کیا پاکستان کو سیکولر ریاست ہونا چاہیے؟
سیکولرازم کا مطلب ہے کہ ریاستی معاملات میں کوئی مذہبی دخل اندازی نہ ہو۔
سیکولرازم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپ نشاۃ ثانیہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ 15 ویں اور 16 ویں صدی میں جب مذہب ریاستی سطح پر با اختیار اور با اثر تھا، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے گرجا گھروں پر حملہ آور ہو رہے تھے اور ایک دوسرے کے سر قلم کر رہے تھے۔ ان مذہبی فسادات میں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ پورے یورپ کی ترقی رک اور جامد سی ہو گئی۔ پادری اور راہبات ریاست اور مذہب کے معاملات کا فیصلہ کرنے میں مستند تھے۔ گیلیلیو کو ایک مذہبی چرچ نے صرف اس کے موقف کی وجہ سے سزا دی کہ یہ زمین ہے، سورج نہیں، جو گھومتا ہے۔ بلاشبہ مذہبی طبقاتی اجارہ داری اور مذہب کے ذریعے ریاستی امور پر کنٹرول کی وجہ سے یورپ ایک منجمد حالت میں تھا۔
آخر کار یورپ کے دانشور اس نتیجے پر پہنچے کہ مذہب کا ریاستی معاملات میں کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے اور اس کی حکمرانی کلیسا تک محدود رہنی چاہیے۔ اس فیصلے نے واقعی یورپ کی ترقی کو ایک سمت دی۔ آج یورپ واقعی ارتقا اور ترقی کے عروج پر ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام سیکولرازم کے خلاف ہے یا واقعی اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاستی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے؟
اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو اسلام، سیکولرازم سے متصادم ہے۔ اسلام ریاست اور مذہب کے معاملات کی علیحدگی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہر ریاست کا ایک مذہب ہوتا ہے اور ریاست کے معاملات اس مذہب کے احکامات کی روشنی میں چلائے جانے چاہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر وہی ہوا جیسا کہ کئی دہائیوں سے یورپ میں ہوتا رہا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں نے معاشرے کو سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، وہابی کے نام پر تقسیم کرنا شروع کر دیا، مذہبی مسلکی بنیادوں پہ جنگ چھیڑ کر ایک دوسرے کا قتل عام کیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کا دور بدترین دور تھا جس میں ان گروہوں کو افغانستان اور کشمیر میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا اور ان کی ریاستی سطح پہ سرپرستی کی گئی۔ اور ان تنظیموں کو اپنے مذہبی مراکز قائم کرنے اور وہاں اپنے بنیاد پرست اور جنونی عقائد کی تبلیغ اور پرچار کرنے کی آزادی دی گئی۔ یہ تنظیمیں دھیرے دھیرے معاشرے میں گھس گئیں اور اپنے عقائد کو دوسروں پر تھوپنے لگیں۔ آخر کار، وہ اتنے مضبوط ہو گئے کہ اس نے طاقت کے ذریعے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ یہ عناصر ہمارے ملک میں اپنے قدامت پسند اور جنونی ایجنڈے کے ذریعے اسے عدم استحکام اور تباہی پھیلانے میں سرگرم ہیں۔
اس لیے ملک کا لبرل طبقہ اب واضح طور پر اس ایجنڈے کا پرچار کر رہا ہے کہ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا جائے اور ریاست کے معاملات میں مذہب کی کوئی بالا دست حیثیت نہیں ہونی چاہیے اور اس کا کردار لوگوں کی نجی زندگی تک محدود رہنی چاہیے۔ ان کے پاس اپنے موقف کی پیروی کے لیے درج ذیل دلائل ہیں۔
1۔ مذہب تمام فرقہ ورانہ اختلافات کی جڑ ہے اور ان فرقوں کے پیروکاروں کے درمیان یکسانیت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
2۔ مذہب متروک اور فرسودہ ہو چکا ہے اور یہ جدید دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق نہیں ہے۔
3۔ مذہب معاشرے کی ترقی اور پیشرفت میں رکاوٹ ہے کیونکہ یہ نئی ایجادات کی مخالفت کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ان آرتھوڈوکس جذبات سے آگے نہیں بڑھنے دیتا جو اس نے ان میں پیدا کیے ہیں۔
لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ لبرلز سوچتے ہیں اس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔
1۔ مذہب کبھی بھی اختلاف اور اجنبیت کا سبب نہیں بن سکتا جیسا کہ اسے سمجھا جاتا ہے۔ کچھ خود غرض اور انارکسٹس کے اعمال کو پورے مذہب سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
2۔ اسلام بحیثیت دین امن، رواداری اور اعتدال کی بات کرتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ”خیر الامور اوسطھما“ بہترین عمل اعتدال ہے۔
3۔ اسلام کسی ایک انسان کی موت کو پوری انسانیت کی موت قرار دیتا ہے۔ یہ یکساں معاشرے کی تبلیغ کرتا ہے جہاں تمام مذاہب کے پیروکار امن سے رہ سکتے ہیں۔
4۔ مذہب کبھی بھی فرسودہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ لبرل اس کی وکالت کرتے ہیں۔ اسلام نہ صرف اس زمانے کے عربوں کے لیے نازل ہوا بلکہ یہ تمام نسلوں اور بعد کے زمانے میں آنے والے انسانوں کے لیے تھا۔ اسلام ایک لچکدار مذہب ہے نہ کہ جامد۔
5۔ مذہب کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، بلکہ یہ اس ترقی کو قبول کرتا ہے جو اس کے اصولوں کے مطابق ہو۔ ہمارا مذہب اپنے پیروکاروں کو جدید ترقی کی سہولت اور تفریح فراہم کرنے یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے پر نہ تو پابندی لگاتا ہے اور نہ ہی منع کرتا ہے۔
ہمارا مادر وطن اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد کے پیچھے مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا ملک قائم کرنا تھا جہاں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کر سکیں لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ معاشرے کے ایک معمولی عنصر کے مطالبے پر اس کو سیکولر ریاست قرار دیا جائے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ اسلامی احکام و قوانین کو محض نام کی بجائے حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے نا کہ صرف نام کی حد تک جیسا کہ ہم قیام پاکستان کے بعد سے کرتے آ رہے ہیں۔

