کرکٹ: شکست کا ذمہ دار کون؟
اور پھر پاکستان کو بھارت کے خلاف ورلڈ کپ میں ایک اور شکست۔ امریکہ سے پہلے میچ میں شکست کے بعد پاکستانی شائقین کچھ زیادہ پر امید نہیں تھے۔
لیکن 9 جون کو بابر اعظم نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ لیا جو درست ثابت ہوا اور بھارت کی ٹیم نیویارک میں 119 پر ڈھیر ہو گئی۔ تمام فاسٹ بالرز محمد عامر، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف نے نپی تلی بالنگ کی جس کی وجہ سے بھارت بڑا سکور نا بنا سکا۔
پاکستان کی طرف سے محمد رضوان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ لیکن بابر اعظم 13 اسکور پر آؤٹ ہو گئے۔ عثمان خان بھی اتنا ہی بنا سکے۔ فخر زمان نے ایک اور چوکا لگا کر پاکستان کو کچھ امید دلائی لیکن وہ بھی جلد ہو آؤٹ ہو گئے۔ اس موقع پر 48 گیندوں پر 48 رنز درکار تھے۔ لیکن محمد رضوان بھارت کے سب سے تجربہ کار بولر بمرا کو چھکا لگانے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 44 گیندوں پر 31 رنز بنائیں۔ جس میں 24 ڈاٹ بالز شامل ہیں۔
یہ انتہائی غیر ذمہ دارنہ شاٹ تھی۔ جس کی اس وقت وہاں پر ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح عمار وسیم بھی انتہائی سست رفتار سے کھیلے۔ 23 گیندوں پر صرف 15 رنز سکور کیے۔ یہاں پر افتخار احمد کر ذکر بھی ضروری ہے جو ہٹر کے طور پر کھیل رہے ہیں۔ لیکن 9 گیندوں پر صرف 5 رنز اسکور کیے جس میں ان کو متعدد گیندیں بھی ملیں باؤنڈری مارنے کے لیے۔ وہ ارشدیپ کی فل ٹاس گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کو جیتنے کے لیے آخری اوور میں 18 رنز درکار تھے۔ نسیم شاہ نے 2 چوکے لگا کر میچ جتوانے کی کوشش کی لیکن وہ پاکستان کی فتح کے لیے کافی نہ تھے اور بھارت نے 6 رنز سے یہ میچ اپنے نام کر لیا۔
چیئرمین محسن نقوی صاحب کا شکست کے بعد کہنا ہے کہ ٹیم کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ تو ان کے لیے یہ عرض ہے کہ سر جب یہ ٹیم منتخب ہو رہی تھی سر جری اس وقت کرنی چاہیے تھی۔ اب تو صورتحال علاج کے قابل بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے سپر 8 ( اگلے راؤنڈ) میں پہنچنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور پاکستان پہلے راؤنڈ میں ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا ہے۔
ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کا امکان ہے۔
دیکھتے ہیں کون جاتا ہے اور کون آتا ہے؟

