حیات روغانی کے پشتو ناول ’نیم زاد‘کا اردو ترجمہ


نیم زاد پشتو ناول نینزک کا اردو ترجمہ ہے جو پشتو میں حیات روغانی کا لکھا ہوا ہے اور اردو میں پروفیسر گوہر نوید نے ترجمہ کیا ہے۔ پروفیسر گوہر نوید نے اس ناول کو بہت احسن طریقے سے ترجمہ کیا ہے۔ اور پشتو کے بنیادی ناول کی بنیادی تھیم کو بھر پور طریقے سے اردو کے سانچے میں ڈال دیا ہے۔

یہ ناول بنیادی طور پر نیم زاد یعنی ہیجڑوں کی زندگی پر لکھا گیا ہے۔ ایک نیم زاد کی پیدائش، ان کی زندگی کی اٹھان، بلوغت، لوگوں کا ان کے ساتھ سماجی رویہ، گھریلو زنانہ و مردانہ خانگی سیاست کا پس منظر اور پیش منظر، درون خانہ جنسی رویہ، سکول اور مسجد میں اساتذہ اور دینی معلم کا رویہ، مسجد میں نماز پڑھنے کے دوران اللہ کے گھر میں نمازیوں کا رویہ، ان کے ذریعے لوگوں کا سماجی اور معاشی حیثیت کے لئے سیاسی حیل و حجت، اپنوں کی خود ساختہ لاتعلقی، لیکن جب معاشی فائدہ ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا، سماج کے استثنائی رویوں کا حال، بے گھری، بے بدری، گورو کے چیلے بننے تک کا سفر، اپنی خاک چھوڑنے اور پھر اپنی ہی خاک میں دفنانے تک کا احوال اس ناول میں بڑی تخلیقی سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اس موضوع پر جب بھی ہم کوئی لکھا ہوا افسانہ یا ناول پڑھتے ہیں تو اکثر منفی پہلووں کو زیادہ اجاگر کیے ہوئے ملتے ہیں جس سے قاری کی نیم زاد سے نفرت کا احساس ہونے لگتا ہے لیکن اس ناول میں بڑے مثبت انداز میں ناول کی کہانی، پلاٹ، کردار، مکالمے، کلائمکس اور اختتام کو سمویا گیا ہے اور کسی بھی جگہ بلا وجہ مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ البتہ ناول کو زیادہ پر کشش دکھانے کے لئے یا حقیقت نگاری کو دکھانے، بیان کرنے یا پھیلانے کے لئے ہیرو ازم کی ایک نئی جہت ضرور اجاگر کی گئی۔

اس ناول میں نیم زاد کسی بھی حوالے سے کمزور نہیں دکھائی دیتے بلکہ اپنی خواہش، اپنی مرضی، اپنی آزادی، اور خودمختاری میں زندگی بسر کر ہے ہوتے ہیں۔ اس ناول میں نیم زاد کو مظلوم یا محکوم نہیں ایک تیسری جنس کی شکل میں اکیلے اور تنہا کھڑے ہوتے ہوئے نہیں بلکہ ایک مثلث کی شکل میں تیسرے زاویئے کی طرح مکمل اور کھرا دکھایا گیا ہے جس کی کمی کی وجہ سے یہ تکون یا مثلث بکھر تو سکتا لیکن نکھر نہیں سکتا۔

اس ناول میں نیم زاد کی تینوں تاریخی تسلسل کا ٹچ ہے لیکن اس میں ہندی اور سندھی ڈائینسٹی کو بہت احسن طریقے سے ایگزیکٹیوٹ کیا گیا ہے۔

اس ناول میں نیم زاد کے حوالے سے جو بھی داخلی یا اندر کی باتیں ہیں وہ ناول کے تخلیق کار نے کسی جگہ بہت کھل کر اور کسی جگہ اشاروں اور کنایوں میں باہر یا خارج کی سطح پر نمایاں کی ہیں۔

اس ناول میں ٫٫ خوند، بھی ہے اور پند بھی یعنی مزا بھی ہے اور نصیحت بھی لیکن نہ تو یہ مزا کسی سطحی مزاح نگار کے چٹکلے ہیں اور نہ یہ پند کسی واعظ کی جذباتی یا روزمرہ قسم کی دھرائی ہوئی ناصحانہ باتیں ہیں بلکہ ادھر اس کے پیچھے ناول کے لکھاری کا محض جذبہ نہیں بلکہ ساتھ ساتھ تعقل، کمٹمنٹ، ڈیڈیکیشن، اور ایک تحریکی مقصدیت نظر آ رہی ہوتی ہے۔

اس ناول میں ایسے تخلیقی جملے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے وہ خود پر بھی سوچنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ شاید کچھ خود کو ٹٹولنا بھی شروع کریں۔ ، جیسے کہ

ہر مرد اور ہر عورت میں ایک ہیجڑا چھپا ہوا ہوتا ہے، ۔ جس طرح ہر پیر و جواں میں ایک بچہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس بچے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، وہ کچھ مانگتا ہے، وہ کوئی کہنا سننا چاہتا ہے۔ ہنسنے کی آرزو رکھتا ہے۔ رونے کو دل کرتا ہے، کسی پری کی چاہت ہوتی ہے، کابوس دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح خوا مرد ہو یا عورت، اس کے اندر ایک خواجہ سرا ضرور ہوتا ہے۔

انسان کے اندر ایک ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے، جسے روح کہتے ہیں، یہ ہوا نکلتی ہے تو کچھ باقی نہیں رہ پاتا۔ ،

اس ناول میں مخصوص قسم کی فلموں کے بولڈ سین کی طرح بولڈ جملے ہیں جو ان جملوں کے بغیر یہ ناول مکمل ہی نہیں ہو پاتا۔

اس ناول میں جگہ جگہ اس خطے کی سیاسی تاریخ ہے، جغرافیے کی اہمیت ہے، عالمی سیاست پر تنقید، مقامی لسانی اور فروعی چپقلش پر نوحے ہیں۔

اس ناول میں چبھتے ہوئے طنز ہے۔ ناول کے پلاٹ، کہانی اور کرداروں سے متعلق شاعری ہے۔ محاورے ہیں، ضرب الامثال ہیں، مقامی لہجے ہیں، سب سے بڑھ کر کہانیوں کا ایک اجتماع ہے جو اس ناول کی بنت میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال کر ناول کی تکمیل کرتی ہے۔

لیکن آخر میں میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ تمام تر تجربے اور احتیاط کے باوجود جگہ جگہ کمپوزنگ کی غلطی قاری کے سامنے آتی رہتی ہے۔ خصوصاً جب ناول کے تعارفی صفات میں وضاحت اور صراحت سے مترجم، نظر ثانی، نظر ثالث اور اہتمام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ پورے آٹھ نام کندہ کیے گئے ہوں جس میں مترجم خود اردو کے ایک زیرک پروفیسر ہوں، نظر ثانی میں تین جید قسم کی شخصیات ہوں جن میں قابل قدر و بصد احترام ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار جیسے منجھے ہوئے اردو کے ادیب و شاعر کے ساتھ ساتھ مشہور اور معروف پروفیسر بھی ہوں اور اس پر مستزاد یہ کہ نظر ثالث کے طور پر دو اور نام دیے گئے ہوں اور وہ بھی اپنے اپنے میدان کے ثقہ لکھاری ہوں پھر دو جید قسم کے افراد نے اس کا بڑے اہتمام سے ٫٫ اہتمام، بھی کیا ہو اور اس کے باوجود کتاب میں جگہ جگہ بلکہ درجن بھر سے زیادہ جملوں میں کتابت، کمپوزنگ یا عبارت کی غلطیاں ہوں تو یہ سارے دیے ہوئے نام ایک اشتہار کی طرح لگنے لگتے ہیں۔ یا پھر کسی برانڈ کے مخصوص ٫٫ لوگو، کی طرح نظر آرہے ہوتے ہیں ٫٫جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے، کے مصداق سامنے ہو کر دکھائی تو دے رہا ہوتا ہے لیکن برانڈ کا اصل پتہ دیکھنے اور پرکھنے کے بعد چلتا ہے۔

لیکن پھر بھی ناول کی کہانی، پلاٹ اور مجموعی موضوع میں اتنا دم خم ہے کہ ان مندرجہ بالا سب خامیوں، کمی، کوتاہیوں کو چھپا دیتی ہے کیونکہ ناول میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو حقیقت میں پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

 

Facebook Comments HS