سر بکر و بز سلامت کہ تو خنجر آزمائی


میرے خیال میں اگر اب صوبہ پنجاب کے بکروں میں ریفرنڈم کرایا جائے کہ پنجاب کا حکمران کسے ہونا چاہیے تو یقینی طور پر ان کی یہی رائے سامنے آئے گی کہ پنجاب کا انتظام مکمل طور پر پنجاب پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے۔ کیونکہ اس عید پر پنجاب پولیس نے بکروں کی حفاظت کے لئے اتنی جانفشانی سے کام کیا ہے کہ انسان بکروں پر رشک کرنے لگے ہیں۔ اس بکرا بچائو مہم کی پشت پر تحریک لبیک کا مسلسل دبائو تھا۔ ان کی فلاسفی یہ ہے کہ احمدیوں کو آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور جنرل ضیاء صاحب نے ایک آرڈیننس نافذ کیا تھا کہ اگر کوئی احمدی  pose as a Muslimکا مرتکب ہوا تو اس کی کو تین سال کے لیے سرکاری مہمان بننا پڑے گا۔ بڑی عید پر مسلمان قربانی کرتے ہیں۔ اس لیے احمدی کا کیا حق کہ ان دنوں بکرا خریدنے کی جسارت کرے۔

 اگر کسی احمدی نے قربانی نہیں کرنی تھی تو اس کے گھر میں بکرا کیا کر رہا ہے؟ چنانچہ تحریک لبیک کے نزدیک کسی احمدی کے گھر میں محض بکرے کی موجودگی ایسی قانون شکنی ہے کہ پولیس کا فرض ہے کہ گھر گھر چھاپے مار کر ایسے بکروں کا سراغ لگائے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اکیڈمی جب آئین میں درج بنیادی حقوق پڑھائے گئے تھے تو کسی وجہ سے پولیس کے طلبا کو یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ یہ حقوق بکروں کے ہیں انسانوں کے لئے ان حقوق کی کوئی ضمانت نہیں۔

ابھی عید کا روز شروع نہیں ہوا تھا کہ پنجاب پولیس نے کئی مقامات پرچھاپے مارنے شروع کر دیئے تھے کہ کہیں کوئی احمدی گھر میں بکرا رکھنے کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔ بلکہ اس سے بھی قبل چکوال میں تین احمدیوں کو اس لئے حوالات بھجوا دیا گیا کہ ان کے متعلق سرکاری حکام کو یہ گمان تھا کہ وہ مستقبل میں کسی بکرے کے قتل عمد کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ ان کی تحویل سے ابھی کوئی بکرا بھی بر آمد نہیں ہوا تھا جس کے امکانی زبیحہ کا شبہ ہوتا۔ ابھی ان کی بمشکل گلوخلاصی ہوئی تھی کہ خاص طور پر ضلع سیالکوٹ میں سات احمدیوں کو اس لیے حراست میں لے لیا گیا کہ ان گھر بکرا برآمد ہوا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں کہ ابھی ایسے بکروں پر چھری پھرنے کی نوبت نہیں آئی تھی لیکن محض بکرے کی موجودگی نقص امن کا باعث بن رہی تھی۔ چنانچہ ندیم آباد ڈسکہ اور کھوکھرکی ضلع گوجرانوالہ میں ایک ایک احمدی اور تھانہ موترہ ضلع سیالکوٹ میں پانچ احمدیوں کو زندہ بکروں سمیت حراست میں لے لیا گیا۔

ریلوے کالونی لاہور میں پولیس ایک احمدی کے گھر میں زبردستی داخل ہو کر بکرا دریافت کرتی رہی۔ لودھی ننگل فیصل آباد میں ایک احمدی اور اس کے بکرے دونوں کو حراست میں لے جایا گیا۔ لیکن انسان کو تو حراست میں رکھا جا سکتا تھا لیکن بکرے کا کیا کرتے؟ حوالات میں بکروں کے رکھنے کی سہولت نہیں موجود۔ سارے دانا سر جوڑ کر بیٹھے کہ یہ مسئلہ کیسے حل کریں۔ آخر کار ایک انتہا پسند نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ بکرا اس کے ہاتھ آدھی قیمت پر فروخت کر دیا جائے۔ پولیس کو یہ تجویز اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اس آدھی قیمت میں سے مبلغ چھ ہزار روپے بطور حق الخدمت کے اپنے پاس رکھ لیے۔

 میں بھی ایک کسان خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ جن گھرانوں کا ذریعہ معاش زراعت ہو تو ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے گھر میں کوئی گائے یا بکرا موجود نہ ہو۔ کیا ایسے تمام احمدی گھرانے پولیس کی دست اندازی کی زد میں ہوں گے کیونکہ ان کے گھر میں ایک عدد بکرا دن دھاڑے منمنا کر آئین پاکستان کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

 ان خبروں کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کوٹلی (آزاد کشمیر ) میں دہشت گردوں نے احمدیوں کے عبادت گاہ پر حملہ کر کے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ میناروں اور محرابوں کو بھی منہدم کر دیا۔ یوں تو پولیس کا محکمہ عید کے روز اس جانفشانی سے بکروں کا کھوج لگا رہا تھا لیکن پولیس کی طرف سے اس دہشت گردی کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

یہ بندہ عاجز ان حالات پر سر دھن رہا تھا کہ فون موصول ہوا کہ خود میرے زرعی فارم میں ایک گاڑی ایلیٹ فورس کے جوانوں کی اور ایک گاڑی پولیس کے حاضر باش عملہ کی داخل ہو گئی ہے۔ کل بائیس کے قریب چاک و چوبند جوان میرے فارم پر کیا کرنے آئے تھے؟ یہ سب احباب اس لیے تشریف لائے تھے تاکہ یہ تسلی کر سکیں کہ کہیں اس مقام پر کسی بکرے کا قتل تو نہیں ہو رہا۔ میں اس ذرہ نوازی اور بکرہ نوازی پر ان کا شکر گزار ہوں لیکن اگر یہی پولیس دہشت گردوں کو قابو کرنے کا کام کرتی تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔ کچھ پولیس والے تو چلے گئے ہیں اور کچھ ابھی بھی میرے ڈیرے کو زیب و زینت بخش رہے ہیں۔ اور میں عید کے اگلے روز یہ الفاظ لکھ کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہوں۔ اب تک پچیس کے قریب احمدیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر کو ایک عدد بکرے کا مالک ہونے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا ہے۔ یہ خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ کچھ گھروں میں تو پولیس نے فرجوں کی تلاشی لے کر گوشت اپنی تحویل میں لیا۔ شاید مزید تفتیش کے لیے یہ گوشت ضبط کیا گیا ہو۔

یہ خیال نہ فرمائیں کہ یہ سلسلہ عید کے تین روز تک محدود رہے گا۔ بکرا گردی کے علاوہ بھی بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔ جیسا کہ خاکسار نے گذشتہ ایک کالم میں یہ ذکر کیا تھا کہ علما کی تنظیم کی طرف سے باقاعدہ یہ مطالبہ شائع کر دیا گیا کہ آئین اور قانون میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں کہ کوئی احمدی مسلمانوں جیسا نام نہیں رکھ سکتا۔ ان پر یہ پابندی لگائی جائے کہ ان کے مردوں اور عورتوں کا لباس، داڑھی اور ٹوپی بھی مسلمانوں سے مختلف ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ (ہفت روزہ ختم نبوت جلد 43 نمبر 14۔ 15 ص 24)

میں ایک بات سمجھنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ظہور اسلام سے صدیوں قبل سے یہودی اپنے بچوں کے نام انبیاء کے نام پر مثال کے طور پر ابراہیم اسحاق یعقوب یوسف ایوب موسی ٰوغیرہ رکھتے تھے۔ اور ان کی مقدس کتب میں ان مقدس ہستیوں کے تفصیلی حالات درج تھے۔ کیا یہودی اس بات کا مطالبہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان اپنے بچوں کے ایسے نام نہ رکھیں۔ یہ تو بنی اسرائیل کے انبیا تھے۔ مسلمانوں کے نام علیحدہ اور مختلف ہونے چاہییں۔ یا اگر اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت مسلمانوں پر ایسے نام رکھنے پر پابندی لگا دے تو کیا یہ کوئی معقول قدم ہوگا۔ اگر یہ قدم نامعقول ہوگا تو پاکستان میں مذکورہ مطالبہ کیسے معقول کہلا سکتا ہے؟

اس موقع پر مجھے ایک فارسی شعر یاد آ رہا ہے۔

نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت

سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

(تیری تلوار سے ہلاک ہونا دشمن کو نصیب نہ ہو۔ تیرے دوستوں کے سر سلامت رہیں کہ تو ان پر خنجر آزمائے۔)

ہماری پولیس دہشت گردی کو تو ختم نہ کر سکی، اس کی جگہ اب امن پسند شہریوں پر غصہ نکالا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اس دوسرے مصرعہ میں تصرف کر کے اسے یوں بھی پڑھا جا سکتا ہے

سر بکر و بز سلامت کہ تو خنجر آزمائی

یعنی بکروں اور بکریوں کے سر سلامت رہیں تو امن پسند شہریوں پر ہی خنجر آزمائی کرتا جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments