کو اس طرح سے محروم کیا جاتا ہے اور دوسری طرف اس بات کا جشن منایا جاتا ہے کہ وہ ممکنہ طور زندگی کا ایک ذریعہ ہے۔

ان کی شاعری کا ایک اور مضبوط خیال سیاسی جبر کا مکمل رد ہے جس کا مقصد اظہار رائے کی آزادی سے انکار کرنا ہے۔ نسرین انجم کی زبان پر شاندار مہارت ان کے خیالات کو اور زیادہ نفیس اور دلکش بناتی ہے۔ وہ روایتی معنوں میں نہ تو فیمنسٹ ہیں اور نہ ہی سیاسی شاعرہ۔

ان کی نظم وہ کون ہے ہمیں ان کی شاعرانہ نثر کا کچھ احساس دلاتی ہے۔
وے کیہڑا ایں میریاں آندراں نال منجی اُنندا
میرا دل داون آلے پاسے رکھیں تے اکھاں سرہانے بَنّے
میں سرہانے تے پھل کَڈھنے نیں
دھرتی دی دَھون نیوی ہووے تے اسما ن نہیں چکا دئی دا
بابا! کوئی کِیڑا کڈھ
کرونڈیا ہووے تے مینوں لڑا دئیں
میرا ای ایں ناں
توں آپے ای آکھیا سی اسیں دیاں نوں داج چ
کیڑے ای دینے آں، فیر دے دے
بابا! دھیاں پتر اک جہیے کیوں نیں ہندے
جے دھی وڈھی ہووے تاں تساں اوہنوں ٹُک ٹُک کے
پتر جیڈی کر لیندے او
جے پُتر وڈھا ہوئے تاں دھی فیر پونی، فیر ادھی، فیر کھنی
بابا وے! سُولی تے سپ چڑھیا، ہنیری آونی ایں،
اِلاں نو گھبرا پیندا اے، دھیاں مر جانیاں نوں گھبرا پیندا اے
توں کہنا ایں ہن اسیں ایتھوں ٹُر جانا ایں
نہیں تاں ٹاہلیاں دا بُور جھڑن لگ جائے گا، تے راہ ڈَکے جان گے
ساڈھے کڈھے ہوئے سرہانے لے گئی نالے
کھیس وی، تے بُکلاں وی تے موسم وی
آوندھے ورے نوں تاپ چڑھے تے جاندے ورے نوں کوڑھ پوے
میرا اج میری تلی تے دھر دے بابا
میرا سچ میری تلی تے دھر دے بابا

(تم کون ہو، جو میری انتڑیوں کو رسی بنا کر پلنگ بن رہے ہو۔ میرا دل پاؤں کی طرف اور آنکھیں سرہانے کی طرف رکھنا کیوں کہ میں نے سرہانے پر پھول کاڑھنے ہیں۔ اگر زمین کی گردن جھک جائے تو اس پر آ سمان کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ بابا کوئی سانپ نکالو۔ اگر یہ زہریلا ہوا تو مجھے اس سے ڈسا دینا۔ بابا تم میرے ہو ناں! ۔ تم نے خود کہا تھا کہ ہم سپیرے بیٹیوں کو سانپ جہیز میں دیتے ہیں۔ تو وہ مجھے دے دو بابا۔ بابا بیٹیاں اور بیٹے ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے؟

بابا! اگر بیٹی بڑی ہو تو اسے بیٹے جیسی اہمیت کیوں نہیں دیتے اسے بیٹوں سے کم تر کیوں سمجھتے ہو۔ اگر بیٹا بڑا ہو تو پھر بیٹی کی اہمیت آدھی سے بھی زیادہ گھٹ جاتی ہے اور اسے کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ بابا سانپ سولی پر چڑھ گیا ہے۔ اب پارس پر آندھی آنے والی ہے۔ آسمانی پرندے بے چین ہیں، بے چاری بیٹیاں پریشان ہو رہی ہیں۔ ہم بیٹیاں آدھی ہی بہتر ہیں، چوتھائی ہی اچھی ہیں۔

بابا، تم کہتے ہو کہ اب ہم نے آپ کے گھر سے چلے جانا ہے۔ اگر نہیں گئیں تو درختوں پر اُگے ہوئے تازہ پھول مرجھا جائیں گے، اور راستے بند ہو جائیں گے۔ تم کہتے ہو بیٹیوں کی اولاد دشمن ہوتی ہے، بیٹیوں کی اولاد ناقابلِ اعتماد ہے۔ بیٹیاں ہمارے کڑھائی والے تکیے لے گئیں، کھیس اور چادریں اور ہمارے موسم بھی ساتھ لے گئیں۔ آنے والے سال کو سخت بخار ہو اور گزرے ہوئے سال کوڑھ کے مرض کا شکار ہوں۔ بابا میں التجا کرتی ہوں کہ میرے ہاتھ میں میرا حق دے دو ۔ میرا مستقبل میرے ہاتھ میں دے دو ۔ یہ وقت کی سچائی ہے )

Facebook Comments HS