اعلی ترین ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی


پاکستان کے اعلی ترین ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کی تاریخ قدیم ہے۔ جمہوری مملکتوں میں ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کی کیفیت کا پیدا ہونا غیر معمولی نہیں ہے بلکہ جمہوری اقدار کی بنیاد ہی اختلاف رائے کے قائم ہونے پر اور جمہوریت میں برابری کی بنیاد پر مبہم تناؤ اور اختلافات کو گنجائش اور افہام و تفہیم کے تحت مقدم و حل کر لینا ہوتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد میں اختلافات اور افہام و تفہیم قوم و ملک کے وسیع تر تناظر و مفاد میں ہمیشہ متوازی سفر کرتے ہیں اختلافات و تنازعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے جبکہ جمہوری اقدار و جمہوری شعور نظام مملکت کو عوام الناس کی اوسط زندگی کی ترقی و بہتری کے لئے اختلافات و تنازعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کام پر لگاتے ہوئے مطلوبہ ترقی و تمدن کی بہتری کی طرف جاتے ہیں۔

مگر پاکستان میں شاید جمہوریت ہی نہیں پنپ سکی اور اگر پنپ بھی سکی تو محض شخصی عقیدت مندی کے تحت۔ پاکستان میں جمہوریت کے اعلی ترین معیار تک پہنچنے میں شاید تعلیم کا معاشرے میں کردار ادا نہ کر سکنا یا تعلیم کا نہ ہونا، سیاست دانوں کا سیاسی بلوغت تک کا طویل سفر، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی عدم موجودگی، تنزلی پسند معاشرتی اقدار وغیرہ وغیرہ جیسے عوامل ہیں۔ بلکہ پاکستان میں جمہوریت کے نچلے درجے پر ہونے کی وجوہات پر تو شاید ایک مکمل کتاب بھی جمہوریت کے کم ترین سطح پر ہونے کے اسباب کو بھی مفصل بیان کرنے کے لیے کم ہو گی۔

المختصر مہذب جمہوری ممالک اختلافات و تنازعات کی موجودگی میں ہی نظام مملکت کو چلانے اور بہترین ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ریاستی ادارے خاص طور پر پارلیمان اور عدلیہ مستقل محاذ آرائی کی کیفیت میں ہیں۔ کبھی وزیر اعظم پاکستان کالی بھیڑوں کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی عدلیہ کے ججز کے اختلافات اور پارلیمان کے نمائندے اخبارات اور میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اب تو تناؤ کی کیفیت سے بڑھ کر بات تقسیم تک جا پہنچی ہے۔

سیاسی لیڈران شیخ مجیب الرحمن کا حوالہ دے کر ویڈیو گیمز کھیل رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پارلیمان اور دیگر ریاستی اداروں میں دھڑا بندی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سیاسی ذمہ داران محض حصول اقتدار کے لیے تقسیم کے قانون کو کسی بھی حد تک ضرب دینے کے لئے سنجیدہ اور کوشاں نظر آتے ہیں۔ محاذ آرائی، دھڑا بندی اور ریاستی اداروں کو اختیارات اور اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرنا دانش اور سنجیدگی سے عاری اقدامات میں سے ہے۔

پاکستان کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو سیاسی پختگی و سیاسی شعور ہی نظام مملکت کو بہتر اور فعال بنا سکتا ہے۔ آئین ساز ادارے جب منافرت، تقسیم جیسے قبیح و مکروہ افعال کو مسترد کر کے سیاسی شعور و سیاسی پختگی کا مظاہرہ کریں گے اور گنجائش و افہام و تفہیم کو فروغ دیں گے تو ہی اقتدار کے ایوانوں کی عوام الناس کی محرومیوں اور غربتوں پر نظر پڑ سکے گی۔ اور تب ہی شاید اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کیا جا سکے گا۔ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے ثمرات مہذب جمہوریت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جس کی ایک مثال امریکہ جیسے ملک میں اخبار بیچنے والے کا ملک میں صدر بن جانا۔

موجودہ حالات میں حقائق کے تحت دیکھا جائے تو نظریات، لسانیات، عقائد کے تحت تقسیم کا عمل تو عوام الناس میں پہلے سے ہی جاری ہے مگر اب سیاسی تقسیم کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ سیاست میں اختلافات ہی سیاست کی بنیاد ہوتی ہے مگر سیاسی تقسیم اختلافات سے الگ اور دوسرے کو برداشت نہ کرنے پر ہوتی ہے جو کہ بعد میں فساد و شور بپا کرتی ہے۔ اس کی مثال یوں لیں کہ کوئی ایک مخصوص سیاسی لیڈر یہ کہے کہ وہ کسی دوسرے سیاسی مخالف سے بات نہیں کرے گا کیونکہ اپنی دانست میں وہ مخصوص لیڈر باقی سب کو اپنے ساتھ بیٹھنے کے قابل نہیں سمجھتا۔ جبکہ سیاست تو محض بات کرنے، گنجائش نکالنے اور ڈائیلاگ کرنے ہی کا تو نام ہے۔ تو گویا صف اول کی رہنماؤں نے بات کرنے کے عمل کو بند کر کے سیاست کو ختم اور تقسیم کو شروع کر دیا۔ اور یہی تقسیم اوپر سے نیچے تک ادارتی و عوامی سطح پر ضرب دینی شروع کر دی۔

کرنے کہنے اور لکھنے کو تو یہ تمام افہام و تفہیم و گنجائش کی بات بہت ہی اچھی، حسین تصورات اور خوب صورت خواب و خیالات پر مبنی ہیں مگر کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدان مجوزہ اور مطلوبہ متعین کردار اور سنجیدگی اور سیاسی بلوغت و سیاسی پختگی کا مظاہرہ کر پائیں گے؟ یا تقسیم کے قانون کو ضرب دیتے ہوئے ریاستی اداروں کو بھی تقسیم کی لپیٹ میں لے لیں گے؟

ان سیاست دانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے والے عوام الناس محض اس خوش فہمی میں ہوتے ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی ہمارے مسائل کے حل میں لگ جائیں گے مگر جیتنے اور ہارنے والے سیاست دان محاذ آرائی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ گویا سیاست دانوں کے مجوزہ منشور اور قول و فعل کی سنگین محاذ آرائی عوام الناس کے حصول حقوق کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔ ویسے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ عوامی مسائل ملک کو عفریت کی طرح گھیرے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں سیاسی پختگی، سیاسی بلوغت، سیاسی شعور اور سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا تو کب مطلوبہ سنجیدگی اور کردار کا مظاہرہ کیا جائے گا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments