شاید نہیں
رفیع حیدر انجم ( افسانے)
تاثرات: راشد جاوید احمد
رفیع حیدر انجم ، ادبی حلقوں میں ایک معروف نام ہے۔ ان کے لکھے افسانے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ اب ان کے افسانوں کا غالبا دوسرا مجموعہ ہے جو ” شاید نہیں” کے نام سے شائع ہوا ہے ۔ اس کتاب میں 26 افسانے اور 5 افسانچے شامل ہیں۔ مختصر افسانوں کی یہ کتاب 184 صفحات پر مشتمل ہے۔
میں نے اس مجموعے کے سبھی افسانے پڑھے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ رفیع حیدر انجم ایک حساس تخلیق کار ہیں۔ ان کے افسانے مختصر ہونے کے باوجود تفصیل اور گہرائی سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے سماج سے کہانیاں منتخب کی ہیں ، ان کے کردار تخلیق کیے ہیں ، منظر نگاری اور واقعات کی مدد سے انہیں افسانوی رنگ میں ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یہ منظر نگاری کچھ اس طرح کی ہے کہ قاری کو سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
افسانہ نگار کے لیے انسانی جذبات، احساسات اور نفسیات کی عکاسی ایک لازمی عنصر ہے۔ رفیع حیدر انجم نے اپنے کرداروں کے ان جذبات، یعنی محبت، نفرت، خوشی، غم، خوف اور کہیں کہیں امید کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے لیکن انہوں نے حقیقت سے روگردانی نہیں کی۔ افسانہ نگار نے کردار تخلیق کرتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھا ہے کہ اپنے خوابوں، خواہشات ، مشکلات اور کامیابیوں کی بنا پر یہ کردار حقیقی انسانوں کی طرح نظر آئے ہیں۔
” توتلا عباس”، ” خواب خواب کہانی” ، ” ایک سفر رنج شام”، "، ” ادھورا آدمی”، پرانی بستی کی نئی کہانی ” اور ” بارش” وہ افسانے ہیں جو زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں اور قاری انہیں پڑھتے ہوئے خود کو کہانی کا ایک حصہ سمھجتا ہے۔ اس مجموعے کے تقریبا تمام افسانوں میں کوئی ادق منطق یا فلسفہ پیش نہیں کیا گیا بلکہ فطرت، قدرتی مناظر، حتٰی کہ موسمی تبدیلیوں اور ماحول کی تصویر کشی کی مدد سے بھی افسانوں کو زیادہ جاندار اور دلچسپ بنایا گیا ہے۔
” ایک ٹکڑا دھوپ کا”، ” سوکھی لکڑیاں "، ” دو پیاسے” جیسی کہانیاں ہمارے سامنے کی کہانیاں ہیں۔ ان افسانوں میں سماجی اور ثقافتی مسائل کا ذکر بھی ہے اور فنی پختگی سے معاشرتی ناہمواریوں، ثقافتی روایات اور عام آدمی کے مسائل کو اس طرح رقم کیا گیا ہے کہ قاری افسانہ پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو کسی سوچ میں ڈوبا پاتا ہے۔
” ایک گریزاں چہرہ” اور ” نامرد” مجھے نسبتا کمزور افسانے لگے۔
رفیع حیدر انجم کے اس افسانوی مجموعے میں مختلف اشیا، رنگوں اور واقعات کی دروبست سے کہیں کہیں گہری معنویت اور پیغام رسانی بھی مشاہدے میں آئی ہے۔ اور میرے خیال میں اسے علامتی پیرایہ اظہار ہی کہا جا سکتا ہے۔یہ افسانے زندگی، موت، محبت اور دیگر اہم موضوعات پر گہرے خیالات اور سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔ یوں ان افسانوں میں ایک فلسفیانہ سوچ بھی کہیں تہہ میں موجود ہے۔ افسانوں کی زبان سادہ اور عام فہم ہے، کہانی کے کرداروں کے جذبات اور خیالات سمجھنے کے لیے کوئی گتھیاں سلجھنانا نہیں پڑتیں۔
ان افسانوں میں نئے اور منفرد موضوعات اور ایک خاص اسلوب ہے جو قاری کو متوجہ اور متاثر کرتا ہے۔ رفیع حیدر انجم کی تخلیقی صلاحیت ان کے اس مجموعے سے پوری طرح عیاں ہے۔
کتاب فکشن گیلری نے شائع کی ہے اور ورلڈ ویو پبلشرز، لاہور سے دستیاب ہے۔



