یہ بیٹی میری نہیں۔
جب وہ ان ٹیک (ابتدائی انٹرویو) کے مرحلے کے دو دن بعد میرے کمرے میں آیا، تو دن کے چار بج رہے تھے۔ یعنی پانچ بجے چھٹی سے قبل میرا آخری کلائنٹ۔ میں منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ اور وہ وہ میرے کیس کا حصہ تھا۔ وجہ تو پتہ نہیں مگر یہ یاد ہے کہ اسدن میں اتنی تھکی ہوئی تھی کہ اگر کوئی کلائنٹ نہ ہوتا تو شاید اپنے کشادہ آرام دہ کرسی پہ خراٹے لے سکتی تھی۔ لیکن اس کو دیکھ کے میں نے چہرے پہ مصنوعی اخلاق اور بشاشت کا خول چڑھایا اور مسکراتے ہوئے اسے مقابل کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اس نے بتایا کہ اس کا نام کارٹر ہے اور وہ دو تین قسم کے منشیات کے استعمال کا عادی ہے۔ جس میں سر فہرست کوکین ہے۔ وہ سیاہ فام، پختہ عمر، پستہ قد اؤر متناسب ڈیل ڈول کا مالک تھا۔ اس کے تین بچے تھے۔ پچیس سالہ بیٹا جو اس کے ساتھ نہ تھا بلکہ بچپن سے ہی ڈیٹرائیٹ کی گلیوں میں کھویا ہوا تھا۔ مشی گن ریاست کا شہر ڈیٹرائیٹ جہاں جرائم کا تناسب، بے روز گاری اور منشیات کا استعمال اپنے زوروں پہ ہے۔ اور جہاں حکومت کی بے توجہی اس لیے بھی رہی ہے کہ اس شہر میں افریقی نسل کالے اور غریب لوگوں کی اکثریت ہے۔
پولیس کی آنکھوں کے سامنے منشیات کا گھناؤنا کاروبار جاری رہتا ہے۔ بلکہ اکثر تو وہ خود اس میں ملوث رہتی ہے۔ جرائم کے اس حمام میں بہت سے ادارے بشمول حکومت سب ہی ننگے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فاضل معلومات ہے۔ حالات کی دھول میں کھوئے بیٹے کے علاوہ کارٹر کی محبوب بیوی اور دو کم عمر لڑکیاں اس کے ساتھ تھیں۔ بارہ سالہ مالی اور دس سالہ ٹمیلا۔ ”اب میں پچاس کا ہو چکا ہوں۔ بہت ہو گیا ہے ۔ بس مجھے اپنی زندگی بدلنی ہے۔
مجھے اپنی بیوی اور بچیوں سے شدید محبت ہے۔ میں ان کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں۔“ میری جانب دیکھتے ہوئے اس نے اس طرح کہا گویا وہ مجھ سے نہیں اپنے آپ سے عہد کر رہا ہے۔ مجھے ہنسی آنے لگی۔ جی چاہا اردو میں کہوں ”میاں بہت دیکھے ہیں ایسے وعدہ و عید کرتے لوگ۔ نشہ جونک کی طرح ہوتا ہے، اسے چھوڑنا اتنا آسان ہوتا تو بات ہی کیا تھی۔“ پھر مجھے اپنی کمینی سوچ پہ ملامت ہونے لگی۔ آخر چہرہ دل کا آئینہ ہوتا ہے۔ میں نے خاموشی میں عافیت سمجھی لیکن ایک سوال پوچھا جو میں اپنے ان کلائنٹس سے ضرور پوچھتی ہوں جو کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کی محبت میں نشہ سے نجات چاہتے ہیں۔
”اور اگر آپ کا پیارا آپ سے خفا ہو کر آپ سے بدسلوکی کرنے لگے تو کیا مایوسی اور صدمے سے آپ دوبارہ نشہ کرنے لگیں گے؟“ میں چاہتی ہوں ُ کہ وہ سوچیں کہ نشہ سے دوری میں کسی اور سے پہلے خود اپنے سے جڑنا، خود وقعتی اور اپنے آپ سے محبت کرنا کتنا ضروری ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ ”ہاں مجھے اپنی بیوی جولیا اور بیٹیوں سے عشق ہے۔ لیکن کچھ بھی ہو جائے دوبارہ نشہ کرنا تو اب ممکن ہی نہیں چاہے میرے پیارے میرا کتنا ہی دل توڑیں میں اپنا وعدہ نہیں توڑوں گا۔ اور ویسے بھی اب میں پچاس سال کا ہو چکا ہوں۔“ مجھے لگا پچاس ایک جادوئی عدد ہے جس نے اس کو ڈھلتی عمر میں نیند سے جگا دیا۔ جادوئی چھڑی سے ایک دیوانے کو فرزانہ بنا دیا۔ اس کی باتوں سے اب میں بھی جاگ اٹھی تھی۔ ”وعدہ پورا نہ بھی ہو تو بھی گفتگو کی شروعات تو حوصلہ افزا ہیں۔“ میں نے دل میں کہا۔
کارٹر ایک محنتی ٹرک ڈرائیور تھا۔ نشہ کی وجہ سے اس کا لائسنس عارضی طور پہ چھن چکا تھا۔ ٹریٹمنٹ پلان میں اس کے ہدف ٹرک ڈرائیور لائسنس کو دوبارہ حاصل کرنا، جی ای ڈی کا امتحان لینا اور گھر والوں سے اعتماد اور محبت کے تعلقات برقرار رکھنا تھا۔
بظاہر سادہ سے یہ گول اتنے سادہ نہیں ہوتے۔ نشہ کا سالہا سال کا استعمال دماغ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔ مگر کارٹر پہ تو پچاس کے نمبر نے گویا جادو سا کر دیا تھا۔ جبھی اس کا مزید گول جی ای ڈی مکمل کر کے کالج میں داخلہ لینا بھی تھا۔ ہم منشیات سے جڑ کے اپنے کتنے ہی خوابوں کو کھو دیتے ہیں۔
امریکہ میں جو لوگ اپنی ہائی اسکول کو مکمل نہیں کر پاتے وہ بڑی عمر میں بھی جی ای ڈی کے امتحان پاس کرنے کے بعد کالج میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ سرٹیفیکٹ ہائی اسکول سرٹیفیکٹ کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔
اس نے کہا ”میرا حساب اچھا نہیں۔ مجھے اس میں مشکل ہوگی۔“ حساب تو میرا بھی کمزور ہے لیکن مجھے معلوم تھا کہ جی ای ڈی کی سطح پہ چوری چھپے سیشن کے دوران اس کی مدد ضرور کر سکتی ہوں۔ لہٰذا اکثر گوگل سے ورک شیٹ پرنٹ کر کے اسے دیتی۔ کبھی اس کو پڑھا بھی دیتی اس کا ہوم ورک بھی چیک کر دیتی۔ میری ذمہ داری صرف اس کی سائیکو تھرپی تھی۔ کسی کی تعلیمی مدد خطرہ سے خالی نہ تھا، اس کا اسے بھی علم تھا۔ لیکن ہمارے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھا۔ اور اسے اس معاہدے کا پاس تھا۔
ایک دن وہ بہت اداس تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے کچھ معلومات کی بنا پہ شک ہے کہ دس سالہ بیٹی اس کی نہیں۔ اور وہ بیٹی کی ولدیت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کروا رہا ہے۔ ”میری بیوی اور بیٹیاں مجھے چاہتی ہیں اور میں بھی ان کا عاشق ہوں۔ میں نے ان بچیوں کی خبر گیری کی۔ کام کی خاطر مختلف ریاستوں میں ٹرک چلا یا۔ یہ ضرور ہے کہ گھر سے دور رہ کے کبھی نشے میں خود کو بہلایا بھی۔ پہلی بیوی سے طلاق کے بعد بعد میں اکیلا تھا۔
بیٹا بیوی کے حصے میں آیا لیکن ہفتہ میں ایک بار میری باری بھی آتی۔ عورت کی قربت کی کمی منشیات کے نشے سے پوری کی۔ پھر مجھے جولیا مل گئی۔ بہت دلکش اور زندہ دل بس اپنا تو دل وہیں آ گیا۔ ہم دونوں نے شادی کر لی۔ وہ مجھ سے پورے دس سال چھوٹی ہے۔ بیٹی پیدا ہو گئی مگر نشہ تو پھر بھی نہ چھٹا کہ نشہ اور ٹرک ڈرائیوری لازم و ملزوم تھے۔ جولیا مجھ سے بہت محبت کرتی مگر اس کا اصرار تھا کہ میں اپنا علاج کرواؤں ورنہ وہ مجھے چھوڑ دے گی۔ میں ٹالتا رہا۔ اور اس وقت ہی علاج کے لیے آیا جب پولیس نے مجھے ٹرک چلاتے ہوئے منشیات کے ساتھ اوہائیو اسٹیٹ میں پکڑا اور لائسنس معطل کر دیا۔“
میں نے اس سے پوچھا کہ ولدیت کے اس ٹسٹ کے بعد اس کا اگلا قدم کیا ہو گا۔ اگر ٹسٹ مثبت آ گیا تو بیوی اور بچی سے علیحدگی کے بعد اس پر اور بچی پہ کیا اثر ہو گا۔ جواب میں وہ بچوں کی طرح رو پڑا۔ شاید بیوی اور بچی سے شدید محبت کی وجہ سے اس کے لیے جدائی کا تصور بھی محال تھا۔ اس نے کہا کہ اس کی بیوی بھی روتی رہتی ہے اور بچیاں اس صورتحال سے بے خبر، حیران اور پریشان ہیں۔
میں نے اس سے یہ سوال بھی پوچھا کہ فرض کرو کہ اگر اس کو کوئی نادار، نوزائیدہ بچی ملتی جس کو وہ انسانیت کے ناتے پوری دل و جان سے پالے۔ لیکن اگر کبھی ایک دن اس کا غائب باپ بچی کا پتہ ڈھونڈ کے اسے اس سے چھین لے تو بچی اور خود اس پر اس جدائی کا کیا اثر ہو گا۔
میں نے کارٹر سے اس ٹسٹ کو کروانے کے فوائد اور نقصانات کی فہرست بنانے کا کام، ہوم ورک کی شکل میں دیا تاکہ اگلے سیشن میں ہم اس کے تحریری جوابات پہ گہرائی میں بات کر سکیں۔
کارٹر نے بھاری دل کے ساتھ حامی بھر لی۔ اگلے سیشن کے وقت وہ کچھ مطمئن اور جذباتی طور پہ بہتر نظر آ رہا تھا۔ اسے وقت ملا تھا کہ وہ سوچ سکے۔
اس نے بتایا کہ اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ولدیت کا ٹسٹ نہیں کروائے گا۔ ”آخر انسانیت کا بھی تو مجھ پہ کچھ قرض ہے۔ “
پروگرام سے گریجویشن کے وقت کارٹر اکیاون سال کا تھا۔
اسے ٹرک کا لائسنس مل گیا تھا۔ وہ جی ای ڈی پاس کر چکا تھا۔ گریجویشن کے ایک سال بعد وہ ایک دن اچانک ہی مجھ سے ملنے آ گیا۔ میں تھرپی گروپ کروانے والی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ منشیات سے دور ہے اور بہت مطمئین زندگی گزار رہا ہے۔ ”میں شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے ڈی این اے ٹسٹ نہ کروانے کی سوچ دی۔ ہر صورت میں انسانیت بڑی ہے۔ اور بزرگی کی علامت یہ ہے کہ اس راہ کو اپنایا جائے جو ہمیں انسانوں سے جوڑے نہ کہ جدا کرے۔“ میں نے لقمہ دیا ”اور وہ بھی خاص کر پچاس سال کی عمر کے بعد ۔“ میری اس بات پہ وہ کھلکھلا کے ہنس پڑا تھا۔


