پولیس کسے پکڑے اور حکومت کیا کرے؟
وزیر منصوبہ بندی نے سوات میں ایک شخص کو توہین قرآن کے الزام میں زندہ جلا دینے کے واقعہ پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گروہی دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات کے محرکات کا جائزہ لے اور قومی لائحہ عمل بنائے۔ اس دوران میں مدین پولیس نے جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعہ پر دو ایف آئی آر درج کرلی ہیں لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
پاکستان کی موجودہ صورت حال میں وفاقی وزیر کا قومی اسمبلی میں مذہبی شدت پسندی اور گروہی انصاف کے بارے میں پریشانی کا اظہار مسئلہ کا حل تجویز نہیں کرتا بلکہ حکومت اور سیاسی لیڈروں کی بے بسی اور مجبوری کا کھلا اقرار ہے۔ احسن اقبال نے اس ایک واقعہ اور اسی قسم کے متعدد واقعات کا حوالہ دینے کے علاوہ چند برس پہلے خود پر ہونے والے حملہ کا ذکر بھی کیا۔ اور بتایا کہ ان پر حملہ آور کی چلائی ہوئی گولی اب بھی ان کے جسم میں ہے۔ اس حوالے سے وہ شاید یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ اور ان کی حکومت اس مسئلہ پر کتنے سنجیدہ ہیں۔ لیکن المیہ یہی ہے کہ ہر حکومت پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے سوال پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سماجی مزاج کو ختم کرنے کے لیے بنیادی اقدامات نہیں کیے جا سکے۔
حد تو یہ ہے کہ ملک کے ایک حصے میں دن دیہاڑے ایک شخص کو ہجوم پولیس کی حراست سے چھین کر ہلاک کرتا ہے اور پھر اس کی لاش کو جلا کر پورا مجمع زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔ ایسے وحشیانہ سماجی رد عمل کی روک تھام کے لیے کسی مذہبی یا سیاسی پارٹی یا افراد نے کوئی منظم کام کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اب بھی ملک کا نصاب بدستور مذہبی تفرقے کا پرچار کرتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں اقلیتی گروہوں کے لیے گھٹن کا ماحول پیدا ہو چکا ہے اور انہیں اپنے عقیدے و رسم رواج پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسکولوں و کالجوں میں اسلامیات کی تعلیم لازمی کرتے ہوئے اقلیتی عقائد کے لیے علیحدہ سلیبس بنانے کی زحمت ہی نہیں کی گئی۔ بلکہ سال ہا سال تک یہ توقع کی جاتی رہی کہ کسی طالب علم کا کوئی بھی عقیدہ ہو، اسے اسلامیات کا پرچہ لازمی پاس کرنا ہو گا۔ اب بھی بیشتر صورتوں میں اسی طریقے پر عمل ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف ملک میں یہ سماجی دہشت عام کی جا رہی ہے کہ کوئی احمدی نہ تو خود کو مسلمان کہہ سکتا ہے، نہ قرآن پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی دے سکتا ہے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں متعدد احمدی شہریوں کی گرفتاری یا ان کے جانور چھین لینے کے واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔
اسی پر اکتفا نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک خاص ماحول میں مذہبی گروہوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا اقدام ضرور کیا تھا لیکن اب ہر حکومت بھٹو صاحب کو مورد الزام ٹھہرا کر خود اپنی ذمہ داری سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ نہ اس ناجائز اور بے جواز آئینی ترمیم کو منسوخ کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور نہ ہی توہین مذہب کے موجودہ جنگجویانہ سماجی رویوں کی بننے والے توہین مذہب قوانین کو تبدیل کرنے کا اصول کسی پارٹی کے سیاسی ایجنڈے پر دیکھا جاسکتا ہے۔ بلکہ ان قوانین میں ترمیم یا ان کی تنسیخ کا سوال زبان پر لانا بھی پاکستانی تفہیم میں توہین مذہب بنا دیا گیا ہے۔ ممتاز قادری نے جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا تو اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت علی الاعلان اپنے ہی گورنر کی نماز جنازہ اور تدفین کا انتظام کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکی تھی۔ احسن اقبال اس مذہبی شدت پسندی اور غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی سے کیا توقع وابستہ کر سکتے ہیں؟
آئین میں احمدیوں کو غیرمسلم ضرور قرار دیا گیا لیکن ان کے انسانی حقوق سلب نہیں کیے گئے۔ بتدریج ملک میں پھیلتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے اب اس چھوٹی سی اقلیت کا جینا حرام کیا گیا ہے۔ یہ تو پھر بھی ایک ایسی اقلیت ہے جو زیادہ تر مسلمانوں جیسے شعائر و اطوار پر عمل کرتی ہے۔ البتہ احمدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے، ان اقلیتوں کی صورت حال کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے جو قطعی طور سے مختلف مذہبی رسوم و رواج کو مانتی ہیں۔ ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کی شادیاں کروا دینے کے واقعات سے کبھی پاکستانی حکومت یا لیڈروں کے کان پر جوں نہیں رینگی اور انصاف کا ذمہ دار عدالتی نظام عام طور سے ان مظلوم نابالغ بچیوں کے سماجی و جنسی استحصال پر داد رسی میں ناکام رہا ہے۔ احمدیوں کو نہ صرف یہ کہ غیر مسلم کہا جاتا ہے بلکہ اصرار کیا جاتا ہے کہ وہ خود بھی اس کا اعتراف کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کی زبان میں تو اس گروہ کو ’قادیانی یا میرزائی‘ کہنا ضروری ہے تاکہ مسلسل اس عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کمتر اور گھٹیا ہونے کا احساس دلایا جاتا رہے۔
احسن اقبال اس قومی اسمبلی سے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، جس کا ہر رکن ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہے۔ اپوزیشن حکومت کے ساتھ اور حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہے۔ اس اسمبلی میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی بجٹ اجلاس کا مسلسل بائیکاٹ کر رہی ہے اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بجٹ کو معاشی دہشت گردی قرار دے کر عوام میں اشتعال اور مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ اسمبلی اور اس کے ارکان ایک ایسے مذہبی ہتھکنڈے کو کیسے ترک کر دیں گے جسے استعمال کرتے ہوئے ہر سیاست دان انتخابات میں ووٹر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔
مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے اور اجتماعی انصاف جیسے غیر انسانی ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے، منصوبہ بنانا چاہیے اور پوری قوم کو ساتھ ملانا چاہیے۔ اس کی بجائے اس حکومت کا ایک نمائندہ اپنی بے چارگی کا حوالہ دیتے ہوئے قومی اسمبلی سے کچھ کرنے کی اپیل کر رہا ہے۔ یہ تقریر اس اعلان کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی کہ حکومت ملک میں مذہبی انتہاپسندی کے خاتمہ کے لیے کوئی اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی، اس لیے ایک وزیر کے ذریعے جذباتی تقریر کروا کے معاملہ ’ٹھنڈا‘ کرنے اور عالمی سطح پر خود کو اعتدال پسند کے طور پر پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ روزانہ مذہبی دہشت کا سامنا کرنے والے پاکستانی عوام اس قسم کے بیان سے دھوکا نہیں کھا سکتے۔ یوں بھی احسن اقبال نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سوات کے واقعہ سے ’پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے‘ ۔ گویا احسن اقبال، حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو معاشرتی انتشار، عوام کے عدم تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کی پرواہ تو نہیں ہے لیکن یہ فکر ضرور دامن گیر ہے کہ دوسرے ممالک جب مذہبی انتہاپسندی کے بارے میں سوال کریں گے تو حکومت اور اس کے سفارت کار کیا جواب دیں گے۔ وہ اس وقت احسن اقبال کی اس تقریر کا حوالہ دیں گے جو لفاظی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مسلم لیگ (ن) ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ کے دھرنے سے عاجز آ کر اپنے وزیر کی قربانی دینے اور معافی نامہ طرز کا معاہدہ کرنے کی روایت کی حامل ہے۔ ایسی کمزور حکومت خود سر اور عوام میں جنونی جذبات پیدا کرنے والے عناصر سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتی۔ یہ علیحدہ معاملہ ہے کہ یہ صورت حال درحقیقت پاکستان کو اندرونی تباہی اور عالمی سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کا راستہ معاشی بحران سے نجات پانے سے بھی زیادہ دشوار ہے۔
مذہبی انتہاپسندی ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب سیاسی پارٹیاں مل کر ملک کا مزاج تبدیل کرنے کا عہد کریں، مذہب کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا جائے اور قانون کو سب شہریوں کے لیے یکساں طور سے قابل عمل بنایا جائے، جن قوانین میں سقم ہیں، انہیں دور کیا جائے اور ایسی قانون سازی کی جائے جس سے مذہب کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے والوں کو فوری اور سخت سزائیں دی جا سکیں۔ ایک قانون ایسا بھی بننا چاہیے کہ جو مظلوم توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات میں ملوث ہو کر جیلوں میں بند ہیں، انہیں یا تو فوری طور سے رہا کیا جائے یا عدالتوں کو جلد از جلد ایسے مقدمات کا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
اسی سے منسلک یہ صورت حال ہے کہ سوات میں ہجوم کے ہاتھوں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد کسے قصور وار ٹھہرایا جائے۔ پولیس اگر اس وقت کسی کو پکڑ کر قید بھی کردے گی تو ناکافی شواہد کی بنا پر یہ لوگ عدالتوں سے بری ہوجائیں گے۔ اس سے بہتر ہو گا کہ پولیس قاتلوں کو تلاش کرنے کی بجائے قتل پر اکسانے والوں کی گرفت کرے۔ اس ہوٹل کے منیجر کو گرفتار کیا جائے جس نے کسی جواز کے بغیر توہین قرآن کا شور مچایا۔ ان مساجد کے منتظمین اور اماموں کو پکڑا جائے جنہوں نے لاؤڈ اسپیکروں پر اعلان کر کے لوگوں کو اکٹھا ہونے اور توہین مذہب کا انتقام لینے پر اکسایا۔ دائرہ وسیع کرنے کا شوق ہو تو ہر اس مذہبی لیڈر کو گرفتار کیا جائے جو مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی تبلیغ کرتا پایا جائے۔ لوگوں سے احمدی نہ ہونے کا حلف نامہ لینے کی شوقین حکومت ملک کے تمام علمائے دین سے بھی یہ حلف لینے کا اہتمام کرے کہ وہ ملکی قانون کے پابند ہیں اور کسی صورت نہ اسے توڑیں گے اور نہ ہی دوسروں کو اسے توڑنے پر اکسائیں گے۔
کوئی حکومت جب تک یہ بنیادی اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی سے گریز کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ یہ شدت پسندی اب اس قدر قوی ہو چکی ہے کہ ریاست کو ہضم کر لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


