اِکلوتی بیٹی کے نام خط
ملتان روڈ لاہور
17۔ جون 2024
السلام علیکم! میری پیاری بیٹی، ایمن زہرا
پہلا خط ہے جو تمہیں لکھ رہا ہوں، کیا لکھوں؟ عجب کیفیت ہے، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، خیالات کی روانی کا سلسلہ درہم برہم ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوچنے اور لکھنے کا عمل باہم گتھم گتھا ہے، جو کہنا چاہتا ہوں، بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ کہا جاتا ہے سچ کا سامنا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، جھوٹا آدمی سچائی کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن سچ کے ساتھ کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے، کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے، میں سچ لکھنا چاہتا ہوں لیکن سچائی کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہوں۔
سچائی کیا ہے، سچ کے ساتھ کھڑا ہونے سے خوف کیوں محسوس ہوتا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے دسیوں جواب دینے کے باوجود ہر جواب اپنے اندر مزید تفہیم کا تقاضا کرتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ سچائی کو بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اسے مِن و عن تسلیم کرنا ہوتا ہے۔
سچائی یہ ہے کہ میں اچھا باپ نہیں بن سکا، میں بَہ حیثیتِ باپ اپنی ذمہ داری کو قبول کرنے اور نبھانے میں ناکام رہا۔ میری اَنا باپ کی ذمہ داری کو قبول کرنے سے مجھے ورغلاتی رہی، مجھ سے یہ کبیرہ گناہ سرزد ہوا ہے، ظاہر ہے، اس گناہ کی تلافی اور معافی کی گنجائش دُنیا کا کوئی قانون اور مذہب کی کوئی تاویل مجھے نہ دے گی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں دھڑ کتی تھی، ہم گھنٹوں ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر خود کو اپنے تئیں سچا ثابت کرنے کی کوشش میں دست و گریباں رہتے تھے، یہ شغل روزمرہ کا معمول بن چکا تھا، تمہارا جنم ہوا، روشنی نے گھر میں قدم رکھا لیکن انَا کی نحوست نے اس روشنی کا استقبال نہیں کیا، بے چاری روشنی سسکتے سسکتے دم توڑتی رہی، خود اپنا گلہ گھونٹتی رہی۔
تم جیسے جیسے توانا ہوتی گئی، ویسے ویسے ہم مزید اُلجھتے گئے، تمہارا دُنیا میں آنا ہمارے لیے ایک سوال بن گیا تھا، ہم میں سے کوئی ایک تھا جو تمہارے آنے سے خوش نہیں تھا اور وہ چاہتا تھا کہ تمہاری جگہ تمہارا بھائی آتا تو تمہارے پیدا ہونے کا جواز بن جاتا، خیر یہ نہ ہوسکا، تمہاری اولیت کی سبقت نے تمہیں یہ سزا دی کہ تم اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ سے مستقل محروم کر دی گئی۔
ہم نے تمہارے لیے تادمِ مرگ آزمائش و آلام کا مستقل بندوبست کیا ہے، ہم ایک دوسرے سے ذہنی ہم آہنگی، باہم قلبی رفاقت اور تصورِ زیست کے متضاد افکار کے پیشِ نظر سمجھوتہ کرنے سے انکاری رہے، نتیجتاً جُدا ہو گئے۔ اس المناک حادثہ کے بعد تم ایک مشکل زندگی گزارنے کے لیے پرورش کے عمل سے گزر رہی ہو۔
باوجود سب ممکن ہونے کے کچھ بھی ممکن نہ ہوسکا، راستے جدا کر لینے سے زندگی کا سفر بیچ رستے کٹ گیا، ایک بے مقصد اور لایعنی سفر کے وسیع پڑاؤ میں گِھرا انسان تھک ہار کر سایہ دار کی چاہ کرتا ہے۔ یہ مشکل باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ تمہیں سمجھ نہ آ سکیں تاکہ میں بَہ حیثیتِ باپ معاشرے کی باز پُرس سے بچ سکوں اور اپنے سچے ہونے کا کا ببانگِ دُہل دفاع کر سکوں۔
ابھی تم فقط پانچ برس کی ہو، تمہیں کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھا، چلنا پھرنا آ گیا ہے۔ تمہیں ضرورت کی ہر چیز مہیا کی جاتی ہے، تمہارے منہ سے نکالی ہوئی ہر خواہش پوری کی جاتی ہے، تم جیسے جیسے بڑھی ہوتی جاؤ گی، تمہاری خواہشیں خوابوں میں بدل جائیں گی، خواب دیکھنا اچھی بات ہے، خواب ضرور دیکھنا، لیکن اتنا خیال رہے کہ اپنی بساط سے زیادہ بڑے خواب مت دیکھنا۔
میں نے بھی ایک خواب دیکھا تھا، برسوں اس خواب کا راستہ تراشتا رہا، جب تعبیر میسر آئی تو وہ اتنی بھیانک تھی کہ مجھے خواب دیکھنے سے نفرت ہو گئی، میں چاہتا ہوں تم کہیں میری طرح بڑے بڑے خواب مت دیکھنا کہ تمہیں بھی میری طرح خوابوں سے نفرت نہ ہو جائے۔
تمہاری والدہ بے باک، نڈر، بہادر اور باہمت خاتون ہیں، انھوں نے سماج سے بغاوت کر کے اپنی جُداگانہ شناخت بنائی ہے، اس شناخت کے حصول کے عمل میں انھوں نے سماج کے ہر ضابطے کو پاش پاش کیا، وہ یقیناً تمہیں اپنے جیسا بنانے کی کوشش میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے، میں چاہتا ہوں تم میری طرح بڑے خواب دیکھو اور نہ والدہ کی طرح جداگانہ شناخت کے طِلسم میں گرفتار رہو۔
تم اپنے جیسا بننا، تم جیسی ہو، ویسی ہی رہنا، عام انسانوں کی طرح دکھائی دینا، عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرنا، عام لوگوں سے تعلق پیدا کرنا، عام لوگوں سے محبت، ایفا اور اخلاص کا رشتہ اُستوار رکھنا۔ یہ جو اپنی شناخت بنانے کا عمل ہوتا ہے نا! یہ بڑا ظالم ہے، یہ انسان سے رشتے، تعلق، لحاظ، مروت، حیا، احساس، عقیدت، ایثار، فریفتگی اور دل سوزی کے جملہ احساسات چھین لیتا ہے، دُنیا میں سیکڑوں ایسے انسان گزرے جنھوں نے خود کو خود سے زیادہ اہم، ممتاز اور منفرد بنانے اور ثابت کرنے کی کوشش کی، یہ کوشش بُری نہیں تھی، یہ عمل بُرا نہیں تھا، یہ خواہش بُری نہیں تھی، یہ فعل بُرا ہے، یہ طریقہ بُرا ہے، یہ روش بُری ہے اور یہ انداز بُرا ہے۔
اچھے انسان صرف انسان ہوتے ہیں، انسان ہونا ہی سب سے اچھا اور سب سے بڑا انسان ہو نے کی علامت ہے۔ اگر تم نے بڑے ہو کر ہم سے نفرت کرنے اور اپنے آپ کو برباد کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور اپنے کیے پر پچھتائیں تو یقین کر لو کہ ہم بالکل نہیں پچھتائیں گے، ہم خود کو آج اور کل بھی سچا، بے قصور اور مظلوم ٹھہرائیں گے، تم دُنیا کی کسی عدالت میں ہمیں لے جاؤ، ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ ہم نے غلطی کی ہے، غلطی کا اعتراف کرنا دُنیا کا آسان ترین کام ہے، ہم پڑھے لکھے، ذی شعور عام انسانوں کی طرح آسان کام نہیں کرتے۔
دُنیا میں کتنے انسان ایسے ہیں جن کے پیدا ہونے سے پہلے باپ رخصت ہو گیا، بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی جُرم نہیں ہے، بغیر باپ کے سماج میں رہنا کوئی جُرم نہیں ہے، بغیر باپ کے خواب دیکھنا اور تعبیر تراشنا کوئی جُرم نہیں ہے، جُرم اُس باپ کا ہے جو اُولاد پیدا کرنے کے بعد دانستاً اُولاد کے لیے مر جاتا ہے، تم مجھے مرا ہوا ہی تصور کرلو کہ زندہ ہونے کے باوجود زندگی کے احساس سے مستقل محروم رکھنے والا باپ در حقیقت مرا ہوتا ہے، ایسے مرے ہوئے باپ کو اپنا آپ برباد کر کے دکھانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، مہذب سماج میں یہ فعل ایک کارِ فضول تصور کیا جاتا ہے۔
زندگی خوبصورت ہے، عارضی ہے، جو آیا ہے، اُس نے جانا ہے، موت تو فقط بہانہ ہے، ایک زندگی کو کسی ایسے شخص کے لیے ضائع مت کرنا جو اپنا ہونے کے باوجود اپنائیت کے احساس سے ماورا رہا، زندگی اپنے ساتھ پورا پیکج لے کر آتی ہے، خوشی، غم، دُکھ، سکھ، خواب، آرزو، ناکامی، کامیابی، حاصل اور لاحاصل یہ سب زندگی کا ثمرہ ہے۔ زندگی کو بھر پور جینا چاہیے، اس کے ذائقے کو پوری طرح محسوس کرنا چاہیے، زندگی کو یوں جیو کہ زندگی تم سے شرمندہ نہ ہو۔
میں جانتا ہوں، مجھے سادہ اور آسان گفتگو کرنا نہیں آتی، پورا خط اوٹ پٹانگ باتوں سے کالا کر ڈالا، کام کی شاید ایک بات بھی اس میں نہیں ہے۔ ابھی تم بچی ہو، نادان ہو، ناسمجھ ہو، اسی لیے میں مبہم باتیں لکھ رہا ہوں کسی کی سمجھ میں نہ آ سکیں، تم جیسے جیسے بڑھی ہوتی جاؤ گی یہ باتیں بھی بڑی ہوتی جائیں گی، یہ باتیں تمہاری دوست بن جائیں گی اور برسوں تمہارے ساتھ رہیں گی۔
اپنا اور اپنی والدہ کا بہت سا خیال رکھنا کہ تمہاری والدہ کے پاس میری یادوں اور تمہارے ساتھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
تمہارا والد
محسن خالد محسنؔ


