سرکار، سرکاری مسلمان اور احمدی کمیونٹی کی بقر عید

وطن عزیز میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اکثریتی فرقے کا سلوک تو ہمیشہ سے ہی غیر انسانی تھا لیکن اب اس بلاسفیمی کے الزام کے خوف نے تو تمام حدیں ہی پار کر لی ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی بے گناہ اس الزام کی بھینٹ چڑھتا ہے۔ بلوائی بلا خوف کسی بھی گھر یا محلے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ لوٹ مار کرتے ہیں۔ جلاؤ گھیراؤ کرتے ہیں۔ مارتے پیٹتے ہیں اور جان سے بھی مار دیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی ہوتے ہیں۔ بربادی ہونے کے بعد سیاست دان بہت محتاط بیان بازی کرتے ہیں۔ کچھ اکثریتی فرقوں والی جماعتیں حملہ کرنے کا کریڈٹ لیتی ہیں اور کچھ صلح کرانے کا۔ ”سر تن سے جدا“ اور ”ہمارا مذہب امن کا درس دیتا ہے“ کے نعرے ساتھ ساتھ بلند ہوتے ہیں۔
پرچے بھی انہی کے خلاف کاٹے جاتے ہیں جن کو مارا پیٹا گیا ہوتا ہے یا جن کے گھر اور کاروبار جلائے گئے ہوتے ہیں۔ ان کو بے گناہ کہا جاتا ہے اور ساتھ ہی وہ معافی بھی مانگتے ہیں تاکہ آئندہ محفوظ رہیں۔ ان کی حفاظت کی خاطر قانون ان کے خلاف ہی حرکت میں آتا ہے۔ بہت مرتبہ تو انہیں ہی گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ مزید حملوں سے بچ سکیں۔
بلوائیوں کے حوصلے اور بلند ہو جاتے ہیں۔ اقلیتوں کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔ حکومت اور ریاست اگلے واقعے تک سو جاتے ہیں۔ قانون یا پالیسی درست کرنے کی بات بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ تعلیمی نصاب، مدرسے اور ملا فرقہ واریت، عدم برداشت اور جہالت پھیلانے کا اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے ہیں۔
شدید خوف کی فضا تو تمام اقلیتی کمیونٹی کے لیے ہے لیکن احمدی کمیونٹی کو تو خاص ہی عذاب میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ جب احمدی کمیونٹی کے خلاف کوئی نہ کوئی بھیانک جرم نہ کیا جائے۔ اب تو عید الاضحی بھی احمدی کمیونٹی کے خلاف نفرت ابھارنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ سرکاری فرقے والے کمال اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقاعدہ سیڑھی لگا کر احمدی لوگوں کے گھروں میں جھانکتے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں عید قربان منانے کی کوئی نشانی تو نظر نہیں آ رہی۔ اگر بکرا یا گائے نظر آ جائے تو اسے چھین کے لے جاتے ہیں اور جس گھر سے یہ جانور برآمد ہوتا ہے اس کے خلاف پولیس کیس بھی بنایا جاتا ہے۔
باقی سارا سال احمدی عبادت گاہوں کے مینار گرائے جاتے ہیں اور عمارات کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ قانون کے رکھوالے ان تمام جرائم کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ جرائم اس دیدہ دلیری سے کیے جاتے ہیں کہ ان کی ویڈیوز بنا کر وائرل کی جاتی ہیں تاکہ باقی شہروں کے لوگ بھی موٹیویشن حاصل کریں۔
احمدی کمیونٹی کے حق میں قانون کہیں بھی حرکت میں نہیں آتا۔ الٹی گنگا بہتی ہے۔ بلوائی اور قاتل ہیرو ہوتے ہیں اور مقتول، ان کے خاندان اور پوری کمیونٹی کے ہاتھ سوائے خوف، مایوسی اور گالی گلوچ کے کچھ نہیں آتا۔
پاکستانی ریاست نے ”سرکاری ملا“ پروری میں اتنی بربادی کر دی ہے کہ اب اس کے اپنے ہاتھ میں بھی کچھ خاص نہیں بچا۔ بلاسفیمی کا الزام ہو یا احمدی کمیونٹی کے خلاف کوئی نعرہ ہو، سرکار مکمل بے بس نظر آتی ہے۔ فروری دو ہزار تئیس میں ننکانہ صاحب میں بلوائیوں نے پولیس سٹیشن کا میں گیٹ اکھاڑا، اندر گھس کر بلاسفیمی کے ملزم ایک ذہنی بیمار شخص کو لاک۔ اپ سے نکالا اور چیر پھاڑ کر ثواب کمایا۔ پولیس والے بے بس تھے اس لیے بھاگ گئے۔
اس صورت حال کو سنبھالنے یعنی انسانیت کے دائرے میں لانے پر دہائیاں لگیں گی۔ لیکن یہ گنتی تب شروع ہو گی جب پہلا قدم اٹھایا جائے گا۔ ابھی تو بس پستی اور بربادی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔

