رشتے بوجھ نہیں ہوتے!


آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور دن بدن اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر بے شمار ایسی تصاویر آئیں اور آ رہی ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا اور یہ تصاویر اپنے اندر ایک پوری کہانی سمائے ُہوتی ہیں اور لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ ایک تصویر جس کا عنوان ”گدھ اور ننھی بچی“ تھا اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے جس میں بھوک سے بلکتی بچی اور اس کی موت کے منتظر گدھ کو فوٹو گرافر کیون کارٹر نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا ہے اس فوٹو گرافر کو صحافت کی دنیا کا موقر ترین اعزاز پلٹز ر پرائز دیا گیا اور پھر متاثر کن تصاویر کی لائن لگ گئی مگر ان ہی میں سے پچھلے دنوں جاپان میں ہمت و طاقت کی علامت مانی جانے والی تصویر نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

یہ جنگ عظیم دوئم کے دوران لی گئی ایک آٹھ سالہ بچے کی تصویر ہے جس نے اپنی پیٹھ پر جنگ کے دوران مر جانے والے اپنے چھوٹے بھائی کی لاش اٹھائی ہوئی ہے کہتے ہیں یہ بچہ اپنی پیٹھ پر لاش اُٹھائے پیدل بڑی دور سے آیا تھا اب اس کی تدفین کا منتظر تھا کہ ایک فوجی نے اسے دیکھ کر ہمدردی سے کہا بیٹا ”یہ بوجھ ( وزن ) بھاری لگ رہا ہے تو میں اُٹھا لوں“ تو بچے نے جواب دیا ”یہ بوجھ (وزن ) نہیں میرا بھائی ہے“ رشتے بوجھ نہیں ہوتے نبھانے کے لیے حوصلہ اور ہمت ہونی چاہیے ہوتی ہے۔

یہ تصویر آج بھی جاپان میں ہمت و طاقت کی علامت مانی جاتی ہے۔ اس تصویر میں بچے کے چہرے کے تاثرات اور اس کی بے بسی پوری دنیا کو ایک پیغام دے رہے ہیں کہ ”رشتے بوجھ نہیں ہوتے نبھانے کے لیے انسانی حوصلہ اور ہمت درکار ہے! کہتے ہیں رشتے اور راستے تب ختم ہوتے ہیں جب پاؤں نہیں دل تھک جاتے ہیں“ اللہ تعالیٰ کے بنائے رشتے تو پاکیزہ پھولوں کی طرح طرح ہوتے ہیں اور ہماری زندگی میں خوشبو کا جھونکا بن کر آتے ہیں۔ یہ دل کے رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں ہماری روح سے نزدیک مگر آنکھوں سے اُوجھل رہ کر بھی اپنا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

رشتے جن کے بغیر انسانی زندگی ادھوری، بے معنی اور نامکمل ہے کہتے ہیں رشتے جسم میں روح کی طرح ہوتے ہیں جو ایک لطیف احساس کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں اور باہمی الفت، احترام، توجہ اور اعتماد کے محتاج ہوتے ہیں کچھ رشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی پیدائش کے ساتھ ہی بنا دیے جاتے ہیں جو خاندان اور قوم کہلاتے ہیں انسان سب سے پہلے جن رشتوں سے جڑتا ہے وہ ماں، باپ، بہن، بھائی اور ایسے ہی دیگر بے شمار رشتہ دار جن سے آپ کا خونی رشتہ ہوتا ہے جو حقیقی رشتے بھی کہلاتے ہیں اور حقیقی رشتوں کا مرتبہ دوسرے رشتوں کی نسبت زیادہ بلند ہوتا ہے اور پھر ایسے ہی بہت سے دیگر رشتے ہیں جو خونی تو نہیں ہوتے مگر قریبی ہوتے ہیں۔

کچھ ناتے اور رشتے ایسے ہیں جو ہم خود بناتے ہیں یا پھر بن جاتے ہیں جیسے دوست یا بیوی بنانے میں ہم آزاد ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب کے اپنے اپنے حقوق ہیں جن کی ادائیگی رشتوں کو نبھانے کے لیے ازحد ضروری ہے۔ اچھا انسان رشتوں کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے بہت اچھی طرح سے نبھا تا ہے۔ حقیقی رشتوں کا نبھانا ہمارے مذہب میں فرض ہے اور فرض کی ادائیگی لازم ہے۔ ماں باپ کے حقوق اتنے زیادہ ہیں کہ مختصر بیان ممکن نہیں ساتھ ساتھ بہن بھائیوں سے رشتے نبھانا بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔

بعض رشتوں کے نام نہیں ہوتے مگر بڑے مقام ہوتے ہیں۔ انسانی زندگی ایک درخت کی مانند ہوتی ہے جس سے جڑے سارے رشتے ہری بھری ٹہنیوں کی طرح ہوتے ہیں اگر ٹہنیاں سوکھ جائیں تو پورا درخت سوکھ جاتا ہے زندگی کے اس درخت کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے ٹہنیوں کا ہرا بھرا رہنا ضروری ہے اگر رشتوں میں ذرا سی بھی غلط فہمی جنم لینے لگے تو رشتوں کی یہ ٹہنیاں آہستہ آہستہ سوکھ کر ٹوٹ کر بکھر نے لگتی ہیں ان کو بکھرنے سے بچانے کے لیے جھکنا پڑتا ہے اور جھکتا وہی ہے جس کو رشتوں کی قدر معلوم ہو، رشتوں کو نبھانے کا شعور ہو اور کیونکہ رشتوں کا ایک وزن ہوتا ہے اس لیے رشتوں کا بوجھ اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

یہ وزن اُٹھاتے ہوئے اگر آپ کا دل بھی ٹوٹ جائے تو کوئی بات نہیں۔ غلطیوں کو معاف کر نا اور دل کو صاف رکھنا بڑائی ہے عاجزی، انکساری اور خلوص سے ہی دلوں کو جیتا جا سکتا ہے۔ کبھی رشتوں سے مقابلے نہیں ہوتے یہ تو برابری کا درجہ رکھتے ہیں۔ کسی نے پوچھا ”تم انہیں یاد کرتے ہی کیوں ہو جو تمہیں یاد نہیں کرتے تو دل تڑپ کر بولا رشتے نبھانے والے مقابلہ نہیں کرتے“ رشتوں میں سرد رویے، جھوٹ، غرور، غلط فہمی، اور زبان کی تلخی زہر گھولتی ہے اس سے پرہیز کریں۔

رشتے تو ایک حساس اعتماد کا نام ہوتے ہیں اور اعتماد کا پودا خلوص، پیار، انکساری، درگزر، سچ، برداشت اور مثبت رویے کے پانی سے ہی سینچا جائے تو یہ خوب پھولتا پھلتا ہے۔ رشتوں کی بقا کے لیے رابطے ضروری ہیں کیونکہ بھول جانے سے تو اپنے ہاتھوں سے لگائے درخت اور پودے بھی سوکھ جاتے ہیں۔ زمانہ بدل رہا ہے حالات بدل رہے ہیں پہلے پرانے لوگ سمجھدار ہوا کرتے تھے رشتوں اور تعلقات کو سنبھالنا اور نبھانا خوب جانتے تھے پھر لوگ رفتہ رفتہ پریکٹیکل ہوتے چلے گئے رشتے اور تعلق سے فائدے اور بدلے ڈھونڈنے لگے اور اب تو لوگ پروفیشنل ہوتے چلے جا رہے ہیں فائدہ ہو تو رشتہ اور تعلق بناتے اور رکھتے ہیں۔

افسوس! صد افسوس! اب رشتوں کو بوجھ تصور کرتے ہیں کاش میں ان کو بتا سکوں کہ رشتے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے لیے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لینے سے بڑے بڑے رشتے کمزور ہو جاتے ہیں ہمیں اپنوں کے ساتھ جینا ہے جن کے بغیر ہم زندگی گزار ہی نہیں سکتے۔ یاد رکھیں رشتوں کے بغیر زندگی ادھوری اور ویران ہو جاتی ہے ہر رشتے میں غلط فہمیاں اور غلطیاں ہو جاتی ہیں مگر غلط فہمی کو دور اور غلطیوں کو معاف کیا جاتا ہے رشتوں کو توڑا نہیں جاتا انہیں تو جوڑا جاتا ہے۔

رشتوں کے درخت کو ہر دم سر سبز اور تازہ رکھیں یہی انسانی ضرورت ہے اور یہی ہمارا دین ہمیں تعلیم دیتا ہے اور یہی خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کا راستہ بھی ہے یہی وہ صلہ رحمی ہے جس کا قرآن کریم میں با ر بار حکم آیا ہے۔ اپنے رشتوں کی قدر کریں ان کی اہمیت کو سمجھیں! اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام رشتوں کو عمدگی سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین!

آئینہ ٹوٹ بھی جائے ُ تو کوئی بات نہیں
دل نہ ٹوٹے کے یہ بکتا نہیں بازاروں میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments