حبس دوام بعبور دریائے خاموشی


نوآبادیاتی حکمرانوں نے حبس دوام بعبور دریائے شور کے عنوان سے عقوبت کی ایک صورت حریت کے ان متوالوں کے لیے خا ص کر رکھی تھی جو غیر ملکی تسلط کی اطاعت سے زبان، قلم اور تلوار کے ذریعے مزاحمت کرتے تھے۔ اس سزا سے متصف ہونے والے قیدیوں کو بحیرہ ہند اور بحیرہ بنگال کے اتصال پر جزائر انڈیمان نکوبار بھیج دیا جاتا تھا۔ جس صعوبت کو علامہ فضل حق خیر آبادی، شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا محمد جعفر تھانیسری جیسے پیکران استقامت نے عزت بخش رکھی ہو اسے فرد کی سزا نہیں، قوم کا اعزاز سمجھنا چاہیے۔ اس اصطلاح میں دریائے شور سے مراد سمندر کی نمکینی ہے لیکن شور کا ایک مفہوم ہنگامہ زندگی بھی تو ہے جسے بینظیر بھٹو شہید Din of Democracy قرار دیتی تھیں۔ جمہوری مکالمہ بظاہر شوروغل اور بے ترتیبی معلوم ہوتا ہے لیکن اسی بے ترتیب مشاورت سے اجتماعی فراست شہری آزادیوں، اداروں کے استحکام اور معاشی ارتقا کے خدوخال تراشتی ہے۔ خبر اور اختلاف کے جمہوری غلغلے سے منغض ہونے والے ناتراشیدہ عناصر جبر و تشدد سے جو بندوبست مرتب کرتے ہیں اس میں شمشان گھاٹ کی خاموشی پائی جاتی ہے۔ اس خاموشی کے پردے میں سرگوشی، افواہ اور بحران کا طوفان پوشیدہ ہوتا ہے۔

سوویت تجربے کو دستاویز کرنے والے Orlando Figes نے The Whisperers: Private Life in Stalin’s Russia  کے عنوان سے ایک شاندار کتاب لکھی تھی۔ بظاہر ایک چھت تلے رہنے والے افراد خانہ میں اجتماعی جبر کے نتیجے میں خدشات، بیگانگی اور اعتماد کے بحران کی کی فضا پوری قوم کو تقسیم کر دیتی ہے۔ اگر آپ اورلینڈو فگز جیسے مصنفین کو مغربی استعمار کا گماشتہ سمجھنے والوں میں سے ہیں تو ایرانی مصنف آذر نفیسی کی نیم سوانحی کتاب Reading Lolita in Tehran دیکھ لیجئے۔ بنیادی نکتہ ایک ہی ہے کہ خبر کو روکنے سے جو خاموشی جنم لیتی ہے اس کے پردے میں سرگوشی کی بدخبری پروان چڑھتی ہے۔

پنجاب اسمبلی نے 20مئی کو ہتک عزت کا قانون منظور کر کے گورنر پنجاب کو ارسال کیا تھا۔ اس قانون پر تحفظات رکھنے والے گورنر پنجاب سلیم حیدر ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے بیرون ملک چلے گئے۔ پیپلز پارٹی اس قانون کی تہمت اپنے نام نہیں لینا چاہتی۔ قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے 8 جون کو ہتک عزت قانون پر دستخط کر دیے ہیں۔ بظاہر یہ قانون فیک نیوز، سنسنی خیزی اور اشتعال انگیزی کے خلاف بنایا گیا ہے لیکن ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ’اول اول چلے منجملہ آداب جو بات / آخر آخر وہی تعزیر بنی ہوتی ہے‘۔ نشریات کے شعبے میں قانون سازی وفاق کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور صوبائی قانون سازی سے تصادم کی صورت میں وفاق کی رائے بالادست قرار پاتی ہے۔ یہ قانون اس اصول کی نفی ہے۔ اس قانون کے تحت قائم متوازی عدالتوں کے ارکان کی ملازمت صوبائی حکومت کی صوابدید کے تابع ہو گی۔ ٹریبونل کے ارکان اپنی نوکری بچائیں گے یا انصاف فراہم کریں گے۔ کچھ آئینی عہدیداروں کے لیے ہائیکورٹ کے پلیٹ فارم کا استثنیٰ شہری مساوات کے منافی ہے۔ اس قانون میں ہتک عزت کے دعویدار پر ثبوت فراہم کرنے کی پابندی نہیں جوکہ دستور کی شق 10الف کے منافی ہے۔ ٹریبونل کو اختیار ہو گا کہ ملزم کوبغیر کسی سماعت کے فوری طور پر تیس لاکھ روپے کا جرمانہ کرنے کے علاوہ حق اپیل کے لیے معافی مانگنے پر مجبور کرے۔ اس قانون کے تحت، مقدمے کے بارے میں دوران سماعت کوئی خبر نہیں دی جا سکتی۔ ایسی صورت میں شفاف سماعت کیسے ہو سکے گی۔ مسودہ قانون میں صحافی، مدیر اور مالک کی شناخت گڈمڈ کر دی گئی ہے۔ گویا ایکس پر ظاہر ہونے والی ٹویٹ کا مالک ایلن مسک پنجاب میں طلب کیا جائے گا۔

ہتک عزت کے قوانین بناتے ہوئے عالمی معیار یہ ہے کہ ہتک عزت کا دعویٰ کرنے والے کے حقوق اور ملزم کے حق اظہار میں توازن قائم رکھا جائے۔ بادی النظر میں حکومت پنجاب کا ہتک عزت قانون واضح طور پر مدعی کو ایسا غیر مشروط اختیار دیتا ہے جس سے دستور کی شق 19 بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ بار ثبوت کے لیے ملزم کو ذمہ دار ٹھہرانا منصفانہ سماعت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ دستور میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے 1985 ہی میں آزادی اظہار کے بنیادی حق کا حلیہ بگاڑ دیا گیا تھا۔ اب سرے سے یہ شق ہی خلا میں معلق کر دی گئی ہے۔ عملی طور پر یہ قانون ٹھیک اسی طرح سے غلط استعمال ہو گا جیسے اہانت مذہب کے قوانین کا تین عشروں سے غلط استعمال ہو رہا ہے۔ یہ قانون پرنٹ، الیکٹرنک اور سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ اس میں ابلاغ کی کم و بیش تمام صورتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ماضی میں اشتعال انگیز مواد پر پابندی لگائی گئی تو حکومت نے ایک خاص مسلک کی مذہبی کتابیں ضبط کر لیں جبکہ اشتعال اور دہشت گردی پھیلانے والا مواد آج بھی کھلے عام دستیاب ہے۔ اگر پنجاب حکومت واقعی اس قانون کے ذریعے شہریوں کے تحفظ کی ضمانت چاہتی ہے اور یہ قانون سیاسی مخالفت کو کچلنے کے لیے نہیں بنایا جا رہا تو ایک سادہ آزمائش ممکن ہے۔

گزشتہ دنوں سرگودھا اور منڈی بہاﺅالدین میں اشتعال انگیز تقریریں کر کے ایک خاص مذہبی مسلک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو قتل کیا گیا ہے۔ کیا پنجاب حکومت کا ہتک عزت قانون ایسے گمراہ کن، اشتعال انگیز اور مجرمانہ ابلاغ کی جوابدہی بھی کرے گا یا اس قانون کا واحد مقصد پہلے سے نیم مردہ صحافت کو ریاستی جبر کی چٹان کے نیچے دفن کرنا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، ہمیں ففتھ جنریشن وار فیئر کی خبر دی جا رہی تھی۔ اس مفروضہ اصطلاح کی مدد سے صحافت کا گلا گھونٹا گیا۔ اب سوشل میڈیا پر کچھ مرغان دست آموز عناصر کی ہنگامہ پروری کی آڑ میں آزادی اظہار اور حقیقی صحافت کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے۔ مسلم لیگ نواز 1997 کا قانون برائے انسداد دہشت گردی (ATA) یاد رکھے۔ سنہ 2000 میں اسی قانون کے تحت میاں نواز شریف کو طیارہ اغوا کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔ دہشت گردی تو آج بھی جاری ہے۔ محض دو روز قبل لکی مروت میں سات فوجی جوان شہید کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی ان گھڑ قوانین سے ختم نہیں ہوتی اور نہ ایسے حربوں سے شرانگیز پراپیگنڈہ روکا جا سکے گا۔ ایک مستبد قانون کے ذریعے شہری آزادیاں محدود سے محدود تر ہوں گی۔ نظام انصاف کا اعتبار اٹھ جائے گا اور سیاسی انتقام کا الزام پنجاب حکومت کے گلے میں آویزاں ہو جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments