شمعون سلیم کو دھکا دے دیا


پہلے سوچا تاسفانہ تحریر کو عنوان دوں، ” ملحد کی موت ” مگر ایک بڑے انسان کے بیٹے نے بتایا تھا کہ اس نے ایسے والد جن کا کسی ذات اولی پر ایقان نہ تھا کی موت سے پہلے کے تمام ثانیے دیکھے تھے، یہ کہہ کے وہ چپ ہو گیا تھا۔ لگتا تھا جیسے مشکل وقت تھا۔ چناں چہ میں نے یہ عنوان نہ دیا کہ شمعون تو تب سے مشکل وقت کاٹ رہا تھا جب سے اسے ہسپتال والوں نے ” بس ” کہا تھا۔

میری اپنی سابقہ اہلیہ میرے سے زیادہ شمعون کی دوست رہی۔ اس کی شمعون سے ملاقات چند برس پہلے لاہور میں ہوئی تھی اور اس نے فون پہ مجھ سے اس کی وڈیو کال بھی کروائی تھی کہ میں علی پور سے کسی وجہ سے لاہور نہ جا پایا تھا۔ ان کی اس سہ طرفہ ملاقات میں ابرار احمد بھی شامل تھا، میں نے اپنی سابقہ اہلیہ سے کہہ دیا تھا کہ ہو نہ ہو شمعون کو جگر کا سرطان ہو گیا ہے اور بھائی جان یہ سزائے موت تو ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی بہت دردناک بھی۔

میری شمعون سے آخری ملاقات ایمسٹرڈیم میں ہی ہوئی تھی 1999 میں۔ وہ مجھے اور میرے ساتھ پہنچے ایک اور پاکستانی ظفر اللہ کھوسہ کو کھانا کھلانے ایک پاکستانی ریستوران لے گیا تھا اور بعد میں اس شہر کی معروف سیرگاہ، چکلہ جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، گھومنے، ہمارے گروپ کے ساتھ، جس میں ہماری ہم سفر خواتین بھی شامل تھیں، گیا تھا۔

مگر میں اس قدر مخمور تھا کہ دل کی باتیں نہ ہو پائی تھیں۔ ویسے وہ دل کی باتیں کرتا بھی کب تھا۔ تھا ہی بے حد گھنا۔ اپنے زودیک سائن "حوت” کی باعمل تصویر تھا وہ۔ اچھے بھلے جان پہچان والے بلکہ جان دینے والی کو کہہ دیا کرتا کہ میں تو تمہیں نہیں جانتا، تم کون ہو؟

مجھ سے ایسے کرتا تو سنتا بھی لیکن کچھ کم بھی نہیں کی اس نے مجھ سے جب میں چند برس پہلے اسے حیران کرنے اسے بتائے بن برسلز پہنچا۔ جیو جںگ بیورو چیف یورپ خالد فاروقی مرحوم، جن کا میں مہمان تھا، سے طے تھا کہ وہ مجھے شمعون کو حیرانی کی ملاقات سے دوچار کرنے ایمسٹرڈیم لے جائیں گے۔

 جب فاروقی نے فون کرکے ملنے کا پوچھا تو اس نے ملنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ خالد فاروقی حیران تھا مگر جب میں نے خود کہا کہ میں ماسکو سے تمہیں ملنے آیا ہوں تو اس نے یہ کہہ کے مجھے بھی حیران کر دیا چوں کہ تم بغیر اطلاع کیے آ گئے ہو، اس لیے ملاقات نہیں ہو سکتی۔

 میں نے نام لکھے بنا اپنے ساتھ ہوا دھرو فیس بک پہ ڈال دیا تو شمعون کی بہن نے لکھا کہ ہوں نہ ہوں یہ مونی بھائی جان ہی ہوں گے۔ بہن سے زیادہ بھائی کو کون جانتا ہے اور بھائی بھی ایسا جس نے چند سال بعد آبائی جائیداد کی فروخت سے ملنے والا اپنا حصہ غالباً نصف کروڑ بہن کو اس لیے دان کر دیا تھا کہ لڑکیوں کو آدھا حصہ کیوں دیا جائے۔

جن سخت مذہبی گھروں کے لڑکے ملحد ہوں وہ پھر ڈٹ جاتے ہیں۔ ایک عرصہ سے وہ مجھ سے نالاں تھا کیونکہ میں ملا ہو گیا، نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے لگا، حج عمرہ کر آیا، اس لیے کہ میرا عورتوں سے متعلق رویہ درست نہیں، میں نے چار بیاہ کیے، اس لیے کہ میں روز فیس بک پہ اپنی فوٹو جڑ دیتا ہوں۔

ہمارا تعلق عاشق محبوب کا تھا۔ اصل میں پہلے میں اسے محبوب تھا، پھر وہ مجھے محبوب ہو گیا تھا۔ دراصل ہم نفسیات کی اصطلاح میں Love hate relationship میں رہے لیکن میں تو نفرت کر ہی نہیں سکتا جب کہ شمعون کہتا جو شخص نفرت نہیں کر سکتا، وہ بھلا محبت کیا کرے گا۔

بہت زود حس اور سریع الرنج تھا وہ جیسے میں نے غلطی سے کبھی کہہ دیا کہ یار ہم اس حوالے سے ایک جیسے ہیں، وہ کہتا خواہ مخواہ، بھئی میں کسی سے نہیں ملتا جلتا۔ وہ خود کو منفرد رکھنے کی روش میں تعلقات سے خود کو کاٹ کے رکھتا رہا لیکن اس کے سائن حوت والی دوسری مچھلی انتہائی خوش مزاج ہوتی۔

اسے پتہ تھا کہ جو مرض اسے ہو چکا، وہ لے کے ہی جائے گا اور تکلیف بھی بہت دے گا۔ آخری بار وہ بھارتی اداکار عرفان خان کے موت سے پہلے لکھے خط کا حوالہ دینے لگا تھا کہ درد خدا سے بڑا لگا یا یہ کہ آپ کا سٹیشن آ گیا ہے، اتر جائیں پلیز۔

دوستوں رشتہ داروں کا تو جی نہیں چاہتا کہ کوئی زندگی کی ریل گاڑی سے سٹیشن آ جانے پہ بھی اتر جائے لیکن ہم سالے ڈاکٹروں کا یہ المیہ ہے کہ ہم مرض کے انجام سے آگاہ ہوتے ہوئے جھوٹی تسلی نہیں دے سکتے پھر شمعون کو جو انتہائی ذہین اور عقلیت پسند شخص تھا۔

اس کا کیا پتہ۔۔۔ نہ گھر صاف کرتا اور نہ کسی کو مہمان کرتا۔ کہتا کہ ایک ہی بستر ہے اس پہ وہی سو سکتا ہے جو سونا چاہے۔ تو ممکن ہے لکھ گیا ہو کہ خاکستر کر دینا۔ ن م راشد تو ملحد بھی نہ تھے پھر بھی خاکستر ہوئے لیکن ان دنوں نہ پاکستانی برادریاں زیادہ تھیں نہ ارتباط آج جیسے تھے۔ آج تو پاکستانی اپنی مرضی سے جلنے بھی نہ دیں گے، چاہے خود کسی کو زندہ جلا دیں۔

میں نے تو میری جان تیرے لیے باقاعدہ فاتحہ پڑھی اور تیری مغفرت کے لیے اللہ سے حجت کے ساتھ فرمائش کی۔ تو کہا کرتا تھا ناں،” مرزا تو دوسروں کو قعر دریا میں دھکا دے کے خود کنارے پہ ا بیٹھتا ہے”۔۔۔ تو میاں صاحب زادے آپ انشاء اللہ جنت نشین ہوں گے، میں نے دھکا دے دیا۔

تیرا غمگین دوست ( تو چاہے دوست مت مان ) مجاہد مرزا

Facebook Comments HS