سورج دیوتا کے دیس میں


جنت کی تلاش

اٹھ بلھے آ یار منا لئے
نہیں تیں بازی لے گئے۔

آوازوں کا شور ہے ان کا تلاطم رکنے میں نہیں آ رہا دائیں بائیں اوپر نیچے آوازوں کا ہجوم ہے کہ امڈتا چلا آ رہا ہے اتنے میں ایک بیٹے کی آواز ابھرتی ہے

”سنا ہے کل کتا بھونک رہا تھا“
اس کو کیا تکلیف ہوئی؟ ایک آدمی بولا
” اس کو بڑی تکلیف ہوئی ہے“ دوسرا بیٹا بولا!
تیسرا بیٹا بولا!
”لگتا ہے اس کی دم پر پاؤں آ گیا ہے“
ان کے ایک ساتھی نے حیران ہو کر پوچھا
”یار عجیب بات ہے کل تک تو تم کہتے تھے ہم اس کے بیٹے ہیں وہ ہمارا باپ ہے“
چھوڑو یار یہ بتاؤ ہم نے اس سے کیسی لڑائی لڑی ہے
”بیٹوں نے باپ سے؟“ دوست نے حیران ہو کر پوچھا
اچانک ان کی ڈوبتی آوازوں میں سکیوسن کی آواز ابھرتی ہے
”اگر آپ میری بات مانیں تو آج شبوئیا چلتے ہیں“
”شبوئیا میں کیا خاص بات ہے“ میں نے پوچھا
کتا دیکھنے؟
ایک جاپانی دوست درمیان میں بولا!
”بھلا کتا بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہے“ الخالصی نے نفرت سے کہا
سکیوسن نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا

”جن معنوں میں آپ کتے کو کتا سمجھ رہے ہیں یہاں میں کتے کو کتا نہیں کہہ سکتی، انسان کو انسان نہیں کہ سکتی“

میں حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا

”یہ ایک عجیب کہانی ہے میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی یہ محبت کی کہانی ہے وفاداری کی کہانی ہے کسی کتے کی کہانی نہیں نہ انسان کی کہانی ہے“

الفاظ ایسے تھے کہ دادا رحمن اور چڑ راج بھی متوجہ ہو کر سننے لگے۔

” یہ ایک جذبے کی کہانی ہے اگر یہ جذبہ موجود ہے تو کتا، کتا نہیں اگر موجود نہیں تو انسان، انسان نہیں کتا انسان ہے انسان کتا ہے“

سکیوسن کے الفاظ کتا انسان، انسان کتا سب میرے ذہن میں گڈ مڈ ہو رہے تھے۔

اس کا کتے کہنے کا انداز اس طرح کا تھا کہ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اس پس منظر میں ادنیٰ کون ہے اعلیٰ کون ہے ہیچ کون ہے ارفع کون ہے اشرف المخلوقات کا درجہ کس کو دیا جائے کتا انسان، انسان کتا کے الفاظ پنڈولم کی طرح میرے ذہن میں moveکر رہے تھے اتنے میں بابا بلھے شاہ کی آواز میرے کانوں میں ابھرنے لگی :

اٹھ بلھیا یار منا لیے
نہیں تے بازی لے گئے کتے
تیں تو اتے

چڑراج بولا! ”بات تو سکیوسن کی سوچنے والی ہے انسان اور کتے کا ازل سے ساتھ ہے آپ مہا بھارت میں دیکھیں یہ جنگ ایک ہزار سال قبل مسیح کے زمانے لڑی گئی تھی“

”بالکل یہ بہت بڑی ایپک ہے ایسی رزمیہ نظم کہ جسے سنسکرت زبان کی“ ایلیڈ ”کہا جاتا ہے“ سکیوسن بولی۔
جی ہاں مہا بھارت کی جنگ ایک خاندانی جنگ تھی۔
”کورو اور پانڈووں کی جنگ“

اس جنگ میں سارے کورو مارے جاتے ہیں اور پانڈووں کے تمام ساتھی بھی جنگ میں مارے جاتے ہیں دھرت راشٹر کے سارے بیٹے اس جنگ میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں چنانچہ وہ تاج و تخت چھوڑتا ہے اپنی بیوی کو ساتھ لیتا ہے اور سنیاس لے لیتا ہے اس دوران پانڈو تخت نشین رہتے ہیں جب 26 سال بعد انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کرشن جی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو وہ اپنا تاج و تخت چھوڑ کر ہمالیہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ یہاں راستے میں ایک ایک کر کے اس کے تمام ساتھی مر جاتے ہیں صرف یدھشٹر اور اس کا کتا زندہ بچ جاتے ہیں اس سارے کھیل میں سب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، یدھشٹر کا ساتھ دینے والا صرف ایک کتا زندہ بچ جاتا ہے۔

یہ دونوں سورگ کی تلاش میں نکلتے ہیں اور آخر کار جنت تلاش کر لیتے ہیں یدھشٹر دعا مانگتا ہے کہ اس کے بھائی اور بیوی دروپدی بھی اس کے ساتھ جنت میں چلے جائیں وہ اس وقت تک جنت جانے سے انکار کر دیتا ہے جب تک ان سب کو بھی جنت میں جانے کی اجازت نہیں ملتی۔

دعا قبول ہوتی ہے، لیکن کتے کو جنت میں جانے کی اجازت نہیں ملتی یدھشٹر ایسی جنت میں جانے سے انکار کر دیتا ہے جس میں اس کا وفادار کتا نہیں جا سکتا اور دونوں نرک میں چلے جاتے ہیں۔ ہمہ یاراں دوزخ

”پھر تو انسان اور کتے کی پہچان صرف اور صرف وفا داری میں ہے“ میں نے سوچا
”جی ہاں“ چڑ راج بولا
پیدائش نہیں
نوع نہیں جنس نہیں
ادنیٰ و اعلیٰ نہیں
انسان اور جانور ہونا نہیں
معیار صرف وفاداری ہے۔
ورنہ انسان انسان نہیں کتا کتا نہیں

کتے نے آخر تک یدھشٹر کا ساتھ دیا اور وفاداری کی انتہا کر دی جب کتے کو جنت کا انکار ہوا تو یدھشٹر نے اس جذبے کو قائم کرتے ہوئے اپنا سب کچھ تج کر دیا اپنا آرام سکون خوشیوں اور مسرتوں بھری ایک لا متناہی زندگی قربان کر دی، وہ دونوں اس معیار پر آ گئے تھے جہاں صرف جذبہ رہ جاتا ہے خواہشات نہیں رہتیں۔ ہر تخلیق اور ہر مخلوق اس ترازو پہ کھڑی ہوئی ہے کوئی اعلیٰ نہیں کوئی ادنیٰ نہیں کوئی اشرف نہیں اشرف اور شرف صرف جذبہ ہے وفاداری ہے۔

ان سارے خیالات نے مجھ پر یورش کی ہوئی تھی، اب تک تو میں انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتا تھا مگر لگتا ہے ایسا نہیں ہے سارا دار و مدار رویوں پر ہوتا ہے کہ آپ کا رویہ کیا ہے۔ کتا انسان سے افضل ہے انسان کتے سے بد تر ہے یہ الفاظ پنڈولم کی طرح گھوم رہے تھے۔

ایک کتا، ایک نجس جانور جو چند روٹی کے ٹکڑوں کے لئے آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتا جب آپ کے بھائی آپ کے لخت جگر آپ کے پیارے سب موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں وہ آخر تک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتا آپ کی خوشی کے لئے آپ کی خوشنودی کے لئے آپ کے ارد گرد آپ کے سامنے آپ کے آگے پیچھے ہر وقت دم ہلاتا رہتا ہے کہ آپ اس سے خوش رہیں یہ کیا عجب چیز ہے میرے ذہن میں میری آنکھوں کے سامنے جیسے ایک ترازو گاڑ دیا گیا تھا میں اس سے محبت اور محبت کے انمول جذبے کو جانچ رہا تھا۔

” کیا خیال ہے پھر چلیں“ سکیوسن بولی!
”بھلا یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے“

میں نے کہا ”سکیوسن اب شبوئیا جانے کی خواہش شدت اختیار کر گئی ہے جتنا جلدی ہو سکے میں اس وفا کے سمبل کو دیکھنا چاہتا ہوں“

چڑراج بولا ”سکیوسن آپ ہمیں کہیں لے جائیں ہم نے تو جانا ہے ٹوکیو کی گلی گلی دیکھنی ہے، لیکن یہاں نہ شاہراہوں کے نام پڑ ھے جاتے ہیں نہ مارکیٹوں کے نہ دکانوں کے اندر اشیا کے ہم اندازے سے چیزیں خریدتے ہیں جو بعد میں کچھ اور نکل آتی ہیں، میں جس کو Jam سمجھ کر لے آتا ہوں وہ Pickles نکلتی ہیں Honey لے کر آتا ہوں بعد میں پتہ چلتا ہے وہ سرکہ ہوتا ہے For God sake اتنے بھی جاپانی نہ بنیں، اب جب آپ نے جاپان کے 4۔ Doors کھول رکھے ہیں اور سیاحوں کی لمبی قطار ٹوکیو اوسکا میں داخل ہو رہی ہے کسی بین الاقوامی زبان میں بھی شاہراہوں، مقامات کا اور اشیاء کا نام لکھا جائے تا کہ ہم بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

”اب آپ آ گئے ہیں تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے“ سکیوسن نے کہا! Let us move
خاتون ہو اور ہمارے عراقی دوست اس سے بات کر نے کا موقع جانے دیں یہ نہیں ہو سکتا

” جہاں دیکھو ہر جگہ ہر تحریر جاپانی ہر سائن بورڈ جاپانی زبان میں بے شک آپ کو اپنی زبان اپنی قوم اور اپنے ملک سے محبت ہے لیکن محبت کے اس اظہار میں ہمارا بیڑہ غرق نہ کریں“

الخالصی دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
پھر بھی سکیوسن ”ہم آپ کے ساتھ جانے کو تیا ر ہیں جہاں بھی لے چلیں“ ۔

میں نے اسے اشارہ کیا کہ یہ جو میگزین آپ کے ہاتھ میں ہے اسے واپس رکھ دیں، جو دنیاوی حوروں کے مسکراتے چہروں سے مزین ہے آپ سے تو جنت کی اصلی حوروں کا وعدہ ہے ”اس نے بڑی مشکل سے میگزین واپس رکھا۔

”آپ جہاں جا رہے ہیں آپ کو معلوم ہے کس چیز کے لئے مشہور ہے؟“ جاپانی دوست نے الخالصی سے پوچھا
الخالصی فوراً بولا
نائٹ کلبوں کے لئے

ہم ہنس پڑے ویسے تو بندہ بشر ہے ہم بھی انسان ہیں لیکن لگتا ہے ہمارے عرب دوست انگور کی بیٹوں اور حور و قصور کے وعدہ فردا سے اب تنگ آچکے ہیں۔ وہ شاید انتظار کر کر کے تھک گئے یہاں نہیں اب الفاظ نہیں جیتی جاگتی حوریں چائیں اس لئے آپ پوچھیں کچھ ان کی تان آ جا کر حور و قصور پر ٹوٹتی ہے۔

”سر جی ہر وقت نائٹ کلب کا خیال“ دادا رحمن نے پوچھا
خالصی بولا اور کیا ہم یہاں تربوز کھانے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے اسے شہ دیتے ہوئے کہا
مسٹر خالصی You are right

آپ کو جاپان میں ہر چیز فراوانی سے ملے گی جس چیز کا بھی آپ کا دل کرے گا وہ آپ کو مل جائے گی۔ یہ علاقہ بے شک شاپنگ اور آپ کی تفریح طبع کے لئے بہت مشہور ہے لیکن اس میں آپ کو ایک عجیب چیز دیکھنے کو ملے گی۔

الخالصی بڑی توجہ سے سن رہا تھا۔
اس علاقے کا سمبل (symbol) نہ تو روبوٹ ہیں نہ انسان نہ ڈیپارٹمنٹ سٹور نہ نائٹ کلب
پھر فائدہ؟ خالصی بولا
کہیں شنٹو شرائن کی وجہ سے تو مشہور نہیں؟
نہیں
امپیریل پیلس کی وجہ سے
نہیں
لندن کی 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرز کی کوئی رہائش؟
”کوئی ایسی چیز نہیں“ مسٹر سوزوکی بولے
سیکوسن بولی مسٹر خالصی میں آپ کو بتاتی ہوں

”سوزوکی سن نے آپ کو بلاوجہ پریشان کیا ہوا ہے یہ انسان کی یا انسان کی کسی بنائی ہوئی یا ایجاد کی ہوئی کسی چیز کی وجہ سے مشہور نہیں لیکن انسان کو چاہنے والے اور اس سے محبت کرنے والے ایک پرانے ساتھی اور وفادار جانور کتے کے نام پر مشہور ہے“

اس علاقے کا سمبل وہ وفادار جانور ہے جس کا نام ہاچیکو تھا ہاچیکو اس کتے کا نام ہے جس کا کانسی کا بہت بڑا مجسمہ شبوئیا سٹیشن کے شمال بیرونی راستہ پر نصب کیا گیا ہے۔ یہ ہاچیکو جنگ عظیم سے قبل 1923 ءسے 1935 ءتک زندہ رہا اور اپنی لازوال وفاداری اور محبت کی وجہ سے اپنا نام لوگوں کے دل میں رقم کر گیا۔

ہم سب کے منہ لٹک گئے ہم نے حیران ہو کر پوچھا پورا علاقہ ایک کتے کے نام پر مشہور ہے

میں حیران تھا بظاہر اس نجس چیز کا مقدس کتابوں میں ذکر ہے اصحاب کہف میں دیکھیں غار کا ذکر ہے اصحاب کا ذکر ہے اور غار کے دہانے پر ان کی رکھوالی کرنے والے کتے کا ذکر ہے جو رہتی دنیا تک اصحاب کہف کے ساتھ لازم ملزوم رہے گا۔

ٹھیک ہے ہم اس شہر اجنبی شہر میں محبت کے لازوال مجسمہ کی زیارت سے اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں سامنے ٹکٹیں حاصل کرنے کی مشین لگی ہوئی تھی ہم نے سکے ڈال کر ٹکٹیں حاصل کیں اور ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھے ریلوے کے دو ملازمین سے چیک کروا کر سیڑھیاں اترنے لگے چند منٹوں بعد ہم نیچے سٹیشن پر کھڑے تھے۔ ابھی چند لمحات گزرے تھے کہ ٹرین آ گئی۔ رکی۔ اس کے دروازے خود بخود کھلے لوگ جلدی سے اترے چڑھے ہم بھی سوار ہو گئے۔

مسٹر سوزوکی نے بتایا کہ گنزا یہاں کا خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ یہ ٹرین گنزا روپونگی شبخوکواور اکے بکرو کے بعد شبوئیا رکے گی جو ٹوکیو کے غربی علاقے میں ٹوکیو کا اہم حصہ ہے یہ بڑا سا سٹیشن ہے جہاں ٹرینوں کے کئی ٹریک ہیں شبخوکو کی طرح جو شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں ملاتے ہیں وہی ہوا جونہی ٹرین اگلے سٹیشن پر رکی لوگوں کا بے پناہ رش ہونا شروع ہو گیا شکر ہے کہ ہم کو سیٹیں مل گئی تھیں ورنہ رش اتنا ہو گیا تھا کہ ایک مرتبہ تو سانس لینا دوبھر دکھائی دیتا تھا لیکن اس کے باوجود نہ دھکم پیل نہ ہڑبونگ نہ لڑائی جھگڑا، ایسا کوئی مظاہرہ نہیں ہوا جو ہمارے ہاں اب تک کئی مرتبہ ہو چکا ہو تا کئی آستینیں پھٹ چکی ہوتیں، گریبان چاک ہو چکے ہوتے، گالیوں کی کئی مترنم آوازیں اب تک کانوں میں گونج رہی ہوتیں لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا مسٹر سوزوکی نے ایک سٹیشن قریب آتے ہوئے کہا تیار ہو کر بیٹھے اور ہمارا سٹیشن آ گیا ہے ۔

شبوئیا واقعی بڑا سٹیشن تھا لوگوں کا بے پناہ ہجوم ہم جلدی سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتے غربی دروازے کی طرف بڑھے چیکنگ سٹاف کو میں نے ٹکٹ دی اور آگے چل دیا اتنے میں محسوس کیا کہ وہ مجھے آوازیں دے رہا ہے آپ نے 50 ین کا کم کا ٹکٹ لیا ہے۔ اس طرح ہم تینوں نے انہیں 150 ین دیے جو اس نے وہیں خانے میں ڈال دیے جہاں پہلے ہی سکوں کا انبار لگا ہوا تھا نہ ٹکٹ نہ رسید کچھ بھی نہیں، میں نے حیران ہو کر سوزوکی سن سے پوچھ ہی لیا کہ

” رسید کیوں جاری نہیں کی گئی“

نہ ٹکٹ نہ رسید یہ لوگ خود اتھارٹی ہیں اور یہ ٹرینیں پرائیویٹ کمپنی کی ہیں ان کو اپنے آدمیوں پر پورا یقین ہو تا ہے اور ایک ین ادھر ادھر نہیں ہو گا۔ یہ ساری رقم مکمل طور پر ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اس کے حساب میں جمع ہو جائے گی۔ اور یہاں کوئی ہیرا پھیری نہیں ہو گی یہ روز کا معمول ہے۔

میں پہلے گھبرایا ہوا تھا یہ سن کر اور حیران ہوا کہ میں کس معاشرے میں کھڑا ہوں جہاں اس قدر ایمانداری اور اعتماد ہو

ہم اتنے میں بیرونی دروازے سے نکل کر باہر آ گئے تو سامنے ہاچیکو کا عظیم الجثہ مجسمہ تھا

مسٹر سوزوکی نے بتایا کہ یہ کتا ایک پروفیسر کا تھا جو ٹوکیو یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا اور ہر روز یہ کتا اپنے مالک کے ساتھ شبوئیا سٹیشن پر آتا جہاں اس کا مالک ٹرین پر بیٹھ کر یونیورسٹی چلا جاتا تھا اور ہاچیکو وہی سٹیشن کے باہر اس دروازے پر بیٹھ جاتا تھا شام کو جب اس کا مالک یونیورسٹی سے واپس آتا تو وہ اٹھ کر اسے خوش آمدید کہتا اور اس کے ہمراہ گھر کی راہ لیتا۔ 1925 ء میں ایک روز مالک سٹیشن سے دور بمباری میں ہلاک ہو گیا لیکن یہ کتا بدستور پورے دس سال تک اس کی راہ دیکھتا رہا وہ روزانہ صبح سٹیشن پر جاتا انتظار کرتا اور شام کو بے نیل مرام واپس آتا اور آخر دس سال کے کڑے انتظار کے بعد اپنے مالک کی راہ تکتے تکتے سٹیشن پر جان دے دی۔ اس طرح کتے کی وفاداری Legendبن گئی۔

اس اسٹیشن پر آنے والے اور واقف کار جانتے تھے کہ یہ ہاچیکو اپنے مالک کا کتنا وفادار ہے اس وفا داری سے متاثر ہو کر علاقے کے لوگوں نے اس کی یاد گار قائم کرنے کا ارادہ کیا اور ایک روز کانسی کا ایک بڑا مجسمہ بنوا کر اسی جگہ نصب کیا جہاں ہاچیکو اپنے مالک کا انتظار کرتے کرتے دم توڑ گیا ہاچیکو کا خیال آج بھی محبت کرنے والے دلوں کو گرماتا ہے اور میرے جیسا ہزاروں میل دور سے آیا ہوا اجنبی محبت کے اس جذبے اور وفاداری کی انمٹ مثال کو سلام پیش کر رہا ہے۔ وفاداری کے سمبل کو نسب کرنے والے لوگوں کے احساسات اور میرے احساسات ایک جیسے تھے مجھے محسوس ہوا کہ محبت ایک امر جذبہ ہے اور یہ لوگ میرے جیسے گوشت پوست کے انسان ہیں جن کا دل میرے دل کے ساتھ دھڑکتا ہے ان کی خواہشات ان کی محبتیں ان کا جذبہ میرا جذبہ ہے نہ میں ان سے مختلف ہوں نہ یہ میرے لئے اجنبی ہیں۔

شبوئیا سٹیشن آج بھی دو دھڑکتے دلوں کے لئے Rendezvous ہے نئے جذبے لئے نئی امنگیں لئے بے شمار نوجوانوں کی ملنے کی جگہ ہے، وہ اس سے omen لیتے ہیں کہ ان کی محبت بھی اسی طرح لازوال رہے۔

میرا دل جب اداس ہوتا میں سکیوسن کو ساتھ لے کر شبوئیا چلا جاتا ہا چیکو کے مجسمے کے سامنے ہم گھنٹوں بیٹھے رہتے محبت وفاداری خلوص کا پنڈولم دائیں سے بائیں، بائیں سے دائیں جھولتا رہتا مجھے سمجھ نہ آتی تھی عظیم کون ہے برتر کون ہے انسان یا کتا، کتا یا انسان یا کچھ بھی نہیں عظیم صرف جذبہ ہے جو بھی اپناتا ہے وہی عظیم ہے کئی انسان کتے ہیں اور کئی کتے انسان ہیں کئی کتے انسان سے بہتر ہیں پنڈولم چلتا رہتا ہے یہ ایک جگہ رکتا نہیں ہے۔

بابا بلھے شاہ کی آواز مسلسل آتی رہتی ہے
اٹھ بلھیا یار منا لیے
نئیں تے بازی لے گئے کتے
تیں تو اتے

Facebook Comments HS