موسمی تبدیلیاں اور شجرکاری کے بارے ہماری سنجیدگی


2021 میں باون ہزار سیپلنگز گوجرانوالہ میں ایک منٹ سے کم وقت میں لگائے جانے کا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ

2018 سے 2023 کے دوران دس بلین پودے لگانے کی سونامی مہم کا آغاز
ہر سال ہر گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکول میں شجر کاری کی سوشل میڈیا پر بھرمار

گورنمنٹ اداروں کے افسران بالا کی پودے کو ہاتھ لگاتے، پودے کو زمین میں کھڑا کرتے پرنٹ میڈیا پر تصاویر

غیر منافع بخش اداروں کی ’درخت لگاؤ، ماحول بچاؤ‘ واکس
گورنمنٹ کی درخت لگائیے مہم پر غیر معمولی بجٹ مختص اور خرچ کرنے کی تشہیر
مدرسوں، اسکولوں سے بلا ناغہ پودے بھیجنے سے متعلقہ آنے والے پیغامات
ورلڈ وائلڈ فیڈریشن کی پودے لگانے کی ’رنگ دو پاکستان‘ کے نام سے، سب سے بڑی ملک گیر مہم

پاکستان 2024 میں پانچ سو اڑتالیس ملین درخت لگائے گا جبکہ 2023 میں یہ ہدف 490 ملین کا تھا، اس سال شجرکاری کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا اعلان

ہر سال کا اٹھارہ اگست ہمارے ملک میں ’ٹری پلانٹیشن‘ کے نام سے مخصوص ہے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تجدید، نئی اتھارٹی کا قیام جو اس طرف توجہ کرے گی۔

یہ اور اس طرح کے کئی ایجنڈاز، مقاصد اور شور ہمارے ملک میں ہر برس پابندی سے سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں جنگلات کے رقبے میں کمی آ رہی ہے۔ زرعی زمینیں سکڑ رہی ہیں۔ بہت سے ’لوکل/مقامی‘ درخت جیسا کہ نیم، شیشم، سکھ چین، شریں وغیرہ عنقا ہو رہے ہیں۔ پھلدار درخت بشمول لسوڑا، سوہانجنا، فالسہ، بیر، آم ختم ہو رہے ہیں۔

مزید یہ کہ دو چار سال قبل یونیورسٹی آف ییل، ڈیپارٹمنٹ آف فورسٹری اینڈ اینوائرنمنٹ نے ایک تصویر بعنوان درخت/شخص/ملک جاری کی جو کہ براعظم امریکہ سے بر اعظم ایشیا ہر ایک میں نمایاں ملک کے حقائق دکھاتی ہے۔ ’ایک شہری کے لئے کتنے درخت‘ میں کینیڈا سب سے اوپر (دس ہزار درخت فی شہری) پھر گرین لینڈ چار ہزار نو سو چورانوے، اس کے بعد آسٹریلیا تین ہزار نو سو چھیاسٹھ، اس کے بعد امریکہ چھ سو ننانوے، فرانس دو سو تین، ایتھوپیا ایک سو تینتالیس، چین ایک سو تیس، انگلستان سنتالیس، اور سب سے آخر میں ہندوستان اٹھائیس اور پاکستان میں صرف پانچ درخت ایک شخص کے لئے موجود ہیں یعنی پوری دنیا میں اوسطا ہر انسان کے لئے چار سو بائیس۔ یہ تجزیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ پاکستان اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ کسی گنتی میں شمار نہیں۔ تئیس کروڑ آبادی اور درخت اونٹ کے منہ میں زیرہ۔

کیا یہ حیران کن اور تکلیف دہ نہیں کہ وہ ملک جس میں باقاعدگی سے سرسبز بنانے کے اقدامات ہو رہے ہوں۔ وہاں نتائج دن بدن اس کے برعکس اور دگرگوں ہوں۔ تو پھر یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ہاں ہونے والی کوششوں اور دعووں کا حقیقت پسندی سے اور خوش فہمیوں کی عینک اتار کر جائزہ لیں جو یہ بتاتے ہیں کہ:

ہم درخت لگاتے ہیں، جس کا کھڈا مالی تیار کرتا ہے، پودا خریدنے کے پیسے یا تو ادارہ دیتا ہے یا والدین اور گھر والے۔ پانی کا فوارہ کوئی تیسرا بھر کر لاتا ہے۔ اور پودا زمین پر لگتا ہے۔ نہ مٹی کے ساتھ کوئی مٹی ہوتا ہے۔ نہ پسینہ بہتا ہے۔

کس موسم میں کون سا پودا لگنا چاہیے، کس کو کس کے ساتھ لگانا چاہیے۔ پانی کی ضرورت کیا ہو گی۔ اکثریت تصویریں بنا کر پودے لگانے والے نابلد ہوتے ہیں۔

مقامی پودے کون سے ہیں؟ پھلدار اور سایہ دار پودے کہاں پر لگنے چاہیے اور وہ کیوں ضروری ہیں؟ صرف سایہ دار اور جلد بڑھنے والے کون سے پودے ہیں؟ اس بابت کوئی نہیں سوچتا۔

کون سے پودے ایک جیسی بلندی و لمبائی لیں گے جنہیں ساتھ ساتھ لگایا جا سکے۔ کون سے رنگوں کے تضاد اور ہم آہنگی سے ماحول میں توازن اور خوبصورتی پیدا کرنی ہے۔ اتنی ذہنی مشقت کون کرتا ہے؟

پودے لگانے کے بعد ان کی مسلسل دیکھ بھال، سخت موسم سے بچاؤ۔ بروقت پانی سے سیرابی۔ جاڑے اور لوس حفاظت۔ یہ پہلو مجرمانہ خاموشی کا شکار ہے

شجر کاری مہمات کی ’مانیٹرنگ اور اویلویشن‘ کہ کتنے فیصد بقا کا ریٹ ہے؟ ناکامی کی کیا وجوہات ہیں؟ اگلی دفعہ کیسے سدباب کرنا ہے؟ کیا یہ بھی کرنا ہوتا ہے؟ کم ہی معلومات رکھتے ہیں؟

کیا ہر دفعہ نیا پودا لگانا ضروری ہے؟ پرانے پودوں کے بیج کیسے محفوظ کرنے ہیں؟ کون سے پودے صرف شاخوں کی چھوٹی ’کٹنگز‘ لگا کر دوبارہ سے بڑھائے جا سکتے ہیں؟ یہ ادراک کہاں سے لایا جائے؟

شجر کاریاں نمبروں کی دوڑ نہیں کہ فلاں اسکول نے اتنے لگائے اور فلاں ادارے نے اتنی انویسٹمنٹ کی۔ بلکہ یہ اس سے بڑھ کے شوق پیدا کرنے، طلبا اور شہریوں میں ہنر دینے، احساس اور محبت پیدا کرنے کا نام ہے۔ کیا؟ یہ کس نے کہا؟

کبھی کسی نے پوچھا کہ جو پودے بھیجے تھے، وہ کہاں آگے ہیں؟ کتنا بڑھ گئے ہیں؟ ہمارا بچہ کتنی دفعہ اسے جا کر دیکھتا اور اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ اب کیا چھوٹے چھوٹے کاموں اور فلاحی امداد کا احتساب ہو؟

شجرکاری کی منصوبہ بندی جو کہ وفاقی سے صوبائی، شہروں سے دیہات اور اداروں تک کی کہاں ہے؟ لینڈ اسکیپ منصوبے کدھر ہیں؟ کس سال، کیا کہاں لگنا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات کدھر ہیں؟ کون کرے گا؟

انھی وجوہات کی بدولت ہمارے ہاں جتنے درخت رپورٹوں میں لگتے، خبروں میں بتائے جاتے اور تصویروں میں نظر آتے ہیں، حقیقتاً اتنے زمین میں جڑیں نہیں بناتے۔ ورنہ ہمارے گرما پچپن ڈگری تک نہ جاتے۔ ہمارے گلیشیئر پگھل پگھل کر سیلاب نہ لاتے۔ ہماری فصلیں بے موت نہ مر رہی ہوتیں۔ مون سون وقت بے وقت ہمیں تنگ نہ کرتا۔ سموگ کی چادر ہماری آبادیوں کو زہریلی نہ کر رہی ہوتی۔ ’ہیٹ ویوز‘ جانداروں کی سانسیں نہ ختم کرتیں۔ اور ایسا تب تک ہو گا جب تک ہم ’بے کار شجر کاری‘ مہمات کو ’با مقاصد درخت اگایے‘ ڈرائیو سے بدل نہیں دیتے۔ جو کہ بیجنے سے پالنے، سیکھنے سے بچانے، دلچسپی سے فائدہ اٹھانے کا ایک لمبا، گول دائرہ ہے۔

’کم ازکم اپنی زندگی کے ہر سال دس درخت لگائیں یا ایسے دس درخت اگانے میں معاون بنیں۔‘

Facebook Comments HS