بندہ عاجز طارق محمود عاجز


جب طور سینا پر کوئی جلوہ طلوع ہوتا ہے تو آسمان سے صحیفے اُترتے ہیں مگر جب دل کے طور پر ہونے والا کوئی جلوہ اپنی ہی آگ میں بَھسم ہو جاتا ہے تو ایک کہانی جنم لیتی ہے جس میں پیار ہوتا ہے، محبت ہوتی ہے، دُکھ ہوتا ہے، اِحساس ہوتا ہے کیونکہ کہانی تو کہانی ہوتی ہے۔ ہم تاریخ کاجائزہ لیں تو سینکڑوں سال سے بالعموم اور پون صدی سے بالخصوص جو کہانی ہمیں سنائی گئی، پڑھائی گئی، بتائی گئی وہ ہر گز ہر گز ہماری کہانی نہیں تھی۔ وہ تو چور، ڈاکو اور لیٹروں کی کہانیاں تھیں جو سنا سنا کر نسلوں کو گمراہ اور تاریخ کو تباہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہمارے خطے میں ہمارے لوگوں کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جو آج تک نہ تو سنائی گئیں اور نہ ہی بتائی گئی ہیں۔ ہمیں سچائی سے دور لے جایا گیا،کیوں جھوٹ کو سچائی کا لبادہ اوڑایا گیا۔اِس کیوں کا جواب تو کیوں کر ہی سامنے آئے گا۔ مگر ہمارے ہاں ایسی ایسی کہانی ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ ہماری دھرتی، ہمارے وسیب، ہمارے رہتل سے ایسی ہی ایک کہانی بندہ عاجز کی ہے جو محترم طارق محمود عاجزکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اُن کے ابا ؤ اجداد تقسیم کے دکھ سے گزر کر تقسیم ہو گئے تھے مگر بندہ عاجز نے تقسیم کی بجائے جمع کے طریقہ کار پر زور دیا ہے اور یہی طریقہ اپنایا ہے۔

بندہ عاجز نے 80 کی دہائی کے آغاز میں لاوارث لاشوں کو دفنانے سے کام کا آغاز کیا تھا۔ تب لاشوں کو دفنانے کے ساتھ ساتھ نماز جنازہ پڑھانے، دعائیں، کلمات دوستوں تک پہنچا دیے تو اِس کام سے علاقہ بھر کے لوگ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھے کہ قبلہ مولوی صاحبان کی شمولیت کے بغیر بھی ڈھیر سارے کام مکمل ہو رہے ہیں جو تب سے اب تک جاری ہیں۔ جب ایک نوجوان آگے بڑھ کر نمازجنازہ پڑھا رہا ہوتا ہے، کسی ویرانے میں پڑی بے یارو مدد گار لاش کی تدفین کر رہا ہوتا ہے، وہ لاش کو سپرد خاک کر کے ایک انجانی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ وہ خوشی ہے جو بندہ عاجز کو زندگی میں سب سے لمبا سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ سفر خانقاہ ڈوگراں سے کراچی تک کا سفر ہے۔ ان کا یہ سفر مولانا عبدالستار ایدھی صاحب کے دیدار کا سفر ہے۔ جب زندگی میں پہلی بار کراچی میں مولانا صاحب کے گھر پہنچے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے مولانا سے کہا کہ میں یہاں صرف اور صرف آپ کے دیدار کی خاطرحاضر ہوا ہوں۔ آپ سے التماس ہے کہ میرے سر پر ہاتھ رکھیں تاکہ روز قیامت یہ بتا سکوں کہ مولانا عبدلستار ایدھی صاحب نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ تب بندہ عاجز نے ایک کتاب مولانا صاحب کو پیش کی جس میں بندہ عاجز کا ذکر ہے جو” باکمال شخصیات” کے نام سے ایک ضخیم کتاب ہے جس میں اُن کے کام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اِس دوران مولانا صاحب نے بندہ عاجز کو ایک کتاب پیش کی جس کی مولفہ محترمہ تہمینہ درانی ہیں۔ یہ مولانا صاحب کی آپ بیتی ہے۔

اس کے بعد وہ دن اورآج کا دن ہے کہ مولانا صاحب سے کیا گیا وعدہ پوری طرح سے پورا کیا جا رہا ہے بندہ عاجز مولانا صاحب سے متاثر ہیں جبکہ مولانا صاحب فخرافغان حضرت باچا خان بابا سے متاثر تھے۔ جن کی خدائی خدمت گار تحریک نے انسانی تاریخ پر نہایت مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ مجھ ناچیز کو مولانا سے مل کر جو خوشی نصیب ہوئی ہے وہ میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ نیکی کا راستہ بتانے والا نیکی کرنے والے کے برابر ہوتا ہے۔

جب موٹر وے پر خانقاہ ڈوگراں انٹر چینج بنا تو محکمہ کی جانب سے کوئی معلوماتی بورڈ نہیں تھا جس کو دیکھ کر، پڑھ کر وہاں تک رسائی ممکن ہوتی تو انہوں نے علاقہ بھر میں سرگودھا روڈ پر معلوماتی بینرز لگائے تاکہ سماج کیلئے آسانی پیدا کی جا سکے۔ 13 جولائی 1969ء میں پیدا ہونے والے طارق عاجز نے ان گھروں میں نلکے لگوائے، ٹوائلٹ بنوائے ہیں جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں اور یہ سہولت نہیں ہوتی۔ اُن کا ایک کام بچوں کیلئے کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری اور ماہانہ فیس کی مد میں سہولت کاری ہے جس میں کسی علم کے طالب کا نام نہیں بتایا جاتا بلکہ یہ طالب علم کا فرض ہے کہ جب تعلیم مکمل کر لے اور وہ محسو س کرے کہ میرے فرض میں یہ شامل ہے کہ میں اب دوسرے انسان کی محنت اور محبت کا قرض ادا کر سکوں،آج کی تاریخ تک 9 طالب علم اِس کارِ خیر میں طلبا کی فیس ادا کر رہے ہیں۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے فوٹو گرافی اور صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وقت کو روک دینے کی کلا صرف فوٹو گرافی میں ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب تک کئے گئے کا م کو مکمل طور پر محفوظ کیا ہے اب تک 179 لاشیں دفنا چکے ہیں جس کا ریکارڈ ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سچ پر چلنے والے کا پاؤں جھوٹ کے سینے پر ہوتا ہے۔

پھر ایک کام کا آغاز کرتے ہیں جس میں بلا تفریق رنگ، نسل،مذہب، اجتماعی شادیوں کے پروگرام کا آغاز ہے جو 2004ء سے لیکر 2024ء تک ہر سال بلا کسی وقفہ کے جاری ہے۔ اب تک 651 بیٹیوں کی شادیاں کر چکے ہیں جس میں گھریلوسامان، جہیز کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے۔ سال 2024ء میں ایک کام شروع کیا جو شاید دنیا میں کیا گیا پہلا کام ہو گا کہ علاقہ بھر میں عید الفطر کے موقع پر وزٹ کیا گیا اور اُن افراد کو ڈھونڈا گیا جو لاچار، مسکین، مجذوب سال ہا سال سے سڑکوں، چوک، چوراہوں پر پڑے ہوئے تھے۔ ان سب کو عید کے دن نہلایا گیا، کنگھی شیشہ کروایا گیا، خوشبو لگائی گئی، مٹھائی کھلائی گئی، چائے اور سگریٹ پیش کیے گئے، اس کے بعد عیدی دی گئی تو اُن میں سے ایک شخص بولا کہ میں گگو منڈی تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی کا رہائشی ہوں۔ یہ سن کر اُس کے ورثا سے رابطہ کیا گیا تب دو طرفہ جو خوشی دیکھنے میں آئی میں نے اِس سے پہلے زندگی میں نہیں دیکھی۔ وہ شخص، گھر، گلی، محلہ والوں کو دو سال بعد مل رہا تھا تب وہ لوگ ہنس ہنس کر اُس کو گلے لگا رہے تھے۔ اُس کے بیوی، بچے سب کے چہروں پر بے تحاشا خوشی تھی۔ آج عبدالغفار ولد محمد شریف بیکری والا گگو منڈی تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی اپنے گھر، پریوار میں کس قدر خوش ہے یہ کام ریاست کی سطح پر ہونے والے کام ہیں جو ہمارے سماج سے عام انسان کر رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ سچی سے سچی اور اچھی سے اچھی عقل مندی ارادہ ہے۔

اِس علاقہ میں بڑے بڑے جاگیر دار اور وڈیرے ہیں، بڑی بڑی حویلیاں اور ڈیرے ہیں، بڑے بڑے گھر اور دروازے ہیں، جن میں بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی ہیں مگر ایک بندہ عاجز ہے جس نے کام کے آغاز سے لیکر آج تک اِس قبیل سے کچھ نہیں مانگا ہے بلکہ اُن کے پاس ایک کہانی ہے وہ یوں ہے کہ میرے دوست ایک جاگیر دار کے پاس لے گئے۔ جب سائیں جی سرکار نے ساری بات سن کر فرمایا کہ آپ بڑھیا کام کر رہے ہیں آپ میرا بھی ایک کام کر دیں کہ میرے مصلی کی بیٹی کی شادی کروا دیں،اللہ آپ کو اِس کا اجر دے گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں میرا یہ فیصلہ کہ میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے اِس سماج میں زمین زادوں کے ساتھ رہا ہوں۔ اِن کے ساتھ سویا اور جاگا ہوں۔ اِن کے دکھ اور سکھ میں، خوشی اور غم میں برابر کی سانجھ کی ہے۔ اُس دن ہم جاگیردار صاحب کا شکریہ ادا کر کے وآپس لوٹ آئے تھے۔ بندہ عاجز کہتا ہے کہ اچھی بات ہے کہ ہم لوگ صاحب بہادر سے ملے، ہمیں بٹھایا، ہماری بات سنی اور ہمیں بتایا کہ اُس کے مصلی کی بیٹی ہم بیاہ دیں تو اِس سے بڑھ کر ہمارے لئے کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ اربوں روپے کے مالک کے نوکر کی بیٹی کی شادی بندہ عاجز کو کرنا ہو گی جس طرح چاند کے بغیر رات بے کار ہے اِسی طرح علم کے بغیر ذہن بے کار ہوتا ہے۔

تب راقم الحروف کئی دن کی میل ملاقاتوں، کام کی تفصیل، ریکارڈ اور مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افراد کے تاثرات جاننے کے بعد بندہ عاجز سے اجازت لیکر واپسی کیلئے رخت سفر باندھ رہا تھا تواُن کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر اطمینان باآسانی دیکھا جا سکتا تھا جو ہمارے سماج کا روشن چہرہ ہیں۔ اس وقت وہ واقعہ یاد آگیا جو ماہر قانون دوست ارشد محمود نے سنایا تھا جب وہ جہلم میں محترم نصیر کوی صاحب سے ملنے گئے تھے۔وہ اُن کی کتابیں ساتھ لے کر گئے تھے اُن کے دستخط کروانا مقصود تھا تو نصیر کوی صاحب نے محبت اور پیار سے جو سنایا تھا وہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

میں ویلے دے بھٹھے اُتے
کِھگر بنیا
میں ہر اَوکڑ جھلی
میرے پیو دا ناں دَرواڑ
میر ا ناں مصلی

جب ہم خانقاہ ڈوگراں سے نکلے تو سامنے وہ ٹبہ نظر آتا ہے جہاں اکیس سو سال پہلے راجہ کامروپ کی راج دھانی تھی۔ اُس کی بیٹی کا نام چندر بدن اور دریائے رسی زمینوں کو سیراب کرتا تھا، سارے دن کا تھکا ہارا سورج کرنیں زمین پر پھینک رہا تھا۔ روشنی کا پیامبر سورج ہماری دھرتی سے دور ہوتا جا رہا تھا، غرب کا معنی ہے’ وہ دور چلا گیا‘ یہ سورج ڈوبتے وقت ہم سے دور چلا جاتا ہے۔ اِس لئے ڈوبنے کی سمت کو مغرب کہتے ہیں۔ مگر راقم الحروف مغرب سے پہلے پہل گھر پہنچنا چاہتا تھا کیونکہ یہاں کے چور، ڈاکو، لٹیرے عام آدمی تو ایک طرف، پولیس والوں کی بندوقیں بھی ساتھ لے جاتے ہیں جب وہ سڑک پر کھڑے ہو کر سماج کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS