یزدانی جالندھری: بحیثیت والد، بطور تخلیق کار


محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

(ممنون ہوں کہ آپ نے پروفیسر محمد حسن صاحب سے متعلق اپنے مکتوب کے آخر میں مجھ سے ”ہم سب“ کے قارئین کے لیے اپنے والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری (جنھیں ہم پاپا جی کہتے تھے کے بارے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ آپ کی یہ فرمائش کیسی بروقت و برمحل ہے کہ اسی ماہ یعنی جون ہی میں دنیا بھر میں ”فادرز ڈے“ بھی منایا جاتا ہے۔

یزدانی جالندھری صاحب میرے والد ہی نہیں میرے آئیڈیل بھی رہے اور ہیں۔ ’ہیں‘ اس لیے کہا کہ اُن کے عملی اور زبانی طور سکھائے زندگانی کے اصولوں اور معمولات کو میں اب بھی اپنا راہ بر پاتا ہوں۔ یوں اُن کی ہمدمی اور پر شفقت رفاقت اب بھی میری ہم نفس و ہم قدم ہے۔ شاید اسی کو بلھے شاہ صاحب کہتے ہیں

بُلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور
:کہ انسان مادی حیات سے کنارہ کش ہو کر بھی فکری زندگی میں موج زن رہتا ہے۔ یزدانی صاحب کا ایک شعر ہے
سانس کے قافلے کا رُک جانا
ابتدا اک نئے سفر کی ہے

(ہم اُن کی زندگی کے سفر پر نگاہ کریں تو ولادت اُن کی متحدہ ہندوستان کے شہر جالندھر میں سنہ انیس سو پندرہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ پھر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ منٹگمری (ساہیوال) آ بسے۔ یہاں سے ہائی سکول تک تعلیم مکمل کی اور اسلامیہ کالج لاہور پہنچ گئے جہاں اُن کے دوست اور ہم جماعت ایسے لوگ بھی ہوئے جنھوں نے بعد ازاں اپنے اپنے شعبوں میں خوب نام کمایا۔ ان میں حمید نظامی، میرزا ادیب، ضمیر جعفری، نسیم حجازی اور دیگر شامل تھے۔ وہ اپنے اساتذہ میں سے پروفیسر عبدالمجید سالک صاحب کے بہت معترف تھے۔ شعر و ادب کی طرف آئیں تو ابتداً وہ حفیظ جالندھری سے بھی متاثر رہے مگر باقاعدہ تحصیل فن کے ضمن میں انھوں نے علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر صدیقی امروہوی سے استفادہ کیا۔

اُن کے ابتدائی ادبی رفقا میں احسان دانش، خاطر غزنوی، عبدالحمید عدم، ظہیر کاشمیری، سیف الدین سیف، علی سردار جعفری، سجاد ظہیر، ساحر لدھیانوی، خوشتر گرامی، ثاقب زیروی، انجم رومانی، شہرت بخاری، سی۔ ایل۔ کاوش، نذیر ترمذی اور طفیل ہوشیار پوری کے نام اس وقت ذہن میں آرہے ہیں۔

نظم و نثر یعنی شاعری، افسانے اور ناول طبع زاد اور تراجم کو ملا لیں تو ان کی تعداد بیس سے زیادہ بنتی ہے جن میں سے نو یا دس اب ادبی ویب سائٹ ”ریختہ“ پر موجود ہیں۔ شرت چندر چیٹر جی کے مقبول بنگالی ناول ”دیوداس“ کو اردو دنیا سے یزدانی صاحب ہی نے متعارف کروایا تھا جب انھوں نے انیس سو چالیس میں اس ناول کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔

جہاں تک ان کی صحافیانہ زندگی کا تعلق ہے تو اس کا آغاز انیس سو بتیس میں ہوتا ہے جو تاحیات یعنی انیس سو نوے تک قائم رہتا ہے۔ جن اخبارات و جرائد میں انھوں نے خدمات انجام دیں ان کی تعداد کم از کم اٹھارہ ہے۔

یزدانی صاحب نے اپنی عمر کا کچھ حصہ ہند و پاک کی فلمی صنعت کے لیے بھی وقف کیا۔ جس کے دوران میں انھوں نے ایک اندازے کے مطابق سترہ فلموں کے لیے یا تو مکالمے اور گیت لکھے یا بطور معاون ہدایت کار خدمات انجام دیں۔ اسی دور میں گلوکار مہدی حسن نے فلم کے لیے اپنی زندگی کا پہلا نغمہ ریکارڈ کروایا۔ فلم شکار کا یہ نغمہ یزدانی جالندھری صاحب ہی کا لکھا ہوا تھا۔

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، اس مختصر ادبی جائزہ سے آپ پر یہ بات ضرور روشن ہو گئی ہوگی کہ یزدانی صاحب کثیر الجہت تخلیق کار تھے اور تخلیق کاری ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ہاں، انھوں نے بعض نجی تعلیمی اداروں میں فارسی اور اردو کے استاد کے طور ہر بھی کچھ عرصہ کام کیا۔ معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر رسمی تعلیم میں کوئی بڑی ڈگری تو حاصل نہ کرپائے مگر انسانیت، اخلاص، شرافت، خدمت، انکسار اور محنت کے شعبوں میں ان کا مقام لائقِ تقلید رہا۔ انھوں نے عُمر بھر قلم کی مزدوری کی۔ معاشی طور پر مشکل حالات کے باوجود کسی سے کبھی کوئی شکوہ نہ کوئی شکایت لبوں پہ آئی۔ فرماتے ہیں

دل آتشِ خاموش میں سُلگا ہے بہت دیر
لیکن مِرے ہونٹوں پہ دھواں تک نہیں آیا

یوں دیکھیں تو وہ ایک درُوں بین اور خلوت پسند انسان تھے۔ طبیعت میں قناعت پسندی کا عنصر نمایاں تھا۔ اور ایسے درویش طبع تھے کہ اپنے کام کے معاوضے پر بھی اصرار نہ کرتے تھے۔ اُن کی اپنی ضرورتیں بالکل محدود سی تھیں۔ سادہ لباس پہنتے تھے۔ بہت کم سوتے تھے اور بہت کم کھاتے تھے۔ اگر یوں کہوں کہ وہ چائے اور سگریٹ پر زندہ تھے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

اُن کی پہلی اور آخری محبت ادب تھا۔ اور اُن کی مکمل توجہ اسی کی جانب رہتی تھی۔ اسی لیے امی جان کو ان سے شکایت رہتی کہ وہ گھریلو ذمہ داریوں کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ مجھے یاد ہے مجھے سکول داخل کروانے بھی امی جان ہی ساتھ گئی تھیں۔ وہ ہم سات بہن بھائیوں کی روزمرہ کی ضروریات کا بھی خیال رکھتیں اور گھر کی دیکھ بھال بھی کرتیں۔ والد صاحب جن دنوں اخبار کی نائٹ شفٹ میں نہ ہوتے تو شام کو گھر آ کر ہم سب کے ہوم ورک میں مدد کرتے اور جن دنوں رات کی ڈیوٹی کرتے ہم بھائی اُن کے لیے رات کا کھانا دفتر لے کر جاتے اور وہاں سکول کا کام بھی کرلیتے۔ کام سے چُھٹی ہوتی تو وہ گھر پر کتابیں رسالے پڑھنے میں زیادہ وقت صرف کرتے یا پھر کچھ لکھنے لکھانے میں۔ اس دوران میں ان کی اگر کوئی فرمائش ہوتی تھی تو بس ایک کپ چائے کی۔ ورنہ وہ اپنا کام خود کرنے کے عادی تھے۔ انھیں دوسروں کے لیے کام کر کے بھی خوشی حاصل ہوتی تھی۔

اُن کی طبیعت میں روایتی مشرقی باپ والی سختی ہرگز نہ تھی۔ وہ امی جان کو بھی اور ہم بچوں کو بھی ہمیشہ ”آپ“ سے مخاطب کرتے۔ یہ بات بجا کہ وہ کم گو تھے۔ لیکن اگر کوئی سوال پوچھتا تو اطمینان بخش حد تک تفصیلی اور واضح جواب دیتے۔ مخاطب کی بات بغور اور دل جمعی سے سُنتے، چاہے وہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا۔ اپنے موقف کے خلاف باتوں کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ سُنتے۔

شعر پر اصلاح دیتے ہوئے بھی اپنی رائے کو ایک آپشن کے طور پر پیش کرتے استادانہ تحکم کے انداز میں نہیں۔ مذہبی اور سیاسی نظریات و اختلافات پر بات نہیں کرتے تھے۔ انھیں ہر فرد کا انفرادی معاملہ قرار دیتے تھے۔ ایک زمانے میں ہمارے اپنے گھر کے افراد تین مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی تھے مگر مجال ہے کسی طرح کی بدمزگی پیدا ہوئی ہو۔ یہ والد صاحب کی تربیت ہی کی دین تھی۔

ڈاکٹر صاحب،

سچ پوچھیں تو یزدانی صاحب بھی آپ کی طرح ایک سچے انسان دوست اور محبت کے پیغام بر تھے۔ کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں۔ چہرے پر متانت کے ساتھ ساتھ ایک دھیمی دھیمی مسکان بھی دمکتی رہتی۔ اُن کی صحبت میں رہ کر امی جان کو بھی کلاسیکی شعرا کے متعدد اشعار ازبر ہو گئے تھے جن کو وہ بطور حوالہ گاہے گاہے اپنی گفت گو میں شامل کیا کرتی تھیں۔

ایک بات اور میں نے محسوس کی، والد صاحب کو نمایاں ہونے کا شوق نہ تھا۔ تقریبات کی صدارت وغیرہ سے حتی المقدور گریز کرتے اور مشاعروں میں اپنی حد تک تقدیم و تاخیر کے التزام کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ہاں، دوسروں کے مقام اور احترام کو لازم خیال کرتے۔

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب،

یہ اُن کی بے لوث ادبی خدمات اور طبعی شرافت ہی تھی کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ہر مکتبِ فکر کے نمائندہ افراد نے انھیں محبت سے یاد کیا۔ جن میں ظاہر ہے والد صاحب کے قریبی دوست جیسے طفیل ہوشیار پوری، میرزا ادیب، ضمیر جعفری، احمد ندیم قاسمی، عارف عبدالمتین اور ڈاکٹر وحید قریشی تو تھے ہی مگر بعض ایسے تخلیق کار بھی شامل تھے جو شاید والد صاحب سے کم کم ملے ہوں اور جو دوسروں کی تعریف کرتے بھی کم کم ہی دیکھے گئے ہوں۔ ان میں معروف شاعر منیر نیازی صاحب کا تعزیتی پیغام مجھے یاد ہے جس میں انھوں نے والد صاحب کی نفیس طبیعت اور شان دار ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا : ”میں جن چند لوگوں سے زندگی میں متاثر ہوا اُن میں یزدانی جالندھری کا نام بہت نمایاں ہے۔“

منیر نیازی صاحب نے اس بات کا حوالہ بھی دیا کہ اُن کی اوّلین تخلیق یزدانی صاحب ہی نے اپنی ادارت میں منٹگمری (ساہیوال) سے نکلنے والے رسالہ ’تیج‘ میں شائع کی تھی۔ یہ ایک افسانہ تھا۔

یہ والد صاحب سے منیر نیازی صاحب کی بے غرض محبت ہی تھی کہ وہ مجھ سے بھی جب جب ملے بے حد پیار سے پیش آئے اور ازراہِ شفقت میرے شعر کی بھی پذیرائی کی۔ حال آں کہ ان کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ وہ کسی دوسرے شاعر کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور مشاعرے میں بھی لیے دیے رہتے تھے۔ لیکن مجھے یاد ہے ریڈیو، ٹی وی کے مشاعروں اور شہر اور بیرونِ شہر منعقدہ تقریبات اور خاص کر گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک سو پچیس سالہ تقریبات کے سلسلہ میں منعقدہ دونوں مشاعروں میں انھوں نے نوجوان شعرا کے کلام کی خوب خوب پذیرائی کی۔ اُن کی شخصیت میں ایک تخلیقی کشش سی محسوس ہوتی تھی اور ان کا کلام پیش کرنے کا انداز بھی مسحور کُن تھا۔ والد صاحب سے ان کا تعلقِ خاطر اور ان کے فن و شعر کا سحر سبھی میرے احساس اور توجہ کو ان کی طرف مائل کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب،

آپ نے بھی تو متعدد لکھاریوں کو دیکھا، سنا اور پڑھا اور ان پر لکھا بھی۔ آپ اردو شعر و ادب کی اس منفرد شخصیت یعنی منیر نیازی کے فن و شخصیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اُن کی شخصیت اور فن کے کون کون سے پہلو آپ کے نزدیک اہم تر ہیں؟ ہاں، اُن سے آپ کی ملاقات بھی تو ہوئی تھی۔ کچھ ذکر اُس ملاقات کا بھی ہو جائے۔

آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
آپ کا ادبی دوست
حامد یزدانی
جون 2024
واٹر ڈاؤن، کینیڈا

Facebook Comments HS