بانو کہانی: کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟


یوں تو آپ ہمیں بارہا باور کرواتے ہیں کہ ہم کم لکھتے ہیں۔ صحیح کہتے ہیں۔ لیکن ابھی اگر ہم آپ سے اپنی پچھلی تحریر کے بارے میں پوچھ لیں تو آپ یوں خاموش ہوں گے کہ کاٹے لہو نہیں بدن میں۔ ہم سے شرط لگوا لیجیے کہ آپ کو وہ تحریر چنداں یاد نہیں جس میں ہم نے اپنی سہیلی انعم کا ذکر کیا تھا۔ اچھا، اب جانے دیجئے بہانے بنانا۔ آپ کو اس کا مرکزی خیال یاد ہو تو جو چور کی سزا وہ ہماری۔

اچھا چلیے، معاف کیا۔ کیا یاد کریں گے!

اچھا تو ہم ذکر کر رہے تھے اس کہانی کا جس کا مرکزی کردار ہماری سہیلی انعم تھی۔ آج ہم ایک اور کہانی سنائیں گے جو بانو کی ہے۔ ویسے تو ہم دونوں کی ہے لیکن ہماری کہانی کا مرکزی کردار بانو ہے۔ کہانی مرضی کی مالک ہوتی ہے۔ اس کے کردار بھی جیسے چاہیں بنا لیں۔ سنانے والے کی کہانی سننے والے کی کہانی سے مختلف ہوتی ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

بانو سے ہماری پہلی ملاقات نہاری کی پلیٹ پر ہوئی جو ہم نے خستہ خمیری روٹی سے کھائی۔ دوسری ملاقات میک اپ کی دکان پر ہوئی جہاں سے ہم نے گہری میرون لپ اسٹک لی۔ تیسری ملاقات کیرالہ کی سنہری ساڑھی پر ہوئی جس پر نیلے رنگ کی ایک داستان رقم تھی۔ اس کے بعد جو ملاقات ہوئی وہ نہ آج تک ختم ہوئی نہ ہم ہونے دیں گے۔

وہ پاکستان رہتی ہے اور ہم آسٹریلیا۔ جب تک بانو نہ جاگے یہی لگتا ہے کہ آسٹریلیا میں دن نہیں چڑھا۔ اس لیے ہم۔ اس کے جاگنے سے پہلے اسے بے تکان وائس نوٹ بھیجتے ہیں جس میں کافی شاپ پر ساتھ بیٹھی خفا سی بچی سے لے کر ہمسائیوں کے گھر سے آنے والی تلی ہوئی مچھلی کی خوشبو کا ذکر کرتے ہیں۔ کبھی کسی فلسفے کا تیا پانچہ ادھیڑتے ہیں تو کبھی اپنی ہر رات کا خواب سناٹے ہیں۔ بھلے گوشت میں آلو ڈالنے کا مشورہ لینا ہو یا لال جوڑے کے ساتھ سنہری جھمکوں پر مخمصے میں ہوں، ماضی کا رونا حال میں رونا ہو یا فکر فردا میں غلطاں ہوں، ہمارا ہر مسئلہ بانو کے لیے مسئلہ کشمیر ہے جس کے حل کی ذمہ داری اسے اپنے دن کا اہم ترین کام لگتی ہے۔

ہمیں بے تکان بولنے کی عادت ہے، اسے اسی توجہ سے سننے کی۔ انہیں بے تکی باتوں میں ہم نے اپنا آپ پا لیا اور اس نے اپنا۔

کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ اگر بانو نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ پھر خیال آتا ہے کہ ایسا ہوتا ہی کیوں کہ بانو نہ ہوتی۔ اسے تو ہونا تھا۔ وہ تو ہو گی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ نہ ہو۔

کبھی کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ پدرسری نظام نے ہماری کیسی نیا ڈبوئی۔ جہاں عورتوں کو دوسرے درجے کی صنف بنایا، خاندان کی ’عزت‘ بنانے کا فریب رچا کر انہیں سماج کی بھینٹ چڑھا دیا، انہیں مردوں سے کم عقل گردانا، وہیں انہیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ ہر بھی کھڑا کیا۔ ہم بچپن سے سنتے آ رہے تھے کہ عورت عورت کی دشمن ہے۔ عورت عورت کا گھر توڑتی ہے۔ ساس کو بہو کے خلاف کھڑا کیا اور بھابھی کا نند سے بیر کرایا۔ زمانہ ’ماڈرن‘ ہوا تو ہمیں یہ بہلایا گیا کہ لڑکیاں ایک دوسرے سے جلتی ہیں۔ ان کی آپس میں ویسی بے لوث دوستی نہیں ہوتی جیسے آدمیوں کی ہوتی ہے۔ ڈراموں فلموں میں بھی مردوں کی دوستیوں کو سنگھاسن پر بٹھایا گیا۔

ہم سے ہمیشہ چھپایا گیا کہ عورت اور مرد دونوں کا دشمن ایک ہے اور وہ پدرسری نظام ہے۔ یہ بات تو کمال صفائی سے غائب کر دی گئی کہ عورت کی حقیقی خیر خواہ بھی عورت ہی ہے۔ عورتوں کے جذبات کو سمجھنے والی عورت ہی ہے۔ عورت کی ہنسی میں چھپی سسکی اور آنسو میں چھپی امید کو ایک عورت ہی جان سکتی ہے۔ اور چھپایا بھی کیوں نہ جاتا۔ جھوٹ اور ریاکاری کے اس نظام کا ایندھن بھی تو چاہیے۔ جبر کا نظام بھلے سرمایہ کاری کا ہو یا پدر شاہی کا، اس کی بنیاد یہی گہری دھند ہے جس موٹروے پر گاڑیاں ٹکراتی ہیں۔

ظلمت کا خاتمہ روشنی میں ہے اور ظلم کا خاتمہ سچ میں۔

یہ نظام اور اس کے بوسیدہ مہرے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جس دن سعدیہ نے بانو ڈھونڈ لی اسے ان کھوکھلے سہاروں کی حقیقت پتہ چلائے گی۔ جس دن ہر سعدیہ اور بانو نے مل کر اپنا آپ پا لیا، اس دن اس نظام کی دیمک زدہ بیساکھیاں بھربھرے برادے کی طرح زمین پر ڈھیر ہو جائیں گی۔ جس دن ہر سعدیہ نے اپنے ارد گرد کی عورتوں کو دشمن جاننا چھوڑ دیا اس دن نظام کی گیم اوور ہو جائے گی۔

آپس کی بات ہے، انقلاب کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ انقلاب وہی ہے جو دل کی دنیا میں آئے اور روشنی کی طرح ہر راہ کو صاف ظاہر کر دے۔ جس دن ان ظلم پر مبنی نظاموں کا بھید مظلوموں پر کھل گیا، نہ بانس رہے گا نہ بانسری۔

بائی دا وے، شیطان آپ کو یہ کہانی شیئر کرنے سے روکے گا۔ آپ کے ایمان کا امتحان ہے۔ چار دن کی زندگی ہے۔ سب یہیں رہ جانا ہے۔ پھر نہ کہیے گا، خبر نہ ہوئی۔

زندگی گزارنے کا سب سے آزمودہ نسخہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments