میری وصیت میرے متعلق


زندگی کی چھپن بہاریں اور خزائیں دیکھ چکی ہوں۔ خزائیں اس لئے کہ زندگی دکھ سکھ سے عبارت ہے۔ امریکہ میرا آنا جانا رہتا ہے اور وہاں تو اس عمر کے شخص کو جوان ہی جانتے ہیں کیونکہ وہاں متوقع اوسط عمر زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں متوقع اوسط عمر تقریباً اڑسٹھ سال ہے اور میری امی جی کا انتقال ساٹھ سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے ہوا تھا۔ حادثات، ناگہانی حالات اور بیماری وغیرہ بھی پاکستان میں زیادہ ہی ہے اس لئے سوچا تھوڑا آئندہ کی منصوبہ بندی کی جائے۔

میری لکھی گئی باتوں سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے اور میں ان کی اختلافی رائے کا احترام کرتی ہوں۔ تاہم اپنے لئے میں جو مناسب سمجھتی ہوں وہ آپ سے بیان کرتی ہوں اور توقع کرتی ہوں کہ آپ بھی میری رائے کا احترام کریں گے۔ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے نقطہ نظر سے ریلیٹ کر سکتے ہیں۔ اتفاق کریں یا اپنے آپ کو سماجی دباؤ کے تحت مشکلات میں ڈالے رکھیں اس کا اختیار ان کے اپنے پاس ہے۔

اول تو یہ کہ میری وصیت کے مطابق، میری موت کے بعد میرے جسم سے تمام قابلِ استعمال اعضاء عطیہ کیے جائیں گے۔ دوم اگر میری موت کسی ناگہانی حادثے میں کسی دوسرے شہر یا ملک میں ہو جاتی ہے تو میرے وارثین پر اس قسم کا کوئی سماجی دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ لاش فلاں ملک، شہر یا گاؤں میں دفن کی جائے۔ موقع کے مطابق جو آسان اور حقیقت پسندانہ ہو وہ طریق اختیار کیا جائے۔ بقول غالب

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

سوم اگر میری موت چلتے پھرتے، اچھی صحت میں آنے والی موت نہ ہو۔ خدانخواستہ جسم زیادہ لاغر ہے یا کوئی ایسی لمبی ذہنی یا جسمانی کمزوری یا بیماری لاحق ہے جس کے سبب میں اپنا خود سے خیال نہیں رکھ پاتی، اپنی نجی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مجھے کسی کی مدد درکار ہے تو میرے وارثین کو ہدایت ہے کہ وہ مجھے کسی اچھے اولڈ ہوم یا کیئر سنٹر میں داخل کروا دیں۔ جہاں میں اپنے جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ماہر میڈیکل، پیرا میڈیکل اور ہیلپر سٹاف کے ساتھ رہ سکوں۔

میں جانتی ہوں کہ محتاجی اور خود فراموشی کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن میں اسے بھی ایک وقار کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔ ان لوگوں کی مدد سے جو خصوصی طور پر اس کے لئے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اس کام پر مامور ہوتے ہیں۔ میرے وارثین اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہاں کے اخراجات باقاعدگی سے ادا کریں اور ادارے کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ میں اپنے گھر میں رہ کر اپنے خاندان کی مدد سے اپنا بڑھاپا گزارنے کا کیوں نہیں سوچتی۔ تو ہمارے دو بیٹے ہیں۔ دونوں ذہین و فطین، علم دوست، انسانیت سے پیار کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے۔ بڑے بیٹے امریکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں اور چھوٹے وہیں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ہماری بڑی بہو ہمارے بیٹے کی طرح ایک کامیاب انجینئر ہیں۔ وہ ایسے بڑے بڑے پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں جن کے بارے میں سن کر عقل دنگ رہ جاتی۔

اب وہ جو کائنات کو سر کرنے اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے اتنے لا جواب کام کر رہے ہیں، میں ان سے یہ توقع کروں کہ وہ یہ سب چھوڑ چھاڑ کر میرے بڑھاپے میں مجھے کھلانے نہلانے بیٹھ جائیں۔ جنھوں نے ستاروں پر کمندیں ڈالنی ہیں، میں ان کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنوں۔ پھر ان پر اپنے گھر او ر انفرادی خاندان کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔

تاوقتیکہ علم نہیں کہ ہمارے چھوٹے بیٹے کی نصف بہتر پاکستانی ہوں گی یا غیر ملکی لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل تو ضرور ہوں گی۔ میری ان کے لئے بھی یقیناً یہی خواہش ہے کہ وہ دونوں اپنے اپنے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھیں اور اپنے خاندان میں ایک خوبصورت اور با معانی زندگی گزاریں۔ میں کیوں چاہوں کہ میری بہوئیں اور بیٹے اپنے علم، ہنر اور پورے پوٹینشل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مریض کی دیکھ بھال پر لگ جائیں جو کہ ان کا فیلڈ بھی نہیں، جس میں انھوں نے علم اور تربیت حاصل نہیں کی۔ میں ان کے آسمانوں کو محدود کرنا درست نہیں سمجھتی۔ وہ اس دنیا کی بہتری کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں، پورے پوٹینشل اور آزادی کے ساتھ کریں۔

ہم دونوں میاں بیوی نے اپنی زندگی پاکستان میں گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اگر مجھے کوئی لمبی کمزوری یا بیماری آ لیتی ہے تو کیا میرے میاں جو عمر میں مجھ سے چھ سال بڑے ہیں ان پر میری ذمہ داری ڈالی جا سکتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو سنبھالنے، گھر کا انتظام چلانے کے ساتھ ساتھ کیا مجھ بیمار کو سنبھال پائیں گے۔ میں تو ہر گز ہرگز انھیں اس مشکل میں ڈالنے والی نہیں ہوں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ گھر پر کوئی مددگار رکھی جا سکتی ہے۔ تو اس سلسلے میں بھی پڑھیے۔ صدیق عالم اپنے ناول چینی کوٹھی میں اپنے کردار وکیل کے ابا کی مددگاروں کے حوالے سے لکھتے ہیں، ”اکثر میں نے ان لوگوں کو جب کہ انھیں لگتا کوئی دیکھ نہیں رہا ہے، ابا کو کوستے اور ان کے ساتھ بہت ہی برا برتاؤ کرتے دیکھا تھا بلکہ ایک بار تو میں نے ایک بد مزاج آیا کو اپنی ساڑھی اٹھا کر ان کے چہرے پر پیشاب کرتے ہوئے بھی پایا تھا جبکہ اسے علم نہیں تھا کہ میں چوری چھپے یہ دیکھ رہا ہوں“ ۔ سوال اٹھتا ہے کہ یہ مصنف کا مشاہدہ ہے یا تخیل؟

معروف کالم نگار، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ان کی امی آخری عمر میں الزائمر کا شکار ہو کر اپنی یاداشت کھو بیٹھی تھیں۔ امی اپنے چھوٹے بیٹے اور بہو کے ساتھ پاکستان میں رہتی تھیں۔ ماں کے باقی پانچ بچے دنیا کے مختلف ممالک میں بستے تھے مگر وہ اپنی ماں سے غافل نہ تھے۔ کینیڈا والے بیٹے نے کہا ماں کے پاس ایک ایسی عورت بھی ہونی چاہیے جو صرف ان کی باتیں سنے۔ ماں کے لئے رکھی گئی اس عورت سے کہا گیا تم ساری تنخواہ اپنے گھر بھیجا کرو، ہم تمھیں حج بھی کروائیں گے تم صرف امی جان کو خوش رکھا کرو۔

امی کے دیگر کام کاج کے لئے ایک علیحدہ مددگار تھی۔ ان دونوں خواتین کے بستر ماں کے صاف ستھرے کمرے میں لگائے گئے۔ چھوٹا بیٹا اور بہو ماں کا ہر طور خیال رکھتے۔ ایک دن بہو ڈاکٹر کے پاس گئی ہوئی تھیں۔ کالم نگار جو ماں سے ملنے بیرون ملک سے آئیں تھی اور تھوڑی دیر ساتھ والے کمرے میں سستا رہی تھیں انھوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ باتیں سننے کے لئے رکھی گئی عورت ماں کے منہ پر تڑاخ تڑاخ تھپڑ مار رہی تھی کہ ماں خاموش کیوں نہیں رہتیں۔

اگر گھر میں رہ کر بھی اس طرح کے واقعات ہو سکتے ہیں تو کیوں اپنے پیاروں پر بوجھ ڈالا جائے اور انھیں امتحان میں ڈالا جائے۔ پچھلے وقتوں میں جب خاندان بڑے ہوتے تھے اور زیادہ لوگ اکٹھے رہتے تھے تو بزرگوں کو گھر میں سنبھالنا ممکن تھا۔ میری اپنی ساس آخری عمر میں ڈیمنشیا کے ساتھ کئی اور چھوٹی بڑی بیماریوں کا شکار تھیں۔ ان کی دس اولادوں میں سے تین بیٹے اور ان کے خاندان خانیوال میں ایک ہی بڑے احاطے میں رہتے تھے۔ خانیوال رہنے والے بڑے بیٹے کے چھ بچے، ان سے چھوٹے کے سات اور ان سے چھوٹے کے تین۔ میرے سسر بھی اس وقت صحت مند تھے اس طرح کل ملا کر یہ ایک احاطے میں چوبیس لوگ رہتے تھے۔ پھر باقی شہروں میں رہنے والے بچے اور ان کی اولاد بھی آتے جاتے رہتے۔ اس طرح میری ساس کی دیکھ بھال گھر میں اچھی طرح ہو گئی۔

2002 میں میرے سسر غسل خانے میں گر پڑے، ان کے سر میں چوٹ آئی تو ہم انھیں شیخ زید ہسپتال لاہور لے آئے۔ ان دنوں میرے ایک جیٹھ کے علاوہ ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹے بھی ہمارے پاس رہتے تھے اور لاہور میں جاب کرتے تھے۔ اس طرح مل جل کر ہم نے انھیں سنبھال لیا۔ آج کل کے چھوٹے خاندانوں میں یہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ میں نے اپنے آس پاس مشاہدہ کیا ہے کہ میاں بیوی دونوں کو نوکری بھی کرنی ہے، بچے پالنے اور ان کی تربیت بھی کرنی ہے، گھر کا انتظام بھی سنبھالنا ہے تو پھر ایک محتاج بزرگ کی دیکھ بھال کس طرح کی جا سکتی ہے؟

اپنے متعلق میرا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اگر میں انتہائی ولنریبل ہو جاؤں اور مجھے لائف سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہو تو وہ مجھے نہ لگایا جائے۔ بس مجھے طبعی طریقے سے اس دنیا سے رخصت ہونے کی اجازت دی جائے۔ آخر میں آپ سے میں اپنی شدید خواہش کا اظہار کرتی ہوں کہ مجھے چلتے پھرتے موت نصیب ہو۔ آپ بھی مجھے اپنے اچھے خیالات میں یاد رکھیں۔

Facebook Comments HS