محبت اور انسان
محبت اور انسان کا رشتہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے میں موضوع بحث رہا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کی روح، دل اور ذہن کو ایک نئے انداز میں جینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ محبت کی کہانیاں، تجربات اور اثرات نے انسان کی تاریخ ادب اور فنون میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔ محبت ایک فطری عمل ہے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو نہ صرف انسانوں کو ایک دوسروں کے ساتھ جوڑتا ہے بلکہ اُسے مکمل اور بہتر انسان بناتا ہے۔
اگر محبت نہ ہوتی تو شاید کائنات کا نظام نہ چلتا کیونکہ اللہ نے کائنات کو کسی کے لئے بنایا ہے۔ محبت فطری طور پر ہر چیز میں ہوتی ہے ہم انسانی محبت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انسان پیدائشی طور پر محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ جس طرح نیلسن منڈیلا نے کہا تھا۔ ”انسان پیدائشی طور پر کسی سے نفرت نہیں کرتا اسے سکھایا جاتا ہے والدین سکھاتے ہیں سکول کی کتابیں سکھاتی ہے، میڈیا سکھاتا ہے۔
ورنہ انسان کی فطرت تو محبت کرنا ہے۔ جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔
ایک بچے کی محبت کی ابتدا اس کی ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے۔ پھر گھر کے ماحول میں اس کے بعد معاشرے میں۔ جب ایک بچہ ان مراحل سے گزرتا ہے تو ان میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہے۔ اس کی ترجیحات میں تبدیلی آتی ہے مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں سے محبت۔ اس طرح انسان کی محبت ہر چیز سے ہو سکتی ہے۔ اس کی محبت رومانوی بھی۔ ہو سکتا ہے اس کی محبت خدا سے بھی ہو سکتا ہے اور خدا کی کائنات سے بھی ہو سکتا ہے۔ محبت میں سب سے اہم عنصر جمالیات کا ہے۔ اور جمالیات ہر انسان کے فکر و خیال میں مختلف ہوتی ہے ایک انسان کسی جانور سے بھی بے پناہ محبت کر سکتا ہے وہ خدا سے بھی بے پناہ محبت کر سکتا ہے۔ یا وہ ایک رومانوی محبت میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ محبت جذبات ہے جو انسان کے اندر یا داخلی قسم کے جذبات کا ایک اہم عنصر ہے۔
ہر ایک انسان محبت کرتا ہے لیکن وہ اپنے خیال و فکر کے مطابق محبت کرتا ہے اور وہ کسی چیز سے کرتا ہے وہ اس کی سوچ پر اس کے فکر پر depend کرتا ہے۔ محبت میں انسان کی اپنی سوچ اور معاشرے کا دیا ہوا خیالات / افکار سب سے اہم ہوتی ہے۔ یہ محبت انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انسان کو جوانی میں رومانوی محبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو اس وقت انسان کا ایک اہم اور پیچیدہ تجربہ ہوتا ہے یہ محبت انسان کے دل میں جذباتی وابستگی، وفاداری ہے اور قربانی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ اس محبت میں انسان خواب دیکھتے ہیں اور اپنی خواہشات کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ جس سے انسان اپنی عمر کے لحاظ سے زیادہ تجربہ اخذ کرتا ہے۔ اور اس میں انسان کو مثبت جذبات سے خوشی سکون اور اطمینان ملتا ہے اس میں انسان کو مختلف قسم کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی محبت صرف انفرادی تعلقات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشرتی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ محبت کی ایک اہم پہلو خود سے محبت کرنے اپنے آپ کو قبول کرنا اپنے اپ کو سمجھنا اس سے انسان کو زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے خود اعتمادی فراہم ہوتی ہے۔
محبت کو مذاہب نے نیکی قرار دیا ہے تو فلسفیوں نے اس کو انسانی وجود کی ایک بنیادی حقیقت قرار دیا ہے جو زندگی کو معنی اور مقصد فراہم کرتی ہے۔ محبت انسان کو دوسروں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اور اسے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مضبوط بناتا ہے۔
Symposium افلاطون نے اپنی تصنیف میں سقراط کے نظریات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سقراط کے مطابق محبت ایک مافوق الفطرت طاقت ہے۔ اس کا نزدیک محبت کا مقصد جسمانی خوبصورتی سے شروع ہو کر روحانی خوبصورتی تک پہنچنا ہے۔ یہ محبت انسان کو حکمت نیکی اور اعلیٰ اقدار کی طرف راغب کرتی ہے۔ تو دوسری جانب افلاطون نے محبت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے : ایک کو جسمانی محبت (Eros) اور دوسرے کو روحانی محبت (Agape) جسمانی محبت۔ انسان کو جسمانی خوبصورتی اور لذت کی طرف مائل کرتی ہے جبکہ روحانی محبت انسان کو روحانی خوبصورتی اور نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ افلاطون کے مطابق، روحانی محبت انسان کو حقیقی خوشی اور تسکین فراہم کرتی ہے۔
ارسطو نے محبت کو دوستی (philia) اور رومانی محبت ) Eros) میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقی دوستی کی بنیاد خیر خواہی اور نیکی پر ہوتی ہے، ارسطو کے مطابق، حقیقی محبت ایک دوسرے کی بہتری اور خوشی کے خواہش پر مبنی ہوتی ہے۔
ماہر نفسیات ”کارل جونگ نے محبت کو انسانی شعور کی ایک اہم حقیقت قرار دیا ہے اس کے مطابق محبت انسان کو مکمل بناتی ہے۔
”ایریک فرام“ جو ایک ماہر نفسیات اور فلسفی تھے۔ اپنی کتاب The Art of loving ”میں محبت کو ایک فن قرار دیا ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرام کے مطابق محبت ایک فعال عمل ہے جس میں دیکھ بھال، ذمہ داری، احترام اور علم شامل ہے۔ اس کے نزدیک محبت ایک انتخاب ہے جو انسان کو خود مختاری اور آزادی فراہم کرتی ہے۔ محبت صرف ایک انسان کی ذاتی اور جذباتی تجربہ نہیں بلکہ اس کا معاشرتی پہلو بھی ہے محبت انسان کو دوسروں کے ساتھ جوڑتی ہے اور ایک معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جس طرح باچا خان (خان عبد الغفار خان ) نے محبت کو امن کہا ہے۔ ایک انسان جب محبت کرتا ہے تو باچا خان کے نزدیک وہ امن پسند ہے۔
مہاتما گاندھی نے محبت کو عدم تشدد کی بنیاد قرار دیا ہے۔ گاندھی کے نزدیک اگر انسان فطری محبت پر اجائے تو وہ تشدد نہیں کر سکتا۔
” گوتم بدھ کے نزدیک انسان کے اولین فرض محبت ہے۔
مولانا رومی کے مطابق اگر انسان محبت میں۔ مبتلا ہو جائے تو وہ آہستہ آہستہ خدا کی قربت حاصل کرتا ہے رومی کے مطابق محبت انسان کو معرفت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
محبت ایک عظیم احساس ہیں اور باقی رہے گا اس پر اشفاق حسین کا یہ شعر کہ؛
محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا
چلے جائیں گے ہم لیکن سفر باقی رہے گا


