چقو ہے میرے پاس!


امریکہ ریاست ٹیکساس میں ایک تیس سالہ ماں نے اپنی تیرہ سالہ بیٹی کا روپ دھار کر اُس کے سکول میں ایک دن گزارا اور اس بارے میں ویڈیو بنا کر سماجی ذرائع ابلاغ پر ڈالی تو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوراً اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے کیسی گارسیا کو چھ ماہ کی ساقط قید اور سات سو ڈالر جرمانہ ادا کرنے کی سزاسنائی۔

تو کیسی گارسیانے یہ حرکت کیوں کی؟ اس لیے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اُس کی بیٹی کا سکول کتنا غیر محفوظ ہے کہ کوئی بھی اس کا روپ دھار کر اس کے اندر جا کر مجرمانہ حرکت کر سکتا ہے۔ اس نے محض اپنی جلد کی رنگت گہری کی، ایک ہوڈی والی جیکٹ اور چہرے پر ماسک پہنا اور اپنی بیٹی بن کر اس کی جماعت میں اسباق لکھے۔ کسی نے اس کو پوچھا تک نہیں۔ نہ تو کسی محافظ نے، نہ استاد نے اور نہ ہی کسی طالب علم نے اس کو پہچانا۔ یہ اس واقعے کا تفصیلی آنکڑہ ہے۔

https://www.express.pk/story/2571483/509/?amp=1

یہ کوئی ایسا حیران کن امر بھی نہیں اور امریکہ تو اپنے سکولوں، کالجوں میں آئے روز گولیاں چلنے کے کے واقعات کے حوالے سے بدنام ہے۔ ابھی ایک واقعے کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ اب آپ نے چھ دسمبر 2023 کا واقعہ سن ہی لیا ہو گا کہ جہاں لاس ویگاس کی ایک یونیورسٹی میں اس کے اپنے ایک پروفیسر نے گھس کر گولیاں چلا دیں جس سے تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔

اور نہ تو یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری واقعہ ہو گا۔ چند دنوں بعد پھر کسی دن کسی سکول، دکان یا ہسپتال وغیرہ میں ایسا واقعہ پیش آ جائے گا۔ اور بے گناہ امریکی یوں ہی ”تاریک راہوں“ من مارے جاتے رہیں گے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک امریکی آئین سے ہر کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے یا کم از کم جدید خود کار اسلحہ رکھنے کی اجازت ختم نہیں کر دی جاتی۔

تو کیسی گارسیا کا کیا قصور تھا؟ یہی کہ اُس نے سب کے سامنے ثابت کر دیا کہ اس کی بیٹی کا سکول اتنا غیر محفوظ ہے کہ کوئی بھی اس کے طالب علموں کا روپ دھار کر اس کے اندر گھس کر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ تو اس میں کون سی غلط بات یا بدنیتی تھی کہ جس پر اُسے سزا سنائی گئی ہے؟ آپ کتنوں کو سزا دے کر بادشاہ کا عریاں پن چھپا سکیں گے؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ میں بلا روک ٹوک جدید و خود کار بندوقیں رکھنے کے حامی گروہ کس قدر طاقتور ہیں۔

آج سو امریکیوں پر ایک سو بیس بندوقیں ہیں۔ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اسلحہ اور آبادی کا ایسا تناسب نہیں ہے۔ آسٹریلیا میں امریکہ جیسی بندوقیں رکھنے کی آزادی تھی لیکن انہوں نے پورٹ آرتھر میں ایک بڑے پیمانے کے قتل عام کے واقعے کے بعد خود کار اسلحے پر پابندی عائد کر دی جبکہ نیوزی لینڈ میں سبھی نے دیکھا کہ کرائسٹ چرچ واقعے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن کی حکومت نے خود کار اسلحے پر پابندی عائد کر دی۔ ایوان میں اس پابندی کے خلاف صرف ایک رکن نے ووٹ دیا۔

لیکن امریکہ میں ایسی پابندی کا سوچنا دیوانے کا خواب ہو گا۔ اور کیسی گارسیا نے بس یہی جرات و ہمت دکھائی کہ ایک مہذب طریقہ سے سب پر ثابت کر دیا کہ امریکی سکول و جامعات کس قدر غیر محفوظ ہیں۔ اور بندوقوں کے حامی امریکی عدلیہ میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ جنھوں نے اسی وجہ سے کیسی گارسیا کو یہ جرات دکھانے کی سزا سنائی۔ ورنہ اس عورت کو انعام ملنا چاہیے تھا، اس کی تعریف و توصیف ہونی چاہیے تھی کہ اس نے ایک اہم خرابی کی طرف عملی طریقے سے نشاندہی کی ہے۔

لیکن کیسی گارسیا بھی کتنی بھولی اور معصوم تھیں۔ یہ خرابی تو سب کو معلوم ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر بے گناہ امریکی بچے حد سے زیادہ بندوقیں رکھنے کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ لیکن بندوقوں کے حامی اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے کہتے ہیں کہ سکول، کالج کے اندر اساتذہ کو بھی مسلح ہونا چاہیے تاکہ وہ اندر گھس جانے والے کسی جنونی کو گولی مار سکیں لیکن کوئی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ خود استاد گولیاں چلانے لگے تو کیا ہو گا جیسے ابھی دسمبر میں لاس ویگاس یونیورسٹی میں پروفیسر کی جانب سے گولیاں چلانے کا واقعہ پیش آیا۔ تو کبھی اسے ذہنی بیماریوں کا مناسب علاج نہ ہونے سے جوڑتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بندوقوں کی کمی ہے ورنہ کوئی دوسرا اچھا امریکی اسلحے سے لیس ہوتا تو وہ اس برے کو گولی مار کر زیادہ قتل عام سے روک دیتا۔ اس موقف کا کھوکھلا پن بھی قسمت نے کھول دیا۔ 28 جون سنہ 2021 کو ڈینور، کولوراڈو میں رونلڈ ٹائی روکی نامی جنونی کسی پولیس والے کو قتل کرنے کی نیت سے گھوم رہا تھا۔

آخر کار اسے ایک پولیس اہلکار جس کا نام گورڈن بیسلی تھا، گشت کرتا نظر آیا تو اس نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قریبی چوک پر موجود راہ گیر جان ہرلی نے اپنی بندوق نکالی اور رونلڈ کو گولی مار دی۔ لیکن اس نے یہ سوچ کر کہ کہیں قاتل ابھی بھی زندہ نہ ہو، اور دوبارہ حملہ نہ کردے، اُس کی بندوق اٹھا لی۔ اسی اثنا میں پولیس والے بھی موقع پر پہنچے اور انہوں نے جان ہرلی کو برا شخص سمجھ کر قتل کر دیا۔

بعد میں جب حقیقت کھلی کہ جان ہرلی نے تو اصل قاتل کو گولی ماری تھی تو پولیس والوں نے معذرت بھی کی اور ریاست نے سرکاری سطح پر اس کی تعریف کی۔ لیکن اس سے جان ہرلی کی جان تو واپس نہیں آئے گی۔ جس نے اچھا کام کیا تھا۔ اور اس واقعے میں پولیس والوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ ظاہر ہے جب وہ قاتل کا سن کر جائے وقوعہ پر پہنچے تو ہرلی کو مسلح اور ڈونلڈ کو زمین پر گرا دیکھ کر اسے ہی قاتل سمجھے۔ یہ رہا اس واقعے کا آنکڑہ

https://amp.theguardian.com/us-news/2021/jun/28/colorado-gunman-police-officer-killed

اور اچھے شہری کے مسلح ہو کر برے شخص کو مارنے کے موقف میں یہی قباحت ہے۔ جب ایسے واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں تو کس کو خیال سکتا ہے کہ جو سادہ لباس میں ملبوس شخص کسی کو گولی مار رہا ہے، وہ برا نہیں بلکہ اچھا آدمی ہے۔

جبکہ ذہنی مریض امریکیوں کے علاج کے حوالے سے یہ بات ہے کہ صدر جان کینڈی کی اپنی بہن پاگل تھی، وہ اس درد کو سمجھتا تھا۔ سنہ 1963 میں اس نے اس بارے میں قانون منظور کیا اور صدر ریگن کے دور تک ہر فاتر العقل امریکی کو سرکاری پاگل خانوں میں رکھا جاتا تھا لیکن محض نظریاتی اختلاف اور چند ملین ڈالر کا خرچہ بچانے کے لیے ریگن نے سرکاری پاگل خانے بند کرا دیے اور اس معاملے کو وارثوں پر چھوڑ دیا یعنی جو لوگ اپنے نیم پاگل پیارے کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں وہ تو اسے نجی پاگل خانے میں داخل کرا دیتے ہیں لیکن جو ایسا نہیں کر سکتے ان کا معاملہ قسمت اور خدا پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے نیم پاگلوں میں سے کئی خود پر اسلحہ استعمال کر چکے ہیں اور دوسروں کو بھی قتل کر چکے ہیں۔ لیکن ریگن کو کون برا کہہ سکتا ہے؟ ریگن تو بندوقوں کے حامی قدامت پرست افراد کے لیے مسیح موعود سے کم کا درجہ نہیں رکھتا۔

Facebook Comments HS