بقا کا یہی ایک راستہ بچا ہے!

حال ہی میں ’مجرم‘ قرار دیے جانے والے صدر ٹرمپ پر الزام محض کسی پورن سٹار سے ناجائز تعلقات استوار رکھنا، یا ’ہش منی‘ کے ذریعے اس کا منہ بند کرنا نہیں۔ بلکہ ان کا اصل جرم سال 2016 ء کی انتخابی مہم کے دوران اس ’ذاتی معاملے‘ کو پوشیدہ رکھتے ہوئے امریکی عوام کے ’حقِ انتخاب‘ کو متاثر کرنا ہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے ’حق انتخاب‘ کو کسی بھی ’غیر قانونی عمل کے ذریعے متاثر کر نا‘ ہی ایک آزاد جمہوری معاشرے میں ناقابل ِمعافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے دنیا بھر میں جمہوری اقدار کا علمبردار امریکہ اپنے دوست ممالک کی عوام سے متعلق ایسی حساسیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟
صدر ٹرمپ کو عین انتخابات سے پہلے ’گلٹی‘ قرار دیے جانے پر اُن کی حریف سیاسی جماعت کہ جس کا نامزد صدارتی امیدوار انتخابات ہارتے ہوئے صاف دکھائی دے رہا تھا، مجموعی طور پر مسرور و مطمئن ہے۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ عدالتوں کے ذریعے اپنے سیاسی حریف کو نشانہ بنائے جانے پر پارٹی کے اندر بہرحال ندامت کا احساس بھی موجود ہے۔ تاہم سٹیون لیوٹسکی اور ڈینئل زیبلاٹ جیسے ڈیمو کریٹس کی ترجمانی کرنے والے سکالرز کا خیال ہے کہ جمہوریت ٹرمپ جیسے ’نوواردوں‘ کی وجہ سے خطرے میں ہے۔
چنانچہ دونوں صاف الفاظ میں تمام سٹیک ہولڈرز (بشمول مقننہ، انتظامیہ، میڈیا، اور اسٹیبلشمنٹ، حتی کہ عدلیہ) پر زور دیتے ہیں کہ وہ میدان سیاست میں گھس آنے والے ایسے ’اجنبیوں‘ کو نکال باہر کرنے کے لئے ایک ہو جائیں۔ دوسری طرف ریپبلکن پارٹی امریکی نظامِ عدل کے سیاسی استعمال پر سیخ پا ہے۔ خود صدر ٹرمپ اپنے خلاف فیصلے کے پسِ پشت جو بائیڈن انتظامیہ کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے مخالفین کو انتخابات میں اُن کی فتح کے نتیجے میں ہزاروں اندیشے لاحق ہیں۔ ٹرمپ علی الاعلان کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آ گئے تو اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالیں گے۔ انہوں نے امریکہ کے سابق چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک ملی کو سزا دلوانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ یوکرین سمیت دنیا بھر میں امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے مفادات کے برعکس پالیسیاں اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم ٹرمپ مخالفین کے لئے سب سے زیادہ فکرمندی کا پہلو یہ ہے کہ 2016 ء میں عہدہ سنبھالنے والے نوآموز صدر کی بجائے، اب کی بار وہ انتقام پر آمادہ ایک ایسے شخص کی صورت میں اقتدار میں لوٹیں گے کہ جسے اپنی طاقت کا بخوبی اندازہ ہو گا۔ اب یہاں دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے فعال جمہوریت اپنے ہی عوام کے حقِ رائے دہی اور حسنِ انتخاب پر اعتماد کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟
یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ جمہوریت پوری دنیا میں زوال پذیر ہے۔ وی ڈیم نامی ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جمہوریت کا عالمی انڈیکس اپنے نقطۂ عروج کو چھونے کے بعد زوال کا شکار ہوتے ہوتے اب ستر کی دہائی کی سطح پر واپس جا چکا ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے مقابلے میں براہِ راست فوجی آمریتوں کی بجائے اکثر ممالک میں بظاہر منتخب حکومتیں قائم ہونے کے باوجود اُن کے آمرانہ طرزِ عمل کی بنا پر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی اور جمہوری ادارے بشمول پارلیمنٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہو پاتے۔
انتخابات اکثر و بیشتر کسی نہ کسی عذر کی بنا پر وقت پر منعقد نہیں ہوتے۔ میڈیا پابندیوں کا شکار رہتا ہے۔ سیاسی مخالفین کی بیخ کنی کے لئے ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ جمہوری رویوں میں عالمی زوال کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری اور انسانی حقوق کا علمبردار کہلایا جانے والا ملک امریکہ بھی ’بیک سلائیڈنگ جمہوریت‘ کی کیٹگری میں شامل ہو چکا ہے۔ چنانچہ ایسا پہلی بار ہوا کہ 2020 ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج پر ’ڈیپ سٹیٹ‘ کی چھاپ کو محسوس کرتے ہوئے، ہارنے والے فریق نے انہیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اپنایا۔ جبکہ دوسری طرف یہ بھی پہلی بار ہوا کہ انہی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت نے بقا کی جبلت کے زیرِ اثر اپنے سیاسی حریف اور ایک سابق صدر کے خلاف پے در پے مقدمات قائم کیے ۔ اب اسی ایک شخص کی متوقع واپسی پر پورا نظام خوفزدہ ہے۔
خود ہمارے آس پڑوس میں صورتِ حال کیا ہے؟ بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی انتخابی مشق اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ انتخابی مہم تو پاکستان اور مسلمانوں سے نفرت پر استوار بیانیے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں سمیت میڈیا پر پابندیوں سے داغدار رہی، تاہم انتخابی نتائج جبر اور انتہا پسندی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی کرن کے صورت جگمگانے لگے۔ مودی کے تاریک سائے کو کسی اور نے نہیں، عوام نے ووٹ کی طاقت کے ساتھ مزید پھیلنے سے روکا۔ بھارتی اپوزیشن داد کی مستحق ہے کہ اس نے منہ زور مودی اور اس کی پشت پر کھڑے میڈیا، ارب پتی کاروباریوں اور ریاستی جبر کے گٹھ جوڑ کو محض اپنے عزم صمیم سے شکست دی ہے۔
امریکی اسٹیبلشمنٹ کے مقامی مہرے اکثر ٹرمپ اور عمران خان میں مماثلت بہت رغبت کے ساتھ ڈھونڈتے ہیں۔ تاہم دونوں شخصیات میں کوئی اور قدرِ مشترک ہو یا نا ہو، دونوں کو نظام کے اندر ’اجنبی‘ ضرور کہا جا سکتا ہے۔ نظام میں در آئے کسی ’اجنبی‘ کو ’ملک دشمن یا سیکیورٹی رسک‘ قرار دیتے ہوئے عوام کے حسنِ انتخاب پر عدم اعتماد کیے جانے کی روش اب دنیا بھر میں عام ہے۔ خود امریکہ میں صدر ٹرمپ کا کلیدی جرم بظاہر ’عوام کے حق انتخاب کو دھوکہ دہی سے متاثر‘ کیے جانا ہی بتایا گیا ہے۔ تاہم دکھائی یہی دیتا ہے کہ اس کے حقیقی محرکات بقا کی صدیوں پرانی جبلت اور اسی کے زیر اثر سیاسی حریف کو مٹا دینے کی ’حیوانی خواہش‘ کے سوا اور کچھ نہیں۔
اگلے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب قوانین پر شنوائی کے دوران جہاں بہت کچھ کہا گیا وہیں جسٹس مندوخیل نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’آپ کی باتیں سن کر مجھے خوف آ رہا ہے‘ ۔ جسٹس اطہر من اللہ بھی ایک توانا اور حکمت کی آواز بن کر اُبھرے ہیں۔ بقا کی سرشت کے زیرِ اثر مہیب تاریکی میں سرپٹ بھاگنے والوں کو ایک گھڑی رُک کر حکمت کی بات پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ بقا کے لئے حریف کا وجود مٹا دینے کی قدیم جبلت کو زیرِ دام لانا ہی حکمت کا پہلا درس اور درست راہ کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس باب میں اہلِ اقتدار کی ذمہ داری جیلوں میں پڑے مرد و خواتین سے کہیں زیادہ ہے۔ معاملات کو عوام کی اجتماعی دانش کے سپرد کرنا ہی واحد درست راستہ ہے۔ اہلِ اقتدار کے سامنے مشکل مگر یہی تو آن پڑی ہے کہ بات چیت جب بھی ہو، ہر راستہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کی طرف ہی لے کر جاتا ہے۔

