کچھ باتیں ڈاکٹر وزیر آغا  کی (1)


1988 میں، مَیں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کی جلد بندی کروائی تو جلد کے اندر کی جانب جو اخباری کاغذ لگائے گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ پر ایک پرکشش اور بارعب تصویر چَھپی ہوئی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا، “وزیر آغا، ایک ہمہ جہت ادیب”۔ جانے کیوں وہ تصویر میرے دل پر نقش ہو گئی۔

کوئی دو برس بعد اتفاقاً اردو بازار گوجرانوالہ سے مشفق خواجہ کے رسالے “تخلیقی ادب” کا ایک ضخیم شمارہ میرے ہاتھ لگ گیا جس میں ڈاکٹر وزیر آغا کے بارے میں مفصل گوشہ بھی شامل تھا۔ اس گوشے کے طفیل میں آغا صاحب سے باقاعدہ متعارف ہوا اور میرا تاثر یہ بنا کہ وہ بہت غیر معمولی اور گہرے ادیب، نقاد اور شاعر ہیں۔

اسی گوشے میں انور سدید کے نام آغا صاحب کے کچھ خطوط بھی شامل تھے۔ جو بہت دلچسپ اورمعلومات افزا تو تھے ہی، ان سے آغا صاحب کا شُستہ اسلوب اور انور سدید سے ان کی بے تکلفی بھی مترشح تھی۔

ان میں سے کچھ خطوط “رٹز ہوٹل” مَری سے لکھے گئے تھے۔ ایک زمانے میں آغا صاحب گرمیاں مع خاندان مَری میں گزارتے تھے جو کچھ دنوں کے لیے” 58 سول لائنز سرگودھا” بن جاتا۔

مَیں 1994 میں مری گیا تو جی پی او کے پاس “رٹز ہوٹل” کا بورڈ پڑھا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔ دیر تک اس ہوٹل کو کھڑا دیکھتا رہا۔

 نوے کی دہائی کے کسی برس “نوائے وقت” میں ان کا انٹرویو شائع ہوا۔ جس میں خود ان کے اپنے خط میں ان کا یہ شعر درج تھا

جائیں گے ہم بھی خواب کے اس شہر کی طرف

کشتی پلٹ تو آئے مسافر اتار کے

اس شعر نے مجھے ہمیشہ مسحور رکھا۔

گوجرانوالہ میں ریلوے سٹیشن کے سامنےایک بکسٹال پر فنون، اوراق، افکار، ماہ نو اور آثار وغیرہ آتے تھے وہیں سے مَیں نے باقاعدہ اوراق خریدنا شروع کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 1999 میں لاہور آنے سے پہلے میں آغا صاحب کا باقاعدہ قاری اور پرستار بن چکا تھا۔

انہی دنوں فنون کا وہ شمارہ بھی شائع ہوا جس میں قاسمی صاحب کی منہ بولی بیٹی منصورہ احمد کی کتاب” طلوع” کی پذیرائی کے لیے سیکڑوں صفحات مختص تھے۔ ہندوستان، پاکستان کے ہر قابل ذکر شاعر اور نقاد کا مضمون یا رائے اس میں شامل تھی۔ خود قاسمی صاحب نے یہ لکھا تھا کہ پروین شاکر کی” خوشبو” کی پذیرائی بھی میں نے دیکھ رکھی ہے لیکن مقبولیت میں منصورہ بیٹی کی “طلوع ” اس سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔

پروین شاکر قاسمی صاحب کو “عمو جان” کہا کرتی تھیں۔ خوشبو کا انتساب بھی قاسمی صاحب کے نام تھا۔ مَیں نے سوچا اگر پروین شاکر زندہ ہوتی تو قاسمی صاحب کبھی یہ بات نہ کرتے۔ اس ایک بات سے میرے دل میں قاسمی صاحب کی وہ عزت نہ رہی جو پہلے تھی۔

سَن 2000 کی بات ہے، اوراق کا 35 سالہ نمبر شائع ہو چکا تھا۔ جس کے بیک ٹاٹل پر ایک اشاعتی ادارے “کاغذی پیرہن” کا اشتہار چَھپا ہوا تھا۔ اسی دوران سمبڑیال سے میرے بزرگ دوست جمیل پرواز صاحب نے کہا، میرا شاعری کا مجموعہ تیار ہے۔ کسی پبلشر سے بات کرو۔ میں نے” کاغذی پیرہن” فون کیا تو پتا چلا شاہد شیدائی صاحب اس کے کرتا دھرتا ہیں۔ پرواز صاحب کی کتاب چَھپ گئی۔ مجھے اس معاملے میں جو حاصل وصول ہوا وہ شاہد شیدائی کے توسط سے ڈاکٹر وزیر آغا کی بارگاہ تک رسائی تھی۔

مَیں پہلی بار جب آغا صاحب کے ہاں پہنچا تو شاہد شیدائی، مظفر بخاری اور نیاز احمد صوفی کو وہاں موجود پایا۔ مَیں خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ آغا صاحب گورے چٹے، طویل القامت شخص تھے۔ کمر میں البتہ ہلکا سا خم آ چکا تھا جو عموماً لکھنے پڑھنے کی زیادتی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ ویسے ان کی عمر بھی اسی سے اوپر ہو چکی تھی۔ وہ بہت تروتازہ، کہولت سے کوسوں دور، حاضر دماغ، حسن گفتار اور حسن سماعت سے متّصف اور شُستہ حس مزاح سے بہرہ مند تھے۔

پہلی ملاقات میں محض تعارف ہوا اور انہوں نے مجھے شفقت کے ساتھ اپنی محفل میں خوش آمدید کہا۔

اس کے بعد ایک روز میں حاضر ہوا تو ان کے پاس صرف شاہد شیدائی موجود تھے۔ شاہد صاحب نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شعر بھی اچھا کہتے ہیں اور پڑھتے بہت ہیں۔ یہ سُن کر آغا صاحب باقاعدہ خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے اپنی تازہ کتاب “معنی اور تناظر” عنایت کی۔ اگلی ملاقات میں ان کے سامنے بیٹھ کر مَیں اس کتاب کے ایک ایک مضمون کو discuss کررہا تھا اور ان کے چہرے سے حیرت اور مسرت چھلک رہی تھی۔ وہ فرط مسرت سے کہنے لگے آپ کو تو میری فلاں فلاں کتابیں بھی پڑھنی چاہییں۔ چنانچہ انہوں نے شاہد صاحب سے کہا کہ ان کے لیے”دستک اس دروازے پر” “تصورات عشق وخرد” اور ‘اردو شاعری کا مزاج”کی ایک ایک کاپی لے آئیں۔

بعد میں، مَیں نے ان کی سبھی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ پھر ایک موقع وہ بھی آیا جب انہوں نے “اوراق” کی مکمل فائل مجھے عطا کی اور میں نے سنین وار، آہستہ آہستہ، بڑے مزے سےاس خزانے پر ہاتھ صاف کیے۔ ایک مصنف کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اسے پڑھا جائے، اسے سمجھا جائے اور اس کی قدر کو تسلیم کیا جائے۔ مَیں نے دیکھا کہ آغا صاحب بَس یہی چاہتے تھے۔

ایک موقع پر انہوں نے میرے بارے میں یہ جملہ ارزاں فرمایا کہ اگر کسی مصنف کو شناور اسحاق جیسا ایک قاری بھی مل جائے تو وہ مَر نہیں سکتا۔ برادرم شاہین عباس اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں۔ آغا صاحب خود بھی ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا پڑھتے رہتے تھے اور اپنے ملنے والوں سے بھی یہ ضرور پوچھتے تھے کہ آج کل کیا پڑھ لکھ رہے ہیں۔ ان کی یہ عادت بہتوں کے لیے مہمیز کا کام بھی کرتی تھی۔

سو ان سے ملاقات کے لیے کچھ نہ کچھ “ہوم ورک” ضرور کرنا پڑتا تھا۔ کاسمولوجی ان کا پسندیدہ ترین موضوع تھا۔ فزکس انہیں پروفیسروں سے زیادہ آتی تھی۔ وہ وحدت الوجود کے قائل تھے لیکن صوفیانہ تناظر میں نہیں بلکہ سائنسی اور شاعرانہ معنوں میں۔ جب وہ ان موضوعات پر بولتے تھے تو ان کا پورا وجود دھڑک رہا ہوتا تھا

ایک نکتہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔ ایک روز وہ اسی موضوع پر بات کر رہے تھے، کہنے لگے کہ

In totality this universe is one and I am single totality of being

لیکن قدرت نے صرف مجھے (انسان کو) آنکھیں عطا کی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ کائنات میری آنکھوں سے خود کو دیکھ رہی ہے۔

کاسمولوجی کے علاوہ اساطیر، کلچر، انتھروپولوجی، تھیوری،جدید اور مابعد جدید تنقیدی نظریات، فلسفہ اور جدید نظم ان کے پسندیدہ علاقے تھے۔ مختلف ثقافتوں کے مابین مماثلیتیں تلاش کرنا، انہیں نشان زد کرنا اور اپنے مضامین یہاں تک کہ نظموں میں کھپانا انہیں بہت مرغوب تھا۔

دنیا بھر میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے نئی نئی کتابیں منگواتے رہتے تھے۔ خاص طور سے فیصل ہاشمی اکثر ناروے سے انہیں کتابیں بھجواتے رہتے تھے۔ وہ نئے تنقیدی نظریات اور تازہ سائینسی پیش رفتوں سے آگاہ رہتے۔ رسالہ ٹائمز باقاعدگی سے پڑھتے۔ آخری ایام تک ان کے اندر یہ جستجوموجود رہی۔

وہ اپنی مذہبی اور سماجی روایت سے جڑے ہوئے آدمی تھے لیکن ان کی اپروچ سیکولر تھی۔ ملا ازم اور انتہا پسندی سے بیزار تھے بلکہ اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جن مولویوں نے انگریزی وغیرہ پر عبور حاصل کر لیا ہے یہ زیادہ خطرناک ہیں۔ آغا صاحب عقیدے کے اعتبار سے نہایت معتدل قسم کے اثنا عشری تھے۔ لیکن ان معاملات پر شاید ہی کبھی گفتگو کا موقع آیا ہو۔

 وہ صوفیانہ روایت کے بھی دلدادہ تھے لیکن صوفیانہ تجربے پر تخلیقی تجربے کو فوقیت دیتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ پہنچا ہوا صوفی بے فیض ہوتا ہے۔ جبکہ تخلیق کار یا عارف اپنے تجربے میں دوسروں کو بھی شریک کرتا ہے۔ یہ زیادہ افضل ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے “معنی اور تناظر” میں شامل اقبال کے بارے میں مضمون میں اس نکتے پر سیر حاصل بحث موجود ہے۔

اقبال کے ایک خطبے کا آغاز شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ” حضور پاک معراج کے لیے گئے، خدا کو دیکھا اور واپس آ گئے۔ خدا کی قسم اگر مَیں جاتا تو کبھی واپس نہ آتا”

اقبال یہاں صوفی اور پیغمبر کا فرق بیان کرتے ہیں کہ صوفی ذاتِ خداوندی میں ضَم ہوجانے کو روحانی معراج سمجھتا ہے جبکہ پیغمبر وہاں سے روشنی لے کر خلقِ خدا کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ فرق ہے صوفی اور پیغمبر میں۔ سو پیغمبری افضل ہے۔

آغا صاحب عارف اور تخلیق کار کو یہ مقام تفویض کرتے ہیں جو میرے خیال میں اردو تنقید میں ایک خوبصورت اور نیا نکتہ تھا۔ ظاہر ہے یہاں عارف سے مراد وارث شاہ، میاں محمد بخش، خواجہ غلام فرید، بھٹائی، رحمان بابا، کبیر، تلسی داس، میرا بائی اور مست توکلی جیسے صوفی شعرا تھے۔

مَیں نے آغا صاحب کے خطوط میں ان کی کتاب “تخلیقی عمل” کا بہت ذکر پڑھا تھا جو غالباً 1970 کے لگ بھگ شائع ہوئی تھی اور نایاب تھی۔ خوش قسمتی سے انار کلی بازار سے مجھے اس کے پہلے ایڈیشن کی ایک کاپی مل گئی۔ میں نے وہ آغا صاحب کو دکھائی تو بے حد خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اس کی تو کوئی کاپی میری لائبریری میں بھی شاید ہی ہو۔ مَیں نے وہ کتاب پڑھنے کے بعد انہی کی نذر کردی۔ مجلس ترقی ادب نے بعد میں اسی نسخے کی مدد سے اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا۔ جس میں “تخلیقی عمل فزکس کے حوالے سے” کا اضافہ بہرحال کیا گیا۔

اس کتاب میں اساطیر، تاریخ، حیاتیات اور فنون لطیفہ کے تناظر میں تخلیقی عمل کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں آغا صاحب نے بتایا کہ تخلیقی عمل خط مستقیم میں آگے نہیں بڑھتا۔ انہوں نے تخلیقی عمل اور ارتقا میں کارفرما” جَست” کا تصور پیش کیا۔

میں نے اوپر کہیں لکھا ہے کہ آغا صاحب مختلف مظاہر میں مماثلتیں تلاش کرنے اور انہیں نشان زد کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔

غالباً” اردو شاعری کا مزاج” میں انہوں نے مباشرت اور خیال گائیکی میں بہت لطیف مماثلت دریافت کی۔ مباشرت میں بھی سرگوشیوں اور بوس و کنار کے بعد عالم ِوارفتگی میں دو جسم باہم لپٹ جاتے ہیں اور جنسی عمل کے اختتام پر شانت ہو جاتے ہیں۔ ہو بہو خیال گائیکی میں بھی الاپ، بلمپت(بڑھت) اور آخر میں دُرت کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے اور فضا میں راگ کی “آنس” باقی رہ جاتی ہے۔ کلاسیکی گائیکی کے دلدادہ ہی اس مشابہت کا لطف لے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کے اختلافات مع شواہد تاریخ کا حصہ ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ اخبارات اور میڈیا پر قاسمی گروپ کا مضبوط قبضہ تھا۔ مشہور اشاعتی ادارے بھی آغا صاحب کی کتب شائع کرنے سے گریزاں رہے، یہ سلسلہ لمحہ موجود تک دراز ہے۔ مَیں اب کوئی نیا اشغلہ چھوڑ کر سنسنی پھیلانے کی بدذوقی نہیں کروں گا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ جب لڑائی شروع ہو جائے تو پھر اس کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پوچ نام نہاد ادبی معرکے تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایسی لڑائیوں میں فریقین سے زیادہ عمل دخل کچھ شرپسند اور احمق مشیران کا ہوتا ہے۔

آخری برسوں میں دونوں جانب برف پگھل چکی تھی۔ آغا صاحب اور قاسمی صاحب ایک تقریب میں اکٹھے بھی ہو گئے تھے۔ ان کے درمیان مکالمہ بھی ہوا تھا۔ وہ تصویر ریکارڈ پر موجود ہے۔

کسی کمزور لمحے میں قاسمی صاحب کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا تھا کہ انور سدید کا نام لینے سے میری زبان پلید ہو جاتی ہے۔ انور سدید اس جملے کو دل پہ لے گئے اور مرتے دم تک یہ کھرنڈ چھیلتے رہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر نے تو قاسمی صاحب کے جملے کو عملی جامہ ہی پہنا دیا۔ اپنی خود نوشت “نشانِ جگرِ سوختہ” میں جہاں کہیں انور سدید کا ذکر آیا انہوں نے ان کے نام کی جگہ “دشمن نمبر ایک” لکھا۔ ماشاءاللہ یہ خود نوشت انور سدید کے ذکر سے پاک ہے۔

جب قاسمی صاحب کا انتقال ہوا تو آغا صاحب نے اپنے بیٹے سلیم آغا کو فون کیا کہ انور سدید تو جنازے میں نہیں جا رہے۔ اب مَیں کیا کروں؟

آغا صاحب ہر معاملے میں بیٹے سے مشاورت کرتے تھے اور ان کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔

سلیم آغا نے کہا کہ آپ ہر حال میں شریک ہوں۔ چنانچہ جب آغا صاحب جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے تو خالد احمد ان سے لپٹ گئے اور بلک بلک کر روتے رہے۔

گلزار کی فلم “مرزا غالب’ میں جب گلی میں غالب کے سامنے سے ذوق کا جنازہ گزرتا ہے تو وہ منظر بہت رقت انگیز ہے۔

موت کے بعد کون سی لڑائی اور کیسا اختلاف؟

حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کے ادبی کام کو وقتی طور پر ایک طرف بھی رکھ دیں تو” اوراق ” اور” فنون” کی شکل میں جو ادبی صحافت میں ان کی خدمات انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

(جاری ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments