حیرت اور دریافت کا کھیل (وجیہہ وارثی کا شعری مجموعہ )

کسی بھی کھیل کا کھلاڑی جب بھی کھیل کھیلتا ہے تو وہ اس کھیل کے تمام تر داؤ پیچ یا تیکنیک نہ صرف جانتا ہے بلکہ بروئے کار بھی لاتا ہے اسی طرح جب کوئی اداکار، صداکار یا گلوکار جب اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنی چھپی ہوئی تمام صلاحیتوں کو آزماتا ہے۔ اور جب ایک تخلیق کار اداکار اور صداکار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہو تو وہ پھر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لمحات میں کسی بھی سمجھوتے کا شکار نہیں ہوتا بلکہ سمجھوتا بھی ان کے ساتھ سمجھوتے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور وہ، وہ وہ فنکارانہ اور استاکارانہ پگڈنڈیوں پر پابہ جولاں چل پڑتا ہے کہ اس پر کسی کی بھی اس سے پہلے قدموں کی چھاپ تک نہیں گزری ہوئی ہوتی ہے۔
لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ متذکرہ بالا دونو ہنرمند سمجھوتہ پسند ہیں، نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے! بس شاعر کو یہ ایج حاصل ہوتا ہے کہ وہ اداکار اور صداکار ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیق کار بھی ہوتا ہے جو تخیل کے طفیل اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو علامتی، تشبیہاتی، محاکاتی اور تصوراتی جامہ اس طرح زیب تن کراتا ہے کہ اس کے جملہ حواس اپنے مشاہدات اور تجربات میں سمٹ کر ایک خیالی محبوبہ کی شکل میں رطب اللسان ہو جاتے ہیں۔
حیرت اور دریافت کا کھیل ایک طرح سے جادوئی کمالات کا اثر لئے ہوئے نظموں کو قارئین کے سامنے پردے کے پیچھے سے افشاں کیے جاتے ہیں جس سے وہ حقیقت کے بجائے حیرت میں چلے جاتے ہیں جبکہ وہ ہوتا حقیقت ہی ہے لیکن وجیہہ وارثی حقیقت کو بھی چمتکار کے اظہاریے کا پیراہن پہنا کر عوامی نظربندی کے پروسیس سے گزارنے کا عادی فنکار ہے۔ جس کی بہترین نظم اس کتاب میں آسیب زدہ کیل سے ٹکی تصویر ہے۔ جس میں وہ کچھ اس طرح سے نظمیہ کھیل سٹیج کرتا ہے۔
تصویر پر بنے ہونٹوں پر ہونٹ ثبت کیے
ہونٹ غائب
آنکھوں کو چوما
بینائی چوری ہو گئی
بالوں میں انگلیاں پھیریں
انگلیاں کھو گئیں
ہاتھوں کو ہاتھ لگایا
ہاتھوں پر فالج گر گیا
ناک اور تمھاری خوشبو باقی ہے
خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے
اور آخر میں کہتا ہے
میں سب کو بتانا چاہتا ہوں
مگر میری گویائی گم ہو گئی ہے۔
اس طرح ان کی ایک نظم بعنوان کالی نظم کچھ اس طرح کالی سفلی کا عمل سیاہ دکھائی دیتی ہے۔
میں ایسے شہر میں رہتا ہوں
جس میں آج کل جاناں
پرندے سانپ جنتے ہیں
سانپوں کے انڈوں پر
یہاں انسان پلتے ہیں
محبت کرنے والے ایک دوسرے سے
محبت نہیں کرتے
بلکہ
ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچ کھاتے ہیں
اگر
غلطی سے کوئی تخم ٹھہر جائے
تو
حضرات ڈائنوسار جنتے ہیں
وجیہہ وارثی کی نظموں میں تخلیقی بہاؤ کے ساتھ ساتھ بے ساختہ تخلیقیت ہے اور یہ بے ساختہ تخلیقیت ہی ان کی 9 نظموں کا اصل خاصہ، پہچان، بنیاد، تعارف اور حوالہ ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ محبت میں صرف محبت ہی کے قائل ہوتے ہیں اور اس محبت کی تختہ مشق ہمیشہ صنف نازک ہی رہی ہیں لیکن عملی محبت کو ایذا پسندی سے تشبیہ دینا اور اس کا اظہار تشدد پسند گرداننا ادبی کایا پلٹ کا مترادف ہے۔
ان نظموں میں مقامی سیاسی سفر نامے سے لے کر عالمی سیاسی منظر نامے کو سمویا گیا ہے۔ اس طرح ان نظموں میں فرد کے ذاتی مسئلے سے لے کر عوام کے مسائل کو بڑے ظریفانہ انداز میں منظوم کیا گیا ہے۔
جب ہم ان نظموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو جگہ جگہ کسی نظم کا ایک مصرعہ بالکل ضرب مثل یا قول زریں کی مانند اپیل کرتا ہے جس میں پورا ایک فلسفہ یا سراپا دانش ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے کہ
وہ مجھے ڈس رہا ہے کئی برس سے تنگ جوتے کی طرح
درخت برا مانتا ہے جب کوئی اس کے سائے میں رفع حاجت کرتا ہے
میرے اندر شارک مچھلیوں کا غول پرورش پا رہا ہے، اندر کی بڑی خواہش چھوٹی خواہشات کو چٹ کر رہی ہے۔
بے یقینی غربت کی سب سے بڑی اولاد ہے۔
ہماری ریڑھ کی ہڈی کا ایک مہرہ بوسیدہ ہے اس لیے مہرے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
عورتیں اپنے میک اپ کے سامان کے ساتھ دفن ہو چکی ہیں مردانہ جوتے اپنے تسموں سے خود کشی کرنے لگتے ہیں۔
نظریہ ایک چڑیا ہے جو دماغ میں گھونسلہ بناتی ہے۔
کائنات کا زرہ زرہ محو رقص ہے، سورج خاموشی سے زندگی کی کوکھ میں روٹیاں پکا رہا ہے۔
اس طرح اس کتاب میں کئی نظمیں باقاعدہ منظوم افسانے ہیں جس میں ایک مکمل بیانیہ افسانے کی طرح آغاز، انجام، کردار، مکالمہ، عروج، اختتام کے ساتھ ساتھ مہا کا سسپنس بھی ہوتا ہے۔
ان نظموں کی دیگر خاص باتوں کے ساتھ ساتھ ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ کئی نظموں میں جگہ جگہ آزاد ہائیکو، سہ مصرعے یا تثلیث ہیں جو اگر ان نظموں سے الگ بھی کیا جائے تو اپنے تخلیقی وجود کو ویسے ہی برقرار رکھے گی جو اس نظم کے اندر رکھا ہوا ہے۔ جیسے کہ
راز کا ایک تار بچھ جاتا ہے
راز کی ایک لمبی الگنی بن جاتی ہے
لوگ الگنی پر اپنے رازداں زیر جامے لٹکاتے ہیں
میں جہاں رہتا ہوں وہاں
انتہا پسند یاجوج ماجوج رہتے ہیں
سروں پر زنانہ شلواروں کی پگڑیاں باندھتے ہیں
پارک کے چوکیدار کو محبت سے نفرت ہے
وہ پتھر سے ضرب لگاتا ہے
آوارہ کتے کے سر کے زخم میں کیڑوں کی فوج پیدا ہو گئی ہے۔
ان نظموں میں ایک تخلیقی طنز ہے، ایک رلا دینے والا مزاح ہے، ایک خندہ زن سنجیدگی ہے اور ایک گہری سنجیدگی میں گونجتے ہوئے قہقہے ہیں۔
حیرت اور دریافت کا کھیل وجیہہ وارثی کی نظموں کا قدر بے باک، بے لاگ مجموعہ ضرور ہے لیکن بے سروپا نہیں کیونکہ وہ کہیں پر بھی سر کے بل کھڑے نظر نہیں آرہے ہیں پاؤں کے بل کھڑے ہیں لیکن زمانے کا کیا کیا جائے جو سر کے بل کھڑا ہے اور سر کے بل کھڑے لوگوں کو دنیا الٹی نظر آتی ہے بلکہ ایک پاگل شخص کی طرح جنھیں دنیا کے لوگ پاگل نظر آرہے ہوتے ہیں۔
ایک سچا تخلیق کار وہ لکھتا ہے جو لکھنا چاہیے وہ، وہ نہیں لکھتا جو لکھنا نہیں چاہیے اور وجیہہ وارثی نے وہ لکھا ہے جو ان کو لکھنا چاہیے تھا۔

