تہران سے واپسی کا سفر
ایرانی شمال جانے کے لئے ہم نے جنوب سے شمال کی طرف کا طویل زمینی سفر اختیار کیا۔ اب کی بار واپسی کا سفر تہران سے صوبہ قم سے ہوتے ہوئے طویل زمینی سفر ایرانی صوبہ بلوچستان کے خوبصورت ترین شہر چابہار بندر تک ارادہ تھا۔
ارومیہ سے صبح سویرے بذریعہ جہاز تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے مہر آباد ائرپورٹ تہران پہنچے۔ تہران شہر سے ہم اپنے گاڑیوں کے ذریعے صوبہ قم کی جانب رواں ہوئے۔ تہران شہر میں ٹریفک بہت زیادہ تھا۔ ہمیں تہران سے نکلتے ہوئے بہت وقت لگا۔ لیکن جیسے ہی شہری حدود سے ہم نکلے، ہماری رفتار میں تیزی آئی۔ ہمیں رات تک یزد پہنچنا تھا۔ ایک گھنٹہ سفر طے کرنے کے بعد صوبہ تہران کے حدود سے نکل کر ہم صوبہ قم کے حدود میں آئے، صوبہ قم میں بھی ایرانی حکومت نے انفراسٹرکچر پر کام کیا تھا۔
قم شہر کے بائی پاس سے گزرے، قلت وقت کی سبب قم شہر نہیں گئے، یاد رہے کہ ایرانی انقلاب کے رہنما امام خمینی کی جائے پیدائش قم کی ہی ہے۔ سید روح اللہ موسوی خمینی ( 1902۔ 1989 ء) ، امام خمینی کے نام سے مشہور، شیعہ مرجع تقلید اور ایران کے اسلامی انقلاب کے رہبر اور بانی ہیں۔ آپ نے سنہ 1962 ء سے ایران میں پہلوی نظام بادشاہت کے خلاف علی الاعلان جدوجہد شروع کی۔ حکومت وقت نے دو مرتبہ آپ کو گرفتار کیا۔ دوسری مرتبہ آپ کو پہلے ترکی اور پھر عراق جلاوطن کر دیا۔
حوزہ علمیہ نجف میں 13 سال تک انقلابی افراد کی قیادت کی اور ساتھ ہی دینی علوم کی تدریس اور تالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایران میں حکومت کے خلاف عوامی تحریکوں میں تیزی آنے کے بعد یکم فروری سنہ 1979 ء کو آپ ایران واپس آئے۔ 11 فروری سنہ 1979 ء کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے اپنی عمر کے آخری لمحات تک اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اور قائد رہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہم قم شہر نہ جا سکے، اس کی اہم وجہ ہمیں کل تک ہر صورت چابہار پہنچنا تھا۔
بہرکیف ہم جلدی ہی صوبہ قم سے صوبہ یزد کی طرف جانے لگے، راستے میں چھوٹے چھوٹے شہروں سے ہوتے ہوئے دوپہر کے کھانے کے لئے ایک بڑے ریستوران میں رکے۔ یہ ریستوران جو صوبہ قم ہی میں واقع تھا۔ بہت بڑا ریستوران تھا اور ہر لحاظ سے شاندار تھا۔ ہم سب نے اپنے اپنے پسند کے کھانے آرڈر کیے ۔ یہاں پر بہت سارے پاکستانی زائرین ہم نے دیکھے، جو کہ زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ریستوران لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ان کا سروس شاندار تھا۔
ایرانی شاہراہوں پر مختلف مقامات پر بڑے اور چھوٹے لیکن نہایت ہی صاف ستھرے ریستوران بنے ہوتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد ایک بڑے وضو خانے میں ہم نے و ضو کیا، ریستوران سے منسلک مسجد میں نماز پڑھی۔ اور صوبہ یزد کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ صوبہ قم کا رقبہ 11238 مربع کلو میٹر ہے۔ صوبہ قم ایران کے مرکزی صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے شمال میں صوبہ تہران، مشرق میں صوبہ سمنان، جنوب میں صوبہ اصفہان اور مغرب میں صوبہ مرکزی اراک واقع ہے۔
قم شہر میں بے بی معصومہ کا مزار بھی ہے۔ قم کی مرکزی زیارت، بی بی معصومہ کا مزار۔ ساتویں امام کی بیٹی، آٹھویں امام کی بہن۔ جس کی پیدائش کی بشارت کئی دہائیاں پہلے ہو گئی تھی۔ بی بی معصومہ کے مزار پر لوگ عقیدت سے زیارت کرتے ہیں۔
صوبہ قم میں ظہر کے نماز ادا کرنے کے بعد صوبہ یزد کی طرف روانہ ہوئے۔
یزد ایران کا ایک مشہور صوبہ ہے۔ شہر یزد اس صوبے کا دارالحکومت ہے۔ یزد شہر اصفہان سے 175 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ شہر دستکاری خاص کر ریشم سازی میں مشہور ہے۔ ایران کے ان علاقوں کے گھروں میں زیادہ تر پانی سے چلنے والے ائر کولر ہیں۔ زمانہ قدیم میں جب بجلی اور ائر کنڈیشن نہیں ہوا کرتا تھا۔ بادگیر ہوا کرتے تھے، بادگیر دراصل قدرتی ائر کنڈیشن ہوا کرتے تھے۔ اب بھی یزد شہر کے بعض پرانی عمارتوں میں بادگیر بنے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
شہر یزد میں گرمیوں میں شدید گرمی پڑھتی ہے۔ درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچتا ہے۔ پرانے زمانے بادگیر کے ذریعے گھروں کو ٹھنڈا رکھا جاتا تھا۔ بادگیر کی وجہ سے ٹھنڈی ہوا عمارت کے نیچے ٹھنڈک کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بادگیر اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ یہ فضا سے ٹھنڈی ہوا کھینچ کر عمارت کے نیچے لاتے ہیں۔ جس سے گرم موسم میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔
بادگیر اب تقریباً متروک ہو رہے ہیں۔ اب لوگ فضا سے حاصل کردہ ٹھنڈک کو چھوڑ کر مصنوعی ائر کنڈیشن استعمال کرتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں کہ بادگیر قصہ پارینہ بن جائیں۔
یہ باد گیر چمنی نما ٹاور کے مانند ہوتے ہیں۔ اب بھی یزد کی پرانی عمارتوں پر موجود ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ہزاروں سال پرانی تکنیک ہے۔ جس سے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھا جاتا تھا۔
ایران کا قدیم مذہب جس سے زرتشتی مذہب کہا جاتا ہے، یزد میں اب بھی موجود ہے، یزد میں زرتشتی برداری کی ایک بڑی آبادی ہے۔ جو ہزاروں سالوں سے یزد میں مقیم ہیں۔ یاد رہے کہ برصغیر پاک و ہند میں زرتشتی آبادی کو فارسی کہا جاتا ہے ۔ جو سالوں سے پاکستان اور ہندوستان میں مقیم رہے۔ کراچی سے یہ فارسی کمیونٹی آہستہ آہستہ غائب ہو رہی ہے۔ فارسی مذہب کے لوگ زیادہ ہجرت کر کے یورپ وغیرہ چلے گئے ہیں۔
یزد میں، ہم لوگ رات گئے پہنچے۔ ہوٹل کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ ایک ہوٹل میں کمرہ بک کرنے گئے، وہاں پر کمرے بہت مہنگے تھے۔ چنانچہ ہم نے کرایہ پر گھر لینے کا ارادہ کیا۔ کسی جاننے والے سے ہم نے ایک گھر والے کا نمبر لیا۔ یہ ایرانی خاتون کا نمبر تھا۔ انہوں نے ہمیں اپنے گھر کا ایڈریس دیا، چنانچہ ہم ان کے گھر پہنچے۔ وہ خاتون خود آئیں اور ہمیں گھر دکھایا۔ گھر ہمیں پسند آیا، اور رات گزارنے کے لئے ہم نے اس کو منتخب کیا۔


