سندھ کی اونٹنی پر وڈیرے کا ظلم


دو روز سے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپ دیکھ رہا ہوں کہ سندھ کے ایک وڈیرے نے اپنے کھیتوں میں اونٹنی کے جانے پر اس کی ٹانگ کاٹ ڈالی، اونٹنی کا مالک کٹی ٹانگ اور زخمی اونٹنی کی تصاویر دکھا رہا ہے، پھر ایک ویڈیو نے تو دل ہی ہلا دیا جس میں اونٹنی شدت درد سے کراہ رہی ہے، اس بے زبان کی آہ و بکا صرف خدا تعالی ہی سن سکتا ہے کیونکہ سندھ کے حکمران تو اندھے بولے ہوچکے ہیں، اونٹنی کے رونے کی ویڈیو دیکھ نہ سکا، اونٹنی کے رونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر ہو رہی ہے اور جب بھی وہ ویڈیو سامنے آتی ہے تو اونٹنی کے چلانے کی آواز سننے سے قبل ہی ویڈیو اوپر کر دیتا ہوں کیونکہ دل یہ ظلم دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا

واقعات کے مطابق سندھ کے علاقے سانگھڑ میں ایک وڈیرے نے اپنے ملازمین کے ہمراہ اپنے کھیتوں میں اونٹنی کے داخل ہونے پر اونٹنی کو بہیمانہ تشدد کو نشانہ بنایا اور تیز دھار آلے سے اس کی ٹانگ کاٹ دی، واقعہ کے بعد منگلی پولیس نے با اثر وڈیرے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسے مبینہ طور پر بچا لیا اور اونٹنی کے مالک کے بجائے پولیس کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جبکہ پولیس تمام واقعے سے بخوبی آگاہ تھی، ویڈیو وائرل ہونے پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیا

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن جو سندھ کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں نے بتایا کہ 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا ہے، اس سے قبل اونٹنی کے مالک اور ملزمان کے درمیان معاملات طے پا چکے تھے، انسانی طور پر یہ ناقابل قبول ہے اس لئے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا تھا کہ واقعہ سامنے آنے پر ضلعی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں اونٹنی کے علاج کے لئے روانہ کردی ہیں، ادھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اونٹنی کے مالک کو دو اونٹ دینے کا اعلان کیا ہے

یہ اس صوبے کا واقعہ ہے جہاں انسانی حقوق کا پرچار کرنے والی پیپلز پارٹی کی گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت قائم و دائم ہے، بیس سال میں پیپلز پارٹی نے سندھ پولیس کی یہ تربیت کی ہے کہ اگر کوئی وڈیرا کوئی ظلم یا زیادتی کرے تو اس کو مکمل تحفظ دینا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے وڈیروں سے ووٹ لینا ہوتے ہیں، ایک گوٹھ کے وڈیرے سے ووٹ لینے کے لئے قانون کی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی، سندھ کے وڈیرے اپنے اپنے گوٹھوں سے ووٹ لے کر پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کراتے ہیں جس سے ملک میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کی مقبول ترین جماعت ہے، اس سے آپ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح مقبول پارٹی بنتی ہے

شازیہ مری نے ایکس پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ واقعہ کا نوٹس لے لیا گیا مگر دونوں پارٹیوں میں افہام و تفہیم سے معاملات طے پا گئے ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ ایک عام ہاری کی ایک ظالم وڈیرے کے سامنے کیا اوقات ہو سکتی ہے، عوام جانتے ہیں کہ افہام و تفہیم کیسے ہوا ہو گا، وڈیرا پنجاب کا ہو یا سندھ کا وہ ہاریوں کو جھکانے کے لئے ان کی عورتوں کو اٹھانے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور اگر ہاری نہ مانے وہ یہ سب کر گزرتے ہیں کیونکہ وڈیرا ہر جگہ قانون سے بالاتر ہوتا ہے

شازیہ مری ٹی وی اور میڈیا کے سامنے جمہوری اقدار کا بھاشن دیتے نہیں تھکتیں، یہ سیکھا ہے انہوں نے جمہوریت سے جس کے لئے ذوالفقار بھٹو نے اپنے گردن پیش کی اور شہید بی بی نے اپنی جان کا نذرانہ دیا، یقیناً باپ، بیٹی شہدا کی روحیں آج تڑپ رہی ہوں گی کہ ان کی پارٹی کے رہنما ان کے مشن کو کس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں، یہ ظلم ایک جانور پر ہوا جو بول نہیں سکتا مگر اس کی چیخ و پکار سب کچھ بیان کر رہی ہے، یہ دو انسانوں کے درمیان معاملہ نہیں تھا یہ ایک بے زبان جاندار پر ہونے والے ظلم کا معاملہ ہے، پنجاب میں ایک محکمہ انسداد بے رحمی حیوانات ہے (معلوم نہیں وہ محمکہ اب قائم بھی ہے کہ نہیں ) اس طرح کا محکمہ سندھ میں بھی شاید ہو۔

اونٹنی والے معاملے پر سندھ کے محکمہ انسداد بے رحمی یا اس سے طرح کا کام کرنے والے ادارے کو سب سے پہلے ایکشن لینا چاہیے تھا، مگر ہمارے ہاں گندی سیاست میں یہ روایت چل نکلی ہے کہ وزیراعلی صاحب یا صاحبہ نے نوٹس لے لیا جس کے بعد پولیس کی آنکھ کھلتی اور ملزمان فوری گرفتار کر کے معاملے پر مٹی ڈال دی جاتی ہے، بات یہ ہے اگر معاملہ کا نوٹس وزیراعلی صاحب یا وزیراعلی صاحبہ نے ہی لینا ہے تو پولیس کس مرض کی دوا ہے، کیا وہ اس انتظار میں رہتی ہے صاحب بہادر نوٹس لیں پھر وہ کارروائی کریں اگر یہ صورتحال ہے تو وزیراعلی صاحب اور صاحبہ سے التماس ہے کہ وہ براہ مہربانی جلد نوٹس لے لیا کریں تاکہ ظلم بڑھنے سے روکا جا سکے، افسوس اس بات کا بھی ہے کہ جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم اب تک اس معاملے پر خاموش ہیں شاید ان کو اس کیس میں کوئی فنڈ ملنے کی توقع نہیں اس لئے اونٹنی جانے اور حکومت جانے

سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی معمول کی بات بن چکی ہے، کراچی لہو لہو ہے، دو دہائیوں سے سندھ پر حکومت کرنے والی پارٹی کی ترجیحات صرف اقتدار میں رہنا ہے چاہے اس کے لئے اسے اپنی ازلی دشمن جماعت مسلم لیگ نون سے ہی ہاتھ کیوں نہ ملانا پڑے، ملک بھر میں جب بھی کوئی سیاسی سرگرمی ہوتی ہے تو جیالے ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ ، اگر بھٹو زندہ ہے اور اس کے صوبے میں جہاں شہدا مدفون ہیں وہاں جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور اس کی پولیس ایک ظالم وڈیرے کو بچا لیتی ہے وہاں بھٹو مر کیوں نہیں جاتا، ان مظالم کی موجودگی میں بھٹو کے زندہ رہنے کا جواز اور امکان نہیں رہتا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی کے نوٹس کی اوقات ہی کیا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعلی ظالم وڈیرے کو بچانے والے پولیس اہلکاروں کی بھی ٹانگیں کاٹ دیتے اور ان کو اونٹنی کے ساتھ بٹھا دیتے اور کہتے کہ اب رو رو کر لوگوں کو بتاؤ کہ اونٹنی کو ٹانگ کاٹنے کی کتنی تکلیف ہوئی ہے مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ پولیس اہلکار بھی کسی وڈیرے کی سفارش پر تعینات ہوئے ہوں گے اور پیپلز پارٹی وڈیروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتی کیونکہ اگلے الیکشن میں انہی درندے وڈیروں نے پیپلز پارٹی کو ملک کی مقبول ترین پارٹی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

Facebook Comments HS