مصطفیٰ سلیمان۔ مائیکروسافٹ اے آئی کا نیا سی ای او


یہ وہ نوجوان ہے جس کے بارے میں بل گیٹس نے کہا تھا کہ اِس کے کام پر نظر رکھو، یہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا بڑا نام بن سکتا ہے۔ اب بل گیٹس کی بات مانتے ہوئے، آئیے ہم بھی جانتے ہیں کہ آخر مصطفیٰ سلیمان کون ہیں اور اب تک کون کون سے کارنامے سرانجام دے چکے ہیں۔

لندن میں پلنے بڑھنے والے مصطفیٰ سلیمان ایک مسلمان ہیں۔ اُن کے شامی نژاد والد غالباً اچھے مستقبل کی تلاش میں لندن آئے اور وہاں ٹیکسی چلا کر زندگی گزارتے رہے، جبکہ اُن کی والدہ ایک نرس تھیں۔ یعنی ہر لحاظ سے وہ ایک عام سے خاندان کے فرد تھے۔

ابتدائی زندگی اور کیریئر کا آغاز

مصطفیٰ کی عملی زندگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب صرف اُنیس سال کی عمر میں اُنہوں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر مسلم یوتھ ہیلپ لائن شروع کی۔ برطانیہ میں موجود مسلم نوجوانوں کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ہیلپ لائن اُن کی راہنمائی کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اتفاق سے نائن الیون کے بعد ، اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے یہ سروس مسلم نوجوانوں کو سوشل آئسولیشن سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ آج یہ سروس برطانیہ میں مسلمانوں کے لیے مینٹل ہیلتھ کی سب سے بڑی سروس بن چکی ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم

مصطفیٰ کی زندگی میں اہم موڑ 2009 ء میں آیا۔ کوپن ہیگن میں ماحولیات سے متعلق کانفرنس ہو رہی تھی، جس میں وہ آرگنائزرز میں شامل تھے۔ اس کانفرنس میں مندوبین کو جنگلوں کی کٹائی کے خلاف کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق کرنے میں ناکامی پر مصطفیٰ کو مایوسی ہوئی، لیکن اسی مایوسی سے اُنہیں نئی راہ ملی۔

یہ سال 2009 ء تھا جب فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سو ملین تک پہنچ چکی تھی۔ مصطفیٰ کو احساس ہوا کہ کوپن ہیگن کانفرنس میں تھوڑے سے لوگوں کو بھی ایک کامن گول پر اکٹھا نہیں کیا جا سکا، جبکہ سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ چند ہی دنوں میں باہم جڑ سکتے ہیں۔ اسی احساس نے مصطفیٰ کو کمپیوٹر فیلڈ کی طرف مائل کیا۔ اگلے سال اُنہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ڈیپ مائنڈ نامی ایک کمپنی کا آغاز کیا، جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ فرم تھی۔

ڈیپ مائنڈ کے کارنامے

ڈیپ مائنڈ کا مقصد کمپیوٹرز کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ وہ فیصلے جو انسانوں کو لامحدود وقت تک سوچنا پڑ سکتا ہے، بہت کم وقت میں لے سکیں۔ مصطفیٰ اور اُن کے دوستوں نے 2010 ء میں اے آئی الگوردھم تخلیق کرنا شروع کیے جب مغرب میں بھی بہت کم لوگ اس فیلڈ سے واقف تھے۔

گوگل نے اپنے ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ڈیپ مائنڈ کا انتخاب کیا۔ ڈیپ مائنڈ نے بہترین حل تجویز کر کے گوگل کے ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کا استعمال چالیس فیصد کم کر دیا۔ مصطفیٰ اسی حل کو دنیا بھر کی عمارتوں میں استعمال کر کے بجلی کی کھپت اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

مائیکروسافٹ میں شمولیت

مارچ 2023 میں، مصطفیٰ سلیمان مائیکروسافٹ کا حصہ بنے اور انہیں مائیکروسافٹ کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس شعبے کا مکمل چارج دیا گیا۔ مائیکروسافٹ اے آئی کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر اُن کے پاس جیتنے کو وسیع دنیا اور اُڑنے کو لا محدود آسمان ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اے آئی کے شعبے کو کن بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے موٹیویشن

ٹیک ورلڈ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایسے میں اگر کوئی جینیئس، کوئی قابل شخص آگے نکلتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچتا ہے تو ہمیں اُس پر خوش بھی ہونا چاہیے اور اُسے اپنے لیے موٹیویشن بھی بنانا چاہیے۔ آج کل ہمیں ایسے ہی ہیروز کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani