ہم سب دو دنیاؤں میں بستے ہیں
ایک دنیا باہر کی ہے ایک دنیا اندر کی
ایک دنیا خارجی ہے ایک دنیا داخلی
ایک دنیا مادی ہے ایک دنیا نفسیاتی
ایک دنیا منطقی ہے ایک دنیا جذباتی
ایک دنیا آنکھیں کھول کے نظر آتی ہے ایک آنکھیں بند کر کے
خارجی دنیا کا مطالعہ سہیل زبیری جیسے سائنسدان کرتے ہیں
اور
داخلی دنیا کا تجزیہ خالد سہیل جیسے ماہرین نفسیات کرتے ہیں۔
خارجی دنیا کا تعلق ہمارے دماغ سے ہماری منطق سے ہے
داخلی دنیا کا تعلق ہمارے دل سے ہمارے جذبات سے ہے۔
ہم سب جانتے ہٰین کہ ہمارا دل ایسے فیصلے بھی کرتا ہے جو ہمارے عزیزوں اور رشتہ داروں کو پریشان کر دیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کسی کے سچ کسی کو جھوٹ لگتے ہیں۔
ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ دل کو دماغ کی بات ماننی چاہیے لیکن بقول اقبال
بہتر ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
خارجی دنیا کو سمجھنے اور جاننے کے لیے سائنسدان مدتوں سے اپنی خوردبین اور دوربین سے کائنات کا مطالعہ اور قوانین فطرت دریافت کرتے آئے ہیں۔
ایک مدت ہوئی سائنسدان گلیلیو نے اپنی چھوٹی سی دوربین سے فلکیات کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس سچ کی گلیلیو کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور انہیں مذہبی پیشواؤں اور اصحاب بست و کشاد نے اپنے ہی گھر میں نظر بند کر دیا اور ان کی کتابوں پر پابندی لگا دی۔
بیسویں صدی میں سائنسدان ہوبل نے گلیلیو کی دوربین سے بہت بڑی جدید دوربین سے جب آسمان کی وسعتوں کا مشاہدہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ وہ دھندلکے جو نیبولے کہلاتے تھے ہماری کہکشاں کی طرح اور کہکشائیں ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس دوربین کی وجہ سے سائنسدانوں نے خارجی کائنات کے بہت سے راز جانے۔
جس طرح بیسویں صدی میں ہوبل نے اپنی دوربین سے خارجی کائنات کے راز جانے اسی طرح سگمنڈ فرائڈ نے تحلیل نفسی سے داخلی کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا۔
فرائڈ نے اپنی نفسیاتی تحقیق سے ہمیں بتایا کہ انسانی ذہن میں شعور کے پس پردہ لاشعور بھی ہے۔ انسان جب تکلیف دہ واقعات و حادثات سے دوچار ہوتے ہیں تو ریپریشن سے ان تجربات کو شعور سے لاشعور میں دھکیل دیتے ہیں۔ بظاہر انسان وہ واقعات بھول جاتے ہیں لیکن لاشعور میں وہ تکلیف دہ تجربات نفسیاتی مسائل کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔
فرائڈ نے ان مسائل کے حل کے لیے اپنے مریضوں سے کہا کہ وہ ان کے کلینک میں پڑے ایک کاؤچ پر لیٹ جائیں اور ان کے ذہن میں جو کچھ بھی آئے اس کا اظہار کریں۔ اس عمل سے جسے ہم آزاد تلازمہ خیال اور فری ایسوسیئشن کہتے ہیں ’لاشعور میں چھپے جذبات شعور میں آ جاتے ہیں۔
فرائڈ نے ہمیں بتایا کہ لاشعوری زندگی کے اصول شعوری زندگی کے اصولوں سے مختلف ہیں۔ فرائڈ نے انہیں حفاظتی تدابیر اور ڈیفنس میکنزمز کا نام دیا اور انسانی نفسیات کی تفہیم میں گرانقدر اضافے کیے۔
فرائڈ نے نفسیات کے علم کی جو بنیادیں رکھیں اس پر دوسرے نفسیات دانوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔
فرائڈ کے زیادہ تر مریض جوان مرد اور عورتیں تھیں۔
سگمنڈ فرائڈ کی بیٹی اینا فرائڈ نے بچوں کے نفسیاتی مسائل کا علاج کیا اور بچوں کی حفاظتی تدابیر کو جانا۔
اینا فرائڈ کا کہنا تھا کہ اگر دو بچے کھیل رہے ہیں اور اس کھیل کے دوران ایک بچہ ڈینٹسٹ بن جاتا ہے اور دوسرے بچے کے دانتوں کا علاج کرتا ہے تو اس طرح وہ ڈینٹست سے خوف پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اینا فرائڈ اس حفاظتی تدبیر کو
IDENTIFYING WITH THE AGGRESSOR
کا نام دیتی تھیں۔
فرائڈ نے اپنے مریضوں کی دلچسپ کہانیاں تحریر کیں تا کہ لوگ نفسیاتی مسائل کی گتھیاں سلجھا سکیں۔ انہوں نے ہمارا لاشعور کی زبان سے تعارف کروایا جو شعور کی زبان سے بہت مختلف ہے۔ ایسے ہی جیسے خوابوں کی دنیا جاگتے انسان کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے۔
میں ایک مثال سے اپنے موقف کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔
فرائڈ کے ایک جوان مریض نے انہیں بتایا کہ اس نے
کل رات خواب میں ایک کتا دیکھا
کتے کو لات ماری
کتے نے سر کو موڑا تو مریض نے دیکھا
کتے کا سر اس کے باپ کا سر تھاْ
فرائڈ نے مریض کو بتایا کہ کیونکہ اس کا باپ ایک ظالم و جابر انسان تھا جو شراب پی کر اپنی بیوی اور بیٹے کو مارا پیٹا کرتا تھا اس لیے بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت اور تلخی جمع ہو چکے تھے۔
شعوری طور پر وہ باپ کو تھپڑ یا مکا مارنے کا سوچتا تو اسے احساس ندامت ’احساس خجالت اور احساس گناہ ہوتا۔
چنانچہ اس کے لاشعور نے اس کے باپ کو خواب میں کتا بنا دیا اور جب اس نے کتے کو ٹھوکر ماری اور اپنے غصے کا اظہار کر دیا تب کتے نے سر موڑا اور اسے پتہ چلا کہ کتے کا سر اس کے باپ کا سر تھا۔
ان مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ انسانوں کی شعوری سوچ ان کی لاشعوری سوچ سے بہت مختلف ہوتی ہے۔
یونانی فلسفی سقراط فرماتے تھے کہ انسان ایک منطقی مخلوق ہے
HUMAN BEINGS ARE RATIONAL BEINGS
لیکن فرائڈ نے ہم پر انسانی نفسیات کا یہ راز منکشف کیا کہ انسان جذباتی فیصلے کرتے ہیں اور پھر ان جذباتی فیصلوں کے منطقی جواز پیش کرتے ہیں
ان کا کہنا تھا
HUMAN BEINGS ARE RATIONALIZING BEINGS
میں اس فرق کو ایک مثال سے واضح کرنا چاہوں گا
ایک ماہر نفسیات اپنے طلبا و طالبات کو ہپناٹزم پر لیکچر دے رہے تھے پھر انہوں نے ایک طالبہ کو سب کے سامنے ہپناٹائز کیا اور جب وہ ٹرانس میں تھی تو اس کے لاشعور میں یہ خیال ڈالا کہ
’ہوش میں آنے کے دس منٹ بعد اٹھنا اور کھڑکی کھول دینا‘ ۔
ہوش میں آنے کے بعد سب طلبا و طالبات انتظار کرنے لگے۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ٹھیک دس منٹ کے بعد اس لڑکی نے اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔
جب پروفیسر نے پوچھا
آپ نے کھڑکی کیوں کھولی؟
تو لڑکی نے کہا
کمرے میں گرمی تھی میں نے سوچا کھڑکی کھولنے سے تازہ ہوا اندر آئے گی۔
اس کہانی میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کھڑکی کا کھولنا تو لاشعوری مشورے کی وجہ سے تھا لیکن اس کا جواز تخلیق کرنا شعوری کوشش تھی۔
تحلیل نفسی اور نفسیاتی تھراپی انسانوں کے لاشعوری مسائل کو پہلے شعور میں لاتی ہے اور پھر ان مسائل کا حل تلاش کرتی ہے تا کہ وہ صحتمند زندگی گزار سکیں۔
میں اپنے بچپن کے دوست سہیل زبیری سے کہتا ہوں
خارجی دنیا سائنس کی دنیا ہے
داخلی دنیا نفسیات کی دنیا ہے
ایک دنیا میں بصارت کام آتی ہے اور دوسری دنیا میں بصیرت۔
سہیل زبیری سے میری دوستی
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
ہم پچھلے پچاس برس سے مختلف موضوعات پر میراتھان مکالمہ اور تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔
ہماری انگریزی کی کتاب کا ’جو ہمارے ادبی محبت ناموں پر مشتمل ہے‘ اردو میں ترجمہ مستند و معزز و محترم مترجم نعیم اشرف نے کیا ہے اور
مذہب ’سائنس اور نفسیات
کے نام سے پاکستان میں چھپوایا ہے۔


