بلند عزائم کے حامل نوجوان سے ملاقات کی روداد


رواں سال مئی کے اواخر میں پشاور کی گرمی کچھ زیادہ بڑھ گئی تھی، میڈیا ورکشاپ کے سلسلے میں پشاور کے ایک پر آسائش ہوٹل میں ہم رہائش اختیار کیے ہوئے تھے، گرمی کے باعث فارغ اوقات بھی زیادہ تر ہوٹل میں مطالعہ اور دیگر مشاغل میں گزرتے۔ اس دوران مجھے ایک قریبی دوست کا برقی میسج موصول ہوا کہ وہ انہیں ایک شخصیت سے ملانا چاہتے ہیں، شاید اس شخصیت سے مل کر انہیں بھی اچھا لگے، عشاء کے بعد سورج کی تپش کچھ کم ہوئی تو بسم اللہ کر کے مین روڈ پر کھڑے ہو کر ٹیکسی کو اشارہ کیا اور منزل کی جانب چل دیا۔

پختون بیلٹ کے قلب پشاور میں ایک ایسے نوجوان جو اس بیلٹ کے حقوق کی بات کرتا ہے سے ملنے کے لئے مجھے تین بار ٹیکسی بدلنی پڑی، منزل سے کچھ پہلے ٹیکسی سے اترا، آگے پیچھے دیکھا اور چل دیا۔ مجھے ایسا لگا کہ شاید میں کسی کالعدم تنظیم کے کسی رہنما یا نہایت مطلوب شخص ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے 71 کے جنگ پر لکھے گئے جاسوسی ناول یاد آ گئے، جہاں کارروائیوں کے لئے مکتی باہنی اور ہمارے ملک کے خاص افراد یہ طریقے اپناتے تھے۔

دروازے پر کھڑے نوجوان مجھے لے کر ایک کمرے میں داخل ہوئے، بجلی چلے جانے کے بناء پر یہاں اندھیرا تھا دو لڑکے موبائل کے ٹارچ آن کر کے ارد گرد بیٹھے سبھی نوجوان درمیان میں تشریف فرما سادگی کی عمدہ تصویر نوجوان کی گفتگو نہایت انہماک کے ساتھ سن رہے تھے، جیسے میں نے سلام کیا، سب ہی نوجوان کے توجہ کا مرکز نوجوان مجلس سے اٹھا اور گرم جوشی کے ساتھ میری جانب لپکا جیسے مدت کی شناسائی ہو۔ یہ سب دیکھ کر مجھ پر ایک حیرت کا دروازہ کھول دیا اور اگلے ایک گھنٹے تک مسلسل حیرتوں کا یہ دروازہ کھولتا چلا گیا۔

یہ نوجوان انسانی حقوق کے فعال کارکن اور پی ٹی ایم کے روح رواں منظور احمد پشتین ہیں۔ گلے ملتے ہی اپنے ساتھ مجھے بٹھا لیا، تکیے سیدھے کیے۔ ایک طرف ہمیں ٹھیک سے بیٹھنے کا کہہ رہے تھے دوسری طرف دوستوں سے چائے پانی کے انتظام کا کہہ رہے ہیں۔ بیٹھتے ہی ان کے سحر نے گھیر لیا۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ ان کے لبوں پر موجود تھی۔ مجھ سے پوچھا، کہاں سے ہو؟ بتایا، باجوڑ سے، بولے باجوڑ، باجوڑ تو میرا دوسرا گھر ہے، باجوڑ کے لوگ تو ہمیشہ سے حریت پسندوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ از کجا می آید ایں آوازِ دوست۔ اس آواز میں کیا مٹھاس تھا۔ کیا لہجہ تھا اور کیا ہمدردی تھی۔ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔ جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔ بولے کیا جا رہے تھے بس یوں کہیے کہ لاکھوں آنکھوں میں اترے درد کو صاف کیے جا رہے تھے۔

مجلس میں وکلاء علماء سمیت ہر طبقہ فکر کے نوجوان موجود تھے، اس سے قبل وہ کسی اور موضوع پر گفتگو کرر ہے تھے مگر میں نے موجود دیگر لوگوں سے اجازت لے کر چند سوالات داغے۔ وہ ہنس دیے اور کہا کہ ابھی ہمارا موضوع چمن، لکی مروت، بنوں اور بالخصوص قبائلی اضلاع کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور کشیدگی تھی، میں نے اس موضوع پر ہی انہیں بات جاری رکھنے کی درخواست کی۔ حیرت انگیز طور پر ہم سب کی پریشانی اور دکھ ایک جیسے تھے کہ زخمی ایک بھی غیر نہیں اور گرتی ہوئی لاش ایک بھی پرائی نہیں، وہ مسلسل بولے جا رہے تھے، درمیان میں مہمانوں کی آمد جاری تھی مگر وہ پھر سے وہاں سے اپنی گفتگو شروع کرتا جہاں سے رک چکی ہوتی ہے، وہ ہر بات دلیل سے کر رہا تھا اس کی مدلل اور پرمغز گفتگو نے سامعین پر سکتہ طاری کیا تھا۔

میں نے موضوع کو بدلتے ہوئے ہاتھ کھڑا کر کے سوال کیا کہ آپ تنظیم کے صف اول کے ساتھی پارلیمانی سیاست شروع کرچکے ہیں، کیا پارلیمانی سیاست آپ کا بھی منزل مقصود ہیں؟ انہوں نے پوچھا آپ کی واپسی جلدی تو نہیں کیونکہ اس کا جواب ذرا تفصیلی دینا پڑے گا۔ میں نے گھڑی کے جانب دیکھا اور کہا کہ نہیں میرے پاس آدھا گھنٹہ ہے۔ انہوں نے مسکرا کر بولنا شروع کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے تنظیم کے آئین کے تحت یہ طے ہے کہ پی ٹی ایم غیر پارلیمانی ہی رہے گی۔

اور تنظیم کا کوئی عہدیدار پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ہم پہلے ہی دن سے پارلیمانی سیاست کے مخالف تھے اور وہ اپنی تنظیم کو پارلیمان سے دور رکھ کر اپنے عوام کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی سیاست میں آنے سے ہماری مزاحمت کمزور ہو جائے گی۔ ہمارا پارلیمان ایک مخصوص طبقے کے زیر تسلط ہے اور پارلیمان چونکہ آزاد نہیں ہے اس لیے وہاں کھل کر اپنے مطالبات کے حق میں بات بھی نہیں کر سکتے اس لیے ہم غیر پارلیمانی ہو کر پشتونوں کے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کریں گے۔

عقل محو حیرت تھی۔ یہ کیسا سمجھ دار اور عالم نوجوان ہے۔ کہاں چھپا بیٹھا ہے۔ حالات نے کیسے کیسے ہیرے ڈھانپ لیے ہیں۔ میرے واپسی کا وقت بھی ہو چکا تھا اور میں نے وقت بھی بہت لے لیا تھا اس لیے بادل ناخواستہ اجازت لی، منظور احمد اٹھے اپنے علاقائی روایات کے تحت میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور فی امان اللہ کہا، ہاتھ چھوڑتے ہوئے اگلی تفصیلی ملاقات کا وعدہ لیا اور ہم اپنی منزل کے جانب چل دیے۔

Facebook Comments HS