بابا شیکسپئر کے شہر میں، معاشقہ ایک منشی کا: لندن تا برمنگھم (5)
حالانکہ آٹھ بج رہے ہیں صبح پرنور کے، سورج کی اُجلی اُجلی شعاعوں سے لگتا ہے گویا دوپہر کے دو بجے ہوں۔ یہاں کا آسمان ہمارے والے کی طرح دھویں اور آلودگی سے اَٹا ہوا تھوڑی ہے، کہ سورج ہر وقت باپردہ نظر آئے۔ دن ہے جمعرات کا، مہینہ اپریل، سال دو ہزار چوبیس اور ہم برمنگھم سے سٹراٹ فورڈ ٹاؤن کی جانب رواں دواں ہیں۔ بابا شیکسپیئر کے جنم بھومی اور کنگ ایڈورڈ گرامر اسکول کا دیدار کرنے۔ جہاں یہ شخصیت پلی بڑھی، جوان ہوئی، گوہر نایاب بنی اور آخرکار زندگی کے ساتویں مرحلے میں پہنچ کر انھیں دارِ فنا سے دارِ بقا میں پناہ ملی۔
کہاں میرے دو ساتھیوں جیسے لوفر لفنگے، کہاں برطانیہ کے نائٹ لائف کے مزے، کلب، پب، بار اور لمبی تڑنگی مرمریں گردن والی گوریوں کے ناز و نخرے، ٹائٹ پوشاک میں ’تنگ آمد بہ جنگ آمد‘ اعضائے پوشیدہ کی احتجاجی حرکات و سکنات اور کہاں بابا کا اسکول، مقبرہ اور گئے گزرے زمانے کی گئی گزری عمارات۔ بعض لوگ کسی کے مُنھ سے بات چھین لیتے ہیں۔ سید شبیر احمد صاحب نے ہمارے قلم کے الفاظ چھینے ہیں، فرماتے ہیں : ”ادب شناس اور کتابوں سے دوستی رکھنے والوں سے تعلق ہونے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ جب بھی ان سے ملتے ہیں تو کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ دوسرا آپ بہت سی دوسری خرافات سے بچ جاتے ہیں۔“
بہ صد احترام، ہم اپنا سٹینڈ یوں لیتے ہیں کہ ادب شناس اور سُلجھے ہوئے لوگوں سے دوستی کا بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ جب بھی اُن سے ملتے ہیں، وہ آپ کا قبلہ موڑنے اور گردن مروڑنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ خرافات کا موقع ملتا ہے تو یہ ناہنجار بیچ میں دیوارِ چین بن جاتے ہیں۔ دراصل یہ اور کسی کا نہیں، کار میں بیٹھے ہمارے ہم راہی اور میزبان ضیاء الدین یوسفزئی کا کیا دھرا ہے۔ اُنھوں نے ہماری خواہشات کا گلا گھونٹا اور عیش و نشاط کے بجائے علم و قلم کے رستے پر ڈال دیا۔
کبھی یونی ورسٹی میں گھماتا پھراتا ہے، کبھی لائبریری، مقبرے اور کبھی کسی سکول میں لے جاتا ہے، ادب ناشناس کہیں کے۔ اِن دین دار لوگوں کے ساتھ تو ہماری بنتی نہیں۔ اپنا تو ماننا ہے کہ بدی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ نیکی، وگرنہ نیکی کی کہانی ختم۔ روشنی پھیلنے کو تاریکی چاہیے ہوتی ہے وگرنہ روشنی کی وقعت ختم۔ و اللہ اعلم بالصواب!
تو ہاں جی، سفر تو ہے کوئی گھنٹے بھر کا پھر بھی ہم دورِ غنودگی میں جی رہے ہیں، خوابیدہ خوابیدہ۔ آنکھیں کبھی باز تو کبھی نیم باز ہو جاتی ہیں۔ اِدھر گاڑی میں تشریف فرما دیگر چار عدد مخلوق آپس میں بحث و مباحثے میں اُلجھے، ہڑبونگ کی سی کیفیت بپا کیے ہوئے ہیں جو ہمارے ایک کان سے دوسرے میں پھسل کر ہوا میں تحلیل ہو رہی ہے۔ ساتھی اپنی باتوں میں ملکہ برطانیہ اور ہندوستانی کلرک عبدالکریم کا ذکر چھیڑتے ہیں تو ہمیں اُس خصوصی محفل کی یاد آ جاتی ہے جو کچھ عرصہ پہلے سوات کی ایک خوب صورت وادی گل بانڈئی میں اِسی موضوع پر منعقد ہوئی تھی جس میں کئی دوستوں نے اپنے فکری سرمائے سے ایک دوسرے کو نوازا تھا۔
یہ لگ بھگ ایک سو چھتیس برس قبل یعنی 1887 ء کی بات ہے۔ متحدہ ہندوستان کی بھیڑ بھاڑ میں آگرہ شہر کے چوبیس سالہ مسلمان نوجوان کلرک عبدالکریم کو لندن بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ ملکہ کے عہد کی گولڈن جوبلی منانے کے موقع پر ان کے ذاتی خدمت گار کی حیثیت سے کام کرے اور ملکہ کی خواہش کے مطابق ہندوستانی مہمانوں کی خصوصی خاطر تواضع بھی کرے۔ ملکہ کو پہلی نظر میں عبدُل میں کچھ خاص نظر آیا۔ خادموں، خادماؤں اور سیکڑوں ملازمین کے جُھرمٹ میں، وہ کچھ ہی دنوں میں ملکہ کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے۔
اُسے دربارِ عالیہ میں منشی کا متبرک عہدہ ملتا ہے اور اُسے حافظ محمد عبدالکریم منشی کا خطاب ملتا ہے۔ معاملہ مزید آگے بڑھتا ہے، حتیٰ کہ وہ ملکہ کا پہلا ہندوستانی سیکریٹری بنتا ہے۔ محل میں اُس کو عالی شان رہائش فراہم کر دی جاتی ہے۔ وہ ملکہ کو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ برصغیر کی زبانوں اور ثقافت کی تعلیم دیتا ہے۔ عبدُل انھیں ہندوستانی پکوانوں خاص کر ذائقہ دار ”کڑھی“ کا دلدادہ بناتا ہے۔ شاہی دربار میں ملکۂ وقت، وقت بے وقت عبدالکریم کے ساتھ تنہائی میں وقت بھی گزارتی ہیں۔
راز و نیاز کی سطح اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ عبدُل وہ خطوط بھی پڑھنا پرکھنا شروع کرتا ہے جو ملکہ کے نام آتے جاتے ہیں۔ ایک ہی محل میں ایک دوسرے سے دو چار قدم کی دوری اور ایک دیوار کے آر پار بیٹھے اور بار بار ملنے جلنے کے باوجود بھی ملکہ دن میں پانچ چھے چھے دفعہ مُنشی کو خطوط بھی لکھتی ہیں۔ قربت کا یہ عالم، یہ تشنگی اس حد سے بھی کئی قدم آگے تجاوز کرتی ہے، جب ملکہ شاہی محل سے کافی فاصلے پر واقع مرغ زاروں میں ایک دیہی کاٹیج میں عبدُل کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو شاہی اہل کار آگ بگولا ہو کر اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کی دھمکی دیتے ہیں لیکن پُرعزم ملکہ کسی بھی دھمکی پر کان نہیں دھرتیں اور تمام تہمتوں سے بے نیاز خوش قسمت عبدل کے ساتھ نزدیکیاں بڑھاتی ہیں۔
وقتی طور پر عبدل کے مشوروں سے ہندوستان کے وائسرائے کی طرف سے صادر ہونے والے احکامات اکثر مسلمانوں کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ ملکہ کو یہ بھی مشورے دینے لگتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔ 1906 ء میں مسلم لیگ کا قیام، 1909 ء میں پہلا مسلم اقلیتی ایکٹ، اور ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کی زندگی میں آسانیوں کا آنا، ان کا کسی حد تک اختیار تسلیم کرنا، اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
منشی ہی کی ’فرمائش‘ پر ہندوستان میں انتخابی کونسل کے طریقۂ کار پر ملکہ کا بار بار تحفظات کا اظہار کرنا، جس کی وجہ سے اس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہو سکتی تھی۔ وہ سفارش کرتی ہیں کہ اس انتخاب کے لیے ایسا غیر متنازعہ طریقہ وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیت کے لیے باعثِ اعتراض نہ ہو۔ عبدل ہی کی وجہ سے انگلستان میں مسلمانوں کو پہچان ملی اور ان کو تسلیم بھی کیا گیا۔ ملکہ کی مسلسل مداخلت اور وائسرائے پر دباؤ کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرتوں اور عداوتوں کا بڑھتا ہوا خلیج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا اور ان کے ایک ہندوستانی ملازم کی یہ داستان بالکل افسانوی لگتی ہے۔ صحافی شربانی باسو نے شاہی آرکائیو، برٹش لائبریری، وکٹوریہ کی ڈائری اور اس دور کے برطانوی اخبارات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنی کتاب ”وکٹوریا اور عبدل“ میں انکشاف کیا کہ دونوں کی عمروں میں خاصا فرق ہونے کے باوجود ملکہ اور عبدل ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے تھے۔ 1901 ء میں ملکہ کے انتقال کے ساتھ یہ رشتہ دفن ہو جاتا ہے۔ ملکہ کا خاندان اس رشتے کی باقیات کا نام و نشان مٹا دیتے ہیں۔ عبدل کو تمام عہدوں سے محروم کر کے ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اپنی خاص ڈائری، کئی خطوط اور دیگر اشیاء کسی نہ کسی طرح چھپا کر محفوظ کر لیتا ہے، جو تحقیق کے دوران باسو کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
برطانیہ سے واپسی کے آٹھ سال بعد 46 سال کی عمر میں عبدل وفات پا جاتا ہے لیکن اُس چودہ سالہ دور میں پورے برصغیر کے لیے عموماً اور مسلمانوں کی حالت میں بہتری کے لیے خصوصاً عبدالکریم کا کردار اور کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ اس نے خصوصی طور پر نسل پرستی کی شدت میں کمی لانے اور بین المذاہبی ہم آہنگی کے لیے اپنی توانائی، طاقت اور اختیار کا استعمال کیا۔ ہر طرف سے شدید مخالفت کے باوجود مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کے بیچ تعلقات کو نئی جہتیں دیں اور مسلمانوں کو ایک امن پسند، وفادار، باوقار اور نڈر قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
مسلمان آج بھی عبدل کے ایک سو چھتیس سال پرانے مثالی کردار کو مذاہب کے بیچ میں ہم آہنگی لانے کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ بہرحال، ہمارے پیارے دوست شوکت شرار کے مطابق بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ملکہ اور عبدل کے تعلق کا عجوبہ اور محبت مسلمانوں کی حالت میں بہتری لانے کے لیے ”قدرت کی کوئی سازش“ تو نہ تھی؟ یہ معجزہ رونما نہ ہوتا تو شاید وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آج کے دور کے مقابلے میں کئی گُنا زیادہ بُرے اور رو بہ زوال دن دیکھنے پڑتے۔
داستان کے آخری مرحلے میں پہنچنے کی دیر تھی کہ گاڑی کے بریک لگنے اور ضیاء الدین یوسفزئی کی آواز سماعت سے ٹکرانے کی دیر نہ تھی۔ ”پاسہ خان جی، ہم سٹراٹ فورڈ ٹاؤن پہنچ چکے ہیں، یہ وہی جگہ ہے جہاں ایک عہد ساز برطانوی ڈرامہ نگار، شہرہ آفاق مصنف و معروف قومی شاعر ولیم شیکسپیئر نے جنم لیا تھا۔ اُس نے انگریزی ادب کو تقویت دی۔ اُس کا قول ہے کہ دنیا ایک سٹیج ہے، خواتین و حضرات اِس میں اداکار ہیں اور اُن کے آنے جانے کا وقت مقرر ہے۔ ہر آدمی اپنے وقت میں مختلف کردار ادا کرتا ہے جو سات مرحلوں پر محیط ہے، عزیز حامد مدنی ٹھیک کہتے ہیں :
طلسم خواب زلیخا و دام بُردہ فروش
ہزار طرح کے قصّے سفر میں ہوتے ہیں
(جاری ہے )





