نبیلہ فیروز آپا، آپ نے تو ایک ”ہیومن چارٹر“ لکھ ڈالا
انسانی ذہن کے لیے اس سے بڑا المیہ یا قیامت کیا ہوگی کہ ”یہ جوہر نایاب بھی ایک دن سپاٹ ہو جائے گا”۔
انسانی وجود اور ذہن جو کہ فطرت کا ودیعت کردہ حسین سا تحفہ ہے، ایک دن فطرت کے بلیک ہول میں کہیں گم ہو جائے گا، باقی رہ جائیں گے فقط وہ الفاظ جو تحریر، فکر یا کتاب کی صورت میں ہم انسانیت کے نام کر جائیں گے۔ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں اور فطرت کا یہ پراسرار اور خود رو نظام نجانے کب سے جاری ہے؟ جس جگہ آج ہم ہیں کل کوئی اور ہو گا، لہٰذا یہ کہنا لایعنی اور فضول ہے کہ فلاں کے چلے جانے سے نظام حیات تعطل کا شکار ہو جائے گا یا ایک ایسا خلا پیدا ہو گا جسے کبھی بھرا نہیں جا سکے گا۔
انسانیت آج جس عہد میں سانس لے رہی ہے اس کے تقاضے بہت ہی الگ نوعیت کے ہیں، اب وہ دور گزر چکا جس میں ایک شخص کو عقل کل سمجھتے ہوئے لوگ اس کے گرد حلقہ بنا کے بیٹھ جایا کرتے تھے، اسے ایک ماورائی طاقت کا حامل ایک ایسا شخص تصور کیا جاتا تھا جس کے پاس ہر کسی کے دکھوں کا حل موجود ہوتا تھا۔ بھلا زمانہ تھا، لوگ باآسانی بہل جایا کرتے تھے، شعور ابھی ”پالنے“ میں تھا، سائنس اور فلسفے کے مابین مڈ بھیڑ جاری تھی۔
اسی پراسراریت کا فائدہ وہ قوتیں اٹھا رہی تھیں جو آج بھی عہد ماضی کی پجاری ہیں اور انسانی فکر کو جامد و ساکت یا جوں کا توں رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وقت بھلے سرکتا رہے لیکن وہ اپنے عہد رفتہ کی غار میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹتے رہیں، جو آج بھی اسی دیوانگی میں گم ہیں وقت نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے عہد سے بہت پیچھے رہ چکے ہیں اور اب انہیں وقتی لیپا پوتی کے لیے با امر مجبوری میں وہ سب اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں جو انہیں آج کے ساتھ ملانے میں کارآمد ثابت ہوں۔
آج سائنسی شعور جوبن پر ہے۔ دوربین اور خورد بین کے انقلاب نے انسانی فکر کو فہم کی وہ بلندی عطا کر دی ہے کہ اب وہ مستقبل میں بھی جھانک سکتا ہے اور آنے والے وقت کی بہتر منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔ اب جو قومیں سائنس کے عہد میں پوری کی پوری داخل ہو چکی ہیں وہ بہت آگے بڑھ چکی ہیں اور ان کی سوچ کا معیار بہت بلند ہے۔ دوسری طرف ہم ایسوں کی دنیا ہے جو سائنسی نعمتوں سے بھرپور طور پر مستفید ہونے کے باوجود بھی سائنس کو پوری طرح سے قبولنے میں تذبذب و ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
عین ممکن ہے روایتی فکر کو یہ ڈر کھائے جا رہا ہو کہ کہیں سائنسی شعور کی وجہ سے ان کی وہ مصنوعی تقدیسی پٹیاں ادھڑ نہ جائیں جو انہوں نے عقیدت کے نام پر بھولے بھالے عوام کی آنکھوں پر نجانے کب کی چڑھا رکھی ہیں؟ حالانکہ وقت کی ناؤ کے آگے بھلا کون بند باندھ پایا ہے؟ آخر کار شعور اور دانشمندی کا ہی بول بالا ہوتا ہے، وقتی حربوں سے رفتار تو کم کی جا سکتی ہے مگر روکا نہیں جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم عقل و شعور کی مخالف قوتوں سے آج تک پوری طرح سے آزاد نہیں ہو پائے، اسی لیے یہاں حقیقی معنوں میں عقل و شعور پنپ نہیں پایا۔
ان سب باتوں کے لکھنے کا محرک یا تحریک نبیلہ فیروز آپا کا وہ مضمون ہے جو انہوں نے حال ہی میں ”ہم سب“ پر بعنوان ”میری وصیت میرے متعلق“ رقم کیا ہے۔ آپا نے بڑی دلیری سے وہ تمام باتیں اتنی آسانی سے لکھ ڈالیں جنہیں لکھنے کے لیے نجانے کتنی بار سوچنا پڑتا ہے اور سوچتے سوچتے نجانے کتنے جذباتی مد و جزر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے سماج میں بھی ایسی با بصیرت ہستیاں موجود ہیں جو اپنے اندر کے سچ کو بلا خوف اور پورے شعوری بہاؤ کے ساتھ لکھ سکتی ہیں، مجھے یہی جھلک نبیلہ فروز کے اس مضمون میں نظر آئی۔
نبیلہ آپا لکھتی ہیں، "میری وصیت کے مطابق میری موت کے بعد میرے جسم کے تمام قابل استعمال اعضا عطیہ کر دیے جائیں۔
میری موت کسی ناگہانی حادثے میں کسی دوسرے شہر یا ملک میں ہو جاتی ہے تو میرے وارثین پر کوئی سماجی دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ لاش فلاں ملک، شہر یا گاؤں میں دفن کی جائے۔
اگر میری موت چلتے پھرتے یا اچھی صحت میں آنے والی موت نہ ہو یعنی ایسی کوئی بیماری جس میں، میں خود اپنا خیال نہ رکھ پاؤں اور دوسروں پر بوجھ بنوں تو میری وارثین کو ہدایت ہوگی کہ وہ مجھے کسی اچھے اولڈ ہوم یا کیئر سینٹر میں داخل کروا دیں۔
میں جانتی ہوں کہ محتاجی اور خود فراموشی کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن میں اسے بھی ایک وقار کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ میں اپنے گھر میں رہ کر اپنے خاندان کی مدد سے اپنا بڑھاپا گزارنے کا کیوں نہیں سوچتی؟ ہمارے دو بیٹے ہیں، بڑے بیٹے امریکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں اور چھوٹے وہیں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ہماری بڑی بہو ہمارے بیٹے کی طرح ایک کامیاب انجینئر ہے وہ ایسے بڑے بڑے پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں جن کے بارے میں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اب وہ جو کائنات کو سر کرنے اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے اتنے لاجواب کام کر رہے ہیں، میں ان سے یہ توقع کروں کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کے میرے بڑھاپے میں مجھے کھلانے نہلانے بیٹھ جائیں۔
جنہوں نے ستاروں پر کمندیں ڈالنی ہیں، میں ان کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنوں۔ خواہش ہے کہ میرے دونوں بیٹے اپنے اپنے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑیں اور اپنے خاندان میں ایک خوبصورت اور بامعانی زندگی گزاریں۔
میں کیوں چاہوں کہ میری بہوئیں اور بیٹے اپنے علم و ہنر اور پورے پوٹینشل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مریض کی دیکھ بھال میں لگ جائیں۔”
خاصا طویل مضمون ہے، چند نکات سامنے رکھ دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب لکھنا اتنا آسان ہے؟
کتنے والدین ایسے ہیں جن میں اتنا حوصلہ یا ظرف ہوتا ہے؟ خاص طور پر مشرقی معاشروں میں جہاں مائیں اپنے بچوں کو جذباتی آنول سے کبھی آزاد نہیں کرتیں اور باپ ساری زندگی بچوں کو جذباتی بیڑیاں پہنائے رکھتے ہیں، بھلے وہ بوڑھے ہو جائیں ان کی نظر میں وہ ہمیشہ بچے ہی رہتے ہیں کبھی آزاد فرد نہیں بن پاتے۔
جو والدین بچوں کو دنیا میں لانے کا سبب بنتے ہیں وہی ان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ بچوں کو دنیا میں لانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی، انہیں ان کے حصے کا کھلا آسمان دینا اور ان کی رائے کا احترام کرنا سب سے کمال چیز ہوتی ہے۔
میری نظر میں نبیلہ فیروز نے جو لکھا ہے وہ ایک طرح سے انسانی دستاویز یا چارٹر ہے اور ان مشرقی والدین کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنے بچوں کو اپنی پراپرٹی سمجھتے ہیں اور زندگی بھر ان کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔
میں ایسے بہت سے والدین کو جانتا ہوں جو اپنی عاقبت سنوارنے کے چکروں میں بچوں کی خواہشات تک کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور انہیں اپنے خوابوں کی بلی چڑھا دیتے ہیں۔ اس طرح کے ظلم و تشدد کی وجہ سے بچے کی شخصیت میں نجانے کتنے سقم یا کجیاں رہ جاتی ہیں اور وہ ساری زندگی ایک ذہنی مریض کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


