کیا آپ ڈپریشن کے فنکارانہ علاج سے واقف ہیں؟
ایک صبح ناشتے کی میز پر میرے شوہر نے مجھے ایک تڑا مڑا سا کاغذ کا ٹکڑا دیا۔ میں نے کھول کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا
میں نے تمہارے ساتھ جو جوانی کے پینتیس برس گزارے ہیں وہ میری قیمتی زندگی کا ضیاع تھے
میں نے نم آنکھوں سے اپنے شوہر سے کہا کہ ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے مکالمہ کرنا چاہیے تو اس نے کہا
اب کہنے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا۔
اس کے بعد میرے شوہر نے اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور گھر سے باہر چلا گیا۔ اس کے بعد وہ کبھی لوٹ کر نہ آیا اور میں، جو اپنے آپ کو جذباتی طور پر ایک مضبوط چٹان سمجھتی تھی، ریت کی دیوار کی طرح بکھر گئی۔
مورین نے جب مجھے اپنی بپتا سنائی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مورین کی زندگی کی شام کے سارے خواب اپنے شوہر کے جانے کے بعد چکنا چور ہو گئے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں۔
مورین کے جوان بچے ان کے بارے میں اتنے فکر مند ہوئے کہ وہ انہیں ہسپتال لے گئے اور ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال کے نفسیاتی وارڈ میں داخل کر دیا۔ مورین کے ماہر نفسیات نے ان کا ادویہ سے علاج کرنا چاہا لیکن افاقہ نہ ہوا۔ مورین کی ڈپریشن وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی گئی۔ ایک وہ وقت بھی آیا جب مورین خود کشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگیں۔ انہیں اپنے مستقبل میں تنہائی، اداسی اور تاریکی کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔
پھر ایک سہیلی نے مورین کو مشورہ دیا کہ آپ ڈاکٹر سہیل سے مشورہ کریں۔
مورین کی ساری کہانی سننے کے بعد میں نے مورین سے پوچھا
آپ شادی سے پہلے کیا کرتی تھیں؟
کہنے لگیں
میں ایک آرٹسٹ تھی۔ میں پینٹنگز بنایا کرتی تھی۔ میں آرٹ کی ٹیچر بھی تھی۔ میرے بہت سے طلبا و طالبات تھے جو مجھ سے پینٹنگ بنانا سیکھتے تھے۔
آپ کو پینٹنگ بنانا کیسا لگتا تھا؟
میں پینٹنگز بنا کر بہت خوش رہتی تھی۔ میرا فن میری زندگی کے لیے جذباتی آکسیجن کا کام کرتا تھا۔
تو پھر آپ نے پینٹنگز بنانا چھوڑ کیوں دیں؟
ڈاکٹر صاحب، شادی کے بعد دو بچے پیدا ہو گئے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ گھریلو ذمہ داریاں اتنی بڑھیں کہ بہت سی ماؤں کی طرح میرے پاس بھی اپنے من اور اپنے فن کے لیے وقت ہی نہیں بچا۔
اب تو آپ کے بچے جوان ہو گئے ہیں اور ان کی شادیاں بھی ہو گئی ہیں۔ اب آپ کے پاس کافی فارغ وقت ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ دوبارہ پینٹنگز کی طرف رجوع کریں۔ کچھ نئے برش اور پینٹ خریدیں اور ہر ہفتے ایزل کے سامنے دو دفعہ بیٹھیں۔ یہ آپ کی آرٹ تھراپی ہوگی۔
مورین مجھ سے ایسے مشورے کی توقع نہ رکھتی تھیں۔ کہنے لگیں
سوچ کر بتاؤں گی۔
مورین نے پہلے تو بادل ناخواستہ میرے مشورے پر عمل کیا اور ہفتے میں دو دفعہ ایزل کے سامنے بیٹھنے لگیں۔ پہلے چھ ہفتے تو کچھ نہ ہوا لیکن ساتویں ہفتے ایک فنی اور تخلیقی کرامت رونما ہوئی۔
مورین نے ایک ایسی پینٹنگ بنائی جسے دیکھ کر میں حیران و ششدر رہ گیا۔ اس پینٹنگ میں ایک مزدور ایک ریڑھی پر سیب بیچ رہا ہے۔ ریڑھی پر سیبوں کی ایک پہاڑی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ سیب اس طرح پینٹ کیے گئے تھے کہ یوں لگتا تھا کہ اگر آپ نے انہیں چھوا تو سیبوں کی پہاڑی دھڑام سے گر جائے گی اور سب سیب زمین پر بکھر جائیں گے۔ وہ پینٹنگ ایک تھری ڈائمنشنل پینٹنگ تھی۔
مورین وہ پینٹنگ اپنے سینئر سنٹر لے کر گئیں تو ایک خاتون کو اتنی پسند آئی کہ اس نے تین سو ڈالر میں خرید لی۔
مورین نے دوسری پینٹنگ بنائی تو وہ چار سو ڈالر میں
تیسری پینٹنگ پانچ سو ڈالر میں اور
چوتھی پینٹنگ سات سو ڈالر میں بکی
ہر مہینے پینٹنگ بنانے کے ساتھ مورین کی عزت نفس اور خود اعتمادی میں بڑھاوا اور ڈپریشن میں کمی آنے لگی۔
مورین کی پانچویں اور چھٹی پینٹنگز ان کے جوان بچوں نے خرید کر اپنے گھر کے لونگ روم میں لٹکائیں۔
مجھے مورین کی ذہنی صحت بہتر ہوتے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔
کئی ماہ کے علاج کے بعد ایک دن میں نے انٹرویو کے دوران مورین سے کہا
آپ مجھے گھور کر کیوں دیکھ رہی ہیں؟
مورین پہلے مسکرائیں پھر کہنے لگیں
میں بتانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو اب میں آپ کو اپنا راز بتائے دیتی ہوں۔ میری ساتویں پینٹنگ آپ کا پورٹریٹ ہے جو مکمل ہونے والا ہے۔ صرف آنکھیں باقی رہ گئی ہیں۔ میں آپ کی آنکھوں کو غور سے دیکھ رہی ہوں تا کہ آپ کا پورٹریٹ مکمل کر سکوں۔
اگلے ہفتے مورین نے میرا پورٹریٹ مکمل کر کے مجھے تحفے میں دیا جسے میں نے اپنے کلینک کی دیوار پر لٹکایا اور سب سٹاف کو فخر سے دکھایا۔
میں نے پھر مورین کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی لائبریری کے ایگزیبیشن میں حصہ لیں۔
مورین کی نہ صرف ساتوں پینٹنگ قبول کر لی گئیں بلکہ مورین کو ایوارڈ بھی ملا۔
اس ایگزیبیشن میں ایک بہتر سالہ فنکار نے بھی حصہ لیا۔ وہ فنکار خود تو واٹر کلر سے پینٹ کرتے تھے لیکن انہیں مورین کی آئل پینٹنگز اتنی پسند آئیں کہ انہوں نے مورین کو چائے پینے کی دعوت دی۔
چائے سے بات لنچ تک
اور
لنچ سے بات ڈنر تک چلی گئی۔
اس طرح ایک پینسٹھ سال کی فنکارہ اور ایک بہتر برس کے فنکار کی محبت کی کہانی شروع ہوئی۔
جب میری دونوں فنکاروں سے ملاقات ہوئی تو وہ ایک دوسرے کے پیار میں بہت سرشار تھے۔ وہ ایسے اٹکھیلیاں کر رہے تھے جیسے دو ٹین ایجر ہوں میں نے جب انہیں
TWO LOVE BIRDS
کا خطاب دیا تو وہ شرمائے بھی اور بہت خوش بھی ہوئے۔
مورین کی زندگی کے آخری چند ماہ محبت کے سائے میں گزرے۔
مورین کو زندگی کی شام میں احساس ہوا کہ وہ سونا تھیں لیکن ان کے شوہر لوہار تھے جو سونے کو نہ پہچانتے تھے۔ لوہار سے جدائی کے بعد مورین کو ایک ایسا محبوب ملا جو سنار تھا اور سونے کی اہمیت اور وقعت سے واقف تھا۔
مورین کو اس دنیا سے رخصت ہوئے بہت عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کا بنایا ہوا میری جوانی کا پورٹریٹ آج بھی میرے کمرے کی دیوار پر آویزاں مجھے ان کی یاد دلاتا ہے۔
مورین کے علاج کے بعد میں نے اپنی تھراپی میں فنون لطیفہ کا اضافہ کیا اور اپنے کلینک کا نام
CREATIVE PSYCHOTHERAPY CLINIC
رکھا۔



